تازہ ترین

گوپال پورہ کولگام میں مسلح تصادم، 2مقامی جنگجو جاں بحق

رہاشی مکان تباہ،علاقے میں جھڑپیں، 12مضروب،انٹر نیٹ سروس معطل

23 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

خالد جاوید +شاہد ٹاک
کولگام +شوپیان//گوپال پورہ دمحال ہانجی پورہ کولگام میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب خونریز تصادم آرائی میں حزب المجاہدین سے وابستہ دو مقامی جنگجو جاں بحق ہوئے۔جنگجوئوں کی ہلاکت کے بعد کولگام کے گردونواح میں معمولات زندگی متاثر ہوئے، جبکہ انٹر نیٹ سہولیات بھی بند رہیں۔آپریشن ختم ہونے کے بعد فورسز پر نوجوانوں نے شدید پتھرائو کیا، جس کے جواب میں شلنگ کی گئی۔پیلٹ اور شلنگ سے 12افراد کو چوٹیں آئیں جن میں دو پیلٹ زخمیوں کو سرینگر منتقل کردیا گیا۔

مسلح تصادم

پولیس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہیں گوپال پورہ نامی گائوں میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد 35آر آر اور سی آر پی ایف کیساتھ مشترکہ آپریشن کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ گائوں کا رات کے دوران ہی قریب ایک بجے محاصرہ کیا گیا اور جنگجوئوں کی ممکنہ جگہ کو گھیرے میں لینے کی کوشش کی گئی۔اس موقعہ پر شبیر احمد بٹ ولد عبدالاحد بٹ کے مکان میں موجود جنگجوئوں نے فورسز پر فائرنگ کی اور محاصرہ توڑ کر فرار ہونے کی ناکام کوشش بھی کرنے لگے۔تاہم انکی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔بعد میں طرفین کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی جس میں پہلے ایک جنگجو جاں بحق ہوا اور پھر صبح ساڑھے 8بجے دوسرا جنگجو بھی جاں بحق ہوا۔دونوں جنگجوئوں کی شناخت عرفان منظور بٹ ولد منظور احمدساکن پونیوا کولگام اور زاہد احمد مانتو ولد بشیر احمد ساکن فری پورہ وہیل شوپیاں کے بطور ہوئی ہے۔ 

جھڑپیں اور نماز جنازہ

جب آپریشن ختم ہونے جارہا تھا تو نوجوانوں نے فورسز پر پتھرائو کیا جس کے جواب میں فورسز نے شلنگ اور پیلٹ کا استعمال کیا۔جھڑپوں میں 12افراد زخمی ہوئے جن میں سے 2کو پیلٹ لگے اور انہیں سرینگر منتقل کردیا گیا۔دونوں مہلوک جنگجوئوں کی لاشیںدوپہر بعد لواحقین کے حوالے کی گئیں۔انہیں آبائی گائوں لیا گیا جہاں پہلے سے ہی ہزاروں لوگ موجود تھے۔ اس موقعہ پر لوگوں نے اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کی اور بعد میں انہیں سپرد لحد کیا گیا۔زاہد احمد کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ 25اگست 2018 کو جنگجوئوں کی صف میں شامل ہوگیا وہ حافظ تھا اور اسکے والدین نہیں ہیں۔ اسکی نماز جنازہ دس بار ادا کی گئی جبکہ عرفان منظور نے5اپریل 2019 کو ہتھیار اٹھائے۔اسکی نماز جنازہ آٹھ بار ادا کی گئی۔ وہ فائنل ار میں زیر تعلیم تھا جب ہتھیار اٹھائے۔

پولیس بیان

پولیس ریکارڈ کے مطابق مہلوک حزب کے ساتھ وابستہ تھے اور وہ سیکورٹی فورسز پر حملوں ، عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائی اور دیگر تخریبی سرگرمیوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کو انتہائی مطلوب تھے۔ زاہد احمد نامی شدت پسند کے خلاف جرائم کی ایک لمبی فہرست موجود ہونے کے ساتھ ساتھ کئی مقدمات بھی درج ہیں۔ گزشتہ سال بٹہ گنڈ شوپیاں میں تین پولیس اہلکاروں کے قتل میں مذکورہ  ملوث تھا اور اس سلسلے میں ایف آئی آر زیر نمبر 307/2018کے تحت کیس رجسٹر ہے۔ مہلوک زاہد احمد کے خلاف سیکورٹی فورسز پر حملوں اور عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے ضمن میں ایف آئی آر زیر نمبرات 304/2018,343/2018,352/2018اور 361/2018کے تحت مقدمات درج ہیں۔عرفان منظور بٹ نے حال ہی میں حزب میں شمولیت اختیار کی تھی اوروہ اُس دہشت گرد گروپ کا حصہ تھا جس نے عبدالمجید ڈار ساکن شولی پورہ کولگام کا قتل کیا ۔ اس سلسلے میں کولگام پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر زیر نمبر 40/2019کے تحت مقدمہ درج ہے ۔