ریاستی پرچم کا دن | تقریب کی اجازت نہ دینا آئین کی توہین :انجینئر

8 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//پرچم ریاست کی تقریب کے انعقاد کیلئے آخری وقت اجازت واپس لئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے عوامی اتحاد پارٹی کے صدر انجینئر رشید نے کہا کہ پرچم جموں کشمیر کے تقدس اور اہمیت کی ہر حال میں حفاظت کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کو آئین ہند کے تحت جن خصوصیات کی ضمانت ملی ہوئی ہے انہیں ختم یا کمزور کرنے کی کوششوں اور سازشوں کو ناکام بنایا جائے گالہٰذا مرکزی سرکار کو چاہیئے کہ وہ ایسی کوئی حماقت نہ کرے کہ جو جموں کشمیر کی عوام کی اکثریت کیلئے نا قابل برداشت ہو۔ انجینئر رشید نے کہا کہ حکومت کو سامنے آکر واضح کرنا چاہیئے کہ اس نے آخری وقت پر اجازت واپس لیکر پرچم ریاست سے متعلق تقریب کو ناکام کیوں کیا جو حالانکہ اب کئی برسوں سے ایک روایت ہے۔انجینئر رشید نے کہا’’اجازت واپس لیکر سرکار نے دراصل ریاستی پرچم کی توہین کی ہے اور یہ شرمناک کام جس کسی نے بھی کیا ہوگا اسکے خلاف مقدمہ درج کیا جانا چاہیئے۔زورزبردستی اور غیر آئینی ذرائع کا استعمال کرکے وقت وقت کی حکومتیں جموں کشمیر سے متعلق تاریخ کو بدل سکتی ہیں اور نہ ہی تاریخی حقائق کو چھپا ہی سکتی ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ 07جون کی اہمیت کو کسی بھی طرح نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ 1952میں اسی دن آئین ساز اسمبلی نے ریاست کو اپنا الگ پرچم اور ترانہ دیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات بدقسمتی کی ہے کہ شیخ صاحب سے لیکر محبوبہ مفتی کسی بھی وزیر اعلیٰ نے ریاستی پرچم کے تقدس کو محفوظ کرنے کیلئے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا۔انجینئر رشید نے مزید کہا کہ 07جون کو سرکاری طور منانے کی بجائے وقت وقت کی حکومت نے اسے نظرانداز کیا ہے جو ایک افسوسناک بات ہے۔07جون کو ریاست میں عام تعطیل کا اعلان کئے جانے کے مطالبے کو دہراتے ہوئے انجینئر رشید نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو آڑھے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ایک طرف یہ پارٹیاں یاست کی خصوصی حیثیت کی حفاظت کے نام پر لوگوں کو بیوقوف بناتی آرہی ہیں اور دوسری جانب پرچم ریاست کی توہین پر ان دونوں پارٹیوں سے لب تک نہیں ہلائے جاسکتے ہیں جس سے یہ بات پھر واضح ہوجاتی ہے کہ دراصل یہ دونوں پارٹیاں ریاست کی خود مختاری کو ختم کرنے کیلئے ہوتی آئی سازشوں میں شامل رہتی آئی  ہیں۔انجینئر رشید نے مودی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سخت اور غیر حقیقت پسندانہ پالیسیوں سے اسے کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا ہے اور نہ ہی بھاجپا کے غیر حقیقت پسندانہ ایجنڈا کی ہی تکمیل ہوسکتی ہے۔
 

تازہ ترین