تازہ ترین

شرمناک واقعات

قانون توڑنے اوراخلاق مروڑنے والے

27 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

غازی سہیل خان
انسانیت کو شرمسار کر دینے والی ایسی سنسنی خیز خبریں سننے اور پڑھنے کو ہمیں مسلسل مل رہی ہیںکہ بیان سے باہر ہے۔حال ہی میں ایک ایسی ہی دردناک اور اشتعال  انگیزخبر میں ایک تین سالہ معصوم بچی کی مبینہ بے توقیری کے معاملے پر انسانی ضمیرچیخ اٹھا ۔ یہ معاملہ اس وقت پولیس کے زیر تفتیش ہے اور اُمید کی جانی جائے کہ بہت جلد حقائق سامنے آئیں گے ۔ ابھی اس بات کو چند ہی دن گزرگئے تھے کہ ایسی ہی ایک اور منحوس خبر سوشل ویب سائٹس پر گردش کرنے لگی جس میں گاندربل سے تعلق رکھنے والے ایک کم نصیب کنبہ کو روتے بلکتے ایسے ہی ایک اور شرم ناک سانحہ کی کہانی سناتے دیکھے جا رہا تھا۔ فی الوقت اس طرح کے شرمناک واقعات کا رونما ہونا ہمارے سماج کا معمول بنتا جا رہاہے ۔ یہ ایک انتہائی تشویش ناک امر ہے۔انسانیت کو شرم سار کر دینے والے ایسے واقعات وسانحات کی وقتی طور دھوم مچ جاتی ہے مگر قا نون درندہ صفت مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر تا، اس وجہ سے عادی مجرموں کی ذہنیت رکھنے والے گناہوں کے پجاریوں کے گھناؤنے عزائم کو اور زیادہ تقویت ملتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ قانون ایسے مجرموں کو عبرت ناک سزا دینے میں اب تک مکمل طور سے ناکام ہو چکاہے ۔ اگر ا س حوالے سے گزشتہ تین دائیوں پر محیط تاریخ کو ضمیر کی آنکھ کھولے دیکھا جائے تو قانون نے ایسے سنگین جرائم میں ملوثین کا بال بھی بیکا نہ کیا ۔ اس سلسلے میں صرف قرآن مجید کی مقرر کردہ سزا ہی جرائم کا سدباب کر نے کے لئے موزون ہے ۔ ایسے شرم ناک جرائم کے تعلق سے قرآن کا فرمان ہے: 
’’زانیہ عورت اور زانیہ مرد ،دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارواو ران پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روز آخرپر ایمان رکھتے ہواور اُن کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے‘‘۔(النور:۲)
اگر یہی قانون برو ئے کار لا کر ہوس کے پجاریوں،کنن پوشپورہ میں درجنوں ماؤں بہنوں کی عصمتوں پر ڈاکہ ڈالنے والوں ،آسیہ اور نیلوفرکی عزت کو تار تار کرنے والوں،رسانہ کٹھوعہ کی آصفہ جیسی ہزاروں بیٹیوں اوربہنوں کی عزت ریزی کر نے والوں کو کڑی سزائیں دی جاتیں تو آج ہمیں روز ایسی دلخراش خبریں سننے یا سہنے کو نہیں ملتیں ۔ ہماراحال یہ ہے کہ ایسے دردناک واقعات پر جذباتی ہو کر ہم وقتی ردعمل دکھا کر خاموشی اور بے خبری کی لحاف اوڑھ کر اپنے معمولات میں ایسے مست ومگن ہو جاتے ہیں جیسے کچھ ہو اہی نہ ہو۔ ان الم ناک واقعات پر ہمارا وقتی شوروغل کرنا اگرچہ ہماری اجتماعی غیرت وحمیت کی ہی نشانی ہے مگر مانناپڑے گا کہ ہم نے اخلاقی اقدار اور اسلام کی تعلیمات سے جب اپنی نئی نسل کو نابلد رکھا ہوتو اصلاح کی پُر وائیاں کیسے چلیں گی؟ المیہ یہ کہ عوام اور حکام مل کر حقیقی اصلاحِ معاشرہ کا کام کر نے والوں کی حوصلہ شکنیاں کر نا اورا ن کی زندگیاں اجیرن بنا دینا اپنا وظیفہ ٔ حیات بناچکے ہیں ،ہم مسلکی اور گروہی بے ہودہ لڑائی جھگڑوں میں اُلجھے ہوئے ہیں، ہم اپنے پیروں تلے کھسکنے والی زمین پر توجہ دینے کی بجائے ہم مناظروں اور فتویٰ بازیوں میں لگے ہیں ۔ حد یہ کہ جرائم کے سدباب اور علاج ومعالجہ کے نام پر یہ مریضانہ نسخہ بھی اب اعلانیہ طور ہمارے گلے اُتارا جاتا ہے :’’بچوں کو سیکس ایجوکیشن دی جانی چاہیے،گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کی آگہی معصوم کے ذہنوں میں اُتار دی جانی چاہیے‘‘۔وا حسرتا…!
ہمارے سماج کا مایوس کن دوسرا پہلو یہ ہے کہ ناقابل بیان واقعات کے بارے میں سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پر بیٹھے ’’جانباز ‘‘ بغیر حقائق جانیں اناپ شناپ بکنے کی  بکتے رہتے ہیں۔ زیر قلم واقعہ کے سلسلے میں چند سرپھروں نے ترنگ میں آکر مبینہ طور زیادتی کی شکار تین سالہ بچی کے بدلے فلسطین کی زخمی حالت میں ایک بچی کی تصویر کو سوشل میڈیا پر اتنی وائرل کر دیا کہ جذباتی ہیجان کے عالم میں لوگ سڑکوں پر واویلا کر نے پر مجبور ہوئے ،اسکولی طلبہ و طالبات نے توڑ پھوڑ شروع کر دی ، توڑ پھوڑ کا’’ مردانہ وار مقابلہ‘‘ کر نے میں وردی پوش اہل کار بھی عادتاً پیچھے کہاں رہتے ،انہوں نے احتجاجی مظاہروں کے دوران کئی غیرت مند نوجوانوں کو پیلٹوں سے شدید زحمی کردیاکہ ایک متاثرہ شخص موت و حیات کی کشمکش میں کئی دن رہ کر آخر کار شفاخانے میں زندگی کی جنگ ہار بیٹھا ۔ پُر امن احتجاج کر نا ٹھیک تھا مگر کئی لوگوں نے آپا کھوکر مسافر گاڑیوں، ایمبولینسوں او ر نجی گاڑیوں پرسنگ باریاں کر کے کئی ایک بے قصور مسافروں اور راہ گیروں کو زخمی کر کے سیدھا ہسپتال پہنچوا دیا۔ ایک اور ستم ہمارے کچھ ’’ رپورٹروں‘‘ نے ڈھایا کہ اپنی اسٹوری میں فلمی انداز کا تجسس اور ڈراما ئیت بھر نے کے لئے صحافتی اُصولوں کو مدنظر رکھا اور نہ ہی شرافت وقانون کی پاسداری کی… گاندربل واقعے کے حوالے سے ایک جرنلسٹ صاحب نے رپورٹنگ کی آڑ میں متاثرہ لڑکی سے اس کا نام پتہ اور زیادتی کی ساری تفصیلات پوچھ کر عوام الناس تک حرفاً حرفاً پہنچا دی ۔یہ صاحب اس بارے میں تفصیلات کچھ ایسے دے رہا تھا جیسے مذکورہ رپورٹر عالمی سطح کا investigator ہو۔ زیادہ سے زیادہ اس کی یہ ذمہ داری نہ تھی ، حالانکہ قانوناً اوراخلاقاًجسمانی زیادتی کی حقیقی یا فرضی شکار کسی بہن یابیٹی کا نام ظاہر کرنا جُرم ہے ۔ یوں توآج کشمیر چٹ پٹا رپورٹر بننا کوئی بڑی بات نہیں اور ہر گلی اور ہرمحلے میں دوکان دار اور مزدور تک یوٹیوب چنلیں اور نیوز پورٹلزچلا رہے ہیں ،کوئی روک ٹوک نہیں کہ جس کے بس میں جو آئے وہی کرتا پھرے، چاہیے ایساکر تے ہوئے کسی کی کردارکشی ہو یا کسی کے نام پر بٹہ لگے۔صحافت ہے کیا چیز ؟زبان و قلم کا کس احتیاط سے استعمال کرنا ہے؟ ان حضرات کو ا س کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور نہ ہی انہیں ضمیر کی کسی محاسبے کا سامنا ہوتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا ( فیس بک اور یوٹیوب، وٹس اپ وغیرہ) پر ایسے ’’نامی گرامی رپورٹرس ‘‘کی بے ہودہ خبریں دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں جن میں وہ زبان و ادب کا ستیاناس ہی نہیں کر دیتے بلکہ حقائق کو توڑ مڑوڑ کر پیش کر نا ، لوگوں کی پگڑیاں اُچھالنا، عوام کو گمراہ کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں ،اگرچہ فیک نیوز پر قانونی قدغن لگائی گئی ہے ۔اس برقی یلغار کو روکنے کے لیے ہمارے یہاں کی مستند صحافتی برادری کو کارگر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نقلی اور اصلی صحافت خلط ملط نہ ہواور عوام کے سامنے اصل حقائق صحیح معنوں میں پوری سنجیدگی اور متانت و وقار کے پہنچ سکیں ۔سما جی رابطہ کی ویب گاہوں پر بیٹھے نوجوانوں کو حدود میں رہ کر کسی واقعہ پر اپنی رائے دینی چاہیے ، خاص کر کسی اشتعال انگیزی سے دامن بچاکر ایسا مثبت کردار کر نا چاہیے کہ جرم کی حوصلہ شکنی ہو ، اصلی مجرم اپنے کئے کی سزا پائے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہر حال میںبرقرار رہے۔ بہر حال جوکوئی ماں بہن بیٹی کسی بھی نوع کی زیادتی یا دست درازی کی شکار بنا ئی جائے، اگر از روئے قانون ملزم کے خلاف علد لیہ میں جرم وگناہ ثابت ہوتا ہے تو بحیثیت مسلمان ہمارا یہ مطالبہ ہونا چاہیے کہ ایسے درندہ صفت شیطان کو وہ دردناک سزا دی جانی چاہیے کہ جس سے دوسرے لوگوں کے دل کانپ اٹھیں اور آئندہ کوئی صنفِ نازک کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جسارت نہ کر ے اورا س پیر واری ٔ کا تقدس وتشخص برقرار رہے ۔
رابطہ ghazisuhail09@gmail.com