اسلام ۔۔۔دین رحمت | ہر ہدایت روشن ہر حکم مبنی بر حکمت

دین ودنیا

24 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ماسٹر محمد یوسف نٹی پورہ، سری نگر
’’بے  شک اللہ تعالیٰ کے ہاں دین اسلام ہی ہے۔‘‘[آل عمران : 19 ]
قرآن کریم کی یہ آیت اُن لوگوں کی واضح تردید کر تی ہے جو یہ کہتے ہوئے سنے جارہے ہیں کہ اسلام کی تاریخ ڈیڑھ ہزار سال پرانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام وہی دین ہے جس کی دعوت و تعلیم تمام انبیاء کرام علیہم السلام اپنے اپنے زمانۂ نبوت میں دیتے رہے ہیں۔ اسلام کی کامل ترین شکل وہ ہے جو خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش فرمائی ۔ تکمیلِ دین کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی نے ارشاد فرمایا:’’آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھر پور اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہوگیا۔‘‘[ المائدہ:3 ] اب اس دین اسلام کے سوا کوئی اوردین، کوئی اور نظریہ، کوئی اور فکر (Thougt ) عنداللہ قبول نہیں ہوگا۔ اگر کوئی اختیار کرے گا بھی تو از خود نقصان اٹھائے گا۔اللہ اور اسکے مقبول و مطلوبہ دین یعنی اسلام کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ ارشاد الٰہی ہے: {وَمَن یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلَامِ دِینًا فَلَن یُقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِی الْآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِینَ}’’اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کو اختیار کرے گا، وہ اُس سے ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘[آل عمران:85 ]
اسلام دین رحمت ہے نہ صرف اپنوں کے لئے بلکہ پوری انسانیت اور پوری کائنات کے لئے یہ وہ دین ہے جو پوری دنیا کو امن و سلامتی کا پیغام دیتا ہے۔ اسلام عطا کرنے والا اللہ’’الرحم الرَّاحمین‘‘ہے اور جس عظیم المرتبت پیغمبر ﷺ کے واسطے سے یہ دین کامل کرکے لوگوں تک پہنچایا گیا ہے وہ ’’رحمۃ اللعلمین‘‘ ہیں۔ زیر ِ نظرقلم میں اسلام دین رحمت کے مختلف پہلوؤں پر نظر ڈالنے کی کوشش کرینگے تاکہ خود بھی جان کاری حاصل رہے اور دوسروں کے بے بنیاد اعتراضات کا قلع قمع بھی ہو جائے۔ 
دین رحمت کے مختلف پہلو
۱۔توحید باری تعالیٰ : 
توحید اساسِ دین ہے۔ یہ وہ عقیدہ ہے جسے اپنانے اور عملانے سے انسان تمام ذہنی، جسمانی ، فکری اور باطل بندھنوں (Bondages) سے آزاد ہوجاتا ہے۔ انسان ، انسان کا غلام نہیں رہتا ہے۔ رنگ، نسل، ذات، زبان اور وطنیت کی بنیاد پر عدم مساوات کا سد باب ہوتا ہے۔ ظلم ، جبر، تشدد، قتل ناحق، سوئِ اخلاق وغیرہ کا خاتمہ ممکن بن جاتا ہے۔ مظاہر پر ستی پر روک لگ جاتی ہے۔ لوگ قولاً وفعلاً متحد ہوجاتے ہیں۔ تفرقہ بازی اور قبائلی جھگڑے ناپید ہوجاتے ہیں ۔ نمونہ دیکھنا ہو تو بعثتِ محمدی کے بعد عرب معاشرے پر نظر دوڑائے۔
۲۔ عقیدہ رسالت:
دین رحمت کا دوسرا بڑا پہلو عقیدۂ رسالت ہے جو عقیدۂ توحید کا تکملہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کامل اسلام کو اپنے آخری نبی اور رسول سیدنا محمد ﷺ کی وساطت سے دنیا تک پہنچادیا اور سیدنامحمد ﷺ کو ’’رحمۃ للعلمین‘‘ کے لقب سے ملقب فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآنِ مجید میں جابجا رسولِ رحمت ﷺ کی اطاعت و اتباع کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ دین کامل پر ایک ہی رہبر و راہنما کی پیروی میں عمل ہوجائے اور بھانت بھانت کی بولی ختم ہوکر فرقہ بازی، گروہ بندی، مسلکی اختلافات اور نظریاتی کشمکش کا سلسلہ بند ہوجائے۔ قرآن و حدیث سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اُمت میں جب بھی کوئی اختلاف پید ا ہو تو اُس کا علاج کتاب و سنت سے ہی ممکن ہے اور کتاب کی تشریح سنت میں ہے۔ اتحاد ِ امت رحمت ہے، اختلافِ امت رحمت نہیںہے۔
۳۔ عبادات کے تناظر میں دین رحمت:
اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا مقصد بیان فرمایا ہے: ’’اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لئے پیداکیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔‘‘ عبادات اسلامی کی دو صورتیں ہیں۔ ایک مقررہ اور دوسری غیر مقررہ۔ مقررہ عبادات میں طریقہ، موقع اور محل مقرر ہوتا ہے جیسا کہ نماز، روزہ ، زکوٰۃ، حج انفاق فی سبیل اللہ ، جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ ۔ یہ عبادات اگرچہ فرضیت کا درجہ رکھتی ہیں لیکن دین رحمت کا تقاضا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ان کے عملانے میں رعایت بھی لازمی ہے ۔یہاں شدت (Rigidity)نہیں بلکہ لچک (Flexibility) ہے۔ جیسا کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا:’’دین میں آسانی ہے اور تنگی نہیں ‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے ارشادِ مبارک کی تشریح ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اُس کی طاقت ومقدرت سے زیادہ مکلف نہیں ٹھہراتا ہے۔ عبادات میں دین رحمت کو چند مثالوں سے بخوبی سمجھاجاسکتا ہے:
1۔نماز کے لئے وضو لازمی ہے۔ وضو کے بغیر نماز نہیں ہے(الحدیث)۔ اگر پانی موجود نہیں ہے یا موجود ہے لیکن پہنچ سے بعید ہے یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے اسے استعمال کرنے سے قاصر ہے تو اللہ تعالیٰ نے پاک مٹی سے تیمم کرنے کی اجازت دی ہے۔ یہی صورت حال غسل واجب ہونے کی صورت میں بھی ہے۔ 
2۔نماز ارکانِ اسلام میں ایک اہم ترین رکن ہے جو کسی بھی صورت میں معاف نہیں ہے اِلَّا یہ کہ کوئی مجنون ہو، نابالغ ہو یا بے ہوشی کی حالت میں ہو۔ اگر کوئی شخص کھڑا نہیں رہ سکتا ہے تو بیٹھ کر پڑھے اوراگر بیٹھ کر بھی نہ پڑھ سکے تو اُسے لیٹ کر اشاروں سے پڑھنے کی اجازت ہے۔
خواتین کو حیض یا نفاس کی حالت میں نماز معاف ہے، کوئی قضاء نہیں۔ 
3۔مجبوری کی حالت میں جمع بین الصلاتین کی اجازت ہے۔ سفر کی حالت میں نماز فرض قصر سے پڑھنے کا حکم ہے یعنی فرض چارکے بجائے صرف دو رکعتیں ۔
4۔ رمضان کے روزے فرض ہیں۔ البتہ مریض، مسافر اور محیضہ کو چھوڑنے کی اجازت ہے۔ تاہم عذر دور ہونے پر انہیں قضا کرنا لازم ہے۔ ہاں، جو دائمی مریض ہو اُسے ہر روزہ کے بدلے فدیہ دینے کا حکم ہے۔ 
5۔ ارکانِ اسلام کا آخری رکن حج بیت اللہ ہے جو زندگی میں ایک بار فرض ہے لیکن صرف اُس مسلمان پر جو اس کی استطاعت رکھتا ہو، مالی طور اور جسمانی طور بھی ۔
6۔ انفاق فی سبیل اللہ کی طاقت نہیں ہے تو ذکر الٰہی کرکے ثواب کمائیں۔
7 ۔ اللہ کی راہ میں جہاد بالسیف کی طاقت نہیں ہے تو مجاہدین ِاسلام کی غیر جہادی خدمت کرکے جہاد کا جیسا ثواب حاصل کرسکتے ہیں۔
8۔ رمضان المبارک میں رحمت عالم ﷺ نے تین راتیں صحابہ کرام ؓ کو نماز تراویح جماعت سے پڑھائی اور چوتھی رات آپ ﷺ اس لئے تشریف نہ لائے کہ تراویح اُمت پر فرض نہ بن جائے۔ 
9۔ مسواک کے بارے میں فرمایا کہ اگر اُمت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔
۴۔تحریم کی حکمت : 
ہر مسلمان کو جاننا چاہیے کہ محرمات کو حرام قرار دینے میں دین رحمت کی کیا حکمتیں پنہاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر سورۃ البقرۃ کی آیت 173 سے چار چیزیں حرام فرمائی ہیں۔ ۱۔مردار(خود مردہ حلال جانور)،۲۔دمِ مسفوح(ذبح کے وقت بہتاہوا خون)،۳۔سور کا گوشت (Pork)،۴۔غیر اللہ کے نام سے مشہور چیز۔اب دین رحمت کا اندازہ لگائیے کہ کوئی شخص انتہائی مجبورہوجاتا ہے ، بسیار کو شش کے بعد بھی کھانے کے لئے اِن ممنوعہ اشیاء کے سوا کچھ بھی نہیں میسر ہوجاتا ہے، تو رب کائنات نے فرمایا : ’’پھر جو مجبور ہو، تاہم قانون شکنی کرنے والا اور حد سے بڑھنے والا نہ ہو تو اُس پر یہ کھانے میں کچھ گناہ نہیں ۔‘‘اب اِن محرمات کو حرام قرار دینے میں دین رحمت کی حکمتوں پر غور کیجئے۔ خون ہمارے لئے حرام کیا گیا ہے۔ جدید سائنسی تجزیہ بتاتا ہے کہ خون میں کثرت سے یورک ایسڈ(Uric Acid) موجود ہے جو ایک تیزابی مادہ ہونے کی وجہ سے خطر ناک زہر یلی تاثیر اپنے اندر رکھتا ہے اور غذا کے طور پر اس کا استعمال سخت مضر ہے۔اسلامی طریقہ پر ذبح کرنے سے جانور کا سارا خون بہہ نکلتا ہے اور یورک ایسڈ بھی اسی کے ساتھ خارج ہوجاتا ہے۔ برعکس اس کے خود مردہ جانور کے جسم سے خون نہیں بہتا ہے اور یورک ایسڈ سمیت گوشت کے اندر جذب ہوجاتا ہے اور سارا گوشت یورک ایسڈ کی آمیزش کی وجہ سے زہریلا ہوجاتا ہے۔ اب سمجھ لیں کہ سور کا گوشت کیوں حرام کیا گیا ہے۔ جدید طبی تحقیقات نے بتایا ہے کہ اس کے اندر بہت سے نقصانات ہیں۔ مثلاً یہی یورک ایسڈ(Uric Acid) جو ہر جاندار کے خون میں موجود رہتا ہے اور جانداروں سے خارج ہوجاتا ہے مگر سور کے اندر سے خارج نہیں ہوتا ہے۔ گردے اس زہریلے مادے کو پیشاب کے ذریعے خارج کرتے رہتے ہیں۔ انسانی جسم سے یہ مادہ نوے فیصد ی خارج کردیتے ہیں مگر سور کے جسم کے عضلات کی ساخت کچھ اس قسم کی ہوتی ہے کہ اس کے خون کا یورک ایسڈ صرف دو فیصدی ہی خارج ہوپاتا ہے اور بقیہ اس کے جسم میں ہی جذب ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے سور خود بھی چوڑوں کے درد (Gout) میں مبتلا رہتا ہے اور اس کا گوشت کھانے والے بھی وجع المفاصل (Gout) جیسی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہیں۔
رہا سوال غیر اللہ کے نام سے مشہور چیز کا حرام ٹھہرنا۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ اس کا استعمال کرنے سے سب سے زیادہ محبوب چیز عقیدہ خراب ہوجانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ شرک و بدعات کی لت پڑجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق متاثر ہوجاتے ہیں۔ شراب کی حرمت میں یہ حکمت ہے کہ شراب نوشی صحت کو تباہ کرتی ہے۔ اس میں مال کا ضیاع اور اقتصادی بربادی ہے۔ اخلاقی پستی کی وجہ سے انسان حیوان بن جاتا ہے اور پھر قتل ، چوری، ڈکیتی اور عصمت دری جیسے واقعات کا مرتکب ہوجاتا ہے۔ 
سونا مرد پر حرام : اللہ کے رسول ﷺ نے مسلمان مرد پر ریشم کے کپڑے اور سونے کے زیورات حرام قرار دئے جس میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں نزاکت پیدا کرتی ہیں جو روز مرہ محنت ، مشقت اور وقتا فوقتاً جہاد فی سبیل اللہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ چونکہ مسلمان عورت گھر کی زینت ہے، یہ دونوں چیزیں اُس کے لئے حلال ہیں۔ 
۵۔تحفظ وتکریم انسانیت : 
دین رحمت کا ایک عظیم اور شاندار پہلو انسان اور انسانیت کا تحفظ ہے۔ اس سللسہ کا پہلا قدم رنگ ، نسل ، ذات پات، وطنیت ، قومیت کے نام پر اونچ نیچ ختم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو پیدائش کے لحاظ سے مساوی قرار دیا ہے:’’اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے کنبے اور قبیلے بنائے تاکہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو، اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ با عزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو۔‘‘[الحجرات: 13 ]
اس کا عملی نمونہ دیکھنا ہو تو دورِ صحابہ سے آج تک مسلمان اس کا عملی مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ اجتماعی عبادات، یکسان ضابطہ ٔ اخلاق ، مشترکہ جائے تدفین، مل جل کر کھانا پینا وغیرہ مساواتِ انسانی کے عملی مظاہرے ہیں۔ 
قتل انسان : کسی انسان کوناحق قتل کرنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد الٰہی ہے: ’’جس نے کسی شخص کو ناحق قتل کیا اُس نے پوری انسانیت کو قتل کیا اور اگر کسی شخص کو بچا لیا تو اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔‘‘[المائدہ:32]
اصول ِ جنگ: دین رحمت کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنے دین اور مال و جان کی حفاظت کے لئے مدافعانہ (Defensive ) جنگ لڑیں، جارحانہ(Offensive) جنگ کی اسلام میں اجازت ہی نہیں ہے۔ اسلام نے لامثال جنگی اصول قائم کئے ہیں۔ بر سرپیکار  دشمن قوم کے بوڑھوں ، عورتوں ، بچوں ، سبز درختوں، کھڑی فصلوں وغیرہ کو ہرگز کوئی گزند نہ پہنچائی جائے۔ مقتول کا مثلہ(Defacing) نہ کریں۔ معبدوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ جو ہتھیار ڈالیں اُن کے ساتھ جنگ نہ کی جائے، جنگی قیدیوں کے ساتھ نرمی برتی جائے وغیرہ۔
۶۔ عفوو درگذر: 
دین رحمت کی شان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ترین نبی ﷺ کو مشرکین و کفار اور اعداء دین کی ایذاء رسانیوں کے باوجود اُنہیں معاف کرنے کی ترغیب فرمائی۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کا ایک صفتی نام ہی ’’عفو‘‘ ہے۔ عفو و درگذر کی ایک تاریخی مثال فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان ہے: ’’آج تمہاری کوئی باز پرس نہیں ، تم سب آزاد ہو۔‘‘
۷۔دین میں جبر نہیں: 
اسلام کے دین رحمت کا خاص پہلو یہ یہ کہ یہاں کسی بھی قسم کے تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو اپنا پسندیدہ دین کہنے کے باوجود حکم عام دیا ہے:’’ دین میں کوئی جبرنہیں‘‘[البقرہ:256 ]جو جس مذہب پر رہنا چاہے رہ سکتا ہے۔ اسلام نے مذہب کی آزادی دی ہے تاہم اسلام کی طرف لوگوں کو حکمت اور حسن تدبیر سے دعوت ِ دنیا لازم ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’ اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور اُن سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے۔‘‘اس حکم میں دعوت و تبلیغ کے اصول بیان کئے گئے ہیں جو حکمت، موعظ حسنہ اوررفق و ملائمت پر مبنی ہیں۔ درشتی اور تلخی سے بچنا ہے۔ ابتدا سے آج تک یہی نظر آرہا ہے کہ ہر زمانے میں لوگ اسلام کی طرف اس کی خوبیاں دیکھ کر ہی مائل ہوئے ہیں جن میں عامیوں کے علاوہ بڑے بڑے مفکر ین، مورخین ، مصنفین، معلمین حتی کہ بڑے بڑے سائنسدان بھی شامل ہیں۔ جو اسلام کی حقانیت ، علمی گہرائی، عملی انداز اور رویہ ، اخلاقی برتری، مساواتِ انسانی اور سب سے بڑھ چڑھ کر رحیمانہ کردار دیکھ کر ہی دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے اور ہورہے ہیں۔ 
۸۔اسلامی عبادات:
 اسلام میں عبادت کا سلسلہ غیر منقطع ہے۔ ایک مسلمان کی پوری زندگی میں ایک ہی مقصدپیش نظر رہتا ہے، جو یہ ہے کہ وہ اپنے رب واحد کی رضا و خوشنودی حاصل کرے۔ وہ ہر عمل اللہ کے حکم کے تحت او راپنے نبی ﷺ کی سنت کے مطابق بجالاتا ہے جو اس کے لئے پانی پلانا، شجر کاری کرنا، راستے سے موذی چیز دور کرنا، مصافحہ کرنا، سلام و دعا کرنا مہمان نوازی کرنا، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت کرنا، اپنے بال بچوں کو پالنا پوسنا، حلال کمائی کرنا، عدل و انصاف کرنا، حتیٰ کہ اپنی شہوت کو حلال اور جائز طریقے سے پورا کرنا وغیرہ سب عبادات کے زمرے میں آتے ہیں۔ واضح رہے کہ تمام امور بہت ہی آسان اور قابل عمل ہیں۔،کوئی تنگی یا دشواری نہیں ہے۔ دین ِرحمت میں کوئی ایسی عبادت شامل نہیں ہے جس کو عملانا کسی پر شاق گذرے۔ اپنے جسم کو کسی طرح سے تکلیف میں ڈالنا ، ترکِ دنیا کرنا ، کھانا پینا چھوڑنا، نکاح نہ کرنا، تنہائی اختیار کرنا، معاشرتی زندگی سے لاتعلق ہونا وغیرہ اسلامی عبادات کے زمرے میں نہیں آتے ہیں اور نہ ہی اسلام اِن کی اجازت دیتا ہے۔ دین ِرحمت کا تقاضا ہے کہ عبادت کے نام پر اپنے لئے نہ دوسروں کے لئے کوئی تنگی اور پیچیدگی پیدا کی جائے۔ اسلامی عبادات کے طور طریقے انتہائی آسان اور ہر لحاظ سے قابل عمل ہیں اور مرد، عورت، جوان، بوڑھے، طاقت ور، کمزور، صحت مند، بیمار، مقیم ، مسافر سب کے لئے عملانا آسان ہیں۔ بس ایک بات جو قبولیت عبادت کی پہلی اور آخری ضرورت ہے ، وہ ہے اخلاص اور للہیت۔ ارشاد باری تعالیٰ : ’’اور انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور اسی کے لئے دین کو خالص کریں‘‘[البینہ :5]
۹۔ دین رحمت اور پیروی مخلوقات:
 اسلام کو یہ طرہ امتیاز حاصل ہے کہ یہ نہ صرف انسانوں کے لئے رحمت ہے بلکہ حیوانات ، جانور ، پرندے، نباتات ، کیڑے مکوڑوں کے لئے بھی پیغامِ رحمت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’لوگ جب زکاۃ روک لیں گے تو ان پر بارش نازل نہیں ہوگی۔ اور اگر چوپائے جانور نہ ہوتے تو اُن پر بارش بالکل ہی بند ہوجاتی ۔‘‘[حاکم]
جانوروں پر ترس کھانا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ اس عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کسی گناہ گار کی مغفرت فرماتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص پر لعنت کی ہے جو کسی جانور کو اس کے چہرے کو داغے (To Cauterize) یا اس کے منھ پر مارے۔ [ابوداؤد:2564 ]لوگ زندہ جانور کے بدن سے گوشت کو لوتھڑا کاٹ لیتے اور اُسے پکا کر کھاتے تھے۔ آپ ﷺ نے ایسا کرنے سے منع فرمادیا۔
جانور کی دُم اور ایال (Mane) کاٹنے سے منع فرمایا کہ دُم اُن مورچھل (Whisk) اوریال اُن کا لحاف ہے۔جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا۔ جانوروں کو باندھ کر نشانہ بازی کا بے رحمانہ عمل بھی سختی سے منع فرمایا ۔جانور کو ذبح کرنے سے پہلے چھری نہ دکھانا، چھری تیز کرکے استعمال کرنا، دوسرے جانور کے سامنے ذبح نہ کرنا وغیرہ جیسے مشفقانہ احکامات دئے۔
۱۰۔ دین ِرحمت کا اثر عمومی اخلاق وآداب پر :
 اخلاق و آداب حیاتِ انسانی کا ایک اہم پہلو ہے۔ اگرچہ اس کا لحاظ پر ایک مذہب نے کم وکاست کیا ہے لیکن اسلام نے اس کا بھر پور لحاظ رکھا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں: 
1۔ باہم ملاقات کے وقت دو مسلمان کوئی کلام کرنے سے پہلے ایک دوسرے کو سلام کریں۔پہل کرنے والا ’’السلام علیکم‘‘ کہے، جواب دینے والا’’وعلیکم السلام ‘‘کہے۔ اسلام میں سلام کا یہ طریقہ منفرد ہے۔دونوں ایک دوسرے کو سلامتی کی دعا دیتے ہیں۔
2۔ چھینک پر الحمدللہ علی کل حال کہنا۔ سننے والا’’یرحمک اللہ‘‘ کہے۔جدید تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ چھینکتے وقت دِل کی دھڑکن رک جاتی ہے۔ لہٰذا زندگی واپس ملنے پر چھینکنے والا اللہ کا شکر بجا لاتا ہے۔
3۔ جب کپڑے پہنے تو دائین بازو سے شروع کریں اور کپڑے اتارتے وقت پہلے بائیں بازو سے اتاریں۔
4۔ جب جمائی(Yawn)آئے ہو تو منھ پر ہاتھ رکھیں۔ ایسا کرنا اس لئے کہا گیا ہے کہ منھ کھلا رکھنے سے انسان بھلا نہیںلگتا ہے، کوئی کیڑا منۂ کے اندر داخل ہوسکتا ہے اور یہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ یہ کہ منہ کو بے اختیار کھولنے سے جبڑے متعلقہ قبضوں( Hunges) سے کھل جانے کا خطرہ ہوتا ہے جو بعد میں جراحی کے بغیر ٹھیک نہیں ہوسکتے ہیں۔
۱۱۔ دین رحمت اور برزخی زندگی:
 ہمارا ایمان اخروی زندگی پر ہے۔ اور یہی ہمیشہ رہنے والی زندگی ہے ۔ جو کامیاب اور خوش حال بنانے کے لئے ہم دنیا میں اعمال صالح انجام دیتے ہیں۔ اسلام کے دین رحمت ہونے کا فائدہ اس بر زخی زندگی میں حاصل رہیگا۔ اور یہ رحمت قرآن کے ذریعے ہی حاصل ہوگی۔ سیدنا براء بن عازب ؓ سے ایک طویل روایت میں ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا: ’’جب میت کو قبر میں دفن کیا جاتا ہے تو اس کے پاس دو فرشتے منکر اور نکیر آتے ہیں اورد رج ذیل تین سوال پوچھتے ہیں: 
۱۔(مَنْ رَّبُّکَ؟)’’تیرا رب کون ہے؟،۲۔(مَنْ نَبِیُّکَ؟)’’ تیرا نبی کون ہے؟،۳۔( مَا دِیْنُکَ؟ )’’تیرا دین کون سا ہے؟‘‘مومن آدمی پہلے سوال کا جواب یوں دیتا ہے:(رَبِّیَ اللّٰہ)’’میرا رب اللہ ہے۔ دوسرا سوال کا جواب یوں دیتا ہے: (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) ’’میرے نبی ہیں۔‘‘ اور تیسرے سوال کے جواب میں کہتا ہے:( دِیْنِیَ الإسلام)’’میرا دین اسلام ہے۔‘‘پھر فرشتے پوچھتے ہیں: (وَمَایُدْرِیْکَ؟)’’تجھے یہ کیسے معلوم ہوا؟‘‘مومن جواب دیتا ہے: ’’ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی۔‘‘’[سنن ابوداؤد]صاف ظاہر ہوا کہ برزخی زندگی کی کامیابی اُسی کو حاصل ہوگی جو دین رحمت کو اپنا کر عمل کرے گا۔ 
قارئین کرام ! دین رحمت کے یہ چندنکات اس لئے بیان کئے گئے کہ جو لوگ دین اسلام پر رجعت پسندی، دہشت پسندی کے بے جا الزامات لگاتے ہیں اور بدقسمتی سے کچھ نام نہاد مسلمان بھی آنکھیں بند کرکے اور اسلام سے بے خبری کی وجہ سے اِن دشنام بازوں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں، وہ دین رحمت کے بارے میں کچھ واقفیت حاصل کریں۔ ساتھ ہی اسلام پسندوں کے ایمان و ایقان میں تروتازگی پیدا ہوجائے۔
 ٭٭٭٭