تازہ ترین

فیصلوں کے درمیان

افسانہ

2 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

شبنم بنت رشید
پڑوس کی خالہ نے تمہارے لیے رشتہ لایا ہے بیٹے!اچھے خاندان کی پڑھی لکھی اور سلجھی ہوئی لڑکی ہے، شکل صورت میں بھی لاجواب ہے۔ تمہیں اس کی تصویر بھیج رہی ہوں۔ تم پر کوئی دباؤ نہیں ہے، سوچ سمجھ کر جواب دینا بیٹا۔ پسند آئے تو ہم بات آگے بڑھائیں گے۔ یہ باتیں ملتجیانہ انداز میں فرخندہ بیرون ملک میں رہ رہے اپنے بیٹے پارس کو فون پر بتا رہی تھی۔ ماں میں نے کتنی بار تمہیں بتایا ہے کہ میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا۔ میں جب شادی کروں گا تو اپنی پسند کی لڑکی سے کروں گا۔ ہاں ماں! ایک اور بات یہ ہے کہ میں نے یہاں ایک اپنا گھر خریدنا ہے، جس کے لئے مجھے کافی پیسہ درکار ہے۔ آپ تو جانتی ہیں کہ میں نے یہاں نیا نیا ہی اپنا کریئر شروع کیا ہے۔ نہیں بیٹا وہاں گھر نہیں خریدنا، یہاں ہمارے پاس کس چیز کی کمی ہے۔ تم لوٹ کے آجاو تمہیں یہاں کام اور کامیابی ضرور ملے گی۔ یہاں پر بھی بہت سارے انجینئر ہیں جو سرکاری یا پرائیویٹ جاب کر کے اپنوں کے بیچ رہ کر خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں۔ بیٹا! میں یہاں بالکل اکیلی ہو گئی ہوں۔ تیرے بغیر یہ گھر آنگن سونا سونا ہے۔ تیرے بغیر میرا وجود ادھورا ہے۔ میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں............. اور اسکے ساتھ ہی فون کٹ گیا۔
عارف صاحب سرکاری ملازمت کے سلسلے میں گاؤں سے شہر آئے اور شہر کی زندگی سے متاثر ہوکر شہر میں ہی بسنے کا فیصلہ کیا۔ عارف صاحب کی شریک حیات فرخندہ کم پڑھی لکھی لیکن سلجھی ہوئی اور دور اندیش خاتون تھیں۔ کبھی کبھی کسی عقلمند عورت کا کم پڑھا لکھا ہونا اسے لاچار اور بے بس بنا دیتا ہے۔ فرخندہ کا دل اپنے اعزاء و اقارب، اپنا گھر، اپنا گاؤں، اپنے گاؤں کی صاف ستھری اور کھلی کھلی فضا چھوڑنے کے لیے راضی نہ تھا۔ فرخندہ کا ماننا تھا کہ شہر تو شہر والوں کے لیے موزوں، مناسب اور کافی ہے۔ اصل میں اسے اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں وہ شہر کی بھیڑ میں تنہا نہ رہ جائے۔ وہ تنہائی کے احساس سے ہی لرز جاتی تھی۔
اگر دنیا کی کسی عورت سے پوچھا جائے کہ مرد کا دوسرا نام کیا ہو سکتا ہے تو اس کا جواب ضرور حکم یا فیصلہ ہوگا۔ مرد تو ہمیشہ عورت کا حاکم رہا ہے۔ عورت توبیچاری مجبور، تابعدار اور کمزور مخلوق ہوتی ہے۔ مرد سات سمندر پار بھی لے جائے تو اُف تک نہیں کرتی۔ اگر عورت کبھی ضد کرنے پر آ جائے یا مرد کے کسی فیصلے کے خلاف ہو جائے تو ایک نام کے کئی نام نکل آتے ہیں۔ اس لئے فرخندہ نے بھی مجبور ہوکر اپنے شریک حیات کے فیصلے کے سامنے سرخم کرلیا اور اس کے پیچھے پیچھے شہر چلی آئی۔ جب فرخندہ اپنے عزیزوں کو چھوڑ کر شہر رہنے آئی تو اپنے آپ کو زمین سے زبردستی اکھاڑے گئے پودے کی طرح محسوس کرنے لگی۔ شہر میں رہنے کے لئے سرکار کی طرف سے ایک اچھا فلیٹ تو مل چکا تھا، پھر بھی عارف صاحب نے بینک سے قرضہ لے کر اور فرخندہ کے سارے زیورات بیچ کر شہر کی ایک بہترین کالونی میں ایک بڑے سائز کا پلاٹ خرید لیا۔ کئی برسوں میں ایک عالیشان بنگلہ تعمیر کرکے فرخندہ کے پیروں میں زنجیر ڈال دی کیونکہ گھر ہرعورت کی کمزوری ہوتی ہے۔ پھر فلیٹ سے شفٹ ہو کر اپنے بنگلے میں رہنے لگے لیکن پوری کالونی میں ہر طرف سکوت کا عالم تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ عارف صاحب بھی ترقی کرتے گئے اور اُن کی ذمہ داریاں بھی بڑھتی گئیں۔ فرخندہ کو جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا۔اب عارف صاحب اکثر سرکاری دوروں پر جانے لگےاور کئی کئی دن تک گھر سے باہر رہنے لگے۔ کبھی گھر آتے تو کبھی نہیں۔ گھر آنے جانے کا کوئی وقت مقرر ہی نہ تھا اور واقعتاً فرخندہ کے حصّے میں اکیلا پن آگیا۔ ہر نعمت اور ہر آسائش میسر ہونے کے باوجود اس اکیلی جان کےلئے کو بنگلے میں دن گزارنے مشکل ہوگئے۔ وہ اپنے اندر ہلکا ہلکا تناؤ اور عجیب سی کیفیت محسوس کرنے لگی۔ اسے اپنے فرائض کا بھی احساس تھا اور شکایت کرنا بھی اسکی عادت میں نہ تھالیکن تنہائی سے تنگ آکر گاؤں واپس جانے کا سوچنے لگی۔ کئی بار عارف صاحب سے گاؤں واپس جانے کی التجاء کی لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ اسی دوران رب کائنات نے فرخندہ کی جھولی میں ایسی ایک خوشی ڈالدی کہ وہ دنیا جہاں سے بے خبر ہوگئی۔ ماں بننے کے احساس سے اسے اب یہ بنگلہ جنت کی طرح لگنے لگا۔ وہ خوش اور مصروف رہنے لگی۔ نو مہینے کے خوشگوار انتظار کے بعد ننھا شہزادہ پارس اسکی گود میں آیا۔ پھر قدم قدم چل کر بڑا ہوا تو شہر کے بہترین انجینئرنگ کالج سے تعلیم حاصل کی۔ فرخندہ اپنے پچھلے دکھ، درد بھول کر پارس کے مستقبل کے بارے میں سنہرے سپنے دیکھنے لگی لیکن اچانک ایک بار پھر اسکی خوشیوں کو تنہائیوں نے گھیر لیا۔ اس کے خواب ایک ایک کر کے اُس وقت بکھرکے کہیں کھو گئے جب عارف صاحب نے فرخندہ سے صلح مشورہ کئے بغیر خود کو عقلمند اور بڑا سمجھدار سمجھ کر پارس کو کامیاب انسان بنانے کے لیے سات سمندر پار بھیج دینے کا فیصلہ کر کے فرخندہ کو زندہ درگور کر دیا۔ فرخندہ اس فیصلے کے خلاف اجتجاج کرنے لگی تو عارف صاحب نے فرخندہ کے دل پر یہ تیر چلاکراسکو لاجواب کردیا کہ اگرتم تعلیم یافتہ عورت ہوتی تو تم میرے اس فیصلے سے اختلاف نہ کرتی۔ یہ بات سن کر فرخندہ خاموش ہوگئی اور پھر اداس رہنے لگی۔ یوں اسکی خوشیاں اسے روٹھ کر کہیں روپوش ہو گئیں۔ وقت تیزی سے گزرنے لگا۔ گزرتے وقت کے ساتھ پارس بے پرواہ ہوکے وہیں کا ہوکے رہ گیا۔ شروع شروع میں ہر روز پارس سے فون پر تفصیل سے بات ہوتی تھی، پھر آہستہ آہستہ یہ سلسلہ کم ہوتا گیا اور اب ہفتے میں صرف ایک بار رسمی بات چیت ہونے لگی، جو صرف خیر خبر تک محدود رہنے لگی۔۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد عارف صاحب کو پارس کی شادی کی ذمہ داری کا احساس ستانے لگا لیکن بیٹا تو باپ سے آزاد خیالی میں دس قدم آگے نکلا۔
عارف صاحب پارس کے مسلسل انکار اور لاپرواہی سے فکرمند ہوگئے۔ اپنے بیٹے کو ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر اتنے مایوس ہوگئے کہ کئی سال پہلے ہی اپنے سرکاری عہدے سے ریٹائرمنٹ لے کر خاموشی اختیار کرلی۔ فرخندہ تو پہلے ہی حالات سے لڑکر ٹوٹ چکی تھی لیکن اب عارف صاحب کو یہ احساس ہونے لگا کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے فرخندہ اور اپنے نصیب میں اولاد کی جدائی کا درد اور کرب لکھ دیا، اسلئے اپنی غلطی کا ازالہ اس طرح کیا کہ گاؤں اور شہر کی تمام جائیداد فرخندہ کے نام کردی۔ اپنے اپنے دکھ کی وجہ سے وہ دونوں وقت سے پہلے بڑھاپے کی طرف بڑھنے لگے۔ ان دونوں کی بیمار، بے رنگ اور اداس زندگی خاموشی سے گزرنے لگی، جو ایک دوسرے سے اتفاق نہ رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کا ساتھ جینےکےلئیے کافی تھا طویل مدت کی خاموشی کے بعد ایک بے مقصد اور بیمار صبح صاحبزادے نے عجیب انداز میں فون کر کے بتایا کہ میں نے پچھلے مہینے ایک فلیٹ خرید لیا ہے اور میں نے اپنے ہی آفس میں کام کر رہی ایک لڑکی کو پسند کیا ہے۔ میں چاہتا تھا کہ میں گھر آ کر شادی کرلوں لیکن اسے وہاں آنےمیں کوئی دلچسپی نہیں ہے، میں نے اُسے منانے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔اس لئے ہم آج شادی  کرنے والے ہیں۔ آگاہ کرنے کے لیے بہت بہت شکریہ بیٹا اس سے آگے عارف صاحب کچھ بولنا نہ پائے اور ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔ باپ کی موت کی خبر کے ساتھ بیٹے کی شادی کی خبر چاروں اور پھیل گئی۔ اپنے پرائے، یار دوست، پاس پڑوس والے کئی روز تک اس ماتم کی محفل میں شریک ہوکر ایک ایک کرکے واپس چلے گئے۔ پھر فرخندہ نے اکیلے اکیلے عدت کے دن گزارے۔
اذیت ناک تنہائی، سکون سے خالی دن، نیند سے مبرّا راتیں اور کئی بیماریوں کا ساتھ فرخندہ کے لیے سزا بن گئے۔ وہ دکھوں غموں اور ویرانیوں کی ایک داستان بن کر رہ گئی۔ اکثر اوپر والی منزل میں بڑی کھڑکی کے پاس کرسی پر بیٹھ کر خشک آنکھوں اور دھندلی نظروں سے باہر کے خاموش منظر کو دیکھنا اس کا معمول بن گیا۔ اب اس کی دھندلی آنکھوں میں کبھی شوہر کا تو کبھی بیٹے کا عکس ابھرنے لگتا تھا۔ گاؤں واپس جانا ممکن نہ تھا، اگر جاتی تو کس کے پاس۔؟ ماں باپ تو پہلے ہی دنیا چھوڑ چکے تھے۔ جو قریب کے عزیز تھے ان سے کوئی رابطہ نہ ہونے کے علاوہ فرخندہ کا نام تو گاؤں کی ہر فہرست سے کب کا کٹ چکا تھا۔ بیٹا تو غیر ملکی کلچر میں اتنا مصروف ہو چکا تھا کہ کبھی فرصت نہ ملی۔ خاموشی سے ڈھیر سارا وقت گزر گیا۔
ایک اداس اور خاموش دوپہر فرخندہ حسب معمول کھڑکی کے پاس کرسی پر بیٹھی تھی کہ پارس نے فون کیا۔ فون کرکے فرخندہ کو بتایا کہ میں اگلے مہینے گھر آ رہا ہوں، مجھے مشکل سے آفس سے دس دن کی چھٹی ملی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ماں کو تمام جائیداد کی قیمت کا اندازہ لگانے کے لیے بھی کہہ دیا۔ پارس کے اچانک فون کرنے سے فرخندہ کی آنکھیں آج پہلی بار کھل گئیں۔
اسے یقین ہو گیا کہ آج اس کا بیٹا اس کو اس کی چھت سے محروم کرنے کافیصلہ کرنے آرہا ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی سوچنے لگی کہ دوسروں کے فیصلوں کے آگے سر خم کرکے اور صبر کے ساتھ انتظار کرتے کرتے زندگی کا بہترین حصہ تو گزر گیا اور اس گھر کی چوکیداری کرتے تنہائیوں کے سوا کچھ نہ پایا، اب مجھے کس کا انتظار ہے؟ اس زندگی نے کتنے سبق پڑھائے؟
میرا بیٹا تو میرے لئے اپنے باپ کی طرح بے مروت ہی نکلا۔ دونوں نے مجھے بن باس کاٹنے پر مجبور کر دیا۔ اب مجھے زندگی کے آخری پڑاؤ پر کیا حاصل ہو گا؟ یہ اس کے برداشت کی آخری حد تھی۔ وہ سوچنے لگی کہ کیوں نہ میں بھی اپنی زندگی میں کوئی ایسا فیصلہ کروں جو فیصلہ ایک مثال بن جائے۔
پھر فرخندہ نے بڑی بہادری سے اور روایت سے ہٹ کر ایک ایسا فیصلہ کیا جو فیصلہ اسے بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ اگلے ہی دن تھرتھراتے ہوئے ہاتھوں سے نزدیک میںموجود یتیم اور بے سہارا لڑکیوں کے ٹرسٹ کی سربراہ عورتوں کو فون کرکے گھر بلایا اور کالونی کے ذمہ دار لوگوں کو گواہ بناکر شہر اور گاؤں کی ساری جائیداد کے کاغذات انکے نام کرکے اپنی زندگی کے آخری دنوں کی تنہائی مٹانے کے لیے ان کا ہاتھ تھام کر انہی کے ساتھ چل پڑی۔
 
پہلگام اننت ناگ
موبائل نمبر؛9419038028