رمضان اور کام چوری!

محسر خیال

22 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ریاض مسرور
ماہِ صیام کے فیوض و برکات سے ماشاء اللہ سبھی واقف ہیں۔کُتِبَ علیکم الصیام کی آیت تو اب اس مہینے کا اجتماعی بیانیہ ہے۔ہر نیک عمل پر ستر گنا جزا کی بات بھی بچے بچے کا وِردِ زبان ہے۔ فرائض اور سنن کی ادائیگی میں روایتی جوش و خروش اس ماہِ مبارک کا خاصا ہوتا ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ ، زکواۃ اور مواخات کے جذبات کا مظاہرہ بھی بھر پور ہوتا ہے۔ قیام اللیل تو ہمارے یہاں ’’آٹھ بیس کی جنگ‘‘ لے کر آتا ہے، لیکن بہر حال ایسے ایمان والے بھی ہیں جو ان بابرکت راتوں میں روحانی تزکیہ کا موقعہ نہیں چھوڑتے۔ اُن ہی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ قیامت کے رو ز ان کے ماتھے اللہ کے نور سے چمک رہے ہونگے لیکن میرا ایک ذاتی مشاہدہ بھی ہے اور مجھے اعتماد ہے کہ بیشتر قارئین اتفاق کریں گے۔ ماہ رمضان کے دوران ہمارے یہاں کام چوری کا گراف بھی بڑھ جاتا ہے۔ گیراج کا میکنک ہویا ویلڈنگ والا ، نجار و گلکار ہوں یادفاتر کے کلرک ، پٹواری ہوں یا میونسپلٹی کے خاکروب یا پھر کوئی سروس پروائیڈر، سبھی اپنے کام کی تاخیر کے لئے روزں کی عبادت کا تسلیم شدہ بہانہ تراشتے ہیں۔ مبلغ حضرات جزا وسزا کے جوشیلے پندار تو کرتے رہتے ہیں، لیکن آج تک میں نے کسی بھی شعلہ بیان مولوی صاحب سے عمل کے اخلاق یعنی Work Ethic  کے بارے میں کچھ بھی کہتے نہیں سنا۔اجتماعی عبادات کے پہلو میں جو نفسیات پروان چڑھتی ہے، وہ عام انسان کے ذہن پر یہ اثر چھوڑتی ہے کہ وہ اللہ عزوجل پر یا پوری قوم پر کوئی احسان کررہا ہے۔ آپ کسی کے پاس بھی کوئی بھی کام لے کر جائیں،اور تکبیرتحریمہ میں ابھی ایک گھنٹہ کیوں نہ ہو،آپ کو ریڈی میڈ جواب ملے گا: ’’اب تو نہیں ہوگا، آپ نماز کے بعد آئیں‘‘۔ اندازہ کریں اگر سال بھر عبادت کا یہی جوش باقی رہے توکیا ہوگا؟ 
کانونٹ میں پلی بڑھیں، اور عرصہ دراز تک نن رہ چکیں کیرن آرم سٹرانگ مذہب، مذہبیت اور مذہبی تواریخ کی مستند ماہر ہیں۔ اُنہوں نے جب عیسائیت اور اسلام کا موازنہ کیا تو ایک تاریخی جملہ کہا: ’’عیسایت کا بنیادی بیانیہ شکست پر مبنی ہے۔ کرائیسٹ کو ایک ہارا ہوا لیڈر بنایا گیا ہے، یعنی وہ اپنا پیغام پہنچاتے پہنچاتے ہار گیا اور صلیب چڑھایا گیا۔ اس کے مقابلے میں اسلام کا بنیادی بیانیہ فتح پر مبنی ہے۔ پیغمبر ﷺ نہ صرف روحانی بلکہ مادی پہلو سے ایک کامیاب لیڈرہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نری مسیحیت قنوطیت ، یاس اور شکست خوردگی کو جنم دیتی ہے اور اسلام عمل پر اُبھارتا ہے۔دراصل اسلام عمل(کام) کا دین ہے۔‘‘
ہمارے یہاں عمل کی یک رُخی تعبیر مستعمل ہے۔ ہم جو کچھ دنیوی اعتبار سے کرتے ہیں، اسے ہمارے یہاں عمل نہیں بلکہ مادہ پرستی یا مادہ پسندی جیسی منفی تعریف کے ساتھ نتھی کیا جاتا ہے۔ عبادات،فرائض اور سنن تو عمل صالح کا بلند تر درجہ ہے، لیکن مجموعی عمل وہ کام ہے جو آپ دنیوی زندگی کے لئے کرتے ہیں، اور وہی عمل عمل ِ صالحہ بن جاتا ہے جب آپ اسے دیانتداری اور خلوص کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ 
یہی وجہ ہے کہ قرانِ مقدس میں Workیعنی کام کا ذکر 360مرتبہ ہے۔ بخاری میں حدیث ہے کہ خدا اُس شخص کو پسند فرماتا ہے جو کوئی کام کرے تو اسے مطلوبہ ضابطوں کے تحت خلوص کے ساتھ انجام دے۔ Perfectionism مغربی  تہذیب کی اختراع نہیں۔ اسلامی تہذیب نے پوری دنیا پر غلبہ اسی رویہ سے حاصل کیا تھا۔ عربی میں اسے ’’اِتقان‘‘ سے موسوم کیا گیا ہے، جسکا مطلب ہے مہارت، پختگی،خوبی اور بے عیبی۔
 اللہ نے ’’جعل النہار معاشا‘‘ فرما کر خود اعلان کیا ہے کہ دن معاشی تگ و دو کا نام ہے۔ سورۃ القصص میں تو زور دے کر کہا گیا ’’ولا تنص نصیبک من الدنیا‘‘  یعنی دنیا میں اپنا حصہ ترک نہ کرو۔ اور کون نہیں جانتا کہ آتنا فی الآخرۃ سے قبل ہم آتنا فی الدنیا کہتے ہیں۔ سورۃ الجمعہ ہر اُس شخص کے حافظے میں ہے جو قران سے تعلق رکھتا ہو۔ فرمایا گیا کہ جب نماز ہوجائے تو زمین پراللہ کا فضل تلاش کرنے کے لئے پھیل جاؤ۔ خدائے زوالجلال نے قران میں ’’واَحل اللہ البیعَ‘‘ (اللہ نے تجارت کی اجازت دی ہے) کہہ کر اسلام کو واقعی دینِ عمل (Religion of Work) بنا کر ہمیں پیش کیا ہے۔ نسائی نے ایک حدیث نقل کی ہے جس کے معنی ہیں: ’’مومن ماتھے پر پسینہ لے کر مرتا ہے‘‘  ۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ محنت کشی ایمان کی روح ہے اور مسجد سے باہر ہم جو کچھ کرتے ہیں ، اگر وہ اتقان کے ساتھ کیا گیا تو ہم دن رات عمل صالحہ میں گزارتے ہیں۔ 
ہمارے مبلغ حضرات اگر دین عمل کی یہ تعبیر معصوم سامعین کے سامنے پیش کریں ، تو لوگ دین اور کام کو الگ الگ زاویوں سے دیکھ کر زندگی کا بٹوارہ نہیں کریں گے۔ پھر کوئی محبور سائل دن کے 12بجے کسی دفتر میں جانے سے یہ سوچ کر نہیں کترائے گا کہ اڑھائی بجے تک اسے ٹرخایا جائے گا، پھر ایک ڈاکٹر آپریشن تھیٹر میں پوسٹ آپریٹیوں کئیر کے ضوابط بالائے طاق رکھ کر نہیں بھاگے گا، پھر ضروری اشیاء بیچنے والا دکاندار 12سے 3بجے تک کام معطل نہیں کرے گا۔ بعض حلقے ’’کام‘‘ کو مقدس قرار دینے پر اعتراض کریں گے کہ یہ صنعتی انقلاب کے دوران سرمایہ داروں کا پروپگنڈا تھا تاکہ کم اُجرت پر کام کر رہے کامگاروں اور مزدوروں کا نفسیاتی بلیک میل کیا جاسکے۔ اس ضمن میں سولہویں صدی کے مسیحی مصلح جان کیلون کا نام لیا جاتا ہے کہ انہوں نے کیتھولک فرقہ کی اصلاح کے نام پر صنعتی انقلاب کی آبیاری کی تھی۔لیکن یہ ایک مفروضہ ہے، کیونکہ جدید سرمایہ داری کے نظریہ ساز آدم سمتھ نے بھی اپنی کتاب ویلتھ آف نیشنز میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ صنعتی انقلاب سے قبل تاجر لوگ مذہبی حلقوں کو عطیات دے کر سماج میں کام چوری کو بڑھاوا دیتے تھے، تاکہ اُن کی تجارت میں اور لوگ شریک نہ ہوں۔ابن خلدون نے تجارت کو سماجی اتحاد کا محرک بتایا ہے، اور دسویں صدی کے دوران ’’اخوان الصفا‘‘ نے ورک کلچر کا جو ماڈل پیش کیا ، اُسی کے بل پر آج کے کارپوریٹ کی پوری لغت مشتمل ہے۔ 
 امریکہ کی پیینسلوانیہ یونیورسٹی کے عباس جے علی اور عبداللہ الاوائحن کی مشترکہ تحقیق کے نچوڑ پربات کا اختتام کرتے ہیں: 
Work in Islam,therefore, is situated in the core of the faith and is considered as an integral part in life.
(اسلام میں عمل (کام)  ایمان کا محور ہے اور یہ زندگی کا جزوِ لاینفک ہے)
..............
  ہفت روزہ ’’ نوائے جہلم ‘‘ سری نگر