تازہ ترین

وادی کی تینوں نشستوں پر نیشنل کانفرنس کی واپسی

ڈاکٹر فاروق سرخرو،محبوبہ مفتی اور غلام احمد میر کو شکست۔جموں و لداخ میں کنول کھلا

24 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید +یوگیش سگوترہ
سرینگر+جموں //پارلیمانی انتخابات 2019میں بی جے پی نے جموں اور لداخ میں اپنا دبدبہ قائم رکھا جبکہ وادی میں نیشنل کانفرنس نے پی ڈی پی کو منظر سے ہٹاکرتینوں نشستوں پر جیت درج کر لی ۔پیپلز کانفرنس ایک بار پھر اپنا کھاتہ نہ کھول سکی جبکہ انجینئر رشید نے حیران کن طور پر سیاسی پنڈتوں کو حیران کردیا۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور ریاستی کانگریس صدر غلام احمد میر کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔تاہم نیشنل کانفرنس صدر ڈاکر فاروق عبداللہ چنائو جیت گئے ہیں۔

وادی

وادی میں جمعرات کو ووٹ شماری کا سلسلہ صبح 8بجے شروع ہوا۔سہ پہر تک وادی کے نتائج کی نہج پوری طرح سامنے آئی تھی اور جس بات کے اندازے پہلے ہی لگائے جارہے تھے اسی طرح کے نتایج بھی سامنے آگئے۔نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے سرینگر پارلیمانی نشست پر شاندار جیت درج کر کے اپنے حریف پی ڈی پی کے سید آغا محسن کو 70,050ووٹوں سے شکست دی ۔ڈاکٹر فاروق نے 106750ووٹ حاصل کئے جبکہ آغا محسن کو 36700ووٹ ملے ۔اس نشست سے انتخاب لڑ رہے بی جے پی لیڈر خالد جہانگیر نے 4631ووٹ حاصل کئے جبکہ پیپلز کانفرنس اُمیدوار عرفان رضا انصاری نے 28,773ووٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی 83 سالہ فاروق عبداللہ کا سیاسی کیریئر قریب4 دہائیوں پر محیط ہے۔ انہیں اپنے طویل سیاسی کیریئر میں پہلی مرتبہ  2014ء کے پارلیمانی انتخابات میں پی ڈی پی کی ٹکٹ پر انتخابات لڑنے والے طارق حمید قرہ نے 42 ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے ہرایا تھا۔اسکے بعدضمنی انتخابات میں ڈاکٹر فاروق کامیاب ہوئے اورانہوں نے اپنے مد مقابل پی ڈی پی اُمیدوار نذیر خان کو 10 ہزار 775 ووٹوں کے فرق سے ہرایا تھا۔15اسمبلی حلقوں پرمشتمل شمالی کشمیرکی بارہمولہ پارلیمانی نشست بھی نیشنل کانفرنس نے اپنے نام کر لی ۔بارہمولہ پارلیمانی نشست سے محمد اکبر لون نے اپنے حریف پیپلز کانفرنس کے راجہ اعجاز علی کو 31,919ووٹوں سے شکست دی ۔محمد اکبر لون نے 1,31,999ووٹ حاصل کئے جبکہ راجہ اعجاز علی نے 1,02,235ووٹ حاصل کئے ۔ عوامی اتحاد پارٹی کے صدر انجینئر رشید اس حلقہ میں تیسرے نمبر پر رہے ، جنہوں نے اپنے ووٹوں میں بہتری لاتے ہوئے 1,00,080ووٹ حاصل کئے ۔پی ڈی پی کے عبدالقیوم وانی نے 52,801ووٹ حاصل کئے جبکہ کانگریس کے فاروق احمد میر نے 34058ووٹ حاصل کئے ۔معلوم رہے کہ اس پارلیمانی نشست پر 2014کے پارلیمانی انتخابات میں مظفرحسین بیگ نے کل ایک لاکھ75ہزار277ووٹ لیکرکامیابی حاصل کی تھی ۔ اننت ناگ پارلیمانی نشست اب نیشنل کانفرنس کی ہو گئی ہے یہاں سابق جسٹس حسنین مسعودی نے پی ڈی پی اور کانگریس پارٹی کے صدورکو پیچھے چھوڑ کر یہ نشست اپنے نام کر کے دونوں جماعتوں کو ایک بہت بڑا جھٹکا دیا ہے ۔نیشنل کانفرنس اُمیدوارکی جیت اس اعتبارسے کافی اہم مانی جائیگی کیونکہ16اسمبلی حلقوں پرمشتمل جنوبی کشمیرکوپی ڈی پی کامضبوط گڑھ سمجھاجاتاہے ۔جسٹس حسنین نے اپنے حریف اور کانگریس صدر غلام احمد میر کو 7,153ووٹوں سے شکست دی ۔جسٹس حسنین نے 40,032ووٹ حاصل کئے جبکہ غلام احمد میر نے 32,879ووٹ حاصل کئے ۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی تیسرے نمبر پر رہیں اور انہوں نے 30,223ووٹ حاصل کئے جبکہ بی جے پی لیڈر صوفی یوسف 9687ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے ۔

جموں، لداخ

بھارتیہ جنتا پارٹی نے صوبہ جموں کی دونوں پارلیمانی نشستوں کے علاوہ لداخ سیٹ پھر سے جیت لی ہے ۔ جموں پونچھ اور ادہم پور ڈوڈہ حلقہ سے موجودہ ممبران پارلیمنٹ جگل کشور شرما اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ تو لداخ حلقہ سے تسیرنگ نامگیال کثیر جہتی مقابلوں میں  فتحیاب رہے ۔ جموں پونچھ حلقہ سے جگل کشور شرما نے  840214ووٹ حاصل کئے جو 2014 میں حاصل کردہ ووٹوں سے  220,219زیادہ تھے۔ انہوں نے کانگریس امیدوار اور سابق وزیر رمن بھلہ کوقریب 2.89لاکھ ووٹوں سے شکست دی، کانگریس امید وار نے کل  551187ووٹ حاصل کئے ۔بہو جن سماج پارٹی کے بدر ی ناتھ نے 14053 ، سابق وزیر لال سنگھ ، جنہوں نے ڈوگرہ سوابھیمان سبھا کے نام پردونوں نشستوں سے الیکشن لڑا تھا نے صرف  6849، پینتھرز پارٹی کے سرپرست پروفیسر بھیم سنگھ  3705جب کہ 2546 ووٹ NOTAکے کھاتہ میں گئے ۔ادہم پور پارلیمانی حلقہ سے سابق ممبرپارلیمنٹ اور مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جیت درج کی انہوں نے 715406ووٹ حاصل کئے ، کانگریس کے وکرما دتیہ سنگھ ان کے قریب ترین حریف رہے جنہیں 366123ووٹ ملے۔ اس کے علاوہ پینتھرز پارٹی چیئر مین ہرشدیو سنگھ نے 24135، چودھری لال سنگھ نے 18476، بہوجن سماج پارٹی کے تلکراج بھگت نے 16442ووٹ حاصل کئے ۔ 7560ووٹ نوٹا کے کھاتہ میں گئے جب کہ دیگر 7امیدوار وں نے 20707ووٹ حاصل کئے ہیں۔ لداخ میں بی جے پی امیدوار تسیرنگ نامگیال فاتح رہے انہوں نے قریب 9000ووٹوں کے فرق سے جیت حاصل کی۔ اس نشست پر نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے مشترکہ امیدوار سجاد حسین اور کانگریس کے باغی امیدوار اصغر علی کربلائی کے کانگریس کے رگزن سپلابار میدان میں تھے ۔ بھاجپا امیدوار 41315، سجاد حسین نے 31552، کربلائی نے 29069تو رگزن سپالبر نے 20447ووٹ لئے، 901ووٹ نوٹا کے کھاتہ میں گئے ہیں۔