تازہ ترین

۔300کنال ارضی پراٹلی اور نیدر لینڈسے حاصل کئے گے پودے اُگانے کا کام جاری

میوہ صنعت کے فروغ کیلئے سائنسی طریقہ کار متعارف ، موسم اوربیماریوں کی پیشگی اطلاع ملے گی

26 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر //ریاست میں میوہ صنعت کے فروغ اور کسانوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کے تدارک کیلئے سرکار نے جہاں کروڑوں روپے کی لاگت سے اخروٹ کی نرسری اور مغربی ممالک سمیت بیرون ممالک سے لائے جانے والے چھوٹے پودے جنہیں روٹ سٹاک یا سیڈ لینگ کہا جاتا ہے، کو اگانے کیلئے زہورہ کھنمو میں 600کنال اراضی حاصل کی ہے، وہیںموسم کی پیشگی جانکاری اور دوائیوں و مٹی کی جانچ کیلئے جدید سائنسی طریقہ کار اپنانے کے اقدامات بھی کرنے شروع کردیئے ہیں ۔سرینگر سے 12کلو میٹر کی دوری پر واقع زہورہ کھنمو میں سنٹر آف ایکسلنس کے تحت جو 600کنال اراضی خریدی گئی ہے ،اُس میں سے 300کنال اراضی پر اعلیٰ درجہ کے سیب ، بادام ، خوبانی ، گلاس ، آلوبخارہ کے علاوہ دیگر اقسام کے چھوٹے پودے (روٹ سٹاک) بیرون ممالک سے حاصل کر کے یہاں بوئے گئے ہیں تاکہ مستقبل میں اعلیٰ اقسام کے میوہ لوگوں تک پہنچ سکیں ۔محکمہ کے مطابق ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ وادی میں اعلیٰ معیار کے بیچ اُگائے جا رہے ہیں اور اُس کیلئے پہلے سے ہی اریگیشن ، گرین ہائوس اور دیگر انتظامات کئے گئے جبکہ ایسی سائنسی تکنیک کا استعمال کیا جا رہا ہے جس سے پھلدار درختوں اور پھلوں کو لگنے والی ممکنہ بیماریوں کے بارے میں پیشگی پتہ چل جائے گاجبکہ کسانوں کو موسمی حالات کے بارے میں بھی بروقت آگاہی دی جائے گی اور ایسا سب بیرون ممالک کی نئی ٹیکنالوجی کو دیکھتے ہوئے ہو رہا ہے ۔محکمہ میں موجود ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ باغبانی محکمہ نے گلاس میں اعلیٰ درجے کے چھوٹے پودے (روٹ سٹاک)یہاں لگائے ہیں جس میں کرینہ( Karina)کروڈیہ Kordia))اور ریجینا شامل ہیں اور ان کو نیدرلینڈ سے حاصل کیا گیا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ بیرون ملک اٹلی سے آڑو کے 2اقسام کے  (روٹ سٹاک)لائے گئے ہیں جن میں سوزی 660اور سوزی 669شامل ہیں ۔اسی طرح اٹلی سے آلو بخارہ PLUM) ( (روٹ سٹاک) کی 2 اقسام بھی وادی لا کر ان کو یہاں اُگایا گیا ہے جن میں ہرومی ریڈ اور روبی کرنچ شامل ہیں ۔اٹلی سے ہی خوبانی کے دو اقسام کے جس میں Mayacotاور لونا فل شامل ہیں، لائے گئے ہیں ۔محکمہ باغبانی کے ذرائع نے بتایا کہ ناشپاتی کے دو اقسام جن میں سنترہ میریا اور کنفرنس شامل ہیں، کو یہاں لایا گیا ہے اور اُس کو بھی یہاں پر اُگایا گیا ہے ۔بیرون ممالک نیدر لینڈ سے اس مرتبہ چار اقسام کے چھوٹے پودے (روٹ سٹاک) لائے گئے ہیں جن میں کنگ روٹ ، جورومائن ، Devilgalاور گولڈن ڈلیشس روٹ سٹاک ایم 9شامل ہیں اور محکمہ کو اُمید ہے کہ مستقبل میں اس سے لوگوں کو کافی فائدہ پہنچے گا ۔اسی طرح سیب کی درمیانہ درجہ کی دو اقسام جن میں سپر چف ،سکیر لیٹ شامل ہیں ،کو بھی اگایاجارہاہے۔محکمہ کے ڈائریکٹر اعجاز احمد بٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بیچ لگانے کا کام 80فیصد مکمل کر لیا گیا ہے اور باقی کام تیزی سے جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگلے 6ماہ میں یہ کام مکمل کر لیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ سنٹر آف ایکسلنس  کے تحت موسم کے بارے میں لوگوں کو پہلے سے ہی آگاہی ہوگی اور انہیں یہ بتایا جا سکے گا کہ آگے موسم کیسا رہے گا ،نمی کس طرح کی ہو گی اور کس طرح کی بیماری پھیلنے کا خطرہ ہو گا اور اُس کیلئے کس طرح کی تیاریاں کرنی ہیں ۔مٹی کی جانچ اور دوائیوں کی جانچ کیلئے لیبارٹریاں دستیاب رہیں گی اور کسانوں کی ضروری تربیت کا اہتمام بھی ہوگا ۔انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ممالک سے خریدے گئے اُن (روٹ سٹاک) میں پیداواری صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور ان کا حجم بھی زیادہ بڑاہوتاہے ۔موصوف نے بتایاکہ وہ لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کھیتوں میں خشخاس اور دیگر غیر قانونی فصلیں اگانے کے بجائے اعلیٰ درجے کے پھلوں کو اگائیں جس کیلئے محکمہ کی طرف سے انہیں نہ صرف سبسڈی دی جائے گی بلکہ بنیادی ڈھانچہ سمیت دیگر امداد بھی فراہم ہوگی ۔