تازہ ترین

شہر میں بلدیاتی سہولیات کی عدم دستیابی

نئے میونسپل کمشنر سے اکنامک الائنس کا تبادلہ خیال

8 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر//شہر سرینگر کو ریاست کا دل قرار دیتے ہوئے کشمیر اکنامک الائنس نے سرینگر مونسپل کارپوریشن کے نئے کمشنر خورشید احمد ثنائی کے ساتھ ملاقات کی ،جس  دوران شہر میں بلدیاتی سہولیات کے فقدان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے الائنس نے تعمیراتی پروجیکٹوں کے کام میں سرعت لانے کا مطالبہ کیا ۔ کشمیر اکنامک الائنس کے چیئرمین فاروق احمد ڈار کی قیادت میں ایک وفد نے بلدیاتی ادارے کے نئے کمشنر کے ساتھ ملاقات کے دوران شہریوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا،جبکہ وفد میںسینٹرل کانٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے سیکریٹری ارشد احمد بٹ اور دیگر لوگ بھی موجود تھے۔ فاروق احمد ڈار نے خورشید احمد ثنائی کو اہم بلدیاتی ادارے سرینگر مونسپل کارپوریشن کی کمان سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے انہیں ایک با صلاحت اور ہونہار افسر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ موصوف اپنے تجربے کو بروائے کار لاتے ہوئے سرینگر کو واقعی ریاست کا دل بنائیں گے۔ڈار نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے اس دل کی دھڑکن کو بند کیا گیا ہے،جس کے نتیجے میں جہاں تعمیراتی و ترقیاتی پروجیکٹوں پر یا تو کام بند کیا گیایا وہ کچھوئے کی رفتار سے جاری ہے،جس کے نتیجے میں شہریوں کو بلدیاتی سہولیات کے فقدان کا سامنا ہے۔الائنس کے شریک چیئرمین نے شہر کی بگڑتی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ہر سو آوارہ کتوں کی سلطنت، صفائی ستھرائی کے فقدان اور دیگر بلدیاتی سہولیات سے لوگوں کو محروم رکھنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح خورشید احمد ثنائی نے دیگر محکموں میں رہ کر اپنے قابلیت کا لوہا منوایا ہے۔اسی طرح وہ ایک دفعہ پھر سرینگر مونسپل کارپویشن کو پٹری پر لائیں گئے۔انہوں نے کہا کہ ایس ایم سی ایک اہم اورکلیدی ادارہ ہے،جس کے مفلوج ہونے سے سرینگر کی شہ رگ ہی بند ہوجاتی ہے،اور براہ راست شہر کی اقتصادیات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ڈار نے میونسپل کارپوریشن اور اس کے ماتحت اداروں میں تعمیراتی ٹھیکیداروں کو درپیش مسائل پر بھی تبادلہ خیال کرتے ہوئے فوری طور پر ان کے مسائل کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ سرینگرمیونسپل کارپوریشن کو سیاسی اکھاڑے میں تبدیل کرنے اور ہر ایک مسئلہ پر سیاست کرنے سے دور رکھا جانا چاہے،کیونکہ اس سے براہ راست شہریوں کو بلدیاتی سہولیات سے محروم ہونا پڑتا ہے۔