تھارے جیسا نہ کوئی!

چلتے چلتے

22 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

شہزادہ بسمل
یہ  لگ بھگ چالیس برس اُدھر کی بات ہے ۔میرے خالہ زاد بھائی کی شادی کے موقع پر اس کی ایک سابقہ رفیق کار پروفیسر آر تی رینہ دُلہن دیکھنے اُن کے گھر آئی ،جو اُنہی دنوں انگلستان سے چھٹیوں پر آئی ہوئی تھیں۔باتوں باتوں میں ہم نے اُن سے برطانیہ میں زندگی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کئی دلچسپ باتیں بتائیں ۔ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ ایک دن اُن کے ہاں ڈبل روٹی کے اندر سے کاغذ یا لکڑی کی ایک بہت چھوٹی سی کرچی نکلی ۔اُس بات کو خلاف توقع سمجھ کر انہوں نے ریپر پر لکھے ایڈریس پر اس کی اطلاع روٹی بنانے والے ادارے کو کردی۔تھوڑی ہی دیر بعد ادارے کے تین معزز اشخاص اُن کے گھر پر آئے ،اپنے ہیٹ عجز وانکساری کے ساتھ اُٹھا اٹھاکر معافیاں مانگنے لگے ۔اُنہوں نے کہا اگر یہ معاملہ سرکار کی نوٹس میں آتا ہے تو کمپنی یا بیکری کا بند ہونا تو حتمی ہے جس کا انہیں کوئی دُکھ نہیں ہوگا کیونکہ وہ کوئی دوسرا کاروبار شروع کرسکتے تھے مگر جو جرمانہ اُن پر عائد ہوگا ،اُ س کو وہ ادا کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔چونکہ کشمیری عام طور پر شریف الطبع ہوتے ہیں، اس لئے انہوں نے عفو درگزر سے کام لیا۔پروفیسر صاحبہ کا کہنا تھا کہ دوسرے دن وہی تین معزز اشخاص پھر ہمارے گھر آگئے اور انہوں نے اپنے ساتھ اعلیٰ قسم کی دوڈبل روٹیاں ،ایک عمدہ کیک اور ایک موٹی رقم کا گفٹ چیک ہمارے لئے ساتھ لایا تھا ۔ہم نے لینے سے صاف انکار کردیا مگر وہ بھی اَڑے رہے اور بڑی منت سماجت کرتے رہے۔آخر لمبی گفتگو اور لے دے کے بعد ہم نے کھانے کی چیزیں قبول کیں مگر گفٹ چیک لینے سے قطعی معذرت ظاہر کی اور بیری کے ان نمائندوں کو اطمینان دلایا کہ ہم اس بات کو بھول چکے ہیں، اس لئے آپ خاطر جمع رکھیں اور اپنا کام بے فکر ہوکر کرتے رہیں اور اس بات کو بھول جائیں۔
سن 1981ء میں محلہ اُستاد جموں کی مسجد دوبارہ تعمیر ہوئی ،چونکہ انہی دنوں پندرہویں صدی ہجری کا آغاز بھی ہوا، اس لئے اُسی مناسبت سے نئی تعمیر شدہ مسجد شریف کا نام مسجد ہجری رکھا گیا ۔میں جموں میں تھااور یہی ستمبر یا اکتوبر کے دن تھے ،میں نے مسجد کے سامنے سڑک سے ایک نوجوان انگریزجوڑے کو گزرتے دیکھا جن کے پیچھے چھوٹے چھوٹے سڑک چھاپ لڑکے ہوٹنگ کرتے آرہے تھے ۔میں نے جب 
ا س بدتمیزی سے انگریزجوڑے کو پریشان ہوتا ہوا دیکھا تو میں نے اُن بچوں کو بھگادیا ۔ جوڑے نے متشکرانہ نظروں سے میری طرف دیکھ کر شکریہ کہا بلکہ یہ بھی پوچھا کہ ان بچوں نے ہمارے پیچھے پیچھے جلوس کیوں نکالا تھا اور وہ کیا کہہ رہے تھے ۔میں نے اُن کو مختصر الفاظ میں سمجھایا کہ یہ شریف گھرانوں کے بچے نہیں بلکہ آوارہ قسم کے بچے ہیں، اس لئے جب انہوں نے اندھوں میں کانا راجہ دیکھا تو اُن کے ہاتھ ’’بازیچہ اطفال‘‘آگیا ۔یہ بچے کچھ غلط سلط نہیں کہہ رہے تھے ،بے شک یہ کالے ہیں مگر دل والے بھی ہیں۔
انگریز جوڑا جو بعد میں پتہ چلا کہ امریکن تھے، خوش ہوگئے بلکہ جب میں نے کہا کہ میرا کوارٹر قریب ہی ہے اگر وہ میرے ساتھ آکر چائے کا ایک کپ لیں گے تو میں مسرت محسوس کروں گا ۔اُس پر وہ اور بھی زیادہ مسرور ہوگئے اور بخوشی میرے ساتھ چلنے پر آمادہ ہوگئے۔اُن دنوں میں آرنج پیکو چائے کا استعمال کرتا تھا ۔اس لئے جب انہوں نے چائے کا آنند لیا تو اور زیادہ خوش ہوکر تین تین کپ بغیر دودھ اور چینی کے مزے لے لے کر پی گئے۔بہر حال جتنی دیر وہ میرے ساتھ بیٹھے رہے ،اُن سے ڈھیر ساری باتیں ہوئیں۔اُن دنوں مصالحہ جات جیسے مرچ ، ہلدی ،سونپ،چائے وغیرہ میں گھوڑے کی لید ،چاول کا آٹا ،مٹی،گھاس ،برودہ وغیرہ کی ملاوٹ کی بڑی شکایتیں گھروں میں گردش کرتی تھیں اور ذخیرہ اندوزی اور مال کی مصنوعی قلت پیدا کرکے مال اونچے داموں بیچنا معمول بن چکا تھا ۔اچانک میرے ذہن میں اسی ضمن کا سوال اُبھرا ، میں نے اس انگریز جوڑے سے پوچھا یہ بتایئے کہ آپ کے ملک میں ملاوٹ کرنے والے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے کے ساتھ کیسے ڈیل کیا جاتا ہے ؟ انہوں نے حیرانگی کے ساتھ جواب دے کر کہا کہ ملاوٹ لفظ تو ہماری سوسائٹی میں ہے ہی نہیں اور ہمارے ہاں ذخیرہ اندوزی بھی نہیں ہوتی۔سوداگروں کی ڈیلنگ بڑی صاف اور ایماندارانہ طریقے سے ہوتی ہے ،البتہ اگر کبھی کوئی ایسی انہونی وقوع پذیر ہوجائے تو لوگ ایسے بددیانت شخص کو حکومت کے حوالے کرنے سے قبل خود ہی اُس کا قلع قمع کرکے بُرائی کو جڑ سے ہی اُکھاڑ پھینکتے ہیں۔
اب ایک نظر اس جنت بے نظیر پر بھی ،جہاں بھولے کم اور بھالے زیادہ ملتے ہیں ۔ابھی کچھ عرصہ قبل ہی ڈاکٹر س ایسوسی ایشن کے صدر صاحب کا ایک بیان اخباروں میںآیا تھا کہ ہمارے یہاں شادی بیاہ اورمنگنی کے مواقع پر وادی بھر کے آشباز پکوانوں کو جاذب نظر بنانے کے لئے جو رنگ استعمال کرتے ہیں وہی رنگ ہم کپڑا رنگنے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں اور اس رنگ کے مُضراثرات میں مختلف بیماریوں کے لاحق ہونے کے بڑے ا مکانات ہوتے ہیں بلکہ (اللہ ہر فرد کو محفوظ رکھے)کُشٹ روگ لگنے کا بھی بہت حد تک خطرہ ہے ۔ بتایئے ---------ہاں ہاں بتایئے     ؎
کیا کہیں اوقات اب کیا آدمی کی ہوگئی 
روگی بن گئیں دعوتیں اور موت سستی ہوگئی
جناب ! اب خود ہی انصاف کریئے ،شادی خانہ آبادی نسل ِانسانی کی بقاء کے ساتھ اتمامِ دین کا بھی وسیلہ ہے ۔خوشی کی ساعتیں ،مسرت کی گھڑیاں ، ہر دو جانب لاکھوں روپئے کا خرچہ ،ڈھول تاشے ،باجے گاجے،مستورات کا معنوی فیشن شواور ملبوسات کامیلہ،محفل سنگیت ،دل کھول کر آلاپ ،رات بھر بلکہ صبح کے نو بجے تک مرد گلوکاروں کا گانا بجانا ، کسی کسی جگہ ڈیک ،بینڈ ،جاز بلکہ ڈسکو کا بھی اہتمام،رشتہ داروں،دوستوں ،ہمدموں اور ہمسایوں کے لئے پُر تکلف دعوتِ شیراز ،لاکھوں روپے کا’’ دست بوسہ‘‘( ورتاؤ) لین دین ،ٹافی ، چاکلیٹ اور ڈرائی فروٹ ٹنوں کے حساب سے ضائع ،کسی کسی جگہ دولہے کی دعوت میں طشتریوں میں کھانا کھانے کے پیسے بھی رکھے جاتے ہیں ۔غرض یہ کہ اتنی مسرت اور شادمانی اور گھر پھونک تماشے کے دن پر آپ لوگوں کی جھولیوں میں کیا ڈالتے ۔۔۔؟بیماریاں ،رُسوائیاں ، تکالیف،بے چینیاں ،پریشانیاں اور چھوٹے چھوٹے بچوں کے لئے دائمی امراض ۔یہودیؔ ہمیشہ مگر مچھ کے آنسو بہاتے رہتے ہیں کہ جنگ عظیم دوم میں ہٹلر ؔنے اُن پر ہولو کاسٹ کا تیشہ چلایا ۔غلط کہتے ہیں۔ صیہونی جماعت نے خود یہودیوں کا قتل عام کیا تاکہ وہ اپنے وطنوں سے بھاگ کر تل ابیبؔ کا رُخ کریں اور وہ دنیا کی نظروں میں مظلوم ومقہور ثابت ہوں ۔ ذرا ساغور کریں کیاصحیح معنوں میںوادی ٔ کشمیر کی یہی دعوتیں (وازہ وان)ہالوکاسٹ یعنی قتل عام کہلانے کے لائق نہیں ؟کیونکہ ساری قوم کے سر پر ان رنگ بر نگے پکوانوں کی صورت میں کچے دھاگے سے تلوار لٹکتی رہتی ہے ۔۔۔روگی دل و جگر ،ٹوٹے انگ و اعضاء ،بے دم جسم و جان اور ہسپتال کے فولادی بیڈ پر بے چینیاں اور بے قراریاں !!! دراصل وادیٔ کشمیر کی رِیت ہی نرالی ہے، یہاں کا ہر ایک بندہ ایک عجیب فطرت کا مالک ہے ،ہر ایک چھب میںمنفرد ،ہر ایک فن میں یکتا ۔اسی لئے تو شاعر نے شاید یہ اُسی کے لئے کہا ہے     ع
جگ ڈھونڈیا تھارے جیسا نہ کوئی
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او سرینگر -190001،کشمیر
 موبائل نمبر:-9419475995 
