روح افزا نایاب

افطار پھیکا پھیکا کیوں؟

23 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

سہیل انجم
اس  وقت پوری دنیا کی نظریں ہندوستان کے پارلیمانی انتخابات پر لگی ہوئی ہیں۔ کوئی ملک ایسا نہیں جہاں کے میڈیا میں الیکشن کی خبریں سرخیاں نہ بٹور رہی ہوں۔ یہاں تک کہ ایک امریکی جریدہ ’ٹائم‘ نے اپنے ٹائٹل پیج پر وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک تصویر شائع کرکے ان کو Divider In-chief قرار دیا ہے۔ یعنی ان کو ہندوستان کو بانٹنے والا سب سے بڑا رہنما بتایا ہے۔ اس نے اپنی کور اسٹوری یعنی حاصلِ جریدہ مضمون میں بہت سے سوالات اٹھائے ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ کیا ہندوستان کی جمہوریت مزید پانچ برسوں تک نریندر مودی کو برداشت کر سکے گی۔ لیکن اس وقت ہم ایک دوسری خبر کی جانب قارئین کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں۔ یہ خبر بھی پوری دنیا کے میڈیا میں چھائی ہوئی ہے۔ انگریزی، ہندی اور اردو کے اخبارات اور ویب سائٹوں پر یہ خبر نمایاں انداز میں موجود ہے۔ اس نے الیکشن کی خبروں کے درمیان اپنی جگہ بنائی ہے۔ اور اسی سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مذکورہ خبر کتنی اہم ہے۔
یہ غالباً ۴۸۹۱ءکا واقعہ ہے۔ خاکسار اپنے چند دوستوں کے ساتھ مالویہ نگر کے بیگم پور علاقے میں کرائے کے ایک ٹین شیڈ میں قیام پذیر تھا۔ ہم تینوں روم پارٹنرس یعنی خاکسار اور سلیم انور اور مبارک حسین کے مشترکہ دوست نعیم صاحب رمضان میں افطار کرنے کے لیے بٹلہ ہاو س جامعہ نگر سے ہم لوگوں کے کمرے پر آئے۔ ان دنوں برف کی شدید قلت ہوا کرتی تھی۔ سب کے گھروں میں فریج نہیں ہوتا تھا۔ لوگ بازار سے برف خرید کر لاتے تھے۔ اتفاق سے اس روز نہ تو ہمارے مکان مالک کے یہاں برف ملی اور نہ ہی بازار میں۔ اس پر نعیم صاحب نے بڑی حسرت کے ساتھ کہا کہ ’اوہو! آج تو افطار گونگا ہو گیا‘۔ لیکن اب برف کے بغیر افطار گونگا نہیں ہوتا بلکہ شربت روح افزا کے بغیر گونگا ہوتا ہے۔ قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ اچانک روح افزا کا ذکر کیوں چھیڑ دیا گیا۔ در اصل انتخابی خبروں کے درمیان اسی خبر نے میڈیا میں اپنا راستہ بنایا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان اور خلیجی ملکوں اور بعض امریکی و برطانوی میڈیا اداروں میں بھی یہ خبر چھائی ہوئی ہے۔ موسم گرما اور بالخصوص ماہ رمضان کا پسندیدہ مشروب اگر کوئی ہے تو وہ یقیناً روح افزا ہی ہے۔ خاص طور پر شمالی ہند کے روزہ دار افطار کے وقت مختلف اقسام کے پھلوں، پکوڑوں اور کھجور کے ساتھ ساتھ روح افزا سے ہی اپنی روح کو تازگی پہنچاتے ہیں۔ لیکن اگر روح افزا دسترخوانوں سے غائب ہو جائے تو ذرا سوچیے کہ روزہ داروں پر کیا گزرے گی۔ آجکل شمالی ہند کے روزہ داروں کا افطار پھیکا پھیکا بلکہ ’گونگا گونگا‘ سا ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ روح افزا کی عدم دستیابی ہے۔ گزشتہ سال ستمبر اکتوبر میں ہمدرد لیباریٹری غازی آباد میں روح افزا کی پروڈکشن بند ہو گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کی وجہ ہمدرد پر قبضے کی خاندانی لڑائی ہے۔ ہم اس لڑائی پر اظہار خیال نہیں کریں گے کہ خدا نخواستہ کسی فریق کی حمایت یا مخالفت کا پہلو نکل آئے۔ حالانکہ ہند و بیرون ہند کے میڈیا میں اس قانونی لڑائی پر تفصیل سے روشنی ڈالی جا رہی ہے۔ لیکن ہمارا معاملہ تو غالب کی زبان میں یہ ہے کہ ’ہم تو ہیں عاشق ہیں تمھارے نام کے‘۔ بچپن سے ہی جن اشیا کے نام زبانوں پر چڑھے رہے ہیں اور جن سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں ان میں روح افزا قابل ذکر ہے۔ اس کا نام لیتے ہی زبان پر اس کی لذت محسوس ہونے لگتی ہے۔ موسم گرما میں اور بالخصو گرمائی رمضان میں روح افزا کی خریداری اس ماہ مقدس کے آغاز سے قبل ہی شروع ہو جاتی ہے۔ لیکن اس بار جب روح افزا کا دیدار نہیں ہوا تو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اظہار خیال کرنے والوں کا سیلاب آگیا۔
خلیج کے انگریزی روزنامہ گلف نیوز نے شربت روح افزا کے سلسلے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ہمدرد کے قیام پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ اس کے مطابق حکیم حافظ عبد المجید نے ۸۰۹۱ءمیں فصیل بند شہر دہلی کی تنگ گلیوں میں ہمدرد قائم کیا تھا۔ انھوں نے موسم گرما میں دلی والوں کی پیاس بجھانے، لو سے بچانے اور جسم میں پانی کی کمی کو دور کرنے کے لیے جڑی بوٹیوں، پھلوں کے رس اور کچھ مخصوص یونانی ادویات کو ملا کر ایک سیال بنایا تھا۔ انھوں نے اس کا نا روح افزا رکھا۔ یعنی ایک ایسا شربت جو پیتے ہی روح میں تازگی دوڑا دے۔ ایک آرٹسٹ مرزا نور احمد نے ۰۱۹۱ءمیں روح افزا کی بوتل پر چسپاں کیا جانے والا لیبل تیار کیا جو مختلف شوخ رنگوں سے بنایا گیا تھا۔ وہ ایسا کلر فل لیبل تھا کہ اس وقت دہلی میں اسے چھاپنے والا کوئی پریس نہیں تھا۔ لہٰذا اسے ممبئی کے بولٹن پریس آف پارسیز میں چھپوایا جاتا تھا۔ چند دہائیوں کے بعد حکیم عبد المجید نے اس سیال کو شربت میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب پہلی بار یہ شربت بازاروں میں آیا تو اسی وقت اس کے مستقبل کا اندازہ لگ گیا تھا۔ حکیم عبد الحمید کے پوتے عبدالمجید کے مطابق جب اس کا پہلا بیچ تیار کیا گیا تو اس کی مہک اور ذائقہ نے شائقین کو اپنا فریفتہ بنا لیا۔ لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لینے لگے اور ایک قسم کا ہیجان برپا ہو گیا تھا۔ لوگ پوچھنے لگے تھے کہ ’یہ ہو کیا رہا ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ چند گھنٹوں کے اندر پورا بیچ ختم ہو گیا۔ 
تقسیم ملک نے روح افزا کو بھی تقسیم کر دیا۔ اس خاندان کے بیشتر افراد پاکستان چلے گئے۔ لیکن حکیم عبد الحمید نہیں گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ میرا ملک ہے اور میں یہیں رہوں گا۔ حکیم عبد الحمید کے چھوٹے بھائی حکیم محمد سعید بھی پاکستان چلے گئے۔ وہاں انھوں نے ہمدرد قائم کیا۔ ہندوستان میں تو ہمدرد کا بزنس خوب چل رہا تھا۔ لیکن حکیم سعید کو پاکستان میں ہمدرد کو کھڑا کرنے میں زبردست جاں فشانی سے کام لینا پڑا۔ انھوں نے کراچی میں کرائے کے ایک چھوٹے سے مکان میں ہمدرد قائم کیا تھا۔ بالآخر ۳۵۹۱ءمیں ہمدرد لیباریٹریز کا بزنس آسمان پر پہنچ گیا اور حکیم سعید نے بھی اسے وقف میں تبدیل کر دیا۔ حکیم سعید کی بیٹی اور ہمدرد لیباریٹریز وقف پاکستان کی چیئرپرسن سعدیہ رشید کہتی ہیں کہ روح افزا نام پنڈت دیا شنکر نسیم کی مثنوی ’گلزار نسیم‘ سے مستعار ہے۔ اس مثنوی میں روح افزا نامی ایک کردار ہے۔ یہ نام وہیں سے لیا گیا ہے۔ حکیم سعید نے سابق مشرقی پاکستان میں بھی ہمدرد کی شاخ کھولی تھی جو اب بھی بنگلہ دیش میں موجود ہے۔
روح افزا کی عدم دستیابی کی خبر تو اس وقت پر لگا کر اڑنے لگی جب ہمدرد لیباریٹریز پاکستان نے اعلان کیا کہ اگر ہندوستان میں روح افزا ناپید ہو گیا ہے تو ہم موجود ہیں، ہم واگہہ کے راستے یہ مشروب ہندوستان بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے بعد تو ٹویٹر نے اس پر طوفان کھڑا کر دیا۔ متعدد یوزرس نے، ہندوستان کے بھی اور پاکستان کے بھی، اس پر اظہار افسوس کیا اور ہمدرد کے ذمہ داروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کی پروڈکشن شروع کریں۔ ایک صارف نے لکھا کہ یہ ایک ایسا مشروب ہے جو ہمیں بچپن میں لے جاتا ہے۔ ہم یہ تصور ہی نہیں کر سکتے کہ روح افزا نہیں مل رہا ہے۔ ایک دوسرے صارف کے مطابق میرا بھائی اس کے بغیر افطار نہیں کرتا۔ جب بازار میں یہ دستاب نہیں ہوا تو ہماری امی نے گھر پر ہی اسے بنانے کی کوشش کی۔ کئی غیر مسلموں نے لکھا کہ یہ تو ہمارے مسلم بھائیوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ وہ روح افزا کے بغیر افطار کیسے کریں گے۔ ایک یوزر نے اظہار حیرت کرتے ہوئے لکھا کہ روح افزا کے بغیر افطار؟ یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ میرا فریج کئی دنوں سے اس شربت کا انتظار کر رہا ہے۔ میں زیادہ قیمت دے کر بھی اسے خریدنے کے لیے تیار ہوں۔ کئی صارفین نے اپنے پیغامات کے ساتھ ساتھ روح افزا کی بوتلیں بھی پوسٹ کیں۔
در اصل روح افزا اب محض ایک شربت یا ایک برانڈ ہی نہیں رہ گیا ہے بلکہ ایک افسانوی اور داستانوی کردار بن گیا ہے۔ یوں تو کسی بھی شربت کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور اس حقیقت کے باوجود کہ شربت روح افزا بلا تفریق مذہب و ملت ہر طبقے میں مقبول ہے، اس کا کوئی نہ کوئی تعلق روزہ سے بھی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو لوگ یہ نہ کہتے کہ روح افزا کے بغیر افطار؟ ناممکن۔ جیسا کہ ہم نے شروع ہی میں لکھا ہے کہ کم از کم شمالی ہند کے روزہ داروں کا تو یہی خیال ہے۔ کچھ ایسی خبریں آرہی ہیں کہ اس کی پروڈکشن پھر شروع ہو گئی ہے اور روزہ داروں کے دسترخوان پر پھر روح افزا اپنا جلوہ دکھانے والا ہے۔ یہ چند سطور در مدح روح افزا لکھی گئی ہیں، کسی کی حمایت یا مخالفت میں نہیں۔
sanjumdelhi@gmail.com  
