تازہ ترین

رمضان کے مابعد!

خدا سے لو لگانا نہ چھوڑیں

23 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

سعدیہ شمیم نانپوری ۔۔۔۔۔ نانپور سیتامڑھی بہار
 ماہ  صیام کے رعنائیوں میں افطار ،سحری ،تراویح شامل ہیں ۔اس ماہ میں کلمہ خواں خشوع اور خضوع کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ۔چنانچہ یہ ایک پاکیزہ ماحول پیدا کرتا ہے ،مساجد کی رونقیں بڑ ھ جاتی ہیں، اذان سنتے ہی لوگ اپناکام دھندا چھوڑ کر مسجد کی طرف دوڑتے ہیں ، پرہیزگار ی اور نیکیوں اک سماں بندھ جاتا ہے ، اخلاق کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوششیں ہوتی ہیں ۔اس ماہ میں جو لوگ بوجوہ روزے نہیں رکھتے، وہ بھی معاشرے میں اپنے آپ کو بہتر انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے کو معاف کرنا ،فحش کلامی نہ کرنا ،دھوکا نہ دینا، جھوٹ نہ بولنا ،خیرات وصدقات کرنا ، یہ سب اخلاقی امور اس ماہ میں عروج پر ہوتے ہیں ۔
رمضان کا مہینہ کی برکت ہی ہے برکت ہے کہ زیادہ تر لوگ اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اپنی بساط کے مطابق زکوٰۃ و خیرات کی ادائیگی کرتے ہیں،رمضان کے شب و روز کی ایک الگ ہی خوبصورتی ہوتی ہے ۔یہ ماہ ایک الگ ہی قسم کا سکون بخشتا ہے ۔ہر مسلمان خواہ مرد ہو یا عورت روزے رکھ کر اور زکوٰۃ  ادا کر نے کے ساتھ ساتھ اپنی نجی اورسماجی زندگی میں بھی کافی تبدیلیاں لاتے ہیں کہ یہ دل کو چھو جاتی ہیں ۔نماز وعبادات کی پابندی دیکھ کر بچے بھی خوش دلی سے روزے رکھتے ہیں ۔ا ب تو سائنسدانوں نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ روزے رکھنا ہمارے لئے ہر طرح سے مفید ہے کہ جو لوگ روزے سے ہوتے ہیں ، اُن پرہارٹ اٹیک ،کینسراور دماغی بیماریاں لاحق ہونے کے خطرے کم ہو جاتے ہیں ۔حال ہی میں ایک مشہور عالم جاپانی ماہر طب نے داعویٰ کیا کہ اس نے کینسر کا علاج ڈھونڈ لیا ہے کہ جو لوگ روزے رکھتے ہیں اس میں کینسر کم ہی پایا جاتا ہے۔انہوںنے دنیائے انسانیت کوتجویز دی ہے کہ کینسر کا جان لیوا مرض ختم کرنے کے لئے ہر سال بیس سے پچیس دن تک بھوکے رہنا چاہئے ۔ اسلام نے پہلے ہی یہ احسان کیا ہے کہ ہم پر روزے فرض کئے ہیں ۔یہ اللہ کا کرم ہی ہے جس نے اپنی عبادات میں بھی بیماریوںکا علاج  پوشیدہ رکھا ہے ۔مسلمان پہلے سے ہی اللہ کو راضی رکھنے کے لئے روزے رکھتے ہیں ،مگر فکرکرنے اور پریشانی کی بات یہ ہے کہ یہ سب صرف چاند رات تک محدود رہتا ہے، چاند رات کے بعد یہ روح پرور پاکیزگی ہماری زندگیوں سے ختم ہو جاتی ہے ۔ماہ صیام کے بعد ہم یکایک اپنی ساری پرہیزگاری بھول جاتے ہے ۔یہ بات سچ ہے کہ رمـضان میں وہ لوگ بھی نمازی اور پرہیزگار بن جاتے ہیں جو مہینوں قرآن اور مصلے کو ہاتھ تک نہیں لگاتے ۔ہر جگہ وعظ خوانیاں ، اصلاحی  تقریریں، دینی مسائل کی جان کاری،روزے کے موضوع پر گفتگوئیں اور دینی باتیں اس ماہ میں زور و شور سے ہوتی ہیں اور لوگ اپنا زیادہ وقت عبادت میں لگا دیتے ہیں ۔ وہ لوگ جو شعور کے ساتھ روزے کی حالت میں ہوتے ہیں، انہیں واقعی غریب و مفلوک الحال لوگوں کی بھوک پیاس اور تکلیف کو سمجھنے کی توفیق ملتی ہے۔ غرض رمضان المبارک میں دینی اور دنیوی معاملات کا ایک ایساپُر کشش ماحول بر پا ہوتا ہے کہ دل چاہتا ہے کہ ہمیشہ روزے رکھیں، نمازیں پڑھیں ، پرہیزگاریاں اختیارکریں مگرجونہی رمضان ختم ہوجاتا ہے ہم پر دنیوی زندگی کی ہم پر مادیت دوبارہ حا وی ہونے لگتی ہے۔ دن گزرتے گزرتے لوگوں کے زندگیوں سے ساری پرہیز گاری اور اخلاقی اصولوں کی ہوا نکل جاتی ہے اور وہ اپنی دنیوی یا مادی زندگی میں اس قدر مشغول ہوتے ہیں کہ ایک وقت بھی نما ز ادا کر نا دشوار ہوتا ہے اور اگلے سال رمضان تک نماز اور باقی عبادات کو موخر کر دیتے ہیں ۔دراصل اللہ رب العزت نے رمضان کو مستقل اور مکمل تربیت کا مہینہ قرار دیا ہے تاکہ ہم میں تزکیہ نفس کا جذبہ راسخ ہوجائے ۔اسلام اپنے ماننے والو ں کو جن راستوں پر چلنے کا حکم دیتا ہے وہ چند مذہبی رسومات کی ادائیگی تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری زندگی کو بدل دینے کا نقش راہ ہ یجس کی سب کی منزل روح اور جسم کی ہمہ گیر اصلاح اور بالیدگی ہے ۔اسلام ہرمسلم سے زندگی کے آخری دم تک ہدایت وراست روی میں تسلسل کا تقاضا کرتا ہے ۔رمضان کا خوبصورت مہینہ اسی خدائی سبق کی گویا ہمیں یادہانی ہے اور اس مہینے میں تقویٰ، پرہیزگاری اور تزکیہ نفس حاصل کرنا عبادات کا مقصود ہے ۔
یہ بات سچ ہے کہ رمضان آتے ہی وہ لوگ بھی نمازی اور پرہیزگار بن جاتے ہیں جو شاید سالوں سے نماز وقرآن کوسوں دور رہتے ہیں مگرجیسے ہی رمضان کا بابرکت مہینہ ختم ہوتا ہے تو دیکھا یہ جاتا ہے کہ غیر سنجیدہ لوگ رمضان کی برکات پھرسے یکسر بھول جاتے ہیں ، مادی زندگی کی طرف لوٹ کر پہلی جیسی روٹین پر گامزن رہتے ہیں۔ ایسا کیا تو رمضان کا زندگی میں کوئی فائدہ نہیں ۔ بے شک رمضان کے پاکیزہ مہینہ میں اللہ رب العزت اپنی رحمتیں وسیع کر دیتاہے لیکن بدقسمت لوگ اس رحمت کو کم ہی سمیٹ پاتے ہیںکہ عید کے بعد ان کے روحانی زندگی کی کھیتی پھر سے سوکھ جاتی ہے ۔ ہمیں اگردن کے صیام اور رات کے قیام کا کوئی انعام چاہے تو غیر رمضان میں بھی رمضان جیسے اعمال ہی ہمارا فوکس ہونے چا ہیے، تب جاکر ہماری سحری افطاری کا کوئی مطلب ہے،ورنہ بھوک پیاس اور تھکاوٹ روزوں کا کوئی ماحصل نہیں ۔
فون نمبر :7739123678
