تازہ ترین

لیہہ کی پیاسی زمین | قلت ِآب کا شدید مسئلہ

8 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

پدما لڈول لیہ ۔۔۔۔لداخ
جہان ایک طرف گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، وہیں ملک بھر میں پانی کی پریشانی بھی بڑھنا شروع ہوگئی ہے ، ملک میں کئی ایسے علاقہ جات ہیں جو آج تک پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔اس کی ایک مثال ریاست جموں و کشمیر کے علاقہ لیہہ ہے جہاں شہر اور اس کے گردونواح  گاؤں میںپانی کی کمی کا سلسلہ عروج پر ہے ۔ عوامی حلقوں کی  شکایت ہے کہ متعلقہ محکمہ کی جانب سے یہاں صبح شام دو دو گھنٹے پانی سپلائی کیا جاتا ہے جو کہ ناکافی ہوتا ہے، جب کہ کئی مقامات پر آبی ذخائر خشک ہو رہے ہیں کیونکہ لداخ بھر میں پانی زمینی سطح سے نیچے گر تا جا رہا ہے ۔اس ضمن میںمحققین اور ماحولیاتی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ پانی کی سطح گر نے کی وجہ گزشتہ دہائی میں  خطے کے آب و ہوا میں غیر معمولی تبدیلی اور موسمی اُتار چڑھائو ہے۔ان کا ماننا ہے کہ موسمی تبدیلی کی وجہ سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں، یہاں تک کہ لداخ میں لوگوں کی صحت کے لئے موجودہ موسم گرما میں زمینی پانی(گرائونڈ وٹر) کا استعمال نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ واضح رہے لیہہ میں بہہ رہے دریا ہی یہاں کے لوگوں کے لئے پانی کا اصل ذریعہ تھے لیکن آج دریاؤں کو اتنا گندا اور پلید کردیا گیا ہے کہ ا ن کا پانی صحت کے لئے ٹھیک ثابت نہیں ہوتا۔کچھ مقامات میونسپل فضلہ سے یہ آبی ذخائر بری طرح آلودہ ہو رہے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ گزشتہ دو برس میں ایک ہزار کے قریب ہوٹل اور گیسٹ ہائوس لیہہ اور اس کے گرد و نواح میں تعمیر کئے گئے ہیں اور سینکڑوں ابھی زیر تعمیر ہیں اور ان میں سے اکثر پانی ٹینکر کے ذریعے منگواتے ہیں ۔ 2005سے قبل لداخ میںزیادہ سے زیادہ غیر ملکی سیاحوں کی آمد رہی ہے اور ان کی تعداد پچیس سے تیس ہزار تک تھی لیکن بعد میںمقامی سیاحوں کی آمد میں غیر متوقع اضافہ ہونے لگا ۔2015  سے 2017کے دوران مقامی سیاحوں کی آمد 43فیصدی تک پہنچ گئی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد 28فیصد رہی ، دوسرے شہروں کی طرح لیہہ بھی تیزی سے جدیدیت کی جانب بڑھ رہا ہے جس کے پیچھے سیاحت، کاروبار اور صنعت جیسی موثر وجوہات کا ر فرما ہیںاور سب لوگ پیسے کی خاطرماحولیاتی تحفظ کو نظر انداز کر ر ہے ہیں۔واضح رہے یہاںسیاحوں کے لئے ہوٹلیں موجود ہیں لیکن بیت الخلاء اور نکاسی ٔ آب جیسی لازمی سہولیات کے بارے میں کوئی پرواہ نہیںکر رہا ۔اس کے نتیجے میںیہ گنداپانی صاف و شفاف پانی سے خلط ملط ہو رہا ہے اورمسلسل ماحولیاتی آلودگی وکثافت کا باعث بنتاجارہا ہے ۔ لداخ میں پانی کے بحران کو لے کر حکومت کو خصوصی طور کوئی کارگر لائحہ عمل وضع کرنا چاہئے تاکہ قلت آب کا مسئلہ سائنسی بنیادوں پر مکمل طور حل ہو ۔ خطے میں پانی کا بحران نیا نہیں ہے ، 1985ء کے بعد سے یہاں برف باری میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ،اس بناپر پانی کے ذخائر میں کمی ہو رہی ہے ۔ اس اہم مسئلے سے نمٹنے کے لئے تقریباً تمام گھروں، ہوٹلوں اورگیسٹ ہائوسوں میں پانی کیلئے اپنے بور ویل بنائے گئے ہیں جہاں سے پانی نکالا جا رہا ہے ۔اس سلسلے کومحدود کرنے کے لئے کوئی قانون نہیں  باوجود یکہ اس عمومی طرزعمل سے زمینی پانی کا متواتر استحصال ہو رہا ہے ۔ اہل لداخ کے لئے پانی کا بحران ایک اہم مسئلہ ہے جس پر نہ صرف انتظامیہ بلکہ ماحولیاتی ماہرین اور سماجی کارکن بھی فکر مند ہیں اورمتفقہ خیال یہ پایا جاتا ہے کہ فضلہ اور گندے پانی کی وجہ سے گراؤنڈ واٹرمیں آلودگی میں  اضافے پر روک لگاکر لیہہ کو پانی کے شدید بحران سے بچایا جا سکتا ہے ۔ پانی سے جڑے مسائل پر قابو پانے کے لئے ہمیں پانی کا کم سے کم استعمال اور کفایت شعاری کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ اگر قدرت کے تحفۂ لاثانی یعنی پانی کو بچانا مقصودہے تو بارش کے پانی کو ذخیرہ کیا جائے ،مصنوعی گلیشیئرں کی تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ قدرتی گلیشیئروں کی حفاظت ممکن بنائی جائے تاکہ لیہہ کی موجودہ اور آنے والی آبادی کو پانی کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
������