عارضی ملازمین کی برخواستگی کا معاملہ | گورنر انتظامیہ فیصلے پر نظرثانی کرے : این سی ،پی ڈی پی

27 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
سرینگر //گورنرانتظامیہ کی جانب سے مختلف سرکاری محکموں میں سال2010کے بعدتعینات کئے گئے سبھی عارضی ملازمین بشمول ڈیلی ویجروں،کیجول لیبروں ،کنسالڈیٹیڈ،کنٹریکچول اورایڈہاک ملازمین کونکال باہرکئے جانے یاان سبھی عارضی ملازمین کی برخواستگی عمل میں لائے جانے سے متعلق حکمنامہ نے جہاں سینکڑوں ایسے محنت کشوں کے مستقبل پرسوالیہ نشان لگادیاہے ،وہیں گورنرانتظامیہ کے اس حکمنامے پرمین اسٹریم جماعتوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے ۔نیشنل کانفرنس اورپی ڈی پی نے گورنرستیہ پال ملک پرزوردیاکہ وہ اس فیصلے پرنظرثانی کریں ۔ نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکرٹری علی محمدساگرنے کہاکہ یہ بات بڑی تشویشناک ہے کہ گورنرانتظامیہ نے ایسے تمام عارضی ملازمین کونکال باہرکرنے کافیصلہ لیاہے جن کوسال2010اور 2015کے بعدمختلف سرکاری محکموں میںتعینات کرکے عارضی ملازمت فراہم کی گئی ۔انہوں نے کہاکہ غریب ملازمین اورمحنت کشوں سے روزی روٹی کاذریعہ چھین لیناسراسرناانصافی ہے کیونکہ عارضی ملازمت کھوجانے سے نہ صرف یہ کہ متعلقہ لاتعدادمحنت کش اورپڑھے لکھے لوگ بے روزگارہوجائیں گے بلکہ اُن کے کنبے فاقہ کشی کے شکارہوجائیں گے ۔علی محمدساگرکاکہناتھاکہ ڈیلی ویجراوردیگرایسے عارضی ملازمین اپنے غریب کنبوں کی کفالت کرتے ہیں اوراگروہ اس ملازمت سے بھی محروم ہوگئے توان کیلئے اپنے کنبوں کی کفالت کرناآسان نہیں ہوگا۔انہوں نے گورنرانتظامیہ کے اقدام کوغلط قراردیتے ہوئے کہاکہ بجائے اسکے کہ ان غریب محنت کشوں کی روزی روٹی چھین لی جائے ،بہترہے کہ اُن ملازمین کونکال باہرکیاجائے جن کوغیرقانونی طورپرچوردروازے سے مختلف سرکاری محکموں میں تعینات کیاگیاہے ۔علی محمدساگرنے ریاستی گورنرایس پی ملک پرزوردیاکہ اس حکمنامے پرنظرثانی کی جائے ۔اُدھرپی ڈی پی کے نائب صدرعبدالرحمان ویری نے بھی عارضی ملازمین سے متعلق گورنرانتظامیہ کے جاری کردہ احکامات پرسخت تشویش ظاہرکی ۔انہوں نے کے این ایس کیساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ گورنرانتظامیہ کایہ اقدام سراسرغلط اورغیرمنصفانہ ہے ۔عبدالرحمان ویری کاکہناتھاکہ اگرریاستی سرکاراورانتظامیہ بے روزگاروں کوروزگارفراہم نہیں کرسکتی توایسے افرادکوکیو ں بے روزگاروں کی صف میں لاکھڑاکیاجارہاہے جوعارضی بنیادوں پرسرکاری محکموں میں تعینات ہیں ۔انہوں نے کہاکہ مختلف سرکاری محکموں میں بڑی تعدادمیں اسامیاں برسوں سے خالی پڑی ہیں ،اوربہترہے کہ ان اسامیوں کوعارضی ملازمین کے ذریعے ہی پُرکیاجائے ۔خیال رہے 24مئی کوجنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری کی جانب سے ایک غیرمعمولی آرڈرجاری کرتے ہوئے مختلف سرکاری محکموں کے سربراہان اوراعلیٰ افسروں وانجینئروں کویہ واضح ہدایت دی گئی کہ وہ ایسے تمام عارضی ملازمین کواپنے محکموں سے بیدخل کردیں جن کی تعینات 29اپریل2010یااسے پہلے اور17مارچ2015کویااسے پہلے عمل میں لائی گئی ہے۔
 

تازہ ترین