مقصدِ حیات

فرشتے سے مشکل ہے انسان بننا

24 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مدثر شمیم راتھر سرہامہ ، بجبہاڑہ ، اسلام آباد کشمیر
اللہ   تعالیٰ ہی ہر شئے کا خالق و مالک ہے ۔ اس نے ہی چھوٹی سے چھوٹی مخلوق کو بھی پیدا کیا اور بڑی سے بڑی مخلوق کو بھی۔ اگر ہاتھی اس نے بنایا ہے اور یہ اس کا کمال ہے تو چیونٹی کو پیدا کرنا بھی کچھ کم کمال نہیں ہے کہ اتنے بڑے ہاتھی میں جتنے اعضاء اس نے بنائے ہیں وہ سارے کے سارے چیونٹی کے اندر بھی موجودہیں ۔ اگر بڑا کارخانہ چھوٹی چیز بنائے تو اس کی توہین سمجھی جاتی ہے مگر اللہ نے جو کچھ بھی بنایا یہ اس کی شان ہے کیونکہ کارخانے میں تیار ہونے والی شئے سے بہتر بھی شئے دوسرے کارخانے میں تیار ہو سکتی ہے مگر سارا جہان اور اس کے سارے کارخانے مل کر بھی اس کے کارخانۂ قدرت میں تیار ہونے والی ادنیٰ سے ادنیٰ شئے سے بہتر تو کیا اس جیسی بھی نہیں بنا سکتے بلکہ مخلوق کی بنائی ہوئی شئے اور اللہ کی بنائی ہوئی شئے میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی شئے جیسی کوئی اور نہیں بنا سکتا۔ پھر یہ اس کا کتنا بڑا کرم ہے کہ اس نے ہمیں غلاظت کا کیڑا بنانے کی بجائے صرف انسان ہی نہیں بلکہ مسلمان بھی بنا دیا اور اپنے پیارے کا اُمتی بھی بنا دیا جیسے صورۃ التین میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 
’’ انجیر کی قسم اور زیتون کی قسم اور طور سینا کی قسم اور اس امن والے شہر ( مکتہ المکرمہ) کی قسم ( جس میں اللہ کا حبیب صادق و امین آیا اور انہوں نے اس شہر کو امن والا بنا دیا) بے شک ہم نے انسان کو بہترین تناسب و اعتدال پر بنایا ہے ۔ بہترین صلاحیتیں ، بہترین اعضاء ، بہترین فطرت ، اعتدال قوائے ظاہری و باطنی کے ساتھ تخلیق کیا اور عمدہ صورت عطا فرمائی ‘‘۔
کسی کو پرندہ بنا کر اُڑا دیا ، جنگل کے بادشاہ شیر کو رکوع میں جھکا دیا ، سانپ وغیرہ کو سجدے کی حالت میں گرا دیا تو ہمیں سرو جیسا قد عطا فرما کر ہمارے سر پر عزت کا تاج پہنا دیا کہ ہم اشرف المخلوقات ہیں کہ جھک کر نہیں سر اونچا کر کے چلیں ، ساری مخلوق کو ہمارے لئے مسخر فرما کر خالق کائنات نے ہمیں صرف اپنے سامنے جھکنے کا حکم فرما دیا۔ کسی نے اشرف المخلوقاقات کہلانے الے انسان کو مخاطب کر کے کیا ہی خوب کہا ہے    ؎
جانور پیدا کئے تیری وفا کے واسطے 
کھیتیاں سر سبز کیں تیری غذا کے واسطے 
چاند سورج اور ستارے ہیں ضیا کے واسطے 
سب کچھ ہے تیرے لئے اور تو خدا کے واسطے 
اب وفا کا تقاضا تو یہ ہے کہ انسان اپنے مالک کے آگے جھکے ورنہ جانوروں اور انسانوں میں کیا فرق رہ جائے گا ۔ پھر اگر یہ انسان اپنے پالنے والے اور تخلیق کرنے والے کو بھول جائے تو اس سے بڑھ کر کیا بے وفائی ہوگی ۔ 
کوئی شخص اگر اپنے کسی بہت ہی پیارے کے پاس جانے کا ارادہ کر لے اور اس کا پیارا اس کو کہے کہ میرے پاس آ رہے ہو تو فلاں چیز جو مجھے بہت پسند ہے وہ ضرور لیتے آنا اور بار بار تاکید کرے لیکن آپ وہ چیز لئے بغیر چل پڑے اور دوست کو جاکر ملے اس سے پیار کا اظہار کیا اور جب اس نے اپنی مطلوبہ فرمائشی شئے طلب کی تو آپ نے کہا ویسے تو مجھے آپ سے بہت محبت ہے مگر آپ کی چیز نہیں لاسکا تو یہ محبت نہیں دھوکہ ہے ۔ محبت یہ ہے کہ محبوب بھی یاد رہے اور اس کی پسند بھی ۔ محبوب کی پسند پہ تو عاشق جان دیتے ہیں ۔ اے انسان! اگر تو بھی اولاد اور کاروبار سے اللہ کے لئے محبت کرتا تو تجھے خدا کی پسند کبھی نہ بھولتی ، خدا سے محبت ایسی کرو کہ سب کچھ اس کے لئے ہو جائے ۔ ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین ۔ 
فرشتوں اور جنوں کو ایک ایک شئے سے بنایا مگر انسان کی باری آئی تو اس کو چار چیزوں سے بنایا :آگ، ہوا ، مٹی ، پانی ۔ یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے حضرت انسان ۔ روایات میں آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنانے کا ارادہ فرمایا تو جبریل امین ؑ کو فرمایا:زمین کے سب سے اعلیٰ خطے ’’ عرفات ‘‘ سے مٹی لے کر آ ۔ جب جبریل امین ؑ مٹی لینے کے لئے میدان عرفات میں آئے ،مٹی پکڑی تو اس نے رونا شروع کر دیا ، پوچھا کیوں روتی ہے ، اس نے کہا : یہ قتل کرے گا، خون بہائے گا ، فساد کرے گا۔ جبریل امین ؑ واپس لوٹ گئے پھر اللہ نے میکائیل ؑ اور اسرافیل ؑ کو بھیجا تو ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا اور اپنے رب کی بارگاہ میں لوٹ گئے۔ اب اللہ نے فرمایا کہ اب میں اس کو بھیجوں گا جو خالی واپس نہ آئے گا پھر اللہ تعالیٰ نے عزرائیل ؑ کو بھیجا ، زمین روتی رہی چیخیں مارتی رہی مگر انہوں نے فرمایا : تیرا رونا دیکھوں یا اس کا حکم دیکھوں ؟ اللہ نے فرمایا: تو ہی اس کو لایا ہے اور تاقیامت تو ہی اس کو واپس بھی کرے گا یعنی اس کی جان قبض کرنے کی ڈیوٹی بھی تیری ہی لگا دی ہے ۔ اللہ نے پھر ہر شئے کو لفظ کُن سے بنایا مگر جب انسان کی باری آئی تو فرمایا: ’’و خلقت بیدی‘‘ میں نے اس کو اپنے ایک ہاتھ سے نہیں دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے اور اس میں ’’ اپنی ‘‘ روح پھونکی ہے ۔ اور اس کے آگے فرشتوں کو جھکا دیا اور سجدے میں گرا دیا   ؎
فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا 
مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ 
اس طرح انسان مسجودِ ملائکہ بنا کر ساری کائنات کا سردار قرار پایا ۔ علم کا سر چشمہ اور منبع اللہ کی ذات ہے ۔ اس نے اپنی ہر مخلوق کو اس کی ضرورت کے مطابق علم سے نوازا ہے لیکن اس لحاظ سے بھی حضرت انسان کا درجہ ساری مخلوق سے بلند ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو اشیاء کے ناموں اور ان کے خواص کا علم عطا فرمایا ، پھر فرشتوں سے فرمایا تم ان اشیاء کے نام بتائو۔ انہوں نے لاعلمی کا اظہار کر دیا اور پھر آدم ؑ کو حکم دیا تو انہوں نے تمام اشیاء کے نام بتا دئے ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر فرشتوں پر آدم ؑ کی برتری کو ثابت کر دیا اور علمی لحاظ سے بھی حضرت آدم ؑ اور اولاد آدم کو تمام مخلوق پر فوقیت حاصل ہوگئی۔ 
انسان کو اللہ تعالیٰ نے جہاں اتنے اعزازات عطا فرمائے ہیں، وہاں اسے عقل و تمیز اور شعور و فہم کی صلاحیتیں بھی دی ہیں اور اسے زمین میں اپنی خلافت و نیابت کی ذمہ داری سونپی ہے ۔ یہ دنیا انسان کے لئے امتحان گاہ بنائی گئی ہے اور خالق کائنات نے انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی عطا فرما کر خلافت و نیابت کی خلعت سے نوازا ہے ۔ اس کی ہدایت و رہنمائی کے لئے آسمانوں سے وحی اور انبیاء ؑ بھیجے ہیں۔ اس فرض منصبی کو احسن طریقے سے پورا کرنے کیلئے انسان کو اس زمین میں جن وسائل کی ضرورت تھی ،وہ سب یہاں وافر مقدار میں مہیا کر دئے۔ ہوا پانی ، چاند سورج، ستارے سیارے ، دن اور رات ، خشکی اور سمندر، حیوانات اور جمادات ، نباتات ، سمندری مخلوق چرند پرند، بارش اور موسم کی تبدیلی اور دیگر بے حد و بے حساب نعمتیں اس انسان کی خدمت میں لگا دی ہیں اور اس کی ضرورت پوری کر رہی ہیں ۔ ہمارا خالق و مالک یہ چاہتا ہے کہ ہم اس زمین میں اس کی مرضی کے مطابق عمل کریں ۔ اس کے رسولوںؑ اور کتابوں میں جو ہدایات دی گئی ہیں ان کو زندگی کا لائحہ عمل بنائیں تاکہ رب کی رضا حاصل کر کے آخرت کی زندگی میں جنت کی سدا بہار نعمتوں کے مستحق بن سکیں ۔جو لوگ اپنے شرف ِانسانیت کا شعور نہیں رکھتے اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں، وہ اس دنیا میں خواہشات کے غلام ، نفس کے بندے اور شیطان کے چیلے بن کر دنیا میں بھی اپنی حیثیت کھو بیٹھتے ہیں اور آخرت میں بھی اس رب کے غیظ و غضب کا شکار ہو کر جہنم کا ایندھن بنیں گے ۔
 آج کا انسان اخلاقی زوال کا شکار ہو کر پستی اور گراوٹ کی انتہا کو پہنچ چکا ہے ۔لہٰذا ہمیں اپنے مقصد حیات کو سمجھ کر انسانیت کو اپنانا چاہئے کیونکہ انسانیت کی موجودگی ہی انسان کی عزت کا باعث بنتی ہے اور اس کی عدم موجودگی ذلت اور رسوائی کا باعث بنتی ہے ۔اگر ہم انسانیت کی قدر کریں گے ،انصاف کو زندہ رکھیں گے،ا عتدال کی راہ پکڑیں تو دنیا ہمیشہ ہمیں اچھے الفاظ میں یاد کرے گی اور دنیا سے جانے کے بعد اللہ ہمیں اس کا اجر وثواب اپنی رضا اور انعام کی صورت میں دے گا، لیکن اگر ہم انسانیت کو ماردیں گے، انصاف کو چھوڑ دیں گے تو دنیا شاید ہمیں یاد کرے گی مگر برے لفظوں اور برے ناموں سے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بحیثیت انسان اپنی بندگی کی حیثیت پہچانیں ، اپنے انسان ہونے کے شرف کی عملی طور پاسداری کریں، حق اور حق پرستوں سے دوستی کریں ،اللہ تعالیٰ کے خلیفہ و نائب ہونے کی حیثیت سے اس کے وفادار اور فرمان بردار بندے بن کر زندگی بسر کریں تاکہ ہمیں لوگ رہتی دنیا تک اچھے لفظوں میں یاد کرے اور آخرت میں ہمیں جنت نصیب ہو ۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو ۔ آمین ۔
  9797052494