تازہ ترین

مسلمانانِ ہند | حقائق کا ادراک کر کےآگے بڑھیں

27 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

زین شمسی
حوصلے کیوں پست ہیں ایمان کے ہوتے ہوئے
پوچھتے ہو راستہ قرآن کے ہوتے ہوئے
شکست پائدار اور مستحکم فتح کی جانب ایک قدم ہے۔ شکست میں کامیابی کانسخہ کیمیا اپنے کچھ اجزا کے ساتھ موجود ہوتا ہے جو حوصلہ کے خوردبین سے مثبت نتائج کا نظارہ دکھا جاتا ہے، جسے دماغ کی آنکھوں سے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔حالیہ الیکشن اور اس کے نتائج نے جہاں بیش تر عوام کو حیرت میں ڈال دیا ہے، وہیں ہندوستانی سماج اور سیاست کےکچھ حقائق کو بھی اظہر من الشمس کر دیا ہے ، جو ہندوستان کے سماجی مطالعہ نگاروں کے لئے سوچ کی نئی راہیں وا کرتا ہے۔انتخابی نتائج نے اگر ایک طوفان برپا کر دیا تو لوگوں کے ذہن بھی طوفان کی زد میں ہیں۔ اب اس طوفان کی شدید لہریں کہاں کس موڑ پر جا کر شانت ہوتی ہیں ،یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا لیکن خدشہ ہے کہ یہ تذبذب سے بھرا طوفان کہیں طوفان بدتمیزی میں نہ بدل جائے۔ یہ صبرآزما گھڑی ہے اوربہت شانتی کے ساتھ فیصلہ لینے کی ساعت بھی۔
عزیز برنی کاایک فیس بک پوسٹ کہتا ہے کہ حکومت آپ کی نہیں بننے والی تھی اورکسی کی بھی بنتی وہ آپ کا نہیں ہوتا تو ٹینشن کس بات کی؟
دوسرا پوسٹ جنید خان کا ہے جوکہتا ہے کہ مودی جیت گئے ، راہل ، مایا ، اکھلیش ، تیجسوی اور کیجریوال ہار گئے ،انہیں ان کے ہار کے ساتھ جینے دیں ،آپ کیوں خواہ مخواہ لوڈ لیتے ہیں؟کئی پوسٹ یہ کہتا ہوا پایا جاتا ہے کہ اب ہمیں اپنی قیادت کو تلاش کرنا چاہیے ، بہت ہو چکا ہے ، کچھ پوسٹ یہ بھی کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ بھارت نے اپنا مستقبل طے کر لیا ہے اور آئندہ کی حکمت عملی اسی طے کئے گئے پیمانے پر بنانی ہو گی۔ ظاہر ہے کہ چنائو کے بعد عمل و ردعمل کا دور چلتا ہے اور بہترین اور عیار الفاظ کے سانچے میں ڈھل کر مایوس دل اپنی کہانیاں بیان کرتاہے۔ ایسے حالات کے لئےندا فاضلیؔ کہہ گئے  ہیں ؎
اُٹھ کے کپڑے بدل گھر سے باہر نکل جو ہوا سو ہوا
رات کے بعد دن آج کے بعد کل جو ہوا سو ہوا
جب جب کسی طرح کا بحران محسوس ہوتا ہے تب تب دماغ کی شرینی میں اُبال آتا ہے اور وہ کسی حد تک فیصلہ پر آمادہ نظر آتا ہے۔ ابھی کے جوحالات ہیں اس میں تجزیہ کے لئے بہت کچھ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم اس وہم میں مبتلا رہیں کہ ای وی ایم نے اپنی کارستانیاں دکھائی ہیں ،ورنہ یہ نتیجہ ناممکن تھا ، لیکن یہ صرف سچائی کی کلائیاں مروڑنے جیسا خدشہ ہے اور اس میں اگر کوئی سچائی ہے بھی تو اب چڑیا کھیت چُگ چکی ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے اس بار ای وی ایم نے نہیں بلکہ الیکٹورل آفیسر کے ساتھ بوتھ منیجمنٹ کا گیم ہوا ہے ۔ بہت سارے یہاں تک کہ دہلی کے بوتھوں میں بی جے پی کے علاوہ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے پولنگ ایجنٹ غائب تھے ۔ بہرحال یہ سب باتیں اب فضول کے دائرے میں جا چکی ہیں ۔ سامنے رزلٹ ہے اور بھارت اور بھارت کے مسلمانوں کی تقدیر۔
اب کیا ہوگا ؟کیا کیا جائے گا؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ بھارت میں ایساکچھ نہیں ہونے والا ہے کہ خوف مقدر بن جائے ۔ جمہوری عمل ہے اور عوام کے ہاتھ میں باگ ڈور ہے ۔ لوگوں کواس مرتبہ یہ لگا کہ مودی کو 5سال اور دینے ہیں، انہوں نے دے دیا ۔ اب مودی جی اس پانچ سال میں اسی طرح پاکستان پاکستان چلائیں گے یا گئو رکشا اور لنچنگ کو بڑھاوا ملنے پر سکوتِ لب کی مدت میں اور اضافہ کریں گے یا پھر اس آئے ہوئے عظیم موقع کو شاندار ترقیوں میں بدلیں گے، یہ سب آگے دیکھا جائے گا ، لیکن ان سب سے پرے ہمیں اور آپ کو یہ سوچنا ہوگا کہ جو باتیں الیکشن کے دوران شدت سے اُٹھائی جاتی رہیں ،وہ باتیں اآگے بھی اٹھنی چاہئے یا پھر اسے اگلے الیکشن تک ٹال دینی چاہیے ؟جیسے مسلم قیادت ، پریشر گروپ ، حصہ داری اور سیاسی شراکت۔ یہ باتیں اہم ہیں اور توجہ طلب ہیں کہ اگر ہمیں اپنی سیاسی وقعت کو پھر سے برقرار رکھنا ہے تو ہمیں ان سب میں سےا یک کا انتخاب کرنا ہوگا اور اسے کیسے کیا جانا ہے ،اس کے لئے پوری شفافیت کے ساتھ بحث و مباحثہ کرنا ہے۔ اسے کھلے عام بھی کرنا ہوگا اور کمروں کے اندر بھی۔ اس کے لئے کیسی ٹیم بنے گی، کون کون لوگوں کا انتخاب ہوگا ،یہ سب باتیں ایک کور کمیٹی بنا کر کی جانی چاہیے۔ فی الحال ہمیں یہ بات طے کر لینی ہوگی کہ ہمیں کچھ کرنا ضرور ہے اور جو بھی کرنا ہے وہ  جمہوری اورآئینی دائرہ میں رکھ کر ہی کرنا ہے۔ پہلا کام تو یہ کریں سوشل میڈیا پر بے کار کی جذباتی پوسٹ سے گریز کریں اور اسے صحت مند ڈائیلاگ کا اسٹیج بنائیں۔مجھے پتہ نہیں کیوں اس بات کا یقین ہے کہ ’’مودی دوبارہ‘‘ ہمارے اور آپ کے لئے بہتر مینڈیٹ ہے۔ ایک تو یہ کہ یہ گزشتہ مودی ایفکٹ کا ہی نتیجہ ہے کہ اس بار شاید پہلی بار مسلمانوں میں سیاسی بیداری آئی اور ووٹنگ کے وقت بھی مسلمانوں نے انتہائی دانش مندی کا ثبوت دیا ۔ یہ الگ بات ہے کہ جس طرح مسلمان بیدار ہوئے ،اسی طرح ملک کے کئی پسماندہ طبقے اور ذاتیں اپنے ہی رہنمائوں سے بیزار ہو گئیں اور مودی کی طرف چلے گئے۔ یہ مسلمانوں کی قسمت ہے یا بھارت کی نئی تعبیر کہ مسلمان ایک بار پھر سب کا ساتھ دیتے ہوئے بھی الگ تھلگ پڑ گئے؟ پھر بھی ان کی یہ بیداری مستقبل میں انہیں سرخرو کرے گی ،یہ سب کاوشواس ہے۔
دوسرا اور اہم کام یہ کرنا ہے کہ چونکہ ہم بھارتیہ مسلمان ہیں ، عرب اور ایران کے مسلمان نہیں ہیں۔ ہم نے غیروں کے ساتھ جینا سیکھا ہے، غیروں کے ساتھ کام کرناکھانا اور پڑھنا لکھنا سیکھا ہے۔ ہماری خوشیوں اور دُکھوں میں غیروں کاعمل د خل ہے۔ ہم غیروں کے یہاں نوکری پاکر خوش ہوتے ہیں اور غیروں کے یہاں ہی علاج و معالجہ کرا کر دُکھوں سے نجات پاتے ہیں۔ غیروں کے یہاں ہی انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ گویا یہ غیر ہماری زندگی کا کچھ یوں حصہ ہیں کہ گھر سے نکلتے ہی کچھ دیر چلتے ہیں ،ہمیں یہ سب اپنے لگنے لگتے ہیں ۔ ہماری روزمرہ کی زندگی میں قوم نہیں دیش واسیوں کی شرکت ہے، اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم سماجی تانے بانے میں اپنا رول بڑھائیں۔ خواہ سبیلیں لگانی ہو ، کمبلیں تقسیم کرنےہوں ، افطار کٹ بانٹنی ہو ںیا مالی تعاون دینی ہو ں، ہمیں سامنے مسلمان نہیں دیکھنا ہے ۔ دیش واسیوں کو دیکھنا ہوگا ۔ فوٹو کھنچوانے سے پرہیز کریں گے، تبھی آپ کی معتبریت بڑھے گی ،یاد رکھئے گا۔
ایک کام کل سے ہی شروع کر دیجئے۔ جو لوگ تنظیمیں اور این جی اوز چلاتے ہیں، مین پاور والے لوگ ہیں،ان سے ایک گزارش ہے کہ وہ کچھ لوگوں کو ایمس جیسے ادارے میں متعین کریں کہ وہ باہر سے آئے ہو ئے لاچار و بے بس مریضوں کی فی سبیل ا للہ خدمت ، نگہبانی اور رہنمائی کریں۔ اگر پانچ دس لوگ یہ کام مسلمانوں کے پلیٹ فارم سے کریں تو ہندوستان میں مسلمانوں کی شبیہ بدلتے دیر نہیں لگے گی ۔اس الیکشن میں مودی طوفان میں بھی پارلیمنٹ میں 26 مسلمانوں کی حاضری بہت کچھ کہتی ہے، اس کہانی کے اندر بھی کئی کہانیاں روپوش ہیں۔ (گونگے بہرے مسلمانوں کی ضرورت اور پارلیمنٹ میں مسلم کاز پر خاموشی کے خلاف کمزور منطق پر بھی سوچا جانا چاہیے)۔ یہ مودی سرکار کا ہی زمانہ ہے کہ مسلمانوں میں تعلیمی بیداری آئی ہے اور بچے یو پی ایس سی کے امتحانوں میں بھی اچھی تعداد درج کرا رہے ہیں۔
سماجی تانا بانا کے ساتھ آگے بڑھنا ہے ۔ سیاست کو نظر انداز کرنا ہوگااور سماجی رشتوں کو بڑھا وا دینا ہوگا ،ساتھ ہی سیاسی و سماجی بیداری کے لئے بحث و مباحثہ کا در وا کرنا ہوگا ۔ہمیں اپنی وسعت اور وقعت کے حساب سے ا پنے بحث و مباحثہ کو مسلم دنیا کے توسط سے گھر گھر پہنچانے کی ذمہ داری لینی ہو گی۔ میرا یہ وشواس ہے کہ قوم میں بیداری سڑکوں سے نہیں گھروں سے ہی آئے گی۔ ہندوستانی مسلمانوں کا مستقبل……مسائل و ادراک پر ہم اگر غیر جذباتی ہوکر صحیح سمت میں آزادانہ اور عاقلانہ گفتگو کریں گے تو مشکلات سے گلوخلاصی راستے نکل آئیں گے۔         