تازہ ترین

سفید کبوتر

افسانہ

25 مئی 2019 (14 : 10 PM)   
(      )

ڈاکٹر ریاض توحیدی
وہ اسپتال سے چیک اپ کروانے کے بعد گھر لوٹ رہا تھا۔ راجدھانی چوک کے قریب غیر متوقع ٹریفک جام  سے آمدو رفت کا سلسلہ درہم برہم ہوچکاتھا۔گاڑیوں کے کالے دھوئیں کی زہر آلود ہ فضاسے ماحول دھند زدہ ہوگیا تھا۔افراتفری کے عالم میں لوگوں کا گاڑیوں سے اترنا چڑھنا جاری تھا۔پْرانتشار کیفیت میں حساس طبیعت لوگوں نے دھندلے ماحول کی انفکشن سے احتیاط برتنے کے لئے منہ پر ماسک لگارکھے تھے۔نصف النہار کی شدید گرمی سے بس میں سوارسبھی مسافرپسینے سے شرابور ہورہے تھے۔ انہیں اپنا آپ دہکتے تندور میں تڑپتے ہوئے کبوتر کی طرح محسوس ہورہا تھا۔اْس نے کھڑکی سے باہرکھڑے ایک پولیس والے سے دھیمی آواز میں پوچھا:  
’’بھائی صاحب!یہ جام کب ختم ہوگا؟‘‘ 
پولیس والا نزدیک آکر اْس کے حْلیے کو گھورتے ہوئے بڑی ناگواری سے پوچھ بیٹھا:   
’’کیا کہہ رہا ہے؟‘‘                                                                                                             
پولیس والے کے تیور دیکھ کر وہ اپنی بات دہرانے سے ڈر سا گیا۔
 ’’جناب ہم ٹریفک جام کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔‘‘پچھلی سیٹ سے سوامی جی کی آوازآئی۔
’’اپنی پچپن برس کی زندگی میںمیں نے اتناسخت جام نہیں دیکھا ہے۔‘‘ 
’’ہاں جی ہاں‘‘بغل میں بیٹھے سردار جی نے خان صاحب کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئےکہا۔’’چھوٹے چھوٹے جام تو ہوتے دیکھے ہیں لیکن اتنا بھیانک جام تو پہلی بار دیکھ رہا ہوں۔‘‘
’’وہ مسئلہ یہ ہے کہ راجدھانی کے تواریخی چوک میں پہلی بار ایک بڑا سیاسی جلسہ ہورہا ہے۔‘‘پولیس والااب نرم لہجہ اختیا ر کرتے ہوئے بول پڑا’’اس لئے صبح سے یہ جام لگا ہوا ہے۔‘‘ 
’’او وِیرا‘‘سردار جی تھوڑا ساجذباتی ہوکر بول پڑا۔’’دیش کے ان غم خواروں کو اپنی ہمدردی کی نمائش کے لئے کوئی اور جگہ نہیں ملی تھی جو تواریخی چوک پر قبضہ جماکرلوگوں کو عذاب میں ڈال دیا۔‘‘
پولیس والا ہاتھ میں ڈنڈا گھماتے ہوئے چپ چاپ اپنے قدم آگے بڑھانے لگا۔وہ دوبارہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔دھند میں اضافہ ہورہا تھا۔ پھیلتی دھند میں لپٹے سرسبز درختوں کی ٹہنیوں پر بیٹھے کبوتروں کی سانسیں اْکھڑ رہی تھیں اوروہ بکھرتے گھونسلوں کوکوؤں کی یلغار سے بچانے کے لئے اپنے پر پھڑ پھڑا رہے تھے۔ کبوتروں کی بدحواسی دیکھ کر وہ سرد آہ بھرتے ہوئے سوچنے لگا کہ دہائیوں سے ان کبوتروں کی روح زخمی ہورہی ہے ‘کب انہیں کوؤں کی یورش سے نجات ملے گی ۔
’’میرے دیش واسیو!‘‘خواب گر سیاست دان کی گرج دار آوازجلسہ گاہ سے بلند ہوئی۔’’ امن کی مٹھاس۔۔۔۔دیش کااتِہاس  ۔۔۔۔۔۔۔۔اتِہاس کے لئے نہ صرف سب کی برابری ضروری ہے بلکہ جنتا کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی تحفظ دینا لازمی ہے‘کیونکہ عدم تشدد ہماری پر مپراہے۔‘ ‘ 
عدم تشددکا نام سنتے ہی اْس کے کٹے بازو سے ایک برقی رو سی دوڑ کر سیدھے دل سے جا ٹکرائی۔دل سے اُٹھنے والی درد کی ٹیس نے دماغ میں ہلچل مچا دی۔
’’سب باہر نکلو‘‘ باہر سے دہشت ناک آواز آئی۔’’دروازہ کھولتے ہو کہ گھر کے ساتھ زندہ جلا دئے جاو گے۔‘‘  
دہشت ناک آواز سے سبھی لوگ نیند سے جاگ اْٹھے او ر خوف زدہ ہوکرمحسن خان کے کمرے میں جاکر سہم گئے۔ دہشت بھری آواز سے ان کے اوسان خطا ہورہے تھے۔محسن خان کا نوجوان بیٹااحسان خان دروازہ کھولنے کے لئے اْٹھ کھڑا ہوالیکن باپ اور دوسرے گھر والوں نے اسے روک لیا۔سبھی لوگ سہم کر یہ سوچنے سے قاصر نظر آرہے تھے کہ یہ سب کیا ہورہا ہے۔۔۔؟خوف کی ہوائیں ابھی صحن میں ہی سائیں سائیں کررہی تھیںکہ اچانکہ دہشت کے ناگ گھر کے اندربھی گھس کر رینگنے لگے۔ڈر کے مارے عورتوں اور بچوں کی چیخ وپکارشروع ہوگئی۔ خوف کا پھندا احسان خان کی گردن پر پڑتے ہی وحشت ناک آواز کمرے میںگونج اٹھی؛
’’اپنے تہوار پر حقوق حیوان کا خون کرکے ہمارے آدرشوں کا بھی خون کرتے ہو۔‘‘ 
یہ سن کراحسان خان کا بزرگ باپ روتے بلکتے دہشت کے سامنے ہاٹھ جوڑکر گڑگڑاتے ہوئے بول پڑا:
’’ہم پر رحم کھاؤ‘ ہم نے تہوار میںکسی کے آدرشوں کاخون نہیں کیاہے۔‘‘
آدرش کازہریلاترشول برق رفتاری سے بزرگ محسن خان کے پیٹ میں گْھس گیا اورپھول کو چمن سے جدا کردیا۔ احسان خان یہ وحشت ناک منظر دیکھ کر جونہی دہشت کے نرغے کو پھاند کر باپ کے پیٹ سے ترشول نکالنے لگا تو حقوق حیوان کی علمبردارتلوار نے انسانی ہاتھ کو بڑی بے رحمی سے کاٹ ڈالا اور ایک معصوم بیٹابے ہوش ہو کرمظلوم والدکی لاش پر گرپڑا۔دہشت کی آوازمخصوص اتِہاس کے نعرے لگاتے ہوئی اندھیرے میں گْم ہوگئی۔ 
’’تو بولو ‘امن کی مٹھاس۔۔۔دیش کا اتِہاس۔۔۔‘‘جلسہ گاہ سے لا ؤڈاسپیکر سے نعرے بلند ہوئے۔ 
’’سب بکواس‘‘سردار جی طیش میں آکر بول پڑا۔’’ہاتھی کے دانت کھانے کے اورد کھانے کے اور ۔‘‘ 
ہاتھی کے دانت …سن کراس نے بند آنکھیں کھولیں اور سردار جی کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا۔ جلسہ ختم ہوتے ہی گاڑیاں آہستہ آہستہ رفتار پکڑنے لگیں۔اپنی منزل پر پہنچ کر وہ گاڑی سے اتر کرگھر کی جانب بڑھ گیا۔گھر میں داخل ہوتے ہی بیوی پوچھ بیٹھی کہ اتنی دیر کیوں لگا دی‘ فون بھی نہیں ہورہا تھا۔سب ٹھیک تھانا؟ہاں وہ ٹریفک جام کی وجہ سے دیر ہوگئی۔اب جلدی بستر بچھاؤ میں تھک گیا ہوں اور چائے بھی اْدھر ہی لانا۔بیڈ پر لیٹ کر اْس نے ٹی .وی آن کیا۔نیشنل چینل پر نیوز چل رہی تھی۔نیوز کے دوران الیکشن ایڈ آیا؛
’’کل وقت پر الیکشن بوتھ پر پہنچ کرایک ذمہ دار شہری ہونے کاثبوت دیں اور اپنے قیمتی ووٹ کاصحیح استعمال کرکے دیش کے وکاس میں اپنا حصہ ادا کریں۔‘‘ 
ایڈ ختم ہوتے ہی اْس نے ٹی۔وی آف کردیا اور سوچنے لگا کہ کیاووٹ کا صحیح استعمال کرنے سے ہمیں دہشت سے نجات ملے گی۔۔۔۔۔؟کیا ہمارے احساسات کی گاڑی ٹریفک جام سے نکل پائے گئی ۔۔۔؟کیا کوؤں کی یلغار سے کبوتر وںکے آشیانے بچ پائیں گے ۔۔۔۔کیاراجدھانی چوک کی فضا ؤں میںپھر سے امن کی خوشبو پھیلے گی۔۔۔۔۔ ؟کیا ہم عدم تحفظ کی سائیکی سے نجات پاسکیں گے۔۔۔۔؟
 اس طرح کے کئی روح فرساسوالات اس کے ذہن میں آتے رہے اور وہ کھبی ہاں اور کبھی نا جیسی عجیب کشمکش میں پھنس کر سو گیا۔ صبح کا ناشتہ کرنے کے بعد سبھی گھروالے پولنگ بوتھ کی جانب نکل پڑے۔ماحول پر عجیب قسم کا سناٹاچھایا ہوا تھا۔راہ چلتے چلتے کئی جگہوں پر دہشت کے ترشول نظر آتے رہے۔ایک جگہ تو ان کے کانوں سے مخصوص اتِہاس کا ساتھ دینے کی آوازبھی ٹکرائی لیکن وہ سر جھکائے ہوئے پولنگ بوتھ کے باہر لگی قطار میں پہنچ گئے۔یہاں پر ماحول قدرے خوشگوار ہی تھا۔ووٹ ڈالنے کا کام ٹھیک طرح سے چل رہا تھا۔وہ اپنی باری پر جب پولنگ بوتھ میں داخل ہوا تو پولنگ آفیسر اسے نام پوچھ بیٹھا؛
’’سر…. میرا نام احسان خان ہے۔‘‘ 
’’اچھا ٹھیک ہے۔‘‘پولنگ آفیسر رجسٹر پر ٹک لگاتے ہوئے بول پڑا۔’’جاؤادھر پردے کے پیچھے آرام سے اپنا ووٹ ڈالو۔‘‘ جی شکریہ کہتے ہوئے وہ ای۔وی۔مشین کے قریب پہنچ گیا۔مشین پر لگے نشان کو دیکھتے ہی اس کی نظر کوئے اور سفیدکبوتر کے نشان پر ٹک گئی۔اسے کوے کی چونچ ترشول محسوس ہوا جو دھند میں پھنسے کبوتر پر حملہ کرنے کے لئے گھات لگائے بیٹھا ہے۔ترشول کی سائیکی سے دماغ میں خوف کے دھماکے ہونے لگے لیکن دل کے سکون نے دماغ کے خوف پر قابو پالیا۔کبوتروالے بٹن پرانگلی پڑتے ہی اْسے یوں محسوس ہو اکہ جیسے سفید کبوترکالی دھند سے آزاد ہوکرفضائے بسیط میں لمبی اڑان بھررہا ہے۔
���
 وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر،موبائل نمبر؛7006544358
Email:drreyaztawheedi777@yahoo.com