تازہ ترین

یادوں کے جھروکے سے

منظر منظر نقش نظر میں دل میں چہرہ چہرہ ہے

27 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

قلم برداشتہ نذیر جہانگیر

 آدمیت  اور  شئے  ہے علم  ہے کچھ اور شے 

کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا 

ذوقؔ 

میں نے اپنے والد سے سنا ہے کہ جن دنوں وہ شہام پورہ نوہٹہ میں رہتے تھے اُن کا ایک رشتہ دار جمعۃ المبارک کو رتنی پورہ پلوامہ سے وہیں مسجد شریف میں فجر ادا کرنے کے بعد پیدل سرینگر کی طرف مارچ کرتا تھا اور نماز جمعہ یہاں سرینگر کی مرکزی جامع مسجد میں ادا کرتا تھا۔ پھر جمعہ کو میرے دادا کے پاس ہی شہام پورہ نوہٹہ میں قیام کرکے اگلی صبح مسجد میں فجر ادا کرنے کے بعد واپس رتنی پورہ پلوامہ کی طرف پیدل مارچ کرتا تھا۔ میرے والد کہتے ہیں کہ وہ بڑا نیک آدمی تھا اور ہمارے بزرگوں کی یہ تمنا تھی کہ اُن کا انتقال یہاں سرینگر میں ہی ہوتا تاکہ اس کی میت ہمارے ہی قبرستان میں دفن ہوجائے اور اس وسیلے سے وہاں مدفون باقی مرحومین کو راحت ملے۔ ایک دن جب حسب معمول اس بزرگوار نے جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ ادا کی اور میرے دادا کےیہاں قیام کے دوران اس کی صحت کچھ بگڑ گئی کہ اگلی صبح رتنی پورہ نہ جاسکا۔ ایک دو دن بیمار رہا اور یہیں انتقال کرگیا اور ہمارے ہی قبرستان میں مدفون ہوئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون   ؎
آئے  ٹھہرے  اور   روانہ  ہو گئے
زندگی کیا   ہے، سفر کی بات ہے 
1953 ء میں میری عمر پانچ برس ہونے کو تھی۔ 9 ؍اگست کی ایک دُھندلی سی تصویر میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ ہمارا مکان خواجہ بازار شہر خاص سرینگر کے عین چوک میں واقع تھا۔ جو تصویر اس وقت میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہی ہے وہ زیارت خواجہ نقشبند کے سامنے فوجی گاڑیوں کی بڑی تعداد اور ان گاڑیوں میں سے نیچے کودتے فوجی۔ پورے علاقے میں ہو کا عالم ہے اور میں اس عجیب اور غیر متوقع اور خلاف معمول کی صورت حال سے گھبرایا ہوا ہوں۔ خواجہ بازار کے چوک سے جو گلی ملہ کھاہ کی طرف جاتی ہے، اس کی نکڑ پر لوگوں کی بڑی تعداد فوجیوں کو مکے دکھارہی ہے ، یہ لوگ کچھ نعرے لگا رہے ہیں۔ فوجی ان کے پیچھے دوڑتے ہیں جس سے بھگدڑ مچ جاتی ہے اور لوگ بھاگ جاتے ہیں، کچھ وقفے کے بعد ہمارے مکان کے دروازے پر زور زور سے کٹھکٹھانے کی آواز آتی ہے۔ میری اماں گھبرا جاتی ہے۔ میرا باپ صحت مند اور خوب رو نوجوان ہے۔ اس پر غالباً خوف کے آثار نہیں ہیں کیونکہ وہ میری ماں کو تسلی دے رہا ہے۔ یہ یاد نہیں کہ میرا دادا اور میرے والد کی سوتیلی ماں اس وقت ادھر اسی کمرے میں ہی موجود تھے یا کسی اور کمرے میں ، میرا باپ نیچے جاتا ہے۔ میری ا ماں بہت بے چین ہے کیونکہ کئی لوگوں کی چیخیں سنائی دے رہی ہیں جو خاموش فضا میں ایک ڈراؤنا ارتعاش پیدا کررہی ہیں ۔ یہ چیخ وپکارو الی آوازیں دور دور تک جارہی ہیں۔ فوجیوں کے بھاری بھرکم جوتوں کی آوازیں بھی صاف سنائی دے رہی ہیں۔ وقت گزرتا جاتا ہے مگر میرا باپ نہیں آتا۔ ہمارے مکان کی تمام کھڑکیاں بند ہیں۔ میری اماں لگاتار ایک کھڑکی کے سوراخ سے سڑک پر اپنی نظریں مرکوز کئے ہوئی ہے کہ شاید اسے اپنے خاوند کی کوئی جھلک دیکھنے کو ملے۔ میں بھی کھڑکی کے ایک سوراخ سے خواجہ بازار چوک میں یہ نئی چہل پہل دیکھ کر حیران ہورہا ہوں مگر محسوس کررہا ہوں کہ سب ٹھیک ٹھاک نہیں ۔ کچھ وقت اور گزرجاتا ہے، دروازہ کھل جاتا ہے اور میرا باپ کمرے میں آجاتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میری ماں کی جان میں جان آگئی، مگر میرے باپ کے بازو میں ایک بڑا گہرا گھاؤ ہے۔ میری ا ماں پانی میں ہلدی گھول کر اس زخم پر لگاتی ہے۔ میرا باپ میری اماں سے کہتا ہے کہ کسی نے سڑک  پر بڑے جانور کے ہڈیوں کا ڈھانچہ چھوڑا تھا جس پر فوجی بڑے مشتعل ہوگئے تھے۔ جو مکان اس ڈھانچے کے زیادہ قریب تھا ،اس کے مالک کا فوجیوں نے شدید زدوکوب کیا، یہاں تک کہ وہ چلنے پھرنے کے لائق ہی نہ رہا۔ پھر کسی فوجی نے لکڑی کا ایک بڑا ٹکڑا اُس کے ہاتھ میں تھما دیا اور وہ اسی لاٹھی کا سہارا لے کر اپنے گھر تک پہنچا تھا۔ میرے باپ کو فوجیوں نے جانور کا وہ ڈھانچہ اُٹھاکر کہیں دور چھوڑنے کی ہدایت دی تھی، چنانچہ میرے والد بزرگوار نے ایسا ہی کیا تھا مگر اس کے باوجود اس کے بازو پر ضرب لگائی گئی تھی۔ پھر فوجی چلے گئے، اب ہر طرف خاموشی چھاگئی۔ سڑک پر اب کوئی نہیں تھا۔ کچھ وقت گزرگیا، غالباً عصر کا وقت رہا ہوگا ایک موٹر کار اسی چوک میں آکر رُکی۔ اس میں سے کوئی آدمی اُترا، کئی لوگ اس کے اس کے اردگرد جمع ہوگئے۔ میرا باپ بھی جانے لگا۔ میری مااں نے اسے روکنا چاہا مگر وہ نہ مانا۔ وہ بھی نیچے اُترا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ کسی غیر ملکی اخبار کا نمائندہ تھا۔ اس نے لوگوں سے واقعے کے بارے میں تفصیلات سنیں۔ پھر سنا کہ اگلے روز جب وہ اخبار شائع ہوا تھا تو اس میں میرے والد کے زخمی بازو کی تصویر کے ساتھ اس شخص کی برہنہ تصویر بھی تھی جس کا فوجیوں نے زدوکوب کیا تھا۔
کسی شاعر نے کہا ہے  ؎
اس کی نفرت بھی عمیق، اس کی محبت  بھی عمیق
قہر    بھی  اس  کا   اللہ    کے    بندوں    پہ    شفیق
میرے دادا کے والد گرامی (یعنی میرے پردادا) کو نہ ہی میرے والد نے دیکھا ہے اور نہ ہی میری پھوپھیوں نے دیکھا تھا، تاہم میری پردادی کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ میری پیدائش کے چند ایک برس بعد وفات پاگئیں۔ میں نے اپنے پرداد، جس کا نام صدرالدین شاہ تھا، کے متعلق سنا ہے کہ وہ نہایت متقی اور عابد وزاہد تھا۔ سنا ہے کہ اس کے پاس ایک خاص وظیفہ تھا کہ وہ کوئلے کے ٹکڑے پر دَم کرتا تھا اور جب کوئلے کا یہ ٹکڑا کسی بھی قسم کے پھوڑے پھنسی پر لگایا جاتا تو اللہ تعالیٰ شفا عطا فرمادیتا ۔ میں نے دیکھا ہے کہ اُن کی موت کے برسوں بعد بھی جب میرے دادا اپنے والد کا ذکر کرتے تھے تو پہلے دو زانو بیٹھ جاتے ، پھر نہایت ہی ادب وتعظیم سے اس کا نام لیتے تھے اور اُن کی کسی بات یا واقعہ کا حوالہ دیتے تھے۔ آج وہ بات کہاں!!! میں نے اپنی پردادی کے متعلق بھی سنا ہے کہ وہ بڑی پرہیزگار اور عبادت گزار تھیں مگر مزاجاً تیز تھیں۔ یہ بھی سنا ہے کہ جب میرے پرداد جان کنی کی حالت میں تھے اور ان کا آخری وقت آن پہنچا تھا تو میری پردادی ان کے پاس گئیں اور ان سے کہا: تم تو جارہے ہو مگر تمہارے جانے کے بعد بچوں میں پھوڑا ووڑا نکل آیا تو کہاں دَم کراؤں گی؟ میرے پردادا نے کہا: جا کچھ کوئلے لے آو۔ وہ گئی اور ’’نارہ لیج‘‘ لے کے آئی۔ ’’نارہ لیج‘‘ مٹی کی ہانڈی ہوا کرتی تھی جس کو پرانے زمانے کی عورتیں چولہے کے پاس رکھا کرتی تھیں۔ چولہا جلتے وقت، جس کا ایندھن بالن ہوا کرتا تھا، یہ عورتیں بیچ بیچ میں لوہے کے ایک خاص آلے ’’دست پنا‘‘ (یا آتش گیرسے) چولہے سے انگارے نکال کر  اسی ہانڈی میں جمع کر تی تھیں اور اوپر سے ڈھکن رکھ دیتی تھیں کہ یہ انگارے بجھ کر کوئلے بن جاتے تھے جو بعد میں کئی گھریلو ضروریات میں کام آتے تھے۔ میرے دادا کہتے تھے کہ پھر مرنے سے پہلے میرے قبلہ گاہ نے اسی ’’نارہ لیج‘‘ میں موجود کوئلوں پر دَم کیا ۔ اُن کی وفات کے بعد کئی برسوں تک جب ہمیں یا رشتے میں کسی کا پھوڑا نکلتا تو وہ کوئلہ اس پر لگاتے اور اللہ تعالیٰ ٰشفا عطا فرمادیتا۔ سبحان اللہ! کیسے لوگ تھے وہ! ان کا مرنا بھی ایسا ہوتا جیسے کسی راحت والے سفر پر روانہ ہونا ہو۔ موت کا انہیں کوئی خوف نہ تھا۔ میرے مولیٰ! مجھے بھی ایسے مقامات عطا فرما۔آمین 
ؕنرم  دم  گفتگو،  گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاکباز
ہائے! آج کی یہ زندگی اور آج کی یہ دنیا! ہماری مثال بقول محسن نقوی گویا   ؎
تمام   شب   جہاں  جلتا   ہے  اک  اُداس   دیا
ہوا  کی  راہ  میں ایک  ایسا  گھر  بھی آتا ہے
صبر کی بھی ایک حد ہے۔ جب صدمات اس حد سے تجاوز کرجاتے ہیں تو انسان گھبرانے لگتا ہے اور بے چین وپریشان ہوجاتا ہے۔ مختلف انسانوں میں صبر کی استعداد مختلف ہوتی ہے۔ کبھی بیماری کی شدت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ انسان برداشت کھو بیٹھتا ہے اور تڑپنے لگتا ہے۔ کبھی غم اتنا بھاری پڑجاتا ہے کہ انسان ذہنی توازن کھو بیٹھتا ہے یا اس پر دل کا دورہ پڑجاتا ہے یا وہ ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایسا معاملہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کسی صحابی ؓکو پیش آتا تو وہ رحمت بے کراں کے سمندر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتا ، اُس کے سارے ہموم وغموم تیز دھوپ میں برف کی طرح پگھل جاتے ، اُس کا دل ودماغ نور سے بھرجاتے اور وہ مرادیں اپنے دامن میں سمیٹ کر ہی لوٹ آتا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد خیر و برکت کےیہ کام ان لوگوں کے ذمہ رہا جن میں نور ِقرآن گھر کر گیا ہو۔ ایسے لوگ ہر دور میں موجود رہے ہیں۔ کبھی شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی صورت میں ظاہر ہوئے اور کبھی خواجہ معین الدین چشتی رحمت اللہ علیہ کی صورت میں ہمارے سامنے جلوہ افروز اہوئے۔ کبھی داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے روپ میں یہ نور چمکا اور کبھی عالم رُبانی شیخ احمد سرہندی رحمتہ اللہ علیہ بن کر اس نور نے دنا ئے انسانیت کو ضیا بخش دی اور دلوں کی کائنات اور دماغوں کی دنیا کو روشن کیا۔ نور ِ رسالت مآبؐ کی حیات بخش کرنیں دنیا کے طول وعرض میں پھیلیں اور غم زدوں اور بے کسوں کی تسلی وتشفی کے اسباب بنی رہیں۔ میں نے کتابوں میں پڑھا ہے کہ ہندوستان کے ایک برگزیدہ بزرگ، محدث اور مفسر حضرت عبدالرشید گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک دن ایک شخص آیا اور کہا کہ حضرت بہت کوشش کی مگر میرا نکاح کہیں طے نہیں ہوپاتا، آپ تعویذ دیں۔ حضرت نے فرمایا میں تعویذ کہاں دیتا ہوں۔ وہ شخص نہیں مانا، حضرت کے پیچھےہی پڑگیا۔ آخر اس شخص کی تسلی کے لئے حضرت نے کاغذ پر کچھ لکھ لیا اور سائل سے کہا جا اسے مکان کی چھت پہ لٹکادے۔ ابھی ایک ہفتہ ہی گزرگیا تھا کہ اس شخص کا نکاح ایک جگہ پکا ہوگیا۔ پھر جو اس تعویذ کو کھول کے دیکھا کہ آخر اس میں کیا لکھا ہے تو یہ لکھا پایا: یا اللہ! میں جانتا نہیں مگر یہ مانتا نہیں، آپ کا بندہ ہے آپ جانیں۔‘‘
کشمیر بھی اللہ کے باکمال اور باکرامت خاصان ِ خدا سے خالی نہیں رہا۔ کشمیر میں یہ لوک روایت بڑی مشہور ہے کہ جب شیخ نورالدین ولی رحمتہ اللہ علیہ کی پیدائش ہوئی تو انہوں نے ماں کا دودھ نہیں پیا۔ بہت کوشش کی گئی مگر انہوں نے نہیں پیا۔ پھر اسی طرح غالبا ًتین دن گزرگئے۔ تین دن کے بعد وہاں سے لل دید کا گزر ہوا۔ بچے کو لل عارفہ کے پاس لایا گیا اور فریاد کی گئی کہ یہ نوزائدہ بچہ دودھ نہیں پیتا۔ لل دید نے پوچھا: اس کا نام کیا ہے؟ لوگوں نے کہا:نندہ۔ لل دید نے بچے سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا:نندہ! زینہ مندہ چھوک نہ چینہ کیازہ چھوک مندچھان؟‘‘ یعنی اے نورالدین! جب تمہیں جنم لینے میں لاج نہ آئی تو اب دودھ پینے میں کونسی شرم حائل ہے؟ کہتے ہیں یہ سنتے ہی شیخ العالم ؒدودھ پینے لگ گئے۔ پھر جب شیخ العالم بڑے ہوگئے تو یہ ’’شروکھ‘‘ کہا۔ (شیخ العالم کے اشعار کو ’’شروکھ‘‘ کہتے ہیں)    ؎
تس  پدمان  پور  چہ  للے
یم  شو  وچھ   تھلہ تھلے
یمہ  اَمرت  چو   گلہ  گلے
سوے  ور دیتم  مے  دیوو
یعنی پانپور کی رہنے والی وہ لل دید ہمیشہ مشاہدہ حق میں رہی۔ اس نے بقا کا مقام پالیا۔ اے میرے مولی! مجھے بھی یہ مقام عطا کردے۔
آگے شیخ نورالدین ولی رحمتہ اللہ علیہ خود بھی شیخ العالم بنے اور ان کے فیض اور نورانی برکتوں سے پورا کشمیر مالا مال ہوا۔ پھر سلطان العارفین شیخ حمزہ مخدوم رحمتہ اللہ علیہ جیسے روحانی بزرگ اس سرزمین پر جنم پا گئے۔ اسی طرح احمد صاحب تارہ بلی رحمتہ اللہ علیہ جیسے باکمال روحانی شخصیت کی جائے پیدائش یہی سرزمین ہوئی۔ ان کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ شہر خاص تارہ بل سرینگر میں ایک چنار کے پیڑ تلے بیٹھا کرتے تھے۔ پھر مولوی خاندان کے حضرت غلام رسول صاحبہ رحمت اللہ علیہ اور ان کے برادر اصغر مولوی احمد اللہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی کرامتوں کے واقعات آج بھی پرانے بزرگوں کی زبانوں پر ہیں۔غرض یہ کہ جب مصیبتیں اور مشکلات انسان کا قافیہ حیات تنگ کردیتے تھے اور ان ناگہانی پریشانیوں سے نجات پانے میں انسان کی اپنی تمام کا وشیں بے کا پڑجاتیں تو وہ ٹوٹ کر اللہ کے انہی پیارے بندوں کی چوکھٹ پر دعا ئے خیر کے لئے بڑی اُ میدیں لے کر آجاتا۔ یہ لوگ دعا کرتے اور اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کے طفیل سائل کو مصیبتوں کے چنگل سے نکال لیتا تھا کہ مصیبت زدہ راحت اور آسائش کی سانس لیتا ۔
میری عمر اب ستر سال ہونے کو آئی ہے، کم از کم ان ستر برسوں میں ایسا کوئی بزرگ نہیں دیکھا جس کی دعاؤں میں ایسی تاثیر ہوتی کہ اس کی دعاؤں کے طفیل اللہ تعالیٰ کسی مجبور کی سختیوں اور ابتلاؤں کو دور فرماتے ، جیسے اگلے وقتوں کے بزرگوں سے منسوب روایات میں اس کا ذکر ملتا ہے، کم سے کم میں ایسی کسی کرامت سے آگاہ نہیں ہوں۔ میرے کہنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ آج ایسے مستجاب الدعوات بزرگ زمین پر موجود نہیں ہیں بلکہ میں اتنا کہتا ہوں کہ میری اپنی ہی بدنصیبی اور شقاوت قلبی کے سبب مجھے ایسے بزرگ کہیں نظر نہیں آئے اور نہ آج تک ان میں سے کسی سے زیارت و ملاقات ہوسکی ہے۔ میرا یہ بھی مطلب نہیں کہ کرامتیں العیاذ باللہ کوئی ایسی شعبدہ بازی ہے کہ بزرگ اور اللہ کے ولی بازی گروں کی طرح انہیں دکھاتا پھریں بلکہ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پہلے ایسے اہل دل ِ واصحابِ تصرف ہوا کرتے تھے کہ لوگ جب کسی سخت آزمائش میں مبتلا ہوتے تو ان کے پاس بغرض دعا کے لئے جاتے اور اللہ تعالیٰ ان بزرگوں کے ہاتھوں مشکلات آسان فرمادیتے تھے۔ الحمدللہ کشمیر میں روحانی شخصیتوں اور بڑے بزرگوں کی آج بھی کوئی کمی نہیں ہےبلکہ انہی کی صحبت کا فیض ہے کہ اَحقر میں دین کی کچھ سوجھ بوجھ آئی اور ایمان کی کچھ مقدار الحمدللہ میرے اندر بھی سماگئی۔ میری حیثیت ان بزرگوں کی جوتیوں کے تلوے پر لگی گرد کے برابر بھی نہیں۔ ان بزرگوں نے بھی اللہ کی راہ میں تن، من ، دھن لگایا ہے اور یہ لوگ واقعی قلندرانِ خدامست ہیں۔ یہاں میری مراد ان بزرگوں کو دریافت کرنے پر اپنی ناکامی کا ذکر ہے جو صاحب ِکرامت اور مستجاب الدعا ہوں۔ ایسے کسی بزرگ سے آج تک میری ملاقات نہیں ہوسکی۔ میں جو بات کہتا ہوں وہ الحمدللہ سچ کہتا ہوں، ریاکاری سے کام نہیں لیتا اور نہ ہی اس بات کا قائل ہوں کہ عقیدت میں کچھ ایسے غلو میں پڑجاؤں کہ کسی بزرگ کو خوش کرنے کی خاطر اس کے ساتھ کرامتوں کے من گھڑت قصے منسوب کرلوں۔ 
(بقیہ منگل کے شارے میں ملاحظہ فرمائیں)