تازہ ترین

سماج میں اخلاقی تنزل!

اسباب اور سد باب

25 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

فدا حسین بالہامی
گزشتہ  کئی ہفتوں کے دوران جنت ِ کشمیر میں کچھ ایسے شرمناک ،دلدوز اورانسانیت سوز سانحات کی دھوم مچی جو تحقیق طلب ہی سہی مگر ان سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ جنت بے نظیر کشمیر رفتہ رفتہ بد اخلاقیوں کا جہنم زاربنتی جارہی ہے۔ بنابریں ہمیں کبھی ایک شرمناک خبر دل کو دہلا دیتی ہے اور کبھی دوسرا سانحہ معاشرتی منظر نامے پر نمودار ہوکر ہمارے اجتماعی ضمیر پر تازیانے برساتا ہے ۔ قرآن کرم میں قوم ِ لوط کے اخلاقی تنزل اور پستیٔ کردار کی سر گزشت سناتے ہوئے کہا گیاہے کہ جب اس بد طینت قوم کی بغاوتیںاور بدفعلیاں اپنے عروج کو پہنچیں تو اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں کو حضرت لوط علیہ السلام کی طرف روانہ فرمایا تاکہ قوم لوط کے گناہوں کی پاداش میںباغیوں پر قیامت نما تباہ کن عذاب نازل کیا جائے۔ یہ فرشتے خوبصورت انسانی پیکر میں حضرت لوط ؑ کے گھر میں جب داخل ہوئے تو ہونا یہ چاہئے تھا کہ فرستادان ِ ہدایت کو دیکھ کر بدباطن اور بے شرم لوگ اپنے جرائم اور گناہوں سے توبہ استغفار کرتے اور اپنی غلط روش کو چھوڑ کر سیدھی راہ پر آجاتے لیکن ان بد خصال لوگوں کو جب ان حسین و جمیل فرشتوں پر نگاہ ِ بد پڑی تو ان کی آتش ِہوس اور زیادہ بھڑک اٹھی ، وہ ان پاک و طاہر اور معصوم فرشتوں کو اپنے گناہ کا ہدف بنانے کی غرض سے حضرت لوطؑ کے گھر کے اردگرد جمع ہو گئے اور گھر کی چار دیواری پھلانگنا شروع کر دی۔قوموں کے انحطاط و زوال میں یہ منزل اس کی ناقابل ہدایت اور موردِ ہلاکت ہونے کی علامت ہوتی ہے کہ جب وہ ہدایت کے روشن مناروں کو ہی اپنی ضلالت کے اَڈوں میں تبدیل کرنے پر تلی ہوئی ہو۔اس کی مثال اس بیمار کی سی ہے کہ جس کی بیماری نے اپنی تمام حدیں پار کر دی ہوںکہ اب اس پر کارگر دوائی بھی کام نہیں کرتی بلکہ اس کے لئے الٹا اثر رکھتی ہے۔ بات ہمارے معاصر سماج کے حوالے کی جائے تو اس سے بڑھ کر ہماری زوال آمادگی کاثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ یہاں پر ملت کی عفت مآب بیٹیاں بھی اب محفوظ نہیں رہی ہیںکہ درندہ نما انسانوں کی خباثتیں انہیں ایسے نوچ کھارہی ہیں کہ دغا، مکروفریب ، ظلم و زیادتی،بے راہ روی،جھوٹ اور منافقت کی کوئی حد ونہایت نہیں رہتی۔اس ظلم وجبر کی شدت کا اندازہ کر نا بھی مشکل ہے اور کسی بگڑے سماج میں یقینا یہ ظلم وعدوان کی آخری حد کہلاسکتی ہے ۔ ایسی بہیمانہ وظالمانہ حرکات کی توقع درندوں سے بھی نہیں کی جا سکتی ہے چہ جائیکہ انسان یہ کالک اپنے منہ پر پوتے۔عجب نہیں کہ قہرِ الٰہی نازل ہو کر انسانیت کے مجرموں کی زیادتی کا بدلہ ان کے سمیت اس خطۂ ٔزمین پر بود و باش رکھنے والے تمام غافل وتماشہ گیر انسانوں سے بھی لے۔ اس یقینی قہر الٰہی سے بچنے کی یہی صورت ہے کہ ہر سطح پر ایسے ظلم اور ایسے ظالم سے نہ صرف اظہار ِنفرت کی جائے بلکہ اس طرح کی مسموم ہوا کو روکنے کے لئے ہر فرد اپنی اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو اور اجتماعی ضمیر کی رکھوالا بنے۔
   خرابی ٔ بسیار کے باوجود یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ آج تک جب کبھی ا س سر زمین میں انسانیت کے خلاف ایسی صدمہ خیز جرائم کی بھنک لوگوں کے کان میں پڑ گئی تو پوری وادی سزر پا احتجاج ہوئی اور لوگوں میں بلالحاظ رنگ و نسل اور مذہب و مسلک غم و غصہ کی شدید لہردوڑ گئی ، مجرموں کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ ہوااور ایسے سانحا ت پر ہر ذی حس انسان نم ناک اور دل نوحہ کناں ہوا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ یہ منبر ومحراب کا موضوع اور سیاسی پنڈالوں کا مضمون ہوا۔ صاحبان فکرو دانش سربہ گریباں ہیں کہ آخر ہمارے یہاں پائے جارہے اخلاقی زوال کے پیچھے کون سے اسباب و عوامل کار فرما ہیں اور سماجی اصلاح کار ایسے جگرسوز واقعات کا سدباب کرانے  کے لئے چیخ وپکار کر تے رہے۔ یہاں پر اس بات کی وضاحت لازمی ہے کہ  پیش ترازیں تا بندہ غنی (لنگیٹ) صبرینہ فیاض (را ج باغ)، نگینہ (کیلرکپوارہ) فرزانہ (زینہ کدل)، رومانہ (سرینگر)اور آصفہ(کھٹوعہ) جیسے واقعات قابل ِ ذکر ہیں۔ یکے بعد دیگرے رونما شدہ المیوںسے یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ ہم اخلاقی اور انسانی اقدار کے لحاظ سے کتنے محروم الارث ہو چکے ہیں اور ہوا و ہوس کے پجاری ا س پیرواری کہلا نے والی وادی کے اجتماعی ، گھریلو اور سماجی فضاء کو مکدر کرنے میں کافی حد تک موثر ثابت ہو رہے ہیں۔الم ناک اورصدمہ انگیز واقعات میں ملوث ملزموں کو قرار واقعی سزا دلوانے کی عوامی صدائے احتجاج اور متاثرین کو انصاف دلانے کا مطالبہ اپنی جگہ لیکن ہمیں سماجی سطح پر بھی ایسے واقعات کے اصل محرکات تک بھی پہنچنا ہوگا۔تعزیری اقدامات اور عدلیہ کا قرار واقعی فیصلہ تو زخم کے لئے درماں کی مانند ہیں مگر ہمیں یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں کہ جن کا مندمل ہونا ناممکن ہے۔ انصاف کی فراہمی اور مجرم کو کیفر ِ کردار تک پہنچانے سے متاثرہ افراد کو تھوڑی بہت راحت تو ملتی ہوگی لیکن جس درد و کرب میں وہ تا دم ِ مرگ مبتلا ہوتے ہیں ،اس کی تلافی کسی کے بھی بس کی بات نہیں ہوتی ہے۔لہٰذاہر چھوٹے بڑے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان عوامل و محرکات کا قلع قمع کرنے میں ہر وقت کوشاں اور متحرک رہے جو وقتاً فوقتاً ان الم ناک سانحوں کو رونماء ہونے میں کلیدی رول ادا کرتے ہیں۔ہمیں ان جراثیم کی قبل از وقت کھوج بین کرنے اور اسے پیش تر کہ وہ معاشرے کو مختلف بیماروںمیں مبتلا کرنے میں کامیاب ہو جائیں ، انہیں ختم کرنے کی تیر بہدف کاوشیں کرنا ہوںگی۔ اس سلسلے میں حفظ ما تقدم کی پالیسی اختیار کر کے ہمیں اس کی فضا کو وجود میں لانے والے عناصر کو ابتدائی مراحل میں ہی مٹا دینا چاہیے۔ اس بارہ میںمعاملے کی تہَ تک جایا جائے تو بات گھریلو ماحول سے شروع ہو تی ہے اور تعلیمی و تربیتی نظام سے گزر کر تمدن و ثقافت کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔اس طرح کی بہیمانہ حرکت کے رد عمل میں اظہار ِ غم و غصہ ایک فطری اور جائز کام ہے مگر کب تک ہم رد عمل کو ہی اپنا واحد فرض قرار دیتے رہیں گے؟انسدادی عمل کا مرحلہ کب شروع ہوگا؟
امر واقع یہ ہے کہ موجودہ دور میں ہمارا معاشرہ ثقافتی یلغار کی زد پر ہے۔اس لئے ایسے مورچوں کو قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ جو ثقافتی جنگ میںہماری پناہ گاہیں بن جائیں۔ ان ثقافتی ذرایع و ابزار کا استعمال ناگزیر ہے کہ جو تمدنی جنگ میں کافی کارآمد ثابت ہو چکے ہیں۔ہمارا تعلیمی و تربیتی نظام خدا ترسی اور حصولِ رضائے الٰہی پر مبنی ہوکیونکہ موجودہ دور میں ان شیطانی اوازار و ابزار کی بھرمار ہے کہ ابلیسی نظام کو بستی بستی قریہ قریہ مسلط کرنے میں کافی زیادہ موثر ثابت ہو رہے ہیں۔بچے بلوغیت سے پہلے ہی بالغ ہو رہے ہیں۔ گویا ان سے طفلانہ پن ہی میں ان کا بچپن ایک سوچھی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت چھین لیا جاتا ہے،جب کہ ہمارا حال یہ ہے کہ جوان ہونے کے بعد بھی انہیں بچہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ آج کل کے مربیوں کی مثال ان باغبانوں کی سی ہے کہ جوشعوری یا غیر شعوری طور کچے میوؤں کو جلد از جلدپکانے کے لئے پھل دار درختوں پر ایک خاص قسم کی دوا چھڑکتے ہیںاور اپنے باغ سے یہ سوچ کر غافل ہو جاتے ہیں کہ ابھی میوہ پکنے کافی وقت در کار ہے۔ 
بہر کیف یاسے ناقابل بیان المیون کے تعلق سے کشمیر یوں کا ہر بار ہمہ گیر احتجاج یہ ثابت کرتاہے کہ ابھی بھی اہالیان کشمیر میں غیرت کی رَمق باقی ہے اور بد طینت افراد کو اپنے آپ یہ پیغام ملا جاتا کہ اس طرح کی حرکتیں ناقابلِ برداشت ہیں، تاہم اس سلسلے میں نوجوانوں کا تشدد پر اُتر آنا یا طیش میں آکر توڑ پھوڑ کرنا اور راہ گیروں کی پریشانیوںمیں اضافہ کرنا کسی بھی طور جائز نہیں ہے۔علاوہ ازیں جو نوجواں سڑکوں پر آکر ہر سماجی بداخلاقی کے خلاف سراپا احتجاج ہوتے رہے ہیں ،انہیں بھی اس بات کہ جانب توجہ مبذول کرنی چاہیے کہ کہیں وہ بھی درونِ خانہ اسی ثقافتی اور تمدن یلغار کا شکار تو نہیں ہے جس کا منطقی نتیجہ منحوس واقعات کی صورت میں ملتا ہے۔
قابل ِ ذکر ہے کہ ہمارا سماج اس وقت بلواسطہ یا بلا واسطہ مغربی تمدن و ثقافت اور طرز زندگی کے زیر اثر ہے۔ جنسی حس کو برانگیخت کرنے والے وہ اسباب بلا روک ٹوک مختلف وسیلوںسے ہمارے معاشرے کو بھی متاثر کر رہے ہیں کہ جن کی مغربی یا مغرب زدہ معاشروں میں بھرمار ہے۔ چنانچہ وہاں جنسی بے راہ روی پر کوئی قدغن نہیں ہے اور شہوانی ہیجان کو خاموش کرنے کے تمام تر جائز و ناجائز ذرایع استعمال کر پر کوئی پابندی نہیں ہے، جس کے نتیجے میںیورپ خاندانی اور معاشرتی سطح پر گوناگوںبحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ اگرہمارے یہاں ایک جانب سفلی جذبات واحساسات ابھارنے کا وہی ساز و سامان موجود ہے لیکن بہرحال کلی طور پر ہمارا معاشرہ اخلاقی اور مذہبی اصولوں کی پاسداری کو لازمی قرار دے رہاہے۔اس لئے مغربی کے ہوس پرستوں کی طرح یہاں ناجائز جنسی روش اختیار کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ نتیجہ کے طور پر وہ لوگ علی الخصوص نوجوان جن کی آنکھوں کے سامنے انٹرنیٹ اور دیگر وسائل کے ذریعے فحش مناظر ہر وقت گردش میں رہتے ہیں، ایک داخلی اور نفسیاتی کشمکش واضطراب کا شکار ہوجاتے ہیںاور بسا اوقات یہ داخلی کشمکش سانحہ بانڈی پورہ کی صورت میں اپنا رنگ و روپ دکھاتی ہے۔اسی لئے والدین اور دیگر سرپرست افراد پر لازم ہے کہ وہ کچی عمر میں اور بغیر کسی ناگزیر ضرورت اپنی اولاد کو سمارٹ فون، ٹیلی وژن وغیر ہ کے بے دریغ استعمال سے روکیں اور انہیں مثبت سرگرمیوں(جیسے پڑھائی،کھیل کود، گھریلو کام،کتب بینی) کا عادی بنا ئیں۔ رات کو جلدی سو جانے اور سحر خیزی کو ان کا معمول بنائیں۔ بلا وجہ تنہائی کی نہایت ہی چابک دستی سے جانچ پڑتال کریں۔ اس چیزکو حتمی بنائیں کہ یہ کسی بھی صورت میں بے کار نہ ہوںاور سب سے بڑھ کر خوف ِ خدا کا عنصر ان کے باطن میں انڈیل دیںتاکہ آئندہ  ناقابل معافی واقعات اور المیوں سے ہمارا آمنا سامنا نہ ہو۔
Cell:7006889184
 