تازہ ترین

خون کے آنسو

افسانہ

2 جون 2019 (00 : 01 AM)   
(   آزاد کالونی پیٹھ کا انہامہ،9906534724    )

رحیم رہبر
شوہر کے جانے کے بعد ساجدہ نے اپنے اکلوتے بیٹے عثمان کو انجینئر بنانے میں کوئی قصر اُٹھائے نہیں رکھی۔ اپنی قلیل آمدن سے بیٹے کے لئے ایک خوبصورت یک منزلہ مکان بھی تعمیر کروایا۔ سرکاری نوکری سے سبکدوش ہونے کے بعد ماں نے اپنی گریجوٹی اور کمیوٹیشن کی رقم سے اپنے لخطِ جگر کی شادی ایک امیر گھرانے کی لڑکی تبسم، جو پیشے سے ایک لیکچرر تھی، سے کروائی۔
بیٹے کی شادی کے فوراً بعد شفیق ماں نے بہو بیٹے کی خوشحال زندگی کے لئے زیارت گاہوں کے چکر کاٹنے شروع کئے۔ شادی کے دو سال بعد بہو نے ایک خوبصورت بیٹے کو جنم دیا۔ اُس دن گھر میں عید کے جشن کا جسا سماں تھا۔ نوزائیدہ بچے کا عقیقہ منانے کے لئے ساجدہ نے گھر میں ایک اعلیٰ دعوتِ طعام کا اہتمام کیا، جس میں تمام رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ بستی کے سب لوگوں کو مدعو کیا گیا۔
گھر میں پوتے کی آمد سے ساجدہ نے راحت کی سانس لی۔ اب اس کی ایک ہی تمنا تھی کہ اُس کا گھر صدا خوشحال رہے۔
تہجد کی نماز ادا کرنے کے بعد ماں رورو کر خدا سے اپنے بیٹے کی خوشحال زندگی کے لئے دعائیں مانگتی تھی۔ ماں اب پیری کے دور سے گزر رہی تھی۔ وہ اب دنِ بہ دن کمزور ہوتی جارہی تھی۔ اب اُس سے گھر کے کام نہیں ہوپاتے تھے۔ اب نہ ہی وہ کچن میں برتن مانجھتی تھی اور نہ ہی چولھا جلاتی تھی۔ بہو کو ساس کا اس طرح بیکا رہنا اچھا نہیں لگا۔ اس لئے وہ روز شام کے وقت اپنے خاوند کو اس کی ماں کے بارے میں نفرت آمیز بناوٹی کہانیاں سُناتی تھی۔ بدقسمت بیٹے کے من میں دھیرے دھیرے ماں کے تئیں ہمدردیاں کم ہونے لگیں، جس سے دونوں میں دوریاں بڑھنے لگیں اور بہو کے ساتھ ساتھ بیٹے کے تیور بھی بدل گئے۔ آخر کا رماں تنگ آکر ایک دن گھر چھوڑ کر اولڈ ایج ہوم میں چلی گئی۔ جب بیٹے کو معلوم ہوا کہ اُس کی ماں ’اولڈ ایج ہوم‘ میں چلی گئی ہے تو افسوس کرنے کے بجائے اُس نے سُکھ کا سانس لیا!
’اولڈ ایج ہوم‘ میں ایک دُکھیاری بوڑھی ماں ساجدہ واشم روم میں نل کُھلا رکھتی تھی اور اپنے احسان فراموش بیٹے کی یاد میں بلک بلک کر روتی تھی۔ ایک دن ماں واش روم کا نل کھلا رکھنا بھول گئی۔ جس کی وجہ سے اس کے رونے اور سسکنے کی درد بھری آواز اُس کے دیگر ساتھیوں نے سُن لی۔ ایک بزرگ ساتھی نے ساجدہ کو واش روم سے باہر بُلایا اور تعجب سے پوچھا۔
’’بہن کیوں رو رہی ہو!؟‘‘
’’آج اُس کی یاد نے شدت اختیار کرلی اور میں بے اختیار رو پڑی!‘‘
’’کون سی یاد؟ کس کی یاد میں اس قدر رو رہی ہو!‘‘ بزرگ نے تعجب سے پوچھا۔
’’میں اپنے بیٹے عثمان کو صبح آفس نکلنے سے قبل اچھی طرح ناشتہ کرواتی تھی اور دعائوں کے ساتھ اس کو دفتر جانے کے لئے رخصت کرتی تھی!!‘‘