پانی کی نکاسی نظام۔۔۔۔۔ بہتر بنانے کی ضرورت

27 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
 پچھلے کئی روز سے جاری بارشوں سے جہاں فصلوں کو نقصان پہنچاہے وہیں ایک بارپھر نکاسی کے نظام کی قلعی کھل گئی ہے ۔ریاست کے تمام بڑے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں پانی کی نکاسی کا بہتر نظام نہ ہونے کی وجہ سے کئی جگہوں پر بارش کا پانی سڑکوں سے بہتے ہوئے دکانوں کے اندر چلا جاتاہے تو کہیں مکانات کی دیواروں میں گھُس جاتا ہےجبکہ کچھ جگہوں پر تو سڑکیں کئی کئی دن تک زیر آب رہتی ہیں۔اگرچہ موسم برسات کے دوران یہ صورتحال انتہائی سنگین بن جاتی ہے تاہم حالیہ بارشوں کے دوران بھی یہ دیکھاگیاہے کہ بارش کا پانی ،خاص کر پہاڑی علاقوں میں،سڑکوں پر بہتے ہوئے سیدھا دکانوں کے اندر داخل ہوگیا جس پر دکاندارسیخ پا ہیں ۔ گزشتہ دنوں پونچھ کے مینڈھر بازار میں پانی دکانوں کے اندر داخل ہونے سے دکانداروں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑااور انہوں نے انتظامیہ کوانتباہ دیاہے کہ اگر نکاسی آب کے نظام میں بہتری نہ لائی گئی تو وہ احتجاج کاراستہ اختیار کریں گے ۔ اسی طرح سے راجوری کے کوٹرنکہ سب ڈیویژن میں بھی نالیاں بند ہونے کی وجہ سے پانی دکانوں میں چلا گیا اور سڑکو ں پر جمع ہوگیا ۔پانی کی نکاسی کے حوالے سے دیگر کئی قصبوں سے بھی ایسی ہی اطلاعات آرہی  ہیں ۔یہ بات بدقسمتی کا باعث ہے کہ کئی قصبوں میں پانی کی نکاسی کا نظام یا تو ہے ہی نہیں یاپھر اس میں کئی طرح کی خرابیاں پائی جاتی ہیں ۔کئی قصبوں میں تعمیراتی سرگرمیاں اس بے ڈھنگے طریقہ سے انجام دی گئی ہیں کہ کاروبار ی مراکز اور رہائشی مکانات تعمیر کرتے وقت کسی نے نکاسی ٔ آب کی فکر ہی نہیں کی اوراسی کا نتیجہ ہے کہ آج مشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے ۔جاریہ موسم میں حالانکہ اتنی زیادہ تیز بارشیں نہیں ہوئیں لیکن اس کے باوجود نکاسی کے نظام کی خرابیاں سامنے آگئی ہیں جس سے یہ قیاس لگانا آسان ہوجاتاہے  کہ آئندہ موسم برسات کے دوران لوگوں کو کس قدر مشکلات درپیش ہوں گی ۔ برسات کے موسم میں ہر سال ہی سیلابی صورتحال پیدا ہونے اور سڑکیں زیر آب آجانے سے مسائل کاسامنا رہتاہے اور ہر بار انتظامیہ و متعلقہ حکام کی طرف سے یہ یقین دہانیاں کرائی جاتی ہیں کہ نکاسی کے نظام میں بہتری لائی جائے گی اور ساتھ ہی انسداد سیلاب کی خاطر بھی اقدامات کئے جائیں گے مگر شومئی قسمت کے صورتحال جوں کی توں ہے اور شہر وں و قصبوں میں پانی کی نکاسی کے نظام میں کوئی خاص سدھار نہیں آیا ۔اگرچہ جموں اور سرینگر میں کچھ مقاما ت پر نکاسی کیلئے بندوبست کئے گئے ہیں تاہم اضلاع اور تحصیل کی سطح پرابھی بہت کچھ کیاجانا باقی ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو بڑے پیمانے پر اقداما ت کرناہوں گے تب جاکر صورتحال میںبہتری آسکتی ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پانی کی نکاسی کے خراب نظام کیلئے جہاں متعلقہ حکام ،جنہوں نے وقت پر اس سلسلے میں کوئی اقدام کرنے کی زحمت گوارہ نہ کی ،ذمہ دار ہیں،وہیں ان لوگوں کو بھی بری الذمہ نہیں قرار دیاجاسکتا جو گندگی کو نالیوں میں پھینک دیتے ہیں جس سے یہ نالیاں بند ہوجاتی ہیں اور پھر بارشوں میں پانی ان میں بہنے کے بجائے سڑکوں پر آجاتاہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ پرانے نظام پر مزید تکیہ نہ کیاجائے اورپانی کی نکاسی کے نظام میں بہتری لانے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں ۔
 

تازہ ترین