تازہ ترین

قصہ علی بنات کا

نو آموز

8 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

خاکسار فیضان منی گام، گاندربل
 علی بنات 16  فروری 1982 کو پیدا ہوئے۔ آپ آسٹریلیا کے رہنے والے تھے۔ علی بنات کا شمار دنیا کے امیر ترین تاجروں میں ہوتا تھا۔ آپ کے پاس بہت دھن و دولت تھی۔ آپ کے پاس عالیشان اور بڑے بڑے بنگلے، مہنگی گاڑیاں اور بھی طرح طرح کے آسائشات موجود تھے۔ ان کی چین (chain) جو کہ وہ عام طور پر پہنتے تھے اس کی قیمت 60000 ڈالر، ان کی ایک گاڑی کی قیمت 6000000 ڈالر اور جو چپل وہ گھر میں پہنتے تھے اس کی قیمت بھی 700 ڈالر تھی۔ جب ان کے گھر کا معائنہ کیا گیا تو وہاں پر کپڑوں، جوتوں اور سن گلاسز کے انبار پڑے ہوئے تھے۔ وہ بھی کوئی عام نہیں تھے بلکہ ایک جوتے کی قیمت 1400 ڈالر تھی۔ غرض ان کی زندگی آرام و آسائش سے بھرپور تھی۔اکتوبر 2015 کو ان کی زندگی سے آرام ختم ہو گیا جب انہیں پتہ چلا کہ انہیں بلڈ کینسر ہے۔ اب ان کو احساس ہوا کہ ان کے پاس بہت کم وقت بچا ہے۔ انہوں نے سوچا کہ مجھے اب مرنا ہی ہے کیو نا میں اپنی ساری دولت اللہ کے راستے میں صرف کروں؟ انہوں نے پھر افریقہ جیسا ایک غریب ملک چنا اور وہاں پر موجود ضرورت مند لوگوں کی مدد کی اور وہاں پر مدرسہ اور مسجد تعمیر کروائی۔ انہوں نے اپنے جوتے، کپڑے، گھڑیاں، سن گلاسز سب غریبوں کو دے دئے۔ انہیں اب اپنی مہنگی گاڑیاں کھلونے جیسی لگ رہی تھیں کہ جیسے ایک بچے کو ایک بے کار کھلونا لگتا ہے۔ وہ کینسر کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تحفہ سمجھتے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بدلنے کا موقع سنہری فراہم کیا ہے۔ انہوں نے مسلم اراؤنڈ دی ورلڈ (M.A.T.W) تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا مقصد غریبوں کی مدد کر نا ہے۔ آخر کار وہ 29 مئی 2018 کو اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)۔ وہ تو اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن جاتے جاتے ایک پیغام چھوڑ کر گئے کہ یہ دولت اور شہرت کسی کام کی نہیں ہے آخر کار سب کو مرنا ہے۔ اور اگر ہمیں کچھ ساتھ لینا ہے تو وہ ہمارے اعمال ہیں۔ موت کے تعاقب سے کون بچا ہے؟ موت تو ایک اٹل حقیقت ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر کسی کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ بقولِ نواب مرزا شوقؔ   ؎
جائے عبرت سرائے فانی ہے
موردِ مرگ ناگہانی ہے
اونچے اونچے اونچے مکان تھے جن کے
آج وہ تنگ گور میں پڑے ہیں
کل جہاں پر شگوفہ و گل تھے
آج دیکھا تو خار  بالکل تھے
جس چمن میں تھا بلبلوں کا ہجوم
آج اس جا ہے آشیانہ ٔ بوم
بات کل کی ہے نوجوان تھے جو
صاحبِ نوبت و شان تھے جو
آج خود ہیں نہ ہے مکاں باقی
نام کو بھی نہیں نشان باقی
غیرتِ حور مہ جبیں نہ رہے
ہیں مکاں گر تو وہ مکیں نہ رہے
جو کہ تھے بادشاہ ہفت اقلیم
ہوئے جا جا کے زیر ِخاک، مقیم
کوئی لیتا نہیں اب اس کا نام
کون سی کور میں گیا بہرام
اب نہ رستم نہ سام باقی ہے
اک فقط  ان کا  نام  باقی ہے
کل جو رکھتے تھے اپنے فرق پہ تاج
آج ہیں فاتحہ کو وہ محتاج
تھے جو خود سر جہان میں مشہور
خاک میں مل گیا سب ان کا  غرور
عطر مٹی کا جو  نہ ملتے تھے
نہ کبھی دھوپ میں نکلتے تھے
گردشِ چرخ سے ہلاک ہوئے
استخوان تک بھی ان کے خاک ہوئے
تھے جو مشہور قیصر و فغفور
باقی ان کے نہیں  نشان  قبور
تاج میں جن کے نکلتے تھے گوہر
ٹھوکریں کھاتے ہیں وہ کاسہ سر
رشکِ یوسف جو تھے جہاں میں حسیں
کھا گئے ان کو آسمان و زمیں
ہر گھڑی منقلب زمانہ ہے
یہی دنیا کا کارخانہ ہے
ای میل:- khaksaarfaizan01@gmail.com