تازہ ترین

ہیرا پھیری سے پر ہیز!

بندگی کا نام ہے صدق وصفا

25 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

میربشیر احمد متولی۔۔۔۔ پنجورہ شوپیان کشمیر
 ماہِ رمضان المبارک رواں دواں ہے، یہ پُر عظمت و بابرکت مہینہ ہے جس میں مسلمان کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی ایک مخصوص آفاقی نظم و ضبط میں گزارنے کی تربیت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ نیک اور اچھی صفات بھی پیدا ہوجاتی ہیں۔ظاہر ہے کہ تاجر ، ملازم،مزدور، کاریگر،عالم ، دانش ور ،معلم ،مبلغ ،حکیم ، ڈاکٹر ،انجینئر ، ٹھیکیدار، صحافی و قلم کار غرض ہر شخص روز مرہ زندگی میں خداوند کریم کے قانون اور نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق اپناکام کا ج چلاتا ہے ۔ قرآن مجید کے سورۂ الرحمن کی ساتویں ،آٹھویں اور نویں آیا ت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اپنے کاروبارِ زندگی میں صحیح تولنے اور برابر ماپنے کی تاکید فرمائی ہے تاکہ حلال و حرام ،حق و ناحق میں ایک نمایاں فرق کیا جاسکے ۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں نظام ِ زندگی چلانے کے لئے باضابطہ طریقے پر ایک ایسا ترازو اور پیمانۂ عدل مقرر کر رکھا ہے جس سے سماج میں نہ صرف پاکیزہ ماحول قائم ہوگا بلکہ انصاف کا بول بالا بھی ہوگا اور ہرآدمی اپنے فرائض اور حقوق کی شاہراہ پر چلتارہے ،کسی کی حق تلفی نہ ہوگی ۔ انسان زندگی کے جس کسی شعبے سے منسلک ہو، اللہ تعالیٰ نے اُ سے جتنے احکامات دئے ہیں ان سب کا مقصد یہ ہے کہ انسان اچھی صفات سے آراستہ اور بُری صفات سے پاک ہوجائے۔اس لئے  تمام معاملوں میں اس کو ایک خاص دستور العمل اختیا ر کرنے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ اُس کے لئے دنیا کی فانی و مختصر زندگی اور آخرت کی دائمی ولافانی زندگی (جہاں ہر انسان کے لئے جزا و سزا کا فیصلہ ہوگا) نجات یافتہ ہو ۔ ا س لئے ہر انسان کے دل میں ہر وقت خوفِ خدا رہنا چاہئے اور تمام معاملات میںانصاف کے ترازو اور پیمانے سے ہی تولنا اور ماپنا ہوگا ۔لہٰذا انسان پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اپنے ہر لمحے میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا۔ اس میزان میں ذرہ برابر اونچ نیچ یا کمی بیشی کی کوئی گنجائش نہیںتا کہ بے انصافی اور حق تلفی سرزد نہ ہوجائے ۔اللہ تعالیٰ کا ناطق فرمان ہے کہ اگر تم اس ترازو ،پیمانے یا میٹر میں کسی قسم کی ہیرا پھیری یا دھوکہ دہی کی کوشش کروگے تو اس سے قیامت کے روز میزانِ عدل میں تمہارے عمل میںلازمی طور نقصان ہوگا اور اس کے بدلے عبرت ناک سزا کا فیصلہ ہوگا ۔ حدیث شریف میں آیاہے کہ اناج یا اور کسی چیز کی خرید و فروخت کرتے وقت ہر حالت میں تولنے اور ماپنے کا صحیح طریقہ اختیار کیا جائے، اس سے آپ کو برکت نصیب ہوگی ۔ایک اور حدیث مبارکہ میں حکم ہے کہ ضروریات زندگی کی خرید و فروخت کرتے وقت پورا پورا اور صحیح صحیح تولنا ماپنا مسنون ہے تاکہ خریدنے ولا اور بیچنے والا دونوں ڈنڈی ماری سے محفوظ رہ سکیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جوتا جر یا دوکاندار کوئی چیز بیچتے وقت اس کا عیب یا نقص چھپا کے رکھے وہ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑا مجرم قرار دیا جائے گا اور مستحق ِسزا و قصوروار ہوکر اس کی سزا پائے گا ۔اگر ہیرا پھیری کر نے والا روزہ دار ہو تو اس کے روزے بالکل فاسد اور فضول ہیں ۔ اسلام غیر رمضان میں بھی مکروفریب ،دغا بازی اور چاپلوسی سے روزی کمانے کی قطعی اجازت نہیں دیتا ۔اگر اعمال یعنی کردار ٹھیک ہو تو سب کچھ ٹھیک ،اگر عمل اور کردار ٹھیک نہیں تو ساری عبادات لاحاصل ۔ حضرت علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں   ؎
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی 
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے 
یعنی انسان فطری یا طبعی طور نہ جنتی ہے نہ دوزخی ،یہ نہ اچھا ہے نہ بُرا ،نہ لائق تعریف ہے نہ قابلِ مذمت بلکہ یہ ایک م شت خاک کے سوا کچھ نہیں ،ہاں یہ اس کا عمل وفعل یا کردار ہے جو ایک فرد بشر کواس لائق بناتا ہے کہ عالم عقبیٰ میں اس کے اچھے نتائج کا پھل کاٹا جائے گا    ؎
از مکافات عمل غافل مشو 
گندم از گندم بروید جو بجو 
یعنی جو آج اس عارضی زندگی میں بوئو گے وہی کل وہاں کی دائمی زندگی میں کاٹو گے ۔آج کل ہمارے سماج کو متعدد موذی بیماریوں نے اپنی لپیٹ میں لیا ہے ، سارانظام رشوت ستانی ،بدعنوانی ،بد دیانتی ،گراں فروشی ،ملاوٹ ، دغابازی ،اخلاقی بے راہ روی ،بے حیائی ،بے انصافی بالخصوص ماپ تول میں کمی ، گھپلا بازی سے آلودہ ہوچکا ہے ۔ا س وجہ سے یہاں کا نظام زندگی مکروہ ہوچکا ہے ۔اسلام کا اصولی موقف ہے کہ بشریت کے تحت اگرعبادات میں تھوڑی بہت کوتاہی ہوجائے تو خدائے کریم ورحیم اس کی تلافی توبہ سے کرسکتا ہے لیکن بد معاملگی اور حقوق العباد کو تلف کرنے کی تلافی توبہ واستغفار سے ممکن ہی نہیں ہے۔ اس لئے ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور مذکورہ طوفان بد تمیزی کے خلاف کمر بستہ ہونے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ایک تو ہمارے روزوں کا ٹھوس مقصد پورا ہوجائے اور دوسر ے ایک صالح اور پاکیزہ معاشرے کے قیام کا آغاز ہوسکے ۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ کے شر سے لوگ محفوظ اور مامون رہیں یعنی کوئی جھوٹ نہ بولے ، کوئی کسی کی حق تلفی نہ کرے ،تاجر ذخیرہ اندوزی سے باز رہے ، عالم یا مبلغ اپنے علم کا بے باکا نہ او رجائز استعمال کرے ، مفتی لالچ اور مصلحت کے بغیرفتویٰ صادر کرے، وکیل نفس پرستی کے بغیر ظلم و جبر کے خلاف اپنا پیشہ ورانہ رول ادا کرے ، جج باضمیر بن کر مظلوم کو انصاف دے کر عدل کی بالا دستی قائم کرے ، آفیسر یا کلرک رشوت ستانی اور فائلوں کی غیر ضروری طوالت کاری سے پرہیز کرے ، انجینئر یا ٹھیکیدار جعلسازی اور گھپلا بازی کا وطیرہ ترک کرے ، سیاسی لیڈر یا سماجی رہنما مخلص اور قومی ہمدرد بن کر اپنی رہبری کا حق ادا کرے۔یہی گراں قدر نسخہ ٔ  عمل اپنانے سے ہمارا موجودہ خراب نظام اور برباد معاشرہ پھر ایک بار صاف اور پاکیزہ ہو سکتا ہے ۔
اس وقت مختلف النوع منفی طریقوں سے زیادہ سے زیادہ دولت اور پیسہ کمانے کی کوششیں کی جاتی ہیں ، اسی ایک خیال وجنون سے اکثر لوگ مسابقت و مقابلہ آرائی کی مہلک دوڑ میں شامل ہیں،عیش پسندی اور فیشن پرستی عام ہوگئی ہے، جائز طریقے اور مثبت وسائل نظر انداز کرکے غیر شرعی ذرائع سے پیسے کمانے کی نہج روز بروزتقویت پارہی ہے ۔اس خطرناک صورت حال کا سدباب کرنے کی خاطر ہم سب پر فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم اپنے دلوں میں خدا ترسی کا جذبہ پیداکرکے اللہ تعالیٰ تبارک کے عطا کئے ہوئے حلال رزق پر قانع و شاکر رہیں ۔اسی طرز عمل سے ہمیں حلال خوری اور جائز کمائی کی وساطت سے سکونِ قلب اور خوش حال زندگی بن جائے گی اور دوسرا ہمارا عقبیٰ سر خرو ہوکر جہنم کے عذاب سے نجات پائے گی ، شرط یہ ہے کہ ہم اپنی محنت اور مشقت اور صحیح ماپ تول سے اپنی زندگی جنت جیسی بنائیں اورا گر چوری ،بے ایمانی ،رشوت ،جعل سازی ،فریب کاری ،دھوکہ دہی ،چال بازی ،بازیگری ،ملاوٹ ، جھوٹی گواہی ، غلط بیانی اختیار کرکے جو کچھ بھی کمایا جائے وہ انسانی اور اسلامی دونوں لحاظ سے بالکل حرام اور آگ سے پیٹ بھرنے کے برابر ہے ۔ اب اگر کوئی آگ کھانے کا عادی ہو تو اسے دنیا میں عارضی آزادی یا مہلت بھی ہولیکن کل جب اس کا اعمال نامہ میزان ِ عدل میں کراماً کاتبین یعنی دو سچے اور عادل شاہدین کا مرتب کیا ہوا من وعن ریکارڈ کی صورت میں پیش کیا جائے گا تو اس کے انجام ِ بدکے لئے تیار رہنا چاہئے اور یہ بات ذہن نشین رکھنی لازم ہے کہ جو شخص لقمۂ حرام کھاتے ہوئے نفسانیت کی آگ اپنے پیٹ میں ٹھونسے گا وہ وہاں ضرور جہنم کی سزا پائے گا ۔یاد رہے کہ اسلام کے نظام معاشرت کے تمام احکام اس بنیادی اصول کے گرد گھومتے ہیں کہ ہر مسلمان اس بات کا قدم قدم دھیان رکھے کہ اس کے کسی طور طریقے یا کسی عمل سے دوسروں کو کسی قسم کی جسمانی یا نفسیاتی تکلیف نہ پہنچے ۔ توآیئے آج ہم اس ماہِ مبارک میں اس بات کا عہد کریں کہ ہم اس حدیث شریف کے مطابق کہ’’ لوگوں میں وہی بہتر اورافضل ہے جو لوگوں کے لئے نافع ہو ‘‘ پر عمل پیرا ہو کرکام کریں۔یہی روزہ داری کا حقیقی مفہوم اور بنیادی مقصد ہے     ؎
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو 
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
