ملک کا نیا سیاسی منظرنامہ

مسلمانان ِ ہند کا لائحہ عمل کیا ہو؟

8 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی دلّی
۲۰۱۹ء  کے پارلیمانی انتخابات میں بے جے پی بلکہ صحیح الفاظ میں نریندرمودی تمام ترقیاس آرائیوںکاخاتمہ کرکے دوبارہ بڑے طمطراق سے واپس آگئے۔ہمارے زاویہ ٔ نگاہ سے اس بارے میں بڑا کلیدی کردارچار چیزوںکا رہا:ایک نریندرمودی کی بھاری بھرکم اورکرشماتی قیادت جس کا کوئی مدمقابل یا حریف کسی بھی دوسری پارٹی میں نہیں۔دوسرے کمزوراوربکھری حزب اختلاف۔ تیسرے ہندوقوم پر ستی یعنی ہندوتوکا جارحانہ پرچارجواب بدقسمتی سے ملک کی اکثریت کے ذہن پر بُری طرح چھاگیاہے ۔ یہاںتک کہ بنگال کے سیکولرہندؤوںاورکمیونسٹ ہندؤوںکے سربھی ہندوتوکا جادوچڑھ چکاہے ۔چوتھے مودی اورامت شاہ کی اَن تھک محنت اورجارحانہ انتخابی مہم جس کے مقابلہ میںاپوزیشن نے انتہائی نکمے پن کا ثبوت دیا۔سیاست کی اس ڈگرپر پہنچنے کے لیے ہندتووادیوںنے ۷۰؍ سال تک اَن تھک محنت اورزبردست جدوجہدکی ہے ۔ہندوقوم نفسیاتی طورپر شکتی کی پوجاکرتی ہے اورقوم پرستی کوئی بھی ہواپنے مزاج سے اس کوکوئی نہ کوئی دشمن چاہیے۔پھروہ حقیقی ہویاتصوراتی ،اس سے اس کوکوئی غرض نہیںہوتی ۔ بی جے پے کے فن ِ پروپیگنڈہ کے ماہرین اورخاص کراس کے سیاسی چانکیہ پارٹی صدرامت شاہ نے الیکٹرانک میڈیاکے ذریعہ اپنی انتخابی اسٹریٹجی ایسی بنائی کہ ہندواکثریت اب کم ازکم ذہنی طور مسلمانوںکواپنادشمن  مان چکی ہے۔اسے لگتاہے کہ مودی ایک ایسامضبوط آدمی ہے جواس مزعومہ یا مصنوعی دشمن کونقصان پہنچاسکتاہے، مین اسٹریم میڈیانے اس پروپیگنڈے میں فسطائیوںکی سب سے زیادہ مددکی ہے ۔ لہٰذاہندواکثریت نے بڑھتی غربت، بے روزگاری ،گرتی معیشت وغیرہ تمام ایشوزکوکنارے رکھ کریہ طے کرلیا کہ مودی کو’’بھگوان ‘‘مان کراس کی پوجاکرنی ہے اورہرقیمت پر مرکزمیں اسی کی سرکاربنانی ہے۔اس ذہنیت نے ملک کے اکثرحصوںمیں بے جے پی کے سیاسی حریفوںکوبھک سے اُڑادیا۔ بہر حال اب جب کہ مرکز میں مودی حکومت پہلے سے زیادہ مضبوط ہوکرآگئی ہے تومسلمانوںکوان سوالوںکے بجائے کہ ایساکیوںہوگیا،اب اس نقطے پر غور وفکرکرناچاہیے کہ اب وہ نئے سیاسی منظر نامے میں کیالائحہ عمل اختیارکریںگے ۔
یہ بات کہنے کی نہیں کہ ہم مسلمان ملک میں ہراعتبارسے پیچھے دھکیلے جا چکے ہیں،ممکن ہے موجودہ سیاسی دنگل میں اپنی بے توقیری سے ہمارے احساس کویہ مہمیزلگے کہ ہم کواپنے وجودوبقاء کی جنگ خودلڑنی ہے ،خودآگے بڑھنے کے لیے محنت شاقہ کرنی ہے۔ اگرایساہوجائے تواس چیلنج سے مثبت فائدے کشیدکیے جاسکتے ہیں۔اس کے لیے ہمیں سب سے پہلے توشکوہ وشکایت والی روش ترک کرنا ہوگی ۔ اپنے دلدروںکے لیے دوسروں کو قصوروارٹھہرانے اورشترمرغ کی طرح ریت میں سردینے کی بُری عاد ت ترک کرنا ہوگی ۔ آج کل ہماراہرلکھنے بولنے والااورہرخطیب و مقرراپنے منبرسے ایک ہی بات بیان کرتاہے کہ ’’دوسرے ‘‘ہمارے خلاف شازشیںکررہے ہیں۔یہ شازشی تھیوری اب ناکام ہوچکی ،اس پر لکھاگیالٹریچربھی فرسودہ ہوچکا۔اب ہمیں یہ مان لیناچاہیے کہ کسی اورنے نہیں ہم کوپیچھے نہیں کیابلکہ ہم زندگی کے ہرمیدان میںاپنی جگہ جم کررہ گئے جب کہ زمانہ بڑی تیزرفتاری سے آگے چلتارہا۔ظاہرہے کہ جولوگ اپنے جمودپر خوش ہوںاوراس کے لیے حیلے بہانے تراشنے میں ماہر بھی ہوں،تاریخ ان کوپیچھے چھوڑکرآگے بڑھتی جائے گی اوران کوتاریخ کے کوڑے دان میں بھی جگہ نہ ملے گی ۔ 
ہمارے نزدیک مسلمانوںکوسرسیدکے طریقہ ٔکارکی طرف لوٹناچاہیے کہ ہم سیاست بازی چھوڑکرصرف اورصرف تعلیم کی طرف اپنی تمام ترتوجہات مرکوزکریں۔ان کایک نکاتی ایجنڈاتعلیم اورصرف تعلیم ہو۔جس دن وہ فسطائی قوتوںکے سیاسی حریف بنناچھوڑدیںگے وہ فسطائیوںکے ہاتھ سے اپنے خلاف استعمال ہونے والاایک بڑاہتھیارچھین لیںگے ۔دستوراورسیکولرازم کے تحفظ کا ٹھیکہ صرف انہوںنے ہی نہیں لیاہے اوراگران کا اس سلسلے میں کوئی فرض تھابھی تووہ انہوںنے اداکردیا،اب وہ مزعومہ سیاسی پارٹیوںکا ووٹ بنک بنناچھوڑیں۔کانگریس ،بی ایس پی،سماج وادی وغیرہ کی حاشیہ برداری بہت ہوچکی ، اقتدارکے گلیاروںتک یہ سیاسی پارٹی پہنچے یاوہ،مسلمان کوکچھ ملتانہیں ہے ،اس لیے ان کوزیادہ غرض بھی نہیں رکھنی چاہیے۔
دوسراایشوجوتعلیم سے مربوط ہے وہ معیشت کی دُرستگی ہے۔مسلمان تعلیم میں آگے بڑھیںگے تومعیشت بھی کچھ نہ کچھ بہترہوگی ۔تعلیم کے میدان میںہمیںعیسائی کمیونٹی سے سبق لیناچاہیے ۔عیسائی تعدادمیں بہت کم ہیںاورمسلمانوںکی طرح وہ بھی مسلسل فسطائی قوتوںکے نشانہ پررہے ہیںمگران کوملک میں یہ ایک ایڈوانٹج حاصل ہے کہ ان کے پاس تقریباًہرشہرمیں تعلیم کے معیاری ادارے ہیںجن میں اپنے بچوںکوبھیجنے کے لیے کیامسلمان اورکیاہندوسبھی مجبورہیں۔افسوس کہ مسلمان اس محاذپر بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔میں دہلی کے اوکھلامیں رہتاہوںجہاںلاکھوںمسلمان آبادہیں مگر’’ہمدردپبلک اسکول‘‘ کی برانچ کوچھوڑکرکوئی بھی معیاری اسکولہمارے پا س نہیں ہے۔شمالی ہند میںیہی صورت حال تقریباًہرشہرکی ہے۔ ہم مسلمانوںکے مدارس اورمساجدکوکمیونٹی سینٹرکا کرداربھی اداکرناچاہیے ،جویہ قرون اولیٰ میں کیا کرتے تھے۔اس کے علاوہ ہم بڑی تعدادمیں سول رائٹس اورحقوق انسانی کے تحفظ کے ادارے اورانجمنیںقائم کریں۔اس کے لیے زکوٰۃ کا پیسہ بھی خرچ کیاجاسکتاہے۔
گائے ،رام مندراورتین طلاق وغیرہ ایسے مسائل ہیںجن کی آڑمیں اکثریت کومسلمانوںکے خلاف بھڑکایاجاتاہے۔ان ایشوزپر مسلمانوںکوبڑی احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔گائے کی آڑمیں مودی سرکارکے دوبارہ اقتدارمیں آنے کے بعدمسلمان نوجوانوںکوتشددکا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیاہے ۔اس پر زورداراندازمیں آوازاٹھانے کی ضرورت ہے اورملک کے عام لوگوںکے سامنے یہ بات بھی لانے کی ضرورت ہے کہ گائے اوردوسرے جانوروںکی کھال کے بڑے بڑے بیوپاری کون ہیں؟ملک سے باہران کوبڑے پیمانہ پر کون سپلائی کرتاہے ؟ اس کے لیے مسلمانوںکوبڑے پیمانہ پر عام ہندوؤںسے قربت اختیارکرنی پڑے گی اور خلوت نشینی اور خامشی میں رہنے کی عادت کوترک کرناہوگا۔
علما،اسکالرز،قیادت ،دعوتی کارکنان اوردینی تنظیموںکی سطح پراس با ت کی شدت سے کمی محسو س ہوتی ہے کہ ہماری مخاطب و مدعواوراب حکمراںہندوقوم کی زبان ، مذہب ،فلسفہ ،تہذیب وروایات سے ہمارے ہاںبڑی بے خبری عام ہے۔اس لیے بڑ ے مدار س،تحقیقی اوردعوتی اداروںکواس جانب توجہ کرنی چاہیے اورہندومذہب،اس کا فلسفہ وتاریخ اورہندتوکوگہرائی کے ساتھ جاننے والے افرادپیداکرنے چاہییں۔کچھ عرصہ قبل اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیانے ملک کے بڑے اورمؤقرمدارس سے اپنے ہاںمطالعہ ہندومذہب وہندتوکے شعبے کھولنے یاکم ازکم اس موضوع پر توسیعی لیکچرکرانے کی درخواست کی تھی۔معلوم نہیں اس پرکسی نے کان دھرا یانہیں، البتہ دارالعلوم دیوبندنے یہ سلسلہ پہلے سے ہی شروع کررکھاہے جہاںہندوستانیات اورہندتوکے ایک ماہرمحترم مولاناعبدالحمیدنعمانی یہ خدمت انجام دیتے ہیں،دوسرے مدارس کوبھی اس کی تقلیدکرنی چاہیے۔
 ایک بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ مختلف مشترک ایشوزپر مسلمان ہندوسماج کے لیڈروںسے مسلسل بات کریں۔گفتگووڈائیلاگ کا طریقہ اب پوری دنیامیں رائج ہورہاہے لیکن ہماری نظرمیں اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ مختلف مشترک ایشوزپر خودمسلم قوم کے اندرقیادت کی سطح پر باہم گفتگوہوافسوس کہ ہماری باریش اوربے ریش قیادت اس محاذپر ہمیشہ ناکام ثابت ہوئی ہے۔ہماری ملت میں داخلی گفتگواورڈائیلاگ کی کوئی روایت ہی شروع نہیںہوئی بس ہرفرقہ وگروپ اپنے آپ کودین کا ٹھیکہ دارسمجھتاہے اورکل حزب بمالدیہم فرحون کا منظرپیش کرتاہے۔
بے جے پی رام مندرکے ایشوکوضروراٹھائے گی اورہمارااحساس یہ ہے جوخداکرے کہ غلط ثابت ہوکہ سپریم کورٹ یاتواس مسئلہ پر کوئی فیصلہ نہیں دے گی بلکہ ثالثی وغیرہ کے ذریعہ چاہے گی کہ فریقین مسئلہ حل کرلیں،جیساکہ اس نے فی الحال ثالثی کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہوئی ہے ۔اگر ثالثی کی یہ کوشش ناکام ہوتی ہے توپھروہ الٰہ آبادکورٹ کی طرح کا ایک بین بین کا فیصلہ دے دے گی کیونکہ ہندوتوکی لہرسے بیوروکریسی ،عدلیہ ،پولیس ،سول سوسائٹی اورمیڈیاکوئی بھی بچاہوانہیں ہے ۔ ہمیں نہیں لگتاکہ عدالت عالیہ پریشرسے آزادکوئی فیصلہ دینے کی جرأت کرپائے گی ۔ اس لئے اس مسئلہ میں مسلم پرسنل بورڈ کوتنہاشریعت کا محافظ ہونے کادعویٰ چھوڑکردوسروںکا موقف بھی سنناچاہیے۔ورنہ اُسے تین طلاق کے مسئلہ کی طرح یہاںبھی شرمسارہوناپڑے گا۔
تین طلاق کے سلسلہ میں کورٹ کا فیصلہ آنے سے تقریباًایک ماہ قبل ہم نے بورڈ کے بزرگوںکی خدمت میں عرض کیاتھاکہ وہ اپنے موقف میں لچک پیداکریں کیونکہ ان کے دلائل عدالت عالیہ میں وزن پیدانہیں کرسکیںگے (راقم کا مضمون روزنامہ قومی تنظیم میںشائع ہواتھا)لیکن خاکسارکی یہ آوازصدابہ صحرا ثابت ہوئی اورہم نے جن خدشات کا اظہارکیاتھاکچھ دنوںکے بعدوہ کڑواسچ ثابت ہوگئے ۔
1992میں جب بابری مسجدکا انہدام ہواتو ایک عالم دین نے مصالحتی فارمولہ پیش کیاتھاجس کوملت نے بغیرکچھ سوچے سمجھے مستردکردیا۔تب سے اب تک حالات بہت بدل چکے ۔اس تجویز کی مخالفت میں سب سے زیادہ جوش وخروش کا مظاہرہ کرنے والے مولاناسلمان حسینی ندوی آج خوداسی موقف پر آچکے ہیںجوعالم صاحب کا تھا۔حسینی صاحب نے اپناموقف مسلم پرسنل لاء بورڈ میں رکھنے کی کوشش کی توان کوبورڈ سے ہی نکال دیاگیااوران کے خلاف بورڈ کے لوگوںنے ایک مسلسل مہم چلائی، حالانکہ صحیح موقف یہ ہوتاکہ ان کی بات سنی جاتی اوراس کے مالہ و ماعلیہ پر غورکیاجاتا۔بہرحال مقصدکسی موقف کی وکالت نہیں،بلکہ غرض یہ بتلانا ہے کہ ملت میں داخلی طورپر حساس موضوعات پر حقیقت پسندانہ گفتگواورڈائیلاگ کا طریقہ کاررائج ہوناچاہیے ۔یہ ہماری فوری ضرورت ہے ،کیونکہ ابھی توبرسراقتدارپارٹی نے دستورسے چھیڑچھاڑکرنے کا کوئی ارادہ ظاہرنہیں کیامگریہ ان کا طے شدہ ایجنڈاہے اوربے جے پی اپنے حلیفوںکوبھی اس معاملہ میں خاطرمیں نہیںلائے گی ۔اس لیے اس پر بھی مسلمانوںکوشدومدسے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے ۔
 نوٹ :مضمون نگارریسرچ ایسوسی ایٹ مرکزفروغ تعلیم وثقافت مسلمانان ہند علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ہیں ۔
ای میل : mohammad.ghitreef@gmail.com

 

تازہ ترین