تازہ ترین

خارجہ پالیسی میں بدلاؤ

سیاست کی بازی بدل دے گی ماضی

8 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر جاوید اقبال
بھارتی  خارجہ پالیسی میں حالیہ برسوں کے دوراں ایک واضح بدلاؤ کا رخ نظر آ رہا ہے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جب حالیہ دنوں میں الیکشن میں کامیابی کے بعد اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تو اِس تقریب میں موجود مختلف ممالک کی جو اعلی ترین شخصیات موجود تھیں اُنکا تعلق ایک ایسی علاقائی تنظیم سے تھا جسے بیم اسٹیک (BIMSTEC)کہا جاتا ہے۔ 2014ء میں جب نریندر مودی نے پہلی بار بحثیت وزیر اعظم حلف اٹھایا تو اُس وقت خارجی مہمان میںسارک (SAARC)تنظیم کے نمائندگاں موجود تھے ۔سارک جنوبی ایشیائی علاقائی تنظیم ہے ۔بھارت کے علاوہ اِس تنظیم میں پاکستان،سری لنکا،نیپال،بھوٹان، مالدیپ،بنگلا دیش اور افغانستان شامل ہیں۔ سارک کو ایسا لگتا ہے ہند و پاک کی باہمی چقلش کھا گئی ہے۔2016ء میں قرار یہ پایا تھا کہ سارک کے سر براہوں کا اجلاس پاکستان میں ہو گا لیکن بھارت نے اِس اجلاس میں شریک ہونے سے منع کیا چناچہ یہ اجلاس آج تک رو بعمل نہیں آیا ۔ 2016ء  میں کشمیر کے حالات مزاحمتی تحریک میں شدت کی وجہ سے کافی خراب تھے ۔بھارت حسب المعمول مزاحمتی تحریک میں شدت کو سرحد پار کی دہشت گردی سے تعبیر دیتا رہا اور ایسے میں یہ علاقائی تنظیم کشمیر کے ابتر حالات کی زد میں آئی۔ پچھلے دو تین سالوں سے سارک کے بجائے بھارت بیم اسٹیک (BIMSTEC) کو اہمیت دے رہا ہے۔ کہا جا سکتا ہے جنوبی ایشیا کے مغرب کے بجائے بھارتی خارجی پالیسی کا رخ بتدریج مشرق کی جانب مڑ رہا ہے۔ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع بھارت کے مغرب کی جانب ہے جب کہ بیم اسٹیک (BIMSTEC) بیشتر بھارت کے شرقی علاقے کو گھیرتی ہے۔  
بیم اسٹیک (BIMSTEC) کا تعلق خلیج بنگال (Gulf of Bengal) کے ساحلی علاقوں سے ہے۔ اِس میں بھارت کے علاوہ بنگلا دیش،میانمار (برما) ،تھائی لینڈ، سری لنکا، نیپال وبھوٹان شامل ہیں۔اِس تنظیم کے اغراض و مقاصد کا پتہ کچھ حد تک اُسکے نام سے ہی چلتا ہے۔ بیم اسٹیک بہ معنی کلمہ خلیج بنگال کے ساحلی علاقے پہ رہنے والے ممالک کے ملٹی سیکٹرل (Multi-sectoral) تحرک سے ہے ۔اِس کے احداف میں اِس علاقائی تنظیم سے وابستہ ممالک کی اقتصادی اور تکنیکی پیشرفت شامل ہے۔ آج گئے دو تین سال پہلے تک اِس تنظیم کا نام شاز و نادر ہی سننے میں آتا تھا جبکہ سارک جنوب ایشیا کی ایک جانی مانی تنظیم تھی گرچہ دوسری علاقائی تنظیموں کی مانند سارک کو مطلوبہ فروغ حاصل نہیں ہوا۔ یہ ظاہر ہے کہ ہند و پاک کی ترجیحات میں کافی تضاد پایا جاتا ہے حالانکہ سارک کے چارٹر میں یہ عیاں ہے کہ باہمی تنازعات کو سارک میں موضوع بحث نہیں بنایا جائے گا۔ ایسی شرائط کے باوجود یہ تنظیم مطلوبہ احداف کے حصول سے محروم رہی۔سارک کے بجائے نریندرا مودی کی رسم حلف برداری میں بیم اسٹیک (BIMSTEC) کے سربراہاں کو مدعو کرنا ایک اور علامت تھی کہ بھارت جنوبی ایشیائی علاقائی احداف کے حصول سے جہاں تک ممکن ہوسکے پاکستان کو دور رکھنا چاہتا ہے۔یہ عالمی محفلوں میں پاکستان کو تک و تنہا کرنے کی بھارتی کوششوں کا حصہ ہے۔ عالمی مبصروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کی اہمیت اُس کے محل وقوع سے وابستہ ہے ثانیاََ ایک ایٹمی قوت اور ایک منظم فوج رکھنے کے سبب اِسے عالمی محفلوں سے دور رکھنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتاچناچہ آج بھی کئی عالمی تنظیمیں ہیں جہاں بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی ممبرشپ حاصل ہے۔دونوں ہی ممالک اقوام متحدہ کے ممبر ہیں اور (Shanghai Cooperation Organization: SCO) کی ممبرشپ دونوں کو حاصل ہے جس میں روس و چین بھی شامل ہیں۔بھارتی خارجہ پالیسی کے علاقائی رخ کے علاوہ ایک عالمی رخ بھی ہے جو ہمارے آج کے تجزیے میں شامل ہے۔
ماضی میں 1947ء میں آزادی کے حصول کے بعد بھارتی خارجہ پالیسی میں جو عنصر نمایاں رہا  وہ عالمی سطح پہ کسی بھی بلاک سے بندھے نہ رہنے کی ترجیح تھی۔پاور بلاکوں سے دور رہنے کی ترجیح کو غیر جانبدارانہ خارجی پالیسی کا عنواں دیا گیا۔جنگ عظیم دوم کے بعد 20صدی کے چھوتے دَہے میں دو پاور بلاک وجود میں آئے ۔امریکہ کی رہبری میں مغربی بلاک سرمایہ دارانہ نظام کا قائل تھے جس کی علمی بنیاد ایڈم سمتھ (Adam Smith) کی تھیوری نے فراہم کی۔ سوؤیت یونین کی رہبری میں دوسرے پاور بلاک میں مشرقی یورپی ممالک شامل رہے ۔یہ کمیونسٹ اعتقاد کا بلاک تھا جس کی علمی بنیاد کارل مارکس(Karl Marx) کی معروف تصنیف داس کیپٹل(Das Kapital) نے فراہم کی۔ یہ جرمنی کے دانشور تھے۔ مغربی بلاک کا ملٹری فرنٹ نیٹو (NATO)تھا جو آج بھی قائم ہے جبکہ کمیونسٹ بلاک کا فوجی اتحاد وارسا پیکٹ (Warsaw Pact) کہلاتا تھا۔ اِن دو بلاکوں کے بیچ کی رسہ کشی ایشائی ممالک میں نمایاں رہی۔ یہ دو بلاک کبھی کوریا میں اور کبھی ویٹنام میں برسر پیکار رہے۔ یہ پاور بلاک ایشیائی ممالک کو اپنے ساتھ باندھے رکھنے کی پالیسی پہ عمل پیرا تھے لہذا کئی ممالک اِن دو بلاکوں سے دور رہنے کی پالیسی پہ عمل پیرا رہے اور یہ غیر جانبدار ممالک کہلائے ۔بھارت ،مصر اور یوگو سلاوایہ اِن ممالک میں پیش پیش رہے۔ بھارت کے پنڈت نہرو،مصر کے کرنل ناصر اور یوگو سلاوایہ کے مارشل ٹیٹو غیر جانبدار ممالک کے تین بڑے رہبر مانے جاتے تھے۔
غیر جانبدار ممالک ظاہراََ تو غیر جانبدار تھے لیکن عملاََ اُنکا جھکاؤ سوؤیت یونین کی جانب تھاچونکہ اُنکی افواج کیلئے فوجی ساز سامان کی سپلائی کا انحصار سوؤیت یونین پہ تھا۔1956ء میں جب سوؤیت افواج نے ہنگری (Hungry)اور 1968ء میں چیکو سلواکیہ (Czechoslovakia) کی بغاوت کو ٹینکوں سے روند ڈالا تو غیر جانبدار ممالک نے چپ سادھ لی جبکہ اِن ممالک کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ کسی بھی زیادتی کے خلاف احتجاج کریں گے۔ بھارت کی اپنی مجبوریاں در پیش رہیںجو کہ بیشتر کشمیر سے وابستہ تھیں ۔ بھارت اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں سوؤیت یونین کے ویٹو کا مرہون منت رہا۔کشمیر کے معاملے میں سوؤیت یونین نے بھارت کا بھر پور ساتھ دیا۔ پاکستان مغربی فوجی بلاکوں میں بندھا ہوا تھا۔نیٹو کے علاوہ امریکہ کی سر کردگی میں مغربی بلاک کے کئی فوجی معاہدے تھے جن میں بغداد پیکٹ، سیٹو (SEATO) اور سینٹو(CENTO) کا نام لیا جا سکتا ہے ۔مسلہ کشمیر اُسی زمانے میں عالمی سیاست کی بھول بھلیوں کا شکار ہوا۔ غیر جانبدار ممالک کے بارے میں ذولفقار علی بھٹو نے ایک دفعہ چبھتی ہوئی بات کہی ۔اُن کا یہ کہنا رہا کہ یہ ممالک دونوں بلاکوں سے دور تو رہتے ہیں لیکن دونوں بلاکوں کے ساز پہ رقص بھی کرتے ہیں۔ بھارت ابھی بھی غیر جانبدار ممالک کی عالمی تنظیم کا ممبر ہے لیکن یہ اب نام کی تنظیم رہ گئی ہے۔ حالیہ برسوں میں بھارتی وزرائے اعظم غیر جانبدار ممالک کے اجلاسوں میں شرکت بھی گوارا نہیں کرتے بلکہ نچلے درجے کی نمائندگی اِن اجلاس کا مقدر بن چکی ہے۔ 
سوؤیت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ واحد سپر پاور کے روپ میں اُبھر آیا۔ پاور بلاکوں کی جداگانہ اہمیت ختم ہو گئی ۔بھارت نے بتدریج اپنی خارجی پالیسی کا رخ تبدیل کرنا شروع کیا اوردھیرے دھیرے امریکہ کی جانب جھکاؤ واضح ہوتا گیا لیکن ایک مجبوری آڑے رہی۔بھارت کی فوجی سپلائی کا انحصار بہت حد تک روس پہ ہے۔سوؤیت یونین گر چہ سمٹ کر اب صرف روس رہ گیا لیکن ابھی بھی یہ فوجی سپلائی کی ایک بڑی منڈی ہے۔فوجی مال کی ساخت روس کی اعلی ترین صنعت ہے۔ بھارت نے سالہا سال جو سوؤیت یونین سے فوجی ساز و سامان خریدا ہے اُنکے لئے سپیر پارٹس کی خرید کیلئے بھارت کیلئے روس سے خوشگوار تعلقات بنائے رکھنا ایک مجبوری ہے گر چہ حالیہ برسوں میں  امریکہ،فرانس،برطانیہ اور اسرائیل سے فوجی ساز و سامان کی خرید کا آغاز ہو چکا ہے۔تکنیکی اعتبار سے یہ مانا جا تا ہے کہ مغربی ممالک کی اسلحہ سازی روس سے بہتر ہے گر چہ قیمتیں روس سے زیادہ ہیں۔ پلوامہ کے واقعہ کے بعد ہند و پاک کے بیچ جو حالیہ تصادم پیش آیا اُس کے بعد بھارتی وزیر اعظم کا ایک بیاں منظر عام پہ آیا جس میں نریندرا مودی کا یہ کہنا رہا کہ اگر اُنکے پاس فرانس کے رافیل طیارے ہوتے تو بھارت کی فوجی پوزیشن محکم تر رہتی ۔بھارت کی ترجیحات جو بھی ہوں آج کل ویسے بھی روسی فوجی مال کی خرید پہ امریکہ نے قدغن لگا دی ہے۔بھارت کسی پابندی کے نرغے میں نہیں آنا چاہتا ویسے بھی امریکہ سے قریبی تعلقات بنائے رکھنا حالیہ برسوں میں بھارت کی ترجیح رہی ہے۔ایک وسیع پیرائے میں جانچا جائے تو بھارت بھی امریکہ کی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔
روس بلاشبہہ ایک بڑی طاقت ہے ۔یہ بات فوجی زمرے میں گر چہ ایک حقیقت ہے لیکن روس کو شش کے باوجود ایک اقتصادی طاقت نہیں بن سکا ۔روس میں ابھی بھی اقتصادی ضعف عیاں ہے بلکہ ماضی میں یہی اقتصادی ضعف سوؤیت یونین کو بھی کھا گیا۔ اِس کے برعکس چین نہ صرف ایک نئی فوجی قوت کے طور پہ اُبھر رہا ہے بلکہ اُسکی اقتصادی حثیت بھی مغربی اقوام کیلئے ایک چلینج بنتی جا رہی ہے۔زمانہ قدیم کی شاہراہ ابریشم کو چین نے عصر حاضر میں ایک نیا رنگ و روپ دیا ہے ۔ ون بیلٹ ون روڑ کے عالمی نظریے کو عملیانے کیلئے چین بے دریغ سرمایہ کاری کر رہا ہے جو موجودہ عالمی اقتصادی نقشے کیلئے ایک چلینج بنتا جا رہا ہے ۔چین کے عظائم پہ روک لگانے کیلئے امریکہ کی منصوبہ بندی میں بھارت کا رول اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔چین کا علاقائی رول بھی بھارت کیلئے ایک چلینج بنتا جا رہا ہے۔ بھارت کے ہمسایہ ممالک میں چین کی وسیع سرمایہ کاری بھارت کے سفارتی اثر و رسوخ پہ ایک ایسا دباؤ ہے جو کہ بھارتی پالیسی سازوں کے ارادوں پہ بھاری پڑ رہا ہے۔ چین کی بڑھتی ہوئی قوت نہ صرف بھارت پہ اپنے اثرات چھوڑ رہی ہے بلکہ ایشیا پیسفک کے علاقہ جات پہ بھی اثرات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ ایشیا پیسفک وہ علاقہ مانا جاتا ہے جہاں ایشیائی ممالک کا محل و قوع بحر منجمند کے ساحل پہ ہے ۔اَن ممالک میں جاپان،ویٹنام اور فلپائن کا نام لیا جا سکتا ہے ثانیاََ پیسفک ریجن میں اسٹریلیا بھی ایک بڑا ملک ہے۔ امریکہ کی سیاسی ،سفارتی اور فوجی ترجیحات میں ایک کواڑ (QUAD) کا وجود اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے جو در اصل ایک چہار ملکی اتحاد پہ مشتمل ہے۔ یہ چہار ملکی اتحاد امریکہ،جاپان ،اسٹریلیا اور بھارت پہ مشتمل ہو سکتا ہے گر چہ ابھی اِس اتحاد کی تنظیمی شکل سامنے نہیں آئی ہے لیکن یہ موضوع عالمی مطبوعات اور سفارتی حلقوں میں عام ہے۔ یہ مجوزہ اتحاد چین کے بڑھتے ہوئے اقدامات پہ روک لگانے کیلئے موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ چین اپنے سمندری ساحل پہ اپنی اجارہ داری منوانے پہ اڑا ہوا نظر آ رہا ہے جبکہ امریکہ ایک علاقائی اتحاد کی تشکیل سے اپنے عالمی منصوبوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہتا ہے۔ جہاں چین عالمی سطح پہ امریکی ارادوں کے آڑے آ رہا ہے وہی علاقائی سطح پہ چین بھارت پہ بھاری پڑنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ روس کی البتہ یہ کوشش ہے کہ بھارت پوری طرح امریکی حلقہ اثر میں نہ رہے۔روس کی کوشش یہ بھی ہے کہ چین اور بھارت کے مابین مسائل میں اُلجھاؤ کے بجائے سلجھاؤ کی کیفیت رہے ۔
بھارت کے حالیہ اقدامات سے یہ بات عیاں ہے کہ امریکہ سے قریبی تعلقات بنائے رکھنا خارجی پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے ۔حالیہ مہینوں میں یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ امریکہ کی مجوزہ پابندیوں کے خوف سے بھارت نے ایران سے تیل لینا تقریباََ بند کر لیا ہے حالانکہ حالیہ برسوں میں بھارت اور ایران کے مابین قریبی تعلقات رہے ہیں بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران سے قریبی تعلقات بنائے رکھنا بھارت کی ترجیحات میں شامل رہا ہے۔ بھارت کی ایک بہت بڑی مشکل افغانستان اور ایشائی مرکزی کے ممالک سے براہ راست راہداری کا نہ ہونا ہے۔پاکستان چونکہ در حال حاضر بھارت کیلئے راہداری فراہم کرنے کے لئے آمادہ نظر نہیں آ رہا ہے لہذا بھارت نے ایک متبادل راہ ڈھونڈھ لی۔ یہ متبادل راہداری ایران پورٹ چہاہ بہار فراہم کر رہا ہے۔یہاں سے بھارت زمینی راستے سے افغانستان اور ایشائی مرکزی کے ممالک سے تجارتی روابط قائم کر سکتا ہے بنابریں مانا جا سکتا ہے کہ ایران سے تعلقات بنائے رکھنا بھارتی خارجی پالیسی کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہو سکتا ہے لیکن امریکہ اپنی بات منوانے پہ تلا ہوا نظر آتا ہے۔ ایران سے تجارتی روبط پہ قدغن لگانے کے باوجود امریکہ نے بھارت کو ایرانی تیل خریدنے کی اجازت دے رکھی تھی لیکن اب پابندی ہمہ گیر ہو گئی ہے۔ بھارتی انتخابی مہم کے دوران ایرانی وزیر خارجہ جواد زریف بھارت آئے تھے لیکن اُنکو یہی جواب ملا کہ انتخابی نتائج آنے کے بعد نئی حکومت فیصلہ کرے گی لیکن مطبوعاتی اطلاعات میں یہ خبر سامنے آئی ہے کہ بھارت تیل کی خرید کیلئے ایران کا متبادل ڈھونڈھ رہا ہے۔یہ بھی اطلاعات آ رہی ہیں کہ بھارت اب پیش رفتہ اسلحہ کی خرید کے لئے روس کے بجائے امریکہ کا رخ کر ے گا۔ آنے والے سالوں میں بھارت کی خارجہ پالیسی کیا رخ اختیار کرتی ہے یہ تجزیہ نگاروں کیلئے دلچسپی کا موضوع ہو گا۔
Feedback on: Iqbal.javid46@gmail.com