تازہ ترین

مودی سرکار کے اگلے پانچ سال

تاریخ کیا کیا دیکھے گی ؟

27 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

آصف شاہد
’’ ایک  مخصوص گروپ کچھ بھی کرنے کے لیے سیکولرازم کا ٹیگ استعمال کرتا رہا، لیکن اب کوئی بھی سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ کر ملک کو دھوکا دینے کی ہمت نہیں کرے گا۔‘‘یہ الفاظ ہیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ہیں جو مابعد آزادی کی تاریخِ ہند میں کانگریسی وزرائے اعظم جواہر لال نہرواور اندراگاندھی کے بعد مسلسل دوسری بار الیکشن جیتنے والے سربراہِ حکومت ہیں۔وزیراعظم مودی نے گزشتہ دنوں انتخابی فتح کا جشن منانے کے لیے منعقد کی گئی ایک تقریب میں اپنے مداحوں سے خطاب کرتے ہوئے مستقبل کی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں پر اشارے دئے۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں نے صرف ’’بھارت ماتا کی جے‘ ‘کے نعرے کا جذبہ لے کر انتخابی مہم چلائی۔ دنیا کو چاہیے کہ اب وہ بھارت کو سپر پاؤر تسلیم کرلے۔ہزاروں کارکنوں کے نعروں میں مودی کی فتح کی تقریر میں بھارت اور جنوبی ایشیا کے لیے کئی پیغامات چھپے ہیں۔ مودی کی طرز سیاست پر جو لوگ نظر رکھے  ہوئے ہیں ، ان کے لیے نہ یہ پیغامات نئے ہیں اور نہ انہیں سمجھنے میں کوئی دقت پیش آئی۔بھارتی وزیراعظم کا دوسری مدت کے لیے منتخب ہونے کے بعد پہلی تقریر میں سیکولرازم کو نشانہ بنانا درحقیقت ملک کی سیاسی شناخت بدلنے کا اعلان ہے۔ لوک سبھا الیکشن کا محور اس بار عام آدمی کے مسائل نہیں بلکہ بھارت کی شناخت تھی اور بھارتی ووٹروں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ووٹ دے کر بھارت کی شناخت پر فیصلہ دے دیا ہے۔بی جے پی نے الیکشن مہم کے دوران اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کو مسلم اکثریتی ریاست سے الیکشن لڑنے پر طعنے دئے، انہیں ہندو مخالف کہا گیا۔ بی جے پی کا سب سے بڑا الیکشن ایشو قومی سلامتی تھا۔ الیکشن سے چند ہفتے پہلے بالاکوٹ فضائی حملے کے سوچے سمجھے منصوبے نے مودی کی فتح میں بڑا کردار ادا کیا۔ بی جے پی کے انتخابی منشور میں جموں و کشمیر کی جداگانہ حیثیت ختم کرنے کا بھی وعدہ کیا گیا۔آر ایس ایس اور دیگر احیا پسند ہندو جماعتوں نے الیکشن سے پہلے رام مندر اور بابری مسجد تنازعہ پر بی جے پی کو ٹف ٹائم کی دھمکیاں دیں لیکن پھر بی جے پی کی طرف سے درپردہ پیغام رسانی کے بعد انتہا پسند تنظیموں نے اپنی مہم الیکشن نتائج تک روکنے کا اعلان کیا۔بی جے پی نے انتہا پسند دھڑوں کو خوش کرنے اور اقلیتوں کو واضح پیغام دینے کے لیے دہشت گردی کے مقدمات میں ضمانت پر رہا ہونے والی سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو بھوپال سے کانگریسی رہنما دگ وجے سنگھ کے مقابل امیدوار بنایا۔یہ اقدام اس حوالے سے انتہائی اہم ہے کہ یہ دگ وجے سنگھ ہی تھے جنہوں نے دھارمک دہشت گردی پر ڈاکٹر منموہن حکومت میں کھل کر بات کی تھی اور پہلی بار ہندو’’ دہشت گرد‘‘ کی اصطلاح سامنے آئی تھی۔ پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو دگ وجے سنگھ کے مقابل لانے پر مودی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں صاف کہا کہ یہ’’ ہندو دہشت گردی‘‘ کی اصطلاح سامنے لانے والوں کے لیے پیغام ہے۔یہ وہی پرگیہ سنگھ ٹھاکر ہیں جنہوں نے انتخابی مہم کے دوران گاندھی جی کے قاتل نتھو رام گوڈسے پر بحث چھیڑدی اور اس کو ہیرو قرار دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گوڈسے آر ایس ایس کا پرچارک ہونے کے باوجود آج تک بھارت میں قاتل ہی قرار دیا گیا لیکن مودی نے پہلی مدت اقتدار میں یہ قضیہ بھی تمام کردیااور شاید عوام نے کسی حد تک ان کا ساتھ بھی دیا کیونکہ پرگیہ سنگھ 8 لاکھ سے زائد ووٹ لے کر انتخابات میں کامیابی حاصل کرچکی ہیں۔بی جے پی کے مدمقابل اپوزیشن کی بڑی جماعت کانگریس اور اس کی قیادت میں قائم اتحاد کو نریندر مودی نے اپنی وکٹ پر کھیلنے پر مجبور کردیا۔ کانگریس نے بےروزگاری، کسانوں کی خودکشیوں، نوٹ بندی سمیت اہم معاشی مسائل پر حکومتی کارکردگی پر زیادہ سوالات نہیں اُٹھائے بلکہ غیر محسوس طریقے سے ملک کی دوسری بڑی اپوزیشن جماعت مودی کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس گئی اور قومی سلامتی اور ہندوتوا کے معاملے پر مودی کو ٹف ٹائم دینے کی کوشش میں بُری طرح مات کھا گئی۔حالانکہ قومی سلامتی کے ایشو پر کانگریس نے کئی دُرست سوالات اٹھائے۔ بالاکوٹ حملے کی ٹائمنگ اور اس کے نتائج پر بھی جو سوالات اٹھائے گئے وہ بالکل ٹھیک تھے لیکن بھارت  بھرمیں بی جے پی نے حالات کچھ ایسے جذباتی بنادئے تھے کہ الیکشن کے موسم میں یہ سوالات کانگریس کی حب الوطنی پر مودی کےالزامات کو مضبوط کرتے چلے گئے۔ہندوتوا پر کانگریس کا سخت موقف نوجوان اور جذباتی ہندو ووٹروں کو ان سے دُور لے گیا۔ مودی نے راہول کو’’ ہندو دشمن اور مسلم دوست‘‘ کہا تو راہول ان الزامات پر دفاعی پوزیشن میں چلے گئے۔ راہول نے الزامات دھونے کے لیے مندروں کی یاترا اور پوجا پاٹھ شروع کر کے سافٹ ہندوتومکھوٹا لگایا اور اس طرح ’’خدا ہی ملا نہ وصال صنم‘‘ کے مصداق راہول سیکولر ووٹر کو بھی مودی کی جھولی میں ڈال گئے۔
مودی کی تقریر میں راہول اور سیکولرازم کو نشانہ بنانا واضح کرتا ہے کہ بھارت کی سیکولر شناخت ختم کرکے اگلے 5 سال ملک کو ہندو راشٹر میں ڈھالنے کا کام بڑے زوروشور سے کیا جائے گا۔ مودی اس کی بنیاد پہلے دور میں رکھ چکے ہیں۔ کاشی وشوا ناتھ مندر کے لیے کوریڈور کی تعمیر شروع ہوچکی ہے۔ اس مندر کے ساتھ کھڑی مسجد کو بھی بابری مسجد جیسے خطرات کا سامنا ہے۔ کوریڈور کی تعمیر کے دوران مسجد کے باہر بنے چبوترے کو گرا کر مسلمانوں کی مزاحمت کو جانچ لیا گیا ہے۔گنگا کی صفائی بھی ماحولیاتی منصوبے سے زیادہ ایک مذہبی معاملہ ہے۔ رام مندر بابری مسجد تنازعہ مودی کے اگلے 5 سال کا اہم ترین ایجنڈا ہے جو سپریم کورٹ میں ہونے کی وجہ سے پچھلے 5 برسوں میں نمٹایا نہ جاسکا۔بھارت کی مسلم کمیونٹی کا بڑا ووٹ بنک اس الیکشن میں خاموشی کے ساتھ بی جے پی کو ووٹ دے کر گھروں میں دبک گیا ہے۔ عام مسلمان اگلے 5 برسوں میں مزید سماجی تنہائی اور معاشی مشکلات کے عذاب سے ڈرے ہوئے ہیں۔ بابری مسجد کیس میں ایک مدعی حاجی محبوب احمد خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ انہیں مسجد کے مقام پر مندر بنانے پر اب عتراض نہیں ہوگا بس مسلمانوں کو سکون سے جینے دیا جائے۔
 وزیراعظم مودی کا دنیا کو یہ کہنا کہ اب بھارت کو سپر پاور تسلیم کیا جانا چاہئے، ان کی خارجہ پالیسی کا عکاس ہے۔ سپر پاور کہلوانے کے مدعی نریندر مودی قومی سلامتی کے ایشو پر الیکشن جیت کر آئے ہیں۔ انہوں نے پہلا الیکشن بھی قومی سلامتی کے ایشو پر لڑا اور اس وقت کے مرنجاں مرنج وزیراعظم منموہن سنگھ کو کھلے عام یہ طعنہ دیتے رہے کہ پاکستان کا مقابلہ کرنے کے لیے چھپن انچ کا چوڑا سینہ چاہئے۔
ان کے متعلق کچھ مبصرین اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ دوسری مدت میں مودی جی پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالیں گے اور مسائل کے حل کی طرف بڑھیں گے۔ 2014ء کی نسبت زیادہ بڑا منڈیٹ لے کر آنے والے مودی کانگریس کو قیامِ پاکستان کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، اُن سے نئے اُبھرتے سیاسی منظر نامے میںایسی اُمیدیں وابستہ کرنا دیوانے کے خواب کے سوا کچھ نہیں۔بھاری منڈیٹ کے  بل پر پرائم منسٹر مودی اب کسی سیانے کے مشورے پر کان نہیں دھریں گے اور خطے میں بھارت کی بالادستی میں اضافہ ہوگا۔ہندوتوا دراصل ہندو بالادستی کا ہی نظریہ ہے۔ اگر مودی بالادستی کے فلسفے سے ہٹنے کی کوشش بھی کریں گے تو آر ایس ایس کے بڑے انہیں اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ نومنتخبہ وزیراعظم کے بارے میں سب لوگ جانتے ہیں کہ جموں و کشمیر کی جداگانہ آئینی حیثیت ختم کرنا بی جے پی کے منشور کا حصہ ہے۔ آرٹیکل A)35) اور آرٹیکل 370اب تک ریاست کی آبادیاتی ساخت بدلنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس بار مودی کا بھاری منڈیٹ انہیں آئین میں ترمیم کا حوصلہ بھی دے گا اور ترمیم کی ترغیب بھی دے گا۔
نریندر مودی کی فتح اکثریتی حب الوطنی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے جو اقلیتوں کے لیے آنے والے دنوں میں مزید تشدد اور مشکلات کو جنم دے گی۔ اس انتخابی فتح کو بھارت کے نسلی جمہوریت میں ڈھلنے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ نسلی جمہوریت کا تصور اسرائیل کے پولیٹکل سائنٹسٹ سیمی سمووا نے 2002ء میں پیش کیا۔ نسلی جمہوریت، نسلی پہچان اور یورپ سے درآمد شدہ پارلیمانی نظام کا امتزاج ہے۔ نسلی جمہوریت میں اکثریت کے باوجود ایک قوم کو بقا کا خطرہ دکھا کر اکٹھا کیا جاتا ہے اور اقلیتوں کے حقوق پر پابندیاں لگ جاتی ہیں۔آزادی کے بعد بھارت کے اولین رہنماؤں نے ملک کو متحد رکھنے کے لیے سیکولرازم یا گنگا جمنی تہذیب کا سہارا لیا، اگرچہ بھارت میں سیکولرازم کی دعویدار کانگریس کے ادوار میں بھی اقلیتوں کے قتل عام کے واقعات ہوئے اور انہیں زندگی کے مختلف شعبوں میں پسماندہ رکھنے میں کوئی کسرنہ چھوڑی گئی لیکن پھر بھی بہ حیثیت مجموعی بھارت اپنے چہرے پر پڑا سیکولرازم کا نقاب بچانے میں کافی حدتک کامیاب ہوتا رہا۔ نریندر مودی کے اگلے 5 سال میں یہ نقاب مکمل سرکتی ہے یا نہیں؟ یہ جاننے کے لیے اگلے 5 سال کی تاریخ خود اپنا فیصلہ سنا دے گی۔ خدشہ یہ ظاہر کیا جارہاہے کہ پا ک بھارت آبی تنازعہ نریندر مودی کی دوسری مدت اقتدار میں مزید شدت پکڑے گا اور دوطرفہ اختلافات و رقابت کی خلیج اور بڑھا دے گا۔ نریندر مودی پہلی مدت میں دریاؤں کو لنک کرنے سے متعلق 90 ارب ڈالر مالیت کا ایک منصوبہ شروع کرچکے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ مودی سرکار کے سابق وزیر برائے آبی وسائل نتن گڈکڑی کئی بار پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔ الیکشن مہم کے دوران نتن گڈکڑی نے 3 دریاؤں کا پانی بھارت کے استعمال میں لانے کے لیے اسٹیڈی شروع کیے جانے بھی انکشاف کیا۔انتخابات سے پہلے فروری کے تیسرے ہفتے میں نتن گڈکڑی کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنے کے لیے اسٹیڈی شروع کرنے کا انکشاف مودی کی اسلام آباد کے تئیں ممکنہ پالیسی کو واضح کرتا ہے۔ بھارت سندھ طاس معاہدے کو اگر یک طرفہ ختم کرنے کا اعلان نہ بھی کرے تو وہ کمیشن کے اجلاس بلانا بند کرسکتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ پانی کا ڈیٹا شئیر کرنا بند کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کو اچانک سیلاب جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔پاکستان پانی کی کمی کے شکار ملکوں میں سے ایک ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان کو 2025ء تک 31 ملین ایکڑ فٹ پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے زیر زمین پانی کے ذخائر بھی تیزی سے ختم ہو رہے ہیں جب کہ تربیلا اور منگلا ڈیم میں پانی کے ذخیرے کی گنجائش بھی کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ان حالات میں اگر بھارت دریاؤں کا رخ موڑنے یا پاکستان کے حصے کا پانی استعمال کرنے کے منصوبوں پر عمل کرتا ہے تو پاکستان قحط سالی کا شکار ہوسکتا ہے۔جموں و کشمیر کے تنازعہ کی شدت بھی پانی کی وجہ سے ہے۔ جہلم اور چناب پاکستان میں کشمیر کے راستے سے آتے ہیں، اور پانی مثلِ کشمیر پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔آنے والے عشروں میں بھارت، نیپال، بھوٹان اور پاکستان میں 400 ڈیم زیر تکمیل ہیں۔ چین کے تبت بارڈر پر اس کے علاوہ مزید ڈیم بھی بن سکتے ہیں۔ اگر ڈیموں کے یہ تمام منصوبے مکمل ہوجاتے ہیں تو یہ خطہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ڈیموں والا خطہ بن جائے گا۔ ان ڈیموں کی تعمیر سے خطے میں بین الاقوامی کشیدگی اور جیوپولیٹکل خطرات بھی بڑھ جائیں گے۔ بھارت، چین، پاکستان اور بنگلہ دیش دریاؤں کے پانی پر بڑے تنازعات کا شکار ہوں گے۔ پانی کے یہ تنازعات جنگوں میں بدل سکتے ہیں اور پورے خطے کو خطرے میں جھونک سکتے ہیں۔ 