تازہ ترین

ساحرؔ لد ھیانوی

آئین،سماج ، سیاست سے سوال

8 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

حقانی القاسمی
ساحر ؔ کو انسانی روح کا حقیقی عرفان ہے اسی لیے ان کی شاعری روح کی آزادی کا نغمہ ہے۔ وہ ہر اس زنجیر کو توڑ دینا چاہتے تھے جس سے انسانی ذہن، ضمیر اور روح غلام بن جائے۔ان کے اشعار میں اقتصادی، سیاسی، سماجی آزادی اور مساوات کے جذبے ملتے ہیں او ریہ ان کے مخصوص شعری موضوعات ہیں۔ یہ موضوعات بھی ان کی فن کارانہ عظمت کی علامتیں ہیں، مگریہاں پھر ایک سوال ہے کہ کیا صرف ان موضوعات کی وجہ سے کوئی فنکار عظیم بن سکتا ہے۔ پروفیسر وارث علوی کا خیال ہے کہ:
”فنکار اس وجہ سے بڑا فنکار نہیں ہوتا کہ اس نے جنگ، امن، قومی آزادی اور انقلاب جیسے اہم اور شاندار موضوعات پر قلم اٹھایا۔ یہ موضوعات اس کی بڑائی کا تعین نہیں کرتے، فن کار کی بڑائی کا تعین اس کا فن ہی کرسکتا ہے۔“
وارث علوی کے خیال سے اختلاف کریں یا اتفاق مگریہ حقیقت ہے کہ محض موضوع عظمت کا معیار نہیں ہے۔”موضوع نظم کی قدر و قیمت کا تعین نہیں کرتا بلکہ مواد اور فارم گویا پوری نظم سے نظم کی قدر کا تعین ہوتا ہے۔“ وارث علوی۔اور یوں بھی موضوعات تو مشترک ہوتے ہیں۔ محض موضوعی اساس پر امتیاز یا انفراد کا تعین آسان عمل نہیں ہے۔ بقول سلیم احمد:”موضوعات ذرا مجرد سی چیز ہیں اور کئی شاعروں میں مشترک بھی ہوسکتے ہیں۔ موضوعات میں جان تو ان تشبیہوں ، استعاروں اور علامتوں سے آتی ہے، جو موضوع کے ارد گرد صرف ہالہ ہی نہیں بناتے، اسے روشنی بھی دیتے ہیں۔“
سلیم احمد کے اس خیال سے ساحر کی فنکارانہ عظمت کی ایک اور راہ نکلتی ہے۔ اب ساحر کے یہاں استعارات ، علامات اور تشبیہات میں تفرد کی تلاش لازمی ہے کہ اسی سے ساحر کی تخلیقی امتیازات کی سطحیں روشن ہوں گی۔ اس محاذ پر بھی ساحر سرخرو نکلے کہ ان کے یہاں استعارے، علامت اور تشبیہ کی ایک متنوع اور مختلف کائنات روشن ہے۔
عکس مے ہو کہ جلوہ گل ہو
رنگِ رخسار تک نہیں پہنچا
تیرے لہو کی آنچ سے گرمی ہے جسم کی
مے کے ہزار وصف سہی مے میں کچھ نہیں
یہ تری یاد ہے یا میری اذیت کو شی
ایک نشتر سا رگ جاں کے قریب آج بھی ہے
گیسووں کی چھاؤں میں دل نواز چہرے ہیں
یا حسیں دھندلکوں میں پھول ہیں چناروں کے
عرصہ ہستی میں اب تیشہ زنوں کا دور ہے
رسم چنگیزی اٹھی، توقیر دارائی گئی
موت پائی صلیب پر ہم نے
عمر بن باس میں بتائی گئی
کھلتا ہے ہر ایک غنچہ نو جوش نمو سے
یہ سچ ہے مگر لمس ہوا بھی ہے کوئی چیز
’تشبیہات‘ علامات و استعارات میں جدت و ندرت نے بھی ساحر کی تخلیقی عظمت کو ایک اور نشان عطا کردیا ہے۔ اس لیے یہ بات بلالیت و لعل کہی جاسکتی ہے کہ ساحر ایک عظیم شاعر ہے جس نے فن کے جملہ مطالبات کو پورا کیا اور وہ سارے عناصر کی شاعری میں موجود ہیں، جو کسی فن کار کو عظیم قرار دینے کے لیے ناگزیر ہیں اور وہ سطحیں بھی جو سلیم احمد نے اچھے شعر کے لیے ضروری قرار دی ہیں:
”شاعری میں اچھے شعر کے لیے بیک وقت تین سطحیں ضروری ہیں۔ ایک سطح پر وہ خدا سے انسان کے تعلق کو ظاہر کرتا ہے، دوسری سطح پر کائنات سے انسان کے تعلق کو اور تیسری سطح انسان اور انسان کے تعلق کی ہے۔ اشعار کی بلندی اور پستی کا تعین اس امر سے ہوتا ہے کہ وہ ان تینوں سطحوں میں کس کس تک پہنچتا ہے۔“
ساحر کے یہاں ان تینوں سطحوں میں بلندی کے سارے آثار نظر آتے ہیں۔ ساحر نے خدا، انسان اور کائنات اور انسانوں کے انسان کے تعلق کے اظہار میں تخیل کی نئی بلندیاں طے کی ہیں۔
زمیں بھی تیری ہے، ہم بھی ترے یہ ملکیت کاسوال ہے
یہ قتل و خون کا رواج کیوں ہے یہ رسم جنگ و جدال کیا ہے
قدرت نے تو بخشی تھی ہمیں ایک ہی دھرتی
ہم نے کہیں بھارت کہیں ایران بنایا
۰۰۰۰۰۰۰۰۰
انصاف کا ترازو جو ہاتھ میں اٹھائے
جرموں کو ٹھیک تولے
ایسا نہ ہو کل کا اتہاس کار بولے
مجرم سے بھی زیادہ
منصف نے ظلم ڈھایا
انصاف کا ترازو جو ہاتھ میں اٹھائے
یہ بات یاد رکھے
سب منصفوں کے اوپر
 اک او ربھی ہے منصف
۰۰۰۰۰۰
مانا کہ اس زمیں کو نہ گلزار کرسکے
کچھ خار کم تو کرگئے گزرے جدھر سے ہم
آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں
فکر کی روشنی کو عام کریں
امن سے جن کو تقویت پہنچے
ایسی جنگوں کا اہتمام کریں
زمیں نے خون اگلا آسماں نے آگ برسائی
جب انسانوں کے دل بدلے تو انسانوں پہ کیا گزری
ساحرؔ اردو شاعری کا پورا آدمی ہے کہ کائنات کے پہلے شاعر آدم و حوا کی طرح اس نے بھی ’باغ بہشت‘ سے نکل کر اذیتوں میں اپنی پناہ تلاش کی تھی اور عوامی بھیڑ میں اپنے کھوئے ہوئے جذبہ و احساس کو دریافت کیا تھا، وہ احساس جو ایک درد مند اور حساس دل میں ہوتا ہے۔ ساحر لوڈھوال کے جاگےردار چودھری فضل محمد ذیل دار (سرمایہ دار والد) کے سایہ عاطفت میں رہتے تو شاید زندگی کے بہت سارے تجربات و حوادث سے محروم رہ جاتے۔ ذہن میں نہ تلخیاں آتیں اور نہ تخلیقی احساس کو اظہار کی راہ ملتی۔ ساحر عیش و عشرت میں ہوتے تو پھر نہ وہ حرف احتجاج بلند کرپاتے او رنہ ہی انسانی دکھ درد کا احساس ہوتا۔ نہ استحصالی معاشرہ کے خلاف بغاوت کرتے۔ ساحر کو تجربوں کی جو بے پناہ دولت ملی، وہ اذیت اور دربدری کا ثمرہ تھی۔ ان کی تخلیق کے حسن میں ’دکھ‘ کی خوبصورتی یا المیہ کی جمالیات بھی شامل ہے۔ دکھ ہی نے ان کا رشتہ عام لوگوں سے جوڑا، مزدوروں، محنت کشوں، طوائفوں کا دکھ بھی اپنے ذاتی دکھ اور مشاہدہ کی ہی توسیع تھی۔ اپنی ذات میں جب پوری کائنات شامل ہوجاتی ہے تو احساس کا دائرہ خود بخود پھیلنے لگتا ہے اور پھر سارے جہاں کا درد، اپنا درد محسوس ہونے لگتا ہے:
مجھے انسانیت کا دردبھی بخشا ہے قدرت نے
مرا مقصد فقط شعلہ نوائی ہو نہیں سکتا
مرے سرکش ترانوں کی حقیقت ہے تو اتنی ہے
کہ جب میں دیکھتا ہوں بھوک کے مارے کسانوں کو
غریبوں مفلسوں کوبے کسوں کو بے سہاروں کو
حکومت کے تشدد کو امارت کے تکبر کو
تو دل تاب نشاط بزم عشرت لا نہیں سکتا
میں چاہوں بھی تو خواب آور ترانے گا نہیں سکتا
یہ سرکشی، تلخی، برگشتگی، دراصل ایک نفسیاتی رد عمل ہے اس سماج کے خلاف جہاں ایک باپ جبر و اقتدار اور ارتکاز قوت کی ایک علامت بن کر ابھرتا ہے اور جو اپنی گیارہویں بیوی، سرداربیگم کوایک پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے زوجیت کے حقوق سے محروم رکھتا ہے۔ اور اسی لیے ’باپ‘ جس طبقہ اور سماج کا نمائندہ ہے، اس طبقہ سے ساحر کی نفرت بڑھنے لگتی ہے اور اس طبقہ سے محبت ہوجاتی ہے جو ’باپ‘ کے ظلم کا شکار ہوا ہے۔ احمد راہی نے صحیح لکھا ہے کہ:
”ساحر کی زندگی میں ایک محبت ہے ، ایک نفرت
محبت اس نے صرف اپنی ماں سے کی ہے اور نفرت صرف اپنے باپ سے“ محبت اور نفرت کی یہ دونوں علامتیں ساحر کی شاعری میں مختلف شکلوں میں رونما ہوئی ہیں۔ ساحر کی تخلیقی سائکی اور ان کے پورے تخلیقی اور فکری نظام کو صرف ان دونوں علامتوں کے لوازمات اور متعلقات کے آئینے میں ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ساحرؔ کی شاعری ان ہی دونوں علامتوں کی توسیع و تمدید اور تشرےح و تعبیر ہے۔ یہی دونوں علامتیں ساحر کی ذات سے نکل کر کائناتی حقیقت میں تبدیل ہوجاتی ہیں اور ذات و کائنات کی یہی وحدت ساحر کی تخلیقی عظمت کا نقطہ امتیاز بن جاتی ہے اور پورے آدمی کی شاعری کا نشان اختصاص بقول سلیم احمد یہ ہے  :
جس کا احساس، جذبہ اور عقل ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے بلکہ ایک وحدت بناتے ہیں اور یہ وحدت اپنے اندر بھی ہم آہنگ ہوتی ہے اور خارجی حقیقت سے بھی ہم آہنگی رکھتی ہے جو خود ایک ہم آہنگ وحدت ہے“۔ احساس، جذبہ اور عقل کی وحدت ساحر کی کئی نظموں میں نمایاں ہے۔ تاج محل ، نورجہاں کے مزار پر اور پرچھائیاں ایسی ہی نظمیں ہیں:
ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں
اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی؟
میری محبوب پس پردہ تشہیر وفا
تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا
مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی
اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا
ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے
لیکن ان کے لئے تشہیر کا سامان نہیں
کیوں کہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے
تاج محل
پہلوئے شاہ میں یہ دختر جمہور کی قبر
کتنے گم گشتہ فسانوں کا پتہ دیتی ہے
کتنے خوں ریز حقائق سے اٹھاتی ہے نقاب
کتنی کچلی ہوئی جانوں کا پتہ دیتی ہے
کیسے مغرور شہنشاہوں کی تسکیں کے لیے
سالہا سال حسیناؤں کے بازار لکھے
کیسے بہکی ہوئی نظروں کے تعیش کے لیے
سرخ محلوں میں جواں جسموں کے انبار لگے
کیسے ہر شاخ سے منہ بند مہکتی کلیاں
نوچ لی جاتی تھےں تزئین حرم کی خاطر
اور مرجھا کے بھی آزاد نہ ہوسکتی تھیں
ظل سبحان کے الفت کے بھرم کی خاطر
نورجہاں کے مزار پر
سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے
چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھے
اس شام مجھے معلوم ہوا کھیتوں کی طرح اس دنیا میں
سہمی ہوئی دوشیزاؤں کی مسکان بھی بیچی جاتی ہے
اس شام مجھے معلوم ہوا، اس کارگہ زرداری میں
دو بھولی بھالی روحوں کی پہچان بھی بیچی جاتی ہے
اس شام مجھے معلوم ہوا جب باپ کی کھیتی چھن جائے
ممتا کے سنہرے خوابوں کی انمول نشانی بکتی ہے
اس شام مجھے معلوم ہوا جب بھائی جنگ میں کام آئیں
سرمائے کے قحبہ خانے میں بہنوں کی جوانی بکتی ہے
پرچھائیاں
ساحر ؔکے یہا ں یہی وحدت مجنوں گورکھپوری جیسے ناقد کو بھی نظر آتی ہے۔ ”وہ خارجی عوارض اور داخلی تاثرات کو سلیقے کے ساتھ سموکر ایک آہنگ بنانے کا فن خوب جانتے ہیں۔ ان کے ہر مصرعے میں مادی محرکات و موثرات کے احساس کے ساتھ وہ کیفیت بڑے سلیقے کے ساتھ گھلی ملی ہوتی ہے، جو بے ساختہ داخلی ابھار کے ساتھ پیدا ہوسکتی ہے“۔
اگر یہی وحدت تخلیقی عظمت کی علامت ہے تو ساحر لاریب عظیم شاعر ہیں ، مگر ہماری تنقید کا المیہ یہ ہے کہ یہاں معیار کی منطق تبدیل ہوتی رہتی ہے، اس لیے اب یہی کہنے میں عافیت ہے کہ ساحرتنقیدی تعینات سے ماورا ہیں ۔ استقرائی، تفکری یا تشریعی، یہ تمام تنقیدی طریق کار ساحر کی تعین قدر میں معاون نہیں ہوسکتے۔ساحر کی تخلیق (فلمی، ادبی) ان کی عظمت کی شہادت کے لیے کافی ہے۔ ان کے تخلیقی تجربے کا تنوع اور اظہار کے نئے وسائل، تکنیک کے نئے ذرائع ہی وافر ثبوت ہیں کہ ساحر لدھیانوی (8مارچ 1921-25اکتوبر 1980)، اپنے عہد کے مختلف منفرد اور عظیم شاعر ہیں جو اپنی ترسیلی قوت کی بنیاد پر براہ راست قاری سے ایک ذہنی اور جذباتی رشتہ قائم کرنے میں کامیاب ہیں، جس کی ایک نمایاں مثال نظم ’پرچھائیاں‘ ہے جو ایسی حکائیہ تکنیک میں ہے کہ کسی بھی اردو شاعر نے نظموں میں یہ استعمال نہیں کی ہے۔ علی سردار جعفری جیسے ممتاز نظم نگار شاعر اور ناقد نے بھی اس نظم کی بیانیہ سادگی میں مخفی قوت کا اعتراف کرتے ہوئے یہ لکھا کہ:
”ہماری بعض بہترین نظمیں عام انسانوں کی سمجھ کی سطح سے بہت اونچی ہیں، لیکن ساحر کی نظم ’پرچھائیاں‘ اپنی سادہ کہانی اور آسان بیانی کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ وسیع حلقوں تک پہنچ سکے گی۔ اس کے نوے فیصدی سے بھی کچھ زیادہ الفاظ ہماری روز مرہ گفتگو کے الفاظ ہیں۔ کلاسکیت اور روایت کے نام پر ساحر نے اپنی نظم کو اجنبی اور غیر مانوس الفاظ سے بوجھل نہیں بنایا ہے۔ ساحر کی کامیابی اس میں ہے کہ اس نے اپنے سادہ اور آسان الفاظ سے اس عہد کی بعض اہم حقیقتوں کو ایسے مصرعوں میں ڈھال دیا ہے جو زبان پر چڑھ بھی جاتے ہیں اور دل پر اثر بھی کرتے ہیں“۔
ساحر کا یہ بھی کمال ہے کہ انہو ں نے نثری اسلوب کو شاعرانہ شدت کے ساتھ پیش کیا ہے اور کہتے ہیں کہ ”اچھی شاعری وہ ہے جو نثر سے زیادہ سے زیادہ قریب ہو لیکن نثری نہ ہو۔“
ساحر نے نثر اور شاعری کے فاصلوں کو بھی کم کیا ہے۔ ان کی نظموں میں جو فکری و لسانی ارتباط و ارتکاز ہے، وہی ان کی نظمیہ شاعری کا حسن ہے۔ ساحر ایک مربوط و منضبط فکر کے حامل ہیں او ریہ صفت ان کی تخلیق میں ہے۔ کوئی تو وجہ ہوگی کہ ساحر کے اکثر مصرعے کسی سماجی، سیاسی مضمون کا موثر اور متحرک عنوان بن جاتے ہیں بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ درجنوں صفحات پر محیط کسی سماجی یا سیاسی مضمون کے مقابلے میں ساحر کی چند نظمیہ سطریں زیادہ اثر انگیز اور معنی خیز ہوتی ہیں۔
ساحر بڑا شاعر ہے اس لیے بھی کہ ان کی شاعری میں اقتدار، آئین، سماج اور سیاست سے سوال ہے۔ او ریہ وہ سوال ہیں جو کائناتی اور انسانی وجود سے ہمیشہ ہی جڑیں گے۔ جب تک کائنات ہے، ان سوالوں کے سلسلے جاری رہیں گے۔
دولت بڑھی تو ملک میں افلاس کیوں بڑھا
خوش حالی عوام کے اسباب کیا ہوئے؟
میرا خیال ہے کہ ان سوالوں کی دوامیت میں بھی ساحر کی فنی عظمت مضمر ہے۔تنقید کا کوئی بھی زاویہ ہو، ہر میزان پر ساحر کی شاعری کھری اترے گی،ان کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہے گا۔ ساحر کا مقام شاعری کے عیشة راضیہ میں متعین ہے۔ اس کے لیے کسی تنقیدی فرمان کی قطعی ضرورت نہیں ہے کہ ہماری تنقید کے لیے تخلیق کاروں کے مدارج و مراتب کا تعین جوئے شیر لانے سے کم نہیں اور یوں بھی خود ساحر کو ایسی تنقید پر اعتبار ہی کہاں تھا   ؎
مجھ کو اس کا رنج نہیں ہے لوگ مجھے فن کار نہ مانیں
فکر و سخن کے تاجر مرے شعروں کو اشعار نہ مانیں
یہ شعر شاید اسی بے اعتباری اور عدم اعتماد کا مظہر ہے۔ اور ساحر کوتنقید کی طوطا چشمی کا شدت سے احساس تھا کہ انہوں نے خود بھی اپنے زمانے کی آنکھیں اور چہرے دیکھے تھے۔ اور ان آنکھوں اور چہروں کے بدلتے رنگ اور تاثرات بھی، اسی لیے انہیں پہلے ہی سے یہ ادراک تھا کہ:
کل کوئی مجھ کو یاد کرے، کیوں کوئی مجھ کو یاد کرے
مصروف زمانہ میرے لیے کیوں وقت اپنا برباد کرے
یقناً زمانہ مصروف بھی ہے اور لوگوں کو اپنے وقت کی قدر و قیمت کا پہلے سے بھی کہیں زیادہ احساس ہے، پھر بھی عجب بات ہے کہ ساحر کی قرات کا تسلسل قائم ہے جب کہ بہت سے شعرا قرات کے باب میں ’وقفہ موقوف‘ میں ہیں، مگر محض قرات ہی تو مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ ساحر کے مدرکات و مکاشفات کی تعبیر وتفہیم کے لیے نئی قرات کی ضرورت ہے تاکہ ساحر کی تخلیقی کاملیت، حسیت اور معنویت کے نئے باب روشن ہوں اور ساحر کا وہ، مافیہ، اپنی کلیت میں سامنے آئے جو ان کے نظمیہ اسپیس میں پنہاں ہے۔ اور اس ساحر کی تلاش کی جائے جو اپنی تخلیق کی وجہ سے مختلف طبقات، درجات اور ادبیات میں اپنی الگ الگ مساواتوں Equations کے ساتھ زندہ ہے۔ مختلف الخیال طبقات کی یہی مساواتیں ساحر کو ہر عہد میں نئی زندگی او رنئی معنویت عطا کرتی رہیں گی۔اور یہ تنقید کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے کہ تنقید تو کسی بھی تخلیق کے سر پر ’تاج زریں‘ رکھ دیتی ہے، مگر ہوتا یہ ہے کہ ایک مدت کے بعد تاج کے ساتھ ساتھ سر بھی غائب ہوجاتے ہیں۔ ساحر کو ایسے تاج سے ویسے بھی وحشت ہے:
کشکول فن اٹھا کے سوئے خسرواں نہ جا
اب دست اختیار جم و کے میں کچھ نہیں
یہاں پر ’خسروں‘ سے ساحر ؔکی مراد میرے خیال میں شاید ’نقاد‘ ہی ہے مگر میرا خیال بھی تو ’نقد ناقدین‘ کی طرح غلط ہوسکتا ہے۔
(ختم شد)
 نوٹ :حقانی القاسمی معروف صحافی، ممتاز ادیب اور تنقید نگار ہیں،یک موضوعی کتابی سلسلسہ’’ انداز بیا ں‘ ‘ان کی ادارت میں شائع ہوتا ہے۔