تازہ ترین

پنجرن پلوامہ میں خونین تصادم آرائی، 4جیش جنگجو جاں بحق

۔ 2مفرور ایس پی او بھی شامل،کئی علاقو ں میں مکمل ہڑتال،احتجاجی مظاہرے ، موبائل انٹرنیٹ بند

8 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

شاہد ٹاک
پلوامہ //ماہ صیام کے بعد بھی جنگجو مخالف کاروائیاں جاری رکھتے ہوئے فورسز نے پلوامہ کے لاسی پورہ علاقے میں حال ہی میں پولیس سے فرار اختیار کرکے عسکری صفوں میں شامل ہوئے دوایس پی اوزسمیت 4جنگجوئوں کو جان بحق کردیا ہے ۔کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس خون ریز جھڑپ کے دوران علاقے میں تشدد بھڑک اٹھا جبکہ انتطامیہ نے فوری طور انٹرنیٹ پر روک لگا دی ۔اس دوران مہلوک جنگجوئوں کو احتجاجی مظاہروں کے بیچ سپرد خاک کیا گیا ۔مقامی ذرائع سے موصولہ تفصیلات کے مطابق فوج کی 44آر آر، سی آر پی ایف اور ایس او جی سے وابستہ اہلکاروں نے مشترکہ طور پر پنجرن لاسی پورہ علاقے کا جمعرات شام دیر گئے اُس وقت محاصرہ عمل میں لایا جب علاقے میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی۔ گھر گھر تلاشی کارروائی کے دوران دو منزلہ مکان کے اندرموجود جنگجوئوں نے تلاشی پارٹی پر خودکار ہتھیاروں سے زبردست فائرنگ شروع کی جس کے بعد فورسز نے بھی مورچہ سنبھالا۔ ذرائع کے مطابق جمعہ کی علی الصبح فورسز نے جنگجوئوں کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے مکان کے اندرکئی گولے داغے جس کے چند منٹ بعد یہاں فائرنگ کا سلسلہ رک گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس و فورسز نے فائرنگ کا سلسلہ بند ہونے کے بعد مقام جھڑپ کی تلاشی لی جہاں سے 4جنگجوئوں کی لاشیں برآمد کی گئیں۔ پولیس کے مطابق مارے گئے جنگجوئوں میں سے ڈسٹرکٹ پولیس لائنز پلوامہ سے گزشتہ روز فرار ہوئے 2ایس پی اوز کی لاشیں بھی شامل ہیں جنہوں نے اسلحہ سمیت پولیس لائنز سے فرار اختیار کیا تھا۔ پولیس نے مارے گئے جنگجوئوں کی شناخت شبیر احمد ڈار ولد ہاشم ڈار ساکن توجن پلوامہ و سلمان احمد خان ولد بشیر احمد خان ساکن اتھمولہ شوپیان (مفرور ایس پی اوز)، عمران احمد بٹ ولد محمد یوسف بٹ ساکن آری ہل پلوامہ اور عاشق حسین گنائی عرف طلحہ ولد عبدالخالق گنائی ساکن پنجرن پلوامہ شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق عمران احمد اور عاشق حسین کا تعلق کالعدم تنظیم جیش محمد سے تھا ۔اس دوران طرفین کی گولہ باری میں دو منزلہ کنکریٹ مکان آہنی گولوں سے مکمل طور پر تباہ ہوا۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ جنگجو مخالف آپریشن کے دوران رات بھر علاقے میں گولیوں کی گن گرج جاری تھی جس کے نتیجے میں مقام جھڑپ کے قریب میں واقع رہائشی مکانات میں لوگ سہم کررہ گئے۔ ادھرنوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر نکل پر فورسز کیخلاف احتجاجی مظاہرے کرنے کیساتھ ساتھ یہاں تعینات اہلکاروں پر کئی اطراف سے پتھرائو کیا۔ مظاہرین نے اس موقعے پر اسلام، آزادی اور جنگجوئوں کے حق میں زور دار نعرے لگاتے ہوئے مقام جھڑپ کی جانب پیش قدمی شروع کی تاہم یہاں تعینات فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے کئی مقامات پر اشک آور گیس کے گولے داغے۔ اس دوران انتظامیہ نے علاقے میں جنگجو مخالف آپریشن شروع ہونے کیساتھ ہی پنجرن لاسی پورہ اور مضافاتی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس پر معمول کے مطابق بریک لگائی۔پولیس نے مقام جھڑپ پر کسی بھی بڑے حادثے کو ٹالنے کی خاطر عوام کے نام ایڈوائزری جاری کی جس میں لوگوں کو  جھڑپ کے مقامات سے دوری بنائے رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ طرفین کی گولہ باری کے نتیجے میں ممکنہ طور پر مقام جھڑپ کے اطراف و اکناف میں کوئی بارودی مواد پھٹنے سے رہ گیا ہو تاہم یہاں پوری صفائی عمل میں لانے تک عام لوگ پیش قدمی سے احترا زکریں۔ پولیس نے ایڈوائزری میں بتایا کہ مقام جھڑپ کو مکمل طور پربارودی مواد سے پاک و صاف کرنے تک ہم عوام کے تعاون کے طلب گار ہے۔ادھر جھڑپ میں مارے گئے جنگجوئوں کو طبی اور قانونی لوازمات کے بعد ورثا کے حوالے کیا گیا ۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ لاسی پورہ جھڑپ میں مارے گئے جنگجوئوں کو طبی و قانونی لوازمات کے بعد ہی لواحقین کے حوالے کردیا گیا جس کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد کی موجودگی میں انہیں اپنے اپنے متعلقہ علاقوں کو روانہ کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ مارے گئے جنگجوئوں کی تجہیز و تکفین میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کرتے ہوئے انہیں پرنم آنکھوں سے سپرد لحد کیا جس دوران فضا اسلام و آزادی کے فلک شگاف نعروں سے گونج اُٹھی۔ادھر مارے گئے جنگجوئوں کی یاد میں ضلع بھر میں ہڑتال سے معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج رہنے کیساتھ ساتھ سڑکوں سے گاڑیوں کی نقل و حرکت ٹھپ رہی۔ معلوم ہوا کہ پلوامہ کے توجن، آری ہل اور پنجرن کیساتھ ساتھ شوپیان کے اتھمولہ علاقوں میں ہڑتال سے زندگی کا چکہ جام رہا جس دوران لوگوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل پر فورسز کارروائی کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ اس موقعے پر یہاں ہڑتال سے عوامی، نجی، کاروباری، تجارتی اور غیر سرکاری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی آوا جاہی بھی مسدود ہوکر رہ گئی۔(مشمولات کے این ایس)
 

سوپور پولیس اسٹیشن پر گرینیڈحملہ،2 اہلکار زخمی

سوپور /غلام محمد/سو پور میں مشتبہ جنگجووں نے علاقے میں قائم پولیس اسٹیشن پر گرنیڈ حملہ کیا جس کے نتیجے میں2اہلکار ہتھ گولے کے آہنی ریزے لگنے کے نتیجے میںزخمی ہوئے ۔اس دوران پولیس نے زخمی اہلکاروں کو فوری طور اسپتال منتقل کیا ہے جہاں ان کا علاج معالجہ جاری ہے۔ پولیس نے واقعے کے حوالے سے ایک کیس درج کر کے تحقیقات شروع کی ہے ۔اس دوران صوبہ جموں کے پونچھ علاقے میں کٹرول لائن کے نزدیک ایک پر اسراد دھماکے میں ایک اہلکار بری طرح زخمی ہوا ہے ۔ پولیس نے سوپور میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت عبد العزیز اور علی محمد کے طور کی ہے ۔پولیس نے واقعے کے حواے سے ایک کیس درج کر کے تحقیقات شروع کی ہے جبکہ حملہ آوروں کو ڈھونڈ نکالنے کے لئے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے ْ ۔دریں اثنا صوبہ جمومیں کنٹرول لائن کے نذدیک پونچھ علاقے میں جمعہ کے صبح ایک ایک پر اسراد دھماکہ ہوا جس دوران یہاں سے گزر رہی فوج کے ایک پارٹی میں شامل39RRسے وابستہ ایک اہلکار کالش چند بری طرح زخمی ہوا ہے جس کو فوری طور اسپتال منتقل کیا گیا۔
 

اننت ناگ میں جمعرات کو فوجی اہلکار ہلاک

اننت ناگ/عارف بلوچ/اننت ناگ میںمسلح افراد نے فوج سے وابستہ اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔مسلح افراد جنہیں پولیس نے جنگجوقرار دیاہے ،نے جمعرات کی شام8:30بجے فوج میں تعینات منظور احمد بیگ ولد عبدالسلام بیگ ساکنہ سڈور ہ لارکی پورہ اننت ناگ کے گھر میں گھس کر اُن پر اندھا دھند گولیاں چلائیں،جس کے نتیجے میںوہ شدید زخمی ہوا ،اگر چہ اُسے علا ج معالجہ کیلئے ضلع اسپتال لایا گیا تاہم ڈاکٹروں نے  اسے مردہ قرار دیا ۔40سالہ مہلوک فوجی اہلکار34آر آر سے وابستہ تھا اور ان دنوں شوپیاں میں تعینات تھااور عید کی چھٹی پر گھر آیا تھا۔ذرائع کے مطابق مہلوک فوج میں بھرتی ہونے سے پہلے اخوان سے وابستہ تھا۔ وہ اپنے پیچھے بوڑھے والدین ،اہلیہ اور3بچوںکو چھوڑ گیاہے۔اس بیچ حملہ کے فوراََ بعد فوج،پولیس نے علاقہ کا محاصرہ کیا اور حملہ آوروں کی تلاش کی تاہم بعد میں محاصرہ ختم کیا گیا۔مہلوک اہلکار کو فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ریاستی گورنر ستیہ پال ملک و دیگر سیاسی لیڈران نے واقع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔