تازہ ترین

ایران۔ امریکن مخاصمت

دشمنی کی یہ کہانی اور بھی دو آتشہ

25 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر جاوید اقبال
ایران   امریکی مخاصمت حالیہ دنوں میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔ امریکہ کا یہ الزام ہے کہ ایران اُس ایٹمی معاہدے کی پاسداری نہیں کررہا ہے جو 2015ء میں  ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین طے پایا تھا۔جب یہ معاہدہ طے پایا تو اُس وقت امریکی صدر بارک اوباما تھے اور اِس معاہدے کے حصول کو اُن کی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا تھالیکن امریکہ کے موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے صدارت کا منصب سنبھالتے ہی اُس معاہدے کے خلاف بولنا شروع کیا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اپنی صدارتی مہم کے دوراں ہی اُنہوں نے اپنی مخالفت کا عندیہ دیا تھا۔ صدر ٹرمپ اِس معاہدے کو امریکی مفادات کے برعکس سمجھتے ہیں البتہ در اصل اُنہیں اسرائیلی مفادات کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ جب 2015ء میں یہ معاہدہ طے پایا تو اسرائیل نے اُس کی مخالفت کی تھی۔اسرائیل کا یہ ماننا رہا کہ اُس معاہدے میں وہ دم نہیں جو ایران کو ایک ایٹمی طاقت بنانے سے روک سکے۔یہ عیاں حقیقت ہے کہ صدر ٹرمپ اسرائیل کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ۔یروشلم کو عالمی رائے عامہ کے برعکس اسرائیل کا دارلخلافہ ماننا ،اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کی یروشلم میں منتقلی، گولان کی بلندیوں پہ اسرائیل کے قبضے کو حق بجانب ماننا بلکہ اِن بلندیوں کو اسرائیل کی جائز اراضی ماننا ایسے واضح اقدامات ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ مشرق وسطی میں اسرائیل کی بالا دستی منوانے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے امریکہ نے مشرق وسطی کو اسرائیلی رنگ میں رنگنے کی قسم کھا رکھی ہے اور صدر ٹرمپ اُسے عملیانے میں کسی بھی اقدام سے فرو گذاشت نہیں کر رہے ہیں۔
 صدر ٹرمپ کو اپنے اقدامات کی بر آوری میں اِس حقیقت کا بھی کوئی پاس نہیں کہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ بے انتہا سفارتی عرق ریزی کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ سالہا سال ایران اقتصادی پابندیوں کے نرغے میں رہا اور پھر بیس ماہ پہ محیط مذاکرات کے بعد 2015ء میں  پانچ عالمی طاقتوں امریکہ،برطانیہ،فرانس،روس،چین کے علاوہ اِس معاہدے میں جرمنی اور یورپین یونین بھی شامل رہے۔وسیع عالمی تائید کے بعد جب صدر ٹرمپ نے اِس معاہدے سے ہاتھ کھنچا تواُنہوں نے کسی سے مشورہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔امریکہ کے بغیر سب ہی عالمی طاقتوں کی عمومی رائے یہی ہے کہ اِس معاہدے میں وہ سب شرائط موجود ہیں جس سے ایران کے ایٹمی پروگرام پہ روک لگائی جا سکے۔ معاہدے کی جزیات پہ طائرانہ نظر ڈالنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یورنیم کو غنی کرنے کی سعی میں ایران پہ معاہدے کے اجرا ہونے کے بعد پابندی رہے گی ۔غنی شدہ یرو نیم سے ایٹم بمب بنایا جا سکتا ہے۔ یورنیم سنٹری فویج میں غنی ہوتا ہے اور ایران میں جتنے بھی سنٹری فویج ہیں اُن میں دو تہائی کا کام معطل رہے گا۔معاہدے پہ پابندی کی نسبت بین الاقوامی ایٹمی ادارے ایرانی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کریں گے ۔ سابقہ امریکی صدر بارک اوباما نے اِسے جائزہ کاری (Verification) کا نام دیا تھا بلکہ اُنہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ایران پہ گر چہ بھروسہ نہیں البتہ جائزہ لینے سے معاہدے کی پابندی کو پرکھا جائے گا۔ایٹمی تنصیبات پہ بابندی کے بدلے ایران کا منجمد شدہ پیسہ بتدریج واپس کیا جانا قرار پایا جو کہ کم و بیش  20ارب ڈالر تھا۔ معاہدے کے مطابق ایران غیر ایٹمی ہتھیاروں کے خریدنے کا مجازقرار پایاجو ظاہر ہے ایران کی سیکورٹی کو بر قرار رکھنے کیلئے ضروری ہو گا۔
 ایٹمی تجزیہ کاروں کی نظر میں جہاں ایران پانبدیوں کے بغیر دو تا تین مہینے کے اندر اندر ایٹمی بمب بنانے کی صلا حیت رکھتا ہے وہی معاہدے کے ہوتے ہوئے وہ اگر معاہدہ توڑنا چاہیے تو اُسے ایک سال لگ سکتا ہے لیکن تب تک عالمی طاقتیں اُس کے خلاف ایک عالمی ایکشن کی تیاری کر لیں گی ۔ ایٹمی تجزیہ کاروں کی رائے کو معاہدے کا ڈراپ سین مانا جا سکتا ہے جو ایٹمی تباہ کاریوں کو نظر میں رکھتے ہوئے واقعی خوفناک ہے۔ بیس ماہ پہ محیط شدید نوعیت کے مذاکراتی دور کوو مد نظر رکھا جائے تو یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ نہ تو مغربی طاقتوں کیلئے نہ ہی ایران کیلئے سو فیصدی مطمین ہو کے مذاکراتی میز سے اٹھنے کی گنجائش تھی ۔اِس کی بڑی وجہ چین و روس کی چھ عالمی طاقتون کے بیچوں بیچ شمولیت رہی۔ چین و روس عالمی طاقتی توازن کو بر قرار رکھنے کیلئے کوشاں ہیں ۔اِن دونوں عالمی طاقتوں کیلئے امریکہ کا تک و تنہا عالمی تسلط قابل قبول نہیں گر چہ سالہا سال یہی عالمی حقیقت رہی البتہ گذشتہ چند سالوں میں یہ بتدریج رو بہ تغیر ہے۔چین و روس کی سالہا سال خاموشی اور اِن دو عالمی طاقتوں کیلئے ایران کی اہمیت ہماری تجزیہ کاری میں شامل ہے۔ اِس کے علاوہ امریکہ کے مذاکراتی دور میں احداف پہ ہماری نظر رہے گی۔ہم چین و روس کا مذاکرات پہ اثر انداز ہونے کے سبب کچھ لو و کچھ دو کے ساتھ مذاکراتی عمل کے ختم ہونے اور اُس کے نتائج پر بھی نظر ڈالیں گے البتہ مرحلہ اول میں ہماری نظر ایران کی سوق الجیشی (سیاسی و فوجی) حثیت پہ رہے گی۔
ایران سوق الجیشی لحاظ سے عالمی شرق و غرب کے بیچوں بیچ وقوع پذیر ہونے کے سبب ہمیشہ ہی عالمی تاریخ میں خصوصی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ایران کی شرقی سرحدیں جہاں بر صغیر ہند و پاک سے ملتی ہیں وہی شمال مغربی سرحدیں یورپ سے ملتی ہیں جہاں  یورشین ترکی آبنائے باسفورس کے آر پار بر اعظم ایشیا و یورپ کے بیچوں بیچ واقع ہے۔یورشین بہ معنی کلمہ وہ ملک کہلاتا ہے جو بر اعظم ایشیا کا حصہ بھی ہے اوریورپ میں بھی اُس سے منسلک علاقہ جات واقع ہوئے ہیں۔ پہلے یہ امتیازترکی کے علاوہ سوؤیت یونین کو حاصل تھا وہی ایشائی مرکزی کی ریاستوں کے استقلال کے بعد یہ امتیاز صرف ترکی کو حاصل ہے۔ ترکی کا تاریخی شہر استنبول آبنائے باسفورس کے آر پار واقع ہے اور یہی دو بر اعظموں کے بیچ کی سرحد ہے۔ ایران کی زمینی سرحدیں مغرب میں عراق سے ملتی ہیں جبکہ ایران کے جنوب و جنوب مغرب میں خلیج کے اُس پارعربی خلیجی ممالک واقع ہیں ۔
عالمی سیاسی صحنہ کو مد نظر رکھا جائے تو ایران ایک ایسے خطے میں وقوع پذیر ہوا ہے جہاں کی آبی راہروں میں انرجی یعنی توانائی کا گذر کالے سونے یا پٹرول کی شکل میں ہوتا ہے ۔پٹرول سے بھرے ٹینکر ایران و خلیجی ممالک کی آبی راہروں سے گذرتے ہوئے دنیا کی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کر تے ہیں۔ خلیج کی آبی راہرو کو جہاں سے انرجی سے بھرے ٹینکروں کا گذر ہوتا ہے گلف آف ہرمز کہا جاتا ہے جو ایران کے ساحل کو چھوتی ہے ۔انرجی سیکورٹی کیلئے یہ آبی راہرو حیاتی ہے بنابریں یہ عالمی سیکورٹی سے جڑی ہوئی ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں ایران کے کسی بھی اقدام پہ نظر رکھنے کیلئے خلیج کی آبی راہروں میں اپنے بحری بیڑے کو تقویت بخشی ہے جبکہ امریکی بحری بیڑہ معمول کے ایام میں بھی انرجی کے گذر پہ نظر رکھتا ہے تاکہ اُسکی عالمی چودہراہٹ بر قرار رہے۔ خلیجی صحنہ سیاسی کا سب سے درد ناک پہلو یہ ہے کہ امریکہ عرصہ دراز سے خلیجی ممالک اور ایران میں دوریوں کو فروغ دے رہا ہے۔ خلیجی ممالک میں سب سے ممتاز ملک ہونے سے سعودی عربیہ کو خلیجی بلاک کا لیڈر مانا جاتا ہے۔ تیل کا سب سے بڑا منبہ ہونے کے علاوہ سعودی عربیہ اسلامی دنیا میں اسلئے بھی ممتاز حیثیت رکھتا ہے چونکہ عالم اسلام کے متبرک ترین ممالک مکہ معظمہ و مدینہ منورہ یہاں واقع ہوئے ہیں۔جہاں سعودی عربیہ کی حثیت خصوصیت کی حامل ہے وہی ایران کی عالمی سیاسی و سفارتی دائرے میں ایک خاص پہچان ہے۔
 ایران کی ہزاروں سال پہ محیط ایک شاندار تاریخ ہے جس نے اِس ملک کو جنگ و امن کے گونا گوں تجربات سے نوازا ہے۔ایران سیاسی و فوجی میدان کا پرانا کھلاڑی ہے جہاں جنگی مہارت کے ساتھ ساتھ ڈپلومیسی کا فن بھی عروج پر رہا ہے۔اضافہ بر ایں علم،فن و حرفت خاصکر فنون لطیفہ میں ایران ایک ممتاز حیثیت کا حامل ہے جس نے ایران و ایرانی کو ایک ایسا رنگ بخشا ہے جسے نادیدہ نہیں لیا جا سکتا ہے ۔ ایسے ملک کو عالمی طاقتی توازن کی بر قراری میں نظر انداز کرنا گر چہ کوتاہ مدت کیلئے ممکن ہو سکتا ہے لیکن مدت طولانی کیلئے ایسا کرنا عالمی عدم توازن پہ منتج ہو سکتا ہے جہاں امریکہ اور اُس کے حلیف ایران کو نظر انداز کرنے میںغلطی کے مرتکب ہوئے وہی روس و چین نے ایران کو ایک حلیف کی حثیت سے اپنی صفوں میں جگہ دے کر عالمی طاقتی توازن کو مطلوبہ رخ بخشا ہے  ۔ چین و روس کا ایران کو اپنی صفوں میں جگہ دینا گرچہ حب ایران نہیں بلکہ اِن عالمی طاقتوں کے اپنے احداف ہیں جہاں ایران کے پنپنے کی گنجائش موجود ہے۔ 
روس اور چین دونوں ہی امریکہ کے تک و تنہا عالمی تسلط سے نالاں ہیں البتہ یہ بھی صیح ہے کہ ایک طویل مدت تک دونوں ہی ممالک اِس پہ روک لگانے کے متحمل نہیں ہو سکے۔چین اپنی فوجی طاقت کو اقتصادی استحکام بخشنے میں مصروف تھا۔ اُس کا سامنے یہ حقیقت عیاں تھی کہ امریکہ کے ہم پایہ عالمی قوت روس کو اقتصادی کمزوری کھا گئی جبکہ روس فوجی قوت میں امریکہ سے قدرے آگے تھا۔روس سوؤیت یونین کے ٹوٹنے کے سانحہ میں جوج رہا تھا۔روس صرف و صرف روس بن کے رہ گیا جبکہ سوؤیت یونین میں روس کے علاوہ مشرقی یورپی ممالک اور  ایشائی مرکزی کی ریاستیں بھی شامل تھیں۔ افغانستان میں امریکہ نے روس کی ذلت و رسوائی کوجہادی دستوں کی اعانت سے یقینی بنایا۔ اسلامی فورسز سے مستفید ہو کر امریکہ نے روس سے وابستہ اپنے احداف تو پورے کر لئے لیکن ایک ایسی عالمی بے چینی کو بھی جنم دیا جس سے نجات واقعی ایک مشکل امر ثابت ہو رہا ہے۔ نائن الیون کا بدلہ امریکہ لاکھوں جانوں کے زیاں اور بے شمار افراد کی خانہ بربادی سے لا رہا ہے اور بدلے کیلئے اِس سپر پاور نے مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کو چن لیا ہے۔یہی خطے عالم اسلام کی تشکیل دیتے ہیں۔ 
سیاست و سفارت کی اِن بھول بھلیوں میں اتفاقاََ ایران و سعودی عربیہ حلیف ہونے کے بجائے حریف بنے ہوئے ہیں ۔ شام سے لے کے یمن تک سعودی و ایرانی ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں اور یہی عالم اسلام کا المیہ ہے۔ امریکہ کے مذموم اقدامات کے بیچوں بیچ روس نے ایک طویل پسپائی کے بعد دم سنبھال لیا ہے جبکہ ہمالیہ کے چشموں سے لے کے خلیج کی توانائی کی آبی راہروں تک چینی اقدامات قابل محسوس ہیں۔ اِس عالم صف آرائی کے بیچوں بیچ عالم اسلام کو متحد ہو کے ایک ایسی راہ چننے میں ضرورت تھی جو اُسکی بقا کی ضامن ہوتی لیکن یہاں کہیں خلیجی ممالک امریکی احداف سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں اور کہیں ایران روسی و چینی احداف سے جڑا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ اختلاف حالیہ دنوں میں عیاں سے عیاں تر ہوتا جا رہا ہے۔ اِس اختلاف کو در پردہ صیہونی حلقے ہوا دے رہے ہیں جس کا مدعا و مقصد مشرق وسطی میں اسرائیلی بالا دستی کو فروغ دیا ہے۔ یہ ایک ایسے دور میں ہو رہا ہے جہاں امریکہ نے اپنا پورا سیاسی، سفارتی و فوجی وزن اسرائیل کو استحکام بخشنے کیلئے واگذار کیا ہوا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں نئے فورسز کا وقفے وقفے سے وجود میں آنا اِس قیاس آرائی کا گواہ بنتا جا رہا ہے کہ صیہونی قوتیں اسلامی ممالک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے درپے ہیں ۔
ایران آج کل سخت اقتصادی مشکلات میں جوج رہا ہے۔ امریکہ نے ایران کا تیل خریدنے پہ پابندی عائد کی ہے۔ ایرانی تیل کے دو بڑے خریداروں میں چین اور بھارت شامل ہے۔ پچھلے دنوں بھارت کے دورے پہ آئے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ جواد زریف کوبھارتی وزیر خارجہ ششما سوراج نے یہ کہہ کے ٹال دیا کہ انتخابات کے بعد کی بھارتی کابینہ تیل کی خریداری کے بارے میں فیصلہ کرے گی لیکن اکثر بھارتی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بھارت تیل کی خریداری کے لئے متبادل ذرائع کی تلاش میں ہے۔ اپنے اہم ترین اثاثے پٹرول بیچنے میں عراق مشکلات سے دو چار رہا ہے ایران بھی مشکلات سہہ رہا ہے۔ پٹرول ایکسپورٹ پہ اپنی اقتصاد چرخانے والے ممالک کو یہ سوچنا ہو گا کہ سیاست کی شطرنج بدلتے دیر نہیں لگتی۔ جن مشکلات کا شکار لیبیا، عراق و ایران رہا ہے وہی مشکل کل کو سیاسی و سفارتی بازی پلٹنے پہ اُن کو بھی پیش آ سکتی ہیں لہذا مبارزے کے بجائے مفاہمت کی ہی راہ تلاش کرنی ہو گی چونکہ وہی سیاسی استحکام کی کنجی ہے۔
Feedback on<iqbal.javid46@gmail.com>