تازہ ترین

مزید خبرں

8 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

گجر بکروال طبقہ کو ڈھوکوں سے نکالنے کا الزام 

حسین محتشم
 
پونچھ//آل جموں و کشمیر پنچایت کانفرنس صوبہ جموں کے نائب صدر سرپنچ اسلام آباد ضلع پونچھ چوہدری نذیر حسین نے موسمی اعتبار سے نقل مکانی کرنے والے گجر بکروال طبقہ کے لوگوں کے ساتھ نا انصافی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاہے کہ انہیں ڈھوکوں سے نکالاجارہاہے۔انہوں نے کہا کہ کئی صدیوں سے ایک سلسلہ چلاآرہا ہے کہ گجر بکروال طبقہ کے لوگ اپنے علاقوں سے موسمی تبدیلی کے ساتھ اپنے مال مویشیوں کولیکر کشمیر کی دور دراز پہاڑیوں پر ان کی آبائی ڈھوکوں میں ہجرت کرتے ہیں جبکہ اس بار مذکورہ غریبوں اور مسافروں کے ساتھ ریاستی سرکار نا انسافی کر رہی ہے۔انہوں نے گورنر انتظامیہ اور محکمہ جنگلات پر الزام لگایا کہ اس بار جب یہ لوگ اپنی ڈھوکوں میں پہنچے تو ان کے ڈھارے توڑ کر انھیں وہاں ٹہھرنے نہیں دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ جنگلوں میں اپنے مال مویشیوں کے ساتھ کئی طرح کی پریشانیوں کا سامناکرر ہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک کے ساتھ ساتھ ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت انھیں پریشان کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا یہ گجر بکروال طبقہ آج سے نہیں بلکہ پچھلے 70 سالوں سے گرمیوں کے چھ مہینے گزارنے کے لئے اپنے مال مویشیوں کو لیکر اپنی اپنی ڈھوکوں میں جاتے رہے ہیں پھر آج ہی ایسی کیا وجہ پیش آئی ہے کہ انہیں ان عارضی ٹھکانوں سے ہٹایا جا رہا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ جموں ضلع میں بھی صرف گجر طبقہ کو نا انصافی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر جلد ان لوگوں کو ڈھوکوں میں راحت نہ پہچائی گئی تو سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا جائے گا۔
 
 
 

فضل آباد لوہر بی میں بجلی کے کھمبے موجود ہی نہیں 

ترسیلی لائنیں سبز درختوں اور لکڑی کے کھمبوں سے لٹکی ہوئی 

بختیار حسین
 
سرنکوٹ//سرنکوٹ کے فضل آباد لوہر بی میں محکمہ بجلی کی لاپرواہی کی وجہ سے بجلی کی ترسیلی لائنیں سبز درختوں اور لکڑی کے کھمبوں کے استعمال سے لوگوں کے گھروں تک سپلا ئی پہنچائی جارہی ہے ۔فضل آباد گائوں کے وارڈ نمبر دو محلہ دوپریاںکے لوگوں نے شکایت کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ گائوں میں عوام کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے سبز درختوں کا استعمال کیا گیا ہے جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے چلائی جارہی اسکیموں سے عوام کو فائدہ نہیں پہنچایا جارہاہے ۔ایک سماجی کارکن عبدالقادر بیگ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ محلہ دوپریاں کی وارڈ نمبر دو میں عوام کو سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس سلسلہ میں متعلقہ آفیسران و ملازمین سے کئی بار بات چیت کی گئی ہے تاہم یقین دہانیوں کے باوجود بھی اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے ۔مقامی لوگوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ متعلقہ محکمہ کو ہدایت جاری کیں جائیں تاکہ مقامی لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے ۔
 

۔160کنال سے زائد سرکاری اراضی بازیاب 

سمت بھارگو 
 
راجوری//ضلع انتظامیہ راجوری کی ہدایت پر تحصیل سیوٹ اور بیری پتن میں 160کنال اور 10مرلہ سرکاری زمین سے ناجائز قبضہ ہٹایا گیا ۔تحصیلدا سیوٹ کی قیادت میں ملازمین اور پولیس پر مشتمل ایک ٹیم نے تحصیل بیری پتن کے دھار اور کنگری گائوں کیساتھ ساتھ تحصیل سیوٹ کے چھنی علا قہ میں ایک مہم کے دوران مذکورہ زمین وگزار کروائی ۔انتظامیہ کے مطابق تحصیل بیری پتن میں 110کنال اور 10مرلہ جبکہ تحصیل سیوٹ میں 50کنال اراضی سے ناجائز قبضہ ہٹایا گیا ۔مذکورہ مہم ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری محمود اعجاز اسد کی ہدایت پر انجام دی گئی ۔ضلع انتظامیہ نے محکمہ مال کو ہدایت جاری کی ہوئی ہیں کہ سرکاری زمین سے ناجائز قبضہ ہٹانے کیلئے مہم شروع کی جائے ۔
 
 

خواتین کی بااختیاری پر بیداری پروگرام 

سمت بھارگو 
 
راجوری //فوج کی جانب سے راجوری کے درہال علا قہ میں خواتین کی با اختیار ی کے سلسلہ میں ایک بیداری پروگرام کا اہتمام کیا گیا ۔گور نمنٹ ہائی سکول ڈوڈاج میں منعقدہ بیداری پروگرام میں کل 75افراد نے شرکت کی جن میں 35خواتین بھی شامل تھیں ۔اس پروگرام میں ڈوڈاج کی سرپنچ کو بطور مہمان خصوصی دعوت دی گئی تھی ۔اس پروگرام کو منعقد کرنے کا اصل مقصد خواتین کی با اختیاری کیلئے مرکزی حکومت کی جانب سے شروع کر دہ اسکیموں کے بارے میں دیہی علا قوں کی خواتین کو بیدار کرنا تھا ۔پروگرام کے دوران خواتین کو مختلف اسکیموں کے سلسلہ میں بیدار کیا گیا جبکہ ان سے اپیل کی گئی مرکزی حکومت کی جانب سے شروع کر دہ اسکیموں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا یا جائے ۔
 
 

کوٹرنکہ کی پنچایت جمولہ میں بجلی نظام خستہ حالی کا شکار 

محمد بشارت 
 
کوٹرنکہ //سب ڈویژن کوٹرنکہ کی پنچایت حلقہ جمولہ میں بجلی نظام کی خستہ حالی کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مقامی لوگوں نے محکمہ بجلی اور ضلع انتظامیہ راجوری کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہاکہ پوری پنچایت میں بجلی کی تاریں لکڑی کے کھمبوں اور سبز درختوں کیساتھ باندھی ہوئی ہیں جس کہ کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کی وجہ بن سکتی ہیں ۔مقامی سرپنچ صدام حسین ٹھا کر نے بتایا کہ مذکورہ پنچایت کی زیادہ تر آبادی کو بجلی کی فراہمی کیلئے سبز درختوں کا استعمال کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ غریب عوام کو درپیش مسائل کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے جبکہ اس سلسلہ میں متعلقہ محکمہ سے کئی مرتبہ رجوع بھی کیا گیا لیکن اس طرف سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا ۔مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ عوامی سہولیات کیلئے بجلی نظام کو درست کیاجائے جبکہ مذکورہ پنچایت میں بجلی کی فراہمی کیلئے کھمبے دئیے جائیں۔
 

بھوانی گائوں میں  بنکر تعمیر کرنے کی مانگ 

رمیش کیسر 
 
نوشہرہ //نوشہرہ کے سرحدی گائوں بھوانی کی عوام نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ حد متارکہ کے قریب ہونے کے سلسلہ میں بنکروں کی تعمیر کو منظوری دی جائے تاکہ عوام کو کسی بھی مشکل وقت میں تحفظ فراہم ہو سکے ۔مقامی لوگوں نے کہاکہ مذکورہ گائوں حد متارکہ پر ہونے کی وجہ سے ہر وقت پا کستانی افواج کی جانب سے کی جانے والی فائر نگ سے عام لوگوں کو شدید خطرہ لائق رہتا ہے ۔مقامی لوگوں نے کہاکہ جھنگڑ ودیگر علا قوں میں بنکروں کی تعمیر کے سلسلہ میں کام جاری ہے لیکن بھوانی گائوں میں ابھی تک بنکروں کی تعمیر کو منظوری نہیں دی گئی جس کی وجہ سے مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ انتظامیہ کی جانب سے کئے جانے والے سروے میں ہر وقت مذکورہ گائوں سر فہرست رکھا جاتا ہے لیکن کام کی منظوری کے دوران مذکورہ علاقہ کی نظر انداز کیا جاتا ہے ۔مقامی لوگوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ بھوانی گائوں میں بنکروں کی تعمیر کومنظوری دی جائے تاکہ تعمیر اتی کاموں کو شروع کیا جاسکے۔
 

ژالہ باری سے فصلوں کی تباہی 

شبیر خان کا متاثرین کیلئے معاوضہ کا مطالبہ 

راجوری //کانگریس کے سینئر لیڈرو سابق ریاستی وزیر شبیر احمد خان نے حالیہ عرصہ میں ژالہ باری سے فصلوں اور میوہ جات کو پہنچے نقصان کا فوری طور پر تخمینہ لگاکر متاثرین کو معاوضہ فراہم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ابھی تک راجوری اور پونچھ میں انتظامیہ نے اس حوالے سے کوئی ایک ادنیٰ سا اقدام بھی نہیں کیا ۔ پریس کے نام جاری ایک بیان میں شبیر خان نے کہاکہ امسال مسلسل ہونے والی بارشوں اور حالیہ شدید ژالہ باری نے فصلوں کو بری طرح سے نقصان پہنچاہے اورساتھ ہی میوہ جات کے درخت بھی تباہ ہوئے ہیں ۔ ان کاکہناتھاکہ راجوری اور پونچھ میں فصلیں ہی کسانوں کا واحد ذریعہ معاش ہیں جن کی تباہی سے ان کی امیدوں پر پانی پھر گیاہے ۔انہوںنے کہاکہ کسانوں کیلئے فوری امداد کی ضرورت ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ انتظامیہ متاثرین کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگائے ۔شبیر خان نے کہاکہ قدرتی آفات کے رونماہونے کے بعد ہمیشہ سے ہی راجوری اور پونچھ کے ساتھ انصاف نہیں ہوپایاہے اوراس خطے کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک برتاجاتاہے ۔ انہو ں نے گورنر انتظامیہ پر زور دیاکہ کسانوں کوہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ لگاکر انہیں فوری طور پر معاوضہ دیاجائے ۔ ان کاکہناہے کہ اس حوالے سے کوئی مناسب پالیسی مرتب کی جانی چاہئے تاکہ فصلوں اور میوہ جات کو ہونے والے نقصان پر کسانوں کو بروقت معاوضہ مل سکے اور اس کے سہارے وہ پھر سے زرعی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں ۔