مسلمان اور عصر حاضر کے سماجی علوم

روشنی کے سفر کے رہیں ہم قدم

22 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

احمد جاوید
یہ تاریخ ادیان میں پہلی مرتبہ ہوا ہے، یہ تاریخ کفر و ایمان میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کفر اتنا زیادہ قابل قبول بنا ہو، کفر اتنا زیادہ مدلل بنا ہو، کفر کو اتنا زیادہ کلینکل تیقن حاصل ہو گیا ہو، یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ پرسوں ایک جگہ بات ہو رہی تھی تو میں نے ایک تجویز عرض کی، جس پر مجھے فی الحال یقین ہے کہ یہ صحیح تجویز ہے، تاوقت یہ کہ اس کی تردید نہ ہو جائے، اصلاح نہ ہو جائے کہ مغرب کو ہر اعتبار سے، زندگی کی ہر سطح پر ذہن کے ہر پہلو سے خود پر غیرموثر کیے بغیر ہم اپنے ایمان کو شعور کا منبع اور مرجع نہیں بنا سکتے۔مطلب مغرب سے لڑنا ہو یا مغرب کے جال میں پھنسنا ہو، تو براہ راست ذہنی تصادم کے بغیر بالکل بے نیازی کی حالت میں چیزوں کو نئے سرے سے define کرو، جس میں definer تمہارا ایمانی شعور ہو۔علم کی ایک اور تعریف ہے‘چیزوں کی تعریف کے ’’ملکہ حاصل کر لینا‘‘۔علم کسے کہتے ہیں؟‘تعریف الشیء عند الذہن۔ ’’ذہن میں شے کی تعریف کا مکمل ہو جانا، شے کا define ہو جانا یہ علم ہے‘‘۔تو کیونکہ مغرب نے گویا ایک دُھند پھیلا رکھی ہے، جس نے اس سارے کرہ ٔارض کو اور انسان کی جو ایک عالمگیر ذہنیت ہے، اس کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، تو اس کے اندر رہتے ہوئے کوئی مثبت بامعنی اور ایمانی کام نہیں کیا جا سکتا۔ خود کو اس دھند سے نکالے بغیر ہم اس سورج کی طرف نظر کرنے کے لائق نہیں ہو سکتے، جو سورج ہمیں اللہ نے دے رکھا ہے اور جو کبھی غروب ہونے کے لیے ہے ہی نہیں۔ تو اس کے لیے ضروری ہے کہ مغرب اور اس کی تمام علمی ساخت سے، مغرب اور اس کے تمام عقلی مواقف سے، خود کو بے نیاز رکھ کر ہم دنیا کومومنانہ نظر سے دیکھ کر اپنے علم کی تعریف اور شے کی تعریف دونوں خود وضع کریں، اپنے ایمانی شعور کی مدد اور راہنمائی سے۔یہ ہم لوگوں کا اور خصوصاً ہمارے اہل علم کا بہت ہی بڑا فریضہ ہے، ہمارا تصورِ علم کیا ہے؟ یہ ہم پر اسی طرح واضح ہونا چاہیے، جس طرح عقیدہ توحید و رسالت کا واضح ہونا ضروری ہے۔
ہمارا تصور علم کیا ہے؟
ہمارا تصور وجود کیا ہے؟
ہمارا تصور کائنات و دنیا کیا ہے؟
ایک فقرہ کہہ کے آگے بڑھتا ہوں تو اس کی تفصیل ابھی بعد میں کرتا ہوں۔
ہمارا تصورِ علم ہے کہ شئے چاہے وہ شعور کے اندر ہو، چاہے وہ شعور کے باہر موجود ہو، ہر شے ہر subject اور ہر object، یہ اللہ کی قابل اعتبار نشانی ہے۔ ہر شے اپنے اصل میں، ہر چیز اپنے جوہر میں، ہر چیز اپنی ماہیت میں، ہر شے اپنی غایت میں، اللہ کی نشانی ہے اور اس کے تجزیے کے نتیجے میں برآمد ہونے والا کوئی بھی جز اس کے اللہ کی نشانی ہونے کی حیثیت کو بڑھانے کے لائق ہونا چاہیے، گھٹانے کی طرف نہیں جانا چاہیے۔ اگر کسی شے کا مادی تجزیہ مجھے اس شے کو اللہ کی نشانی کے مرتبے سے گرانے پر مائل کر رہا ہے،تو مجھے اس پورے تجزیے کو، پوری logic کو بلا تکلف اعتماد کے ساتھ رد کر دینا چاہیے، تو ہمارا تصورِ علم یہ ہے کہ شے کو اس کے تمام mechanics کے ساتھ، اس کی تمام کلینیکل تجزیاتی تفصیل کے ساتھ، اس کے تمام فطری اور مادی دروبست کے ساتھ جاننے کی کوششیں کرتے رہو، لیکن شے کے بارے میں اپنے اس شعور کو ہمیشہ شے سے حاصل ہونے والے ہر عارضی اور مستقل علم پر حاوی، غالب اور مسلط رکھو، کہ یہ چیز اللہ کی نشانی ہے۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ شے سے وابستہ شعور کی عارضی ضروریات تو پوری ہوتی یا پوری نہ ہوتی رہیں گی، یعنی کہ وہ غلط اور صحیح علم کی تمیز کے دائرے میں رہیں گی، لیکن شے کے بارے میں جو تمہارا آخری علم ہے، وہ صحیح ہو گا، حقیقی ہو گا، یعنی شے اپنی حقیقت میں اللہ کی نشانی ہے، اپنی صورت میں میرے ذہن کے لیے ایک دعوت ہے کہ آؤ اور میرا تجزیہ کر کے مجھے اپنے مصرف میں لاؤ۔واضح ہے نا؟تو میں شئے کی صورت کے تجزیے میں غلطی کرنے کی پوری آزادی رکھتا ہوں، شئے کی صورت کو سمجھنے میں غلطیوں کا تسلسل مجھے اللہ سے دور نہیں کرتا۔ حتیٰ کہ شے کی صورت کو اچھی طرح جاننے اور سمجھنے میں غلطی بھی مجھے شے کی حقیقت یعنی اس کے اللہ کی نشانی ہونے کے جوہر سے دور نہیں کرے گی۔ آپ سمجھیں، دنیا میں کس تہذیب کا، کس علم کا تصور ایسا ہے، جس میں غلطی بھی مفیدِ تحقیق ہو، جس میں غلطی بھی آپ کو اپنے مقصد کی حقیقت سے جڑا ہوا رکھتی ہو۔تو ہمارا تصورِ علم یہ ہے، کہ ممکن ہے کہ میں اس میز کی لکڑی کا تجزیہ کرنے میں ناکام رہا، ممکن ہے کہ میں پانی کا کیمیائی تجزیہ کرنے میں غلط ہو گیا، لیکن جو میرا مسلمہ علم ہے، کہ پانی ہو یا میز، یہ دونوں ایک ہی اللہ کی دو نشانیاں ہیں، اس پر کوئی فرق نہیں پڑا ان علمی غلطیوں سے، ان تجزیاتی اغلاط سے۔ہمارے تصور علم کی بنیاد اور غایت ہی یہ ہے کہ شے کے بارے میں ایک مستقل نقطہ نظر قائم کرو اور شے سے حاصل ہونے والے تمام ادراکات کو اس مستقل تناظر کی تشکیل، تعمیر، تقویت اور تکمیل میں عملاً صَرف کر کے دکھاؤ۔ یعنی کسی چیز کے بارے میں تمہاری علمی غلطی بھی اس چیز کی حقیقت سے مزید قرب کا ذریعہ بن جائے۔ تو اس تصورِ علم کو، جو ایمانی شعور کا مرکز ہے، یعنی جو ایمانی شعور کا principle content ہے، جو ایمانی شعور کا بہت بڑا مسلمہ ہے، جو اصول ہے، اس علم کو عملاً تمام علوم کا بانی اور موجد بنا کر دکھانا، یہ مسلم اہل علم کی ذمہ داری ہے۔ یہاں ذرا سا دیکھ لیتے ہیں کہ سماجی علوم سے کیا مراد ہے؟ جن کو دین کے تابع رکھنا ضروری ہے اور یہ ابوجہل کو کلمہ پڑھوانے سے کم عمل نہیں ہو گا۔ اگر آپ سماجی علوم کو دین کے تابع رکھنے میں کامیابی حاصل کر لیں تو ان شاء اللہ اس میں اتنا ہی اجر ہے جتنا ابوجہل وغیرہ کو کلمہ پڑھانے میں، بلکہ آج کل تو جہل ابوجہل کی استطاعت سے بہت زیادہ ہے۔ سماجی علوم اصل میں ایک کیل پر نصب گھومنے والا پاٹ ہے، وہ کیل ایک سوال ہے، یعنی تمام سماجی علوم ابھی اس کی فہرست بھی بنانے کی کوشش کرتے ہیں تمام سماجی علوم مختلف زاویوں سے ایک مستقل سوال کے جوابات دینے کی کوششیں ہیں۔وہ مستقل سوال ہے، ’انسان کیا ہے‘؟تمام سماجی علوم اس سوال کی گونج سے بھرے ہوئے ہیں اور اس سوال کا اپنے اپنے زاویے، اپنے اپنے تناظر اور اپنے اپنے مقاصد کے ساتھ جوابات فراہم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔‘انسان کیا ہے، کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی اندرونی بناوٹ کیا ہے اور وہ دنیا کیا ہے، جس میں انسان ایک فعال کردار کے طور پر رہتا ہے۔ سماجی علوم گویا انسان اور انسانی دنیا کا تجزیہ کرکے اِن کو واضح کرنے کی کوششیں کرنے والے علوم ہیں۔ سماجی علوم میں جو بنیادی علوم ہیں، جن کے بارے میں ہمارا دینی موقف واضح ہونا چاہیے، جس پر ہمارے دینی شعور کو غالب ہونا چاہیے، مطلب صرف جاننا ہی نہیں چاہیے بلکہ غالب ہو کر دکھانا چاہیے، وہ ہیں: نفسیات، تاریخ، فلسفہ تاریخ، لسانیات اور جمالیات۔اسی دور کے ایک بہت بڑے سوشل تھیورسٹ، سماجی علوم کے بہت ہی بڑے نام ’’مشل فوکو‘‘ نے کہا کہ مغرب کا جدید آدمی بائی پروڈکٹ ہے۔ اب جو اس مشل فوکو کو جانتا ہے، وہ جانتا ہے کہ مشل فوکو بیسویں صدی کے سب سے بڑے اذہان میں سے ایک ہے، جس کا بہت زیادہ ’’اثر پوسٹ ماڈرنزم‘‘ کی تعمیر میں ہوا ہے، تو خیر اس جملے کا کیا مطلب ہوا کہ مغرب کا جدید آدمی بائی پروڈکٹ ہے۔ اس کا مطلب جاننے کے لیے ہمیں ایک تفصیل میں جانا چاہیے، وہ تفصیل یہ ہے کہ انسان کے بارے میں کسی مستقل تصور کی تلاش یا قبولیت کا عمل اس وقت سے ہے، جب سے انسانی ذہن کام کر رہا ہے۔ انسان کی تعریف کے چند مدارج، مراتب اور زاویے ہیں۔ ان میں ایک یہ ہے کہ انسان حیاتیاتی وجود (Biological being) ہے، مادے میں حرکت اور نمو پیدا ہو جائے تو وہ حیات ہے۔ انسان ایک جبلی وجود ہے، اب حیات سے ترقی کر کے جبلت، جبلت کا مطلب ہے کہ یہ کچھ خواہش رکھتی ہے، ان خواہشات کا ادراک رکھتی ہے اور ان خواہشات کی تکمیل کرنے والے قابل حصول یا ناقابل حصول ذرائع بھی رکھتی ہے، جبلت کہتے ہیں خواہشات کے محرک کو میری تمام خواہشات کا محرک میری کوئی نہ کوئی جبلت ہے۔ تو انسان کی تعریف اپنے دوسرے درجے میں وہی جبلت کی ہے۔ انسان ایک جبلی وجود (instinctive being) ہے، یا ہماری اصطلاح میں کہیں انسان ایک طبیعت ہے، پہلا درجہ انسان جسم ہے، دوسرا درجہ انسان طبیعت ہے۔ تیسرا درجہ انسان ایک عقلی وجود ہے، ذہنی وجود ہے۔ یعنی انسان چیزوں کو دیکھ کر ان کی اَن دیکھی حقیقت تک پہنچنے کی ضرورت کو محسوس کرتا ہے اور اس اَن دیکھی حقیقت کی طرف رہنمائی کرنے والا کوئی اشارہ اس کے اندر سے یا باہر سے دستیاب ہو جائے، تو اس اشارے کو appreciate قبول اور اینالائز کر سکتا ہے، تو انسان ایک ریشنل بینگ (Rational Being) ہے۔ اگلا درجہ ہے، انسان ایک ماڈل بینگ (Model Being) ہے، انسان ایک اخلاقی وجود ہے، انسان خیر و شر کے بنیادی اقدار کا شعور رکھتے ہوئے خیر کو اختیار کرنے اور شرسے بچنے کے لیے درکار مجاہدہ عقلی آمادگی کے ساتھ کر سکتا ہے۔ اگلا درجہ ہے کہ انسان ایک روحانی وجود ہے۔ اب ان تمام اصطلاحات کی میں دینی طور پر تعریف نہیں کر رہا، یہ فلسفیانہ اصطلاحیں ہیں اور ہاں یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ فلسفہ بھی ایک سوشل سائنس ہے، تو انسان کے روحانی وجود کا مطلب یہ ہے کہ یہ میٹا فزیکل امور کا علم رکھے بغیر ان کا اثبات کر سکتا ہے، یہ شعور کا آخری درجہ ہے، یہ وجود کی آخری سطح ہے۔ عقل کا منتہیٰ ہے، کہ وہ کچھ چیزوں کو نہ جان سکنے کے یقین کے باوجود ان چیزوں کے ظہور کو تسلیم کر کے ان غائب ازعقل چیزیں کو ماننے کے قابل ہو۔ تو اس وجہ سے انسانی شعور میں علم کی تکمیل کا جو نکتہ ہے، وہ جاننے کا نکتہ نہیں ہے ماننے کا نکتہ ہے۔ یعنی علم اپنی تکمیل میں مانا جاتا ہے، جاننا نہیں رہتا۔ علم اپنی تکمیل میں ایک اجمال محکم بن جاتا ہے، تفصیل نہیں رہتا۔ باقی آپ کبھی اپنے اپنے ذہن میں جھانک کر دیکھ لیں، تو آپ کے جو اٹل معتقدات ہیں، آپ ان کو مذہبی معنی میں نہ بھی لیں، آپ کے دنیا کے بارے میں جو اٹل مسلمات ہیں، وہ مجمل حالت میں موجود ہیں، ان کا مفصل کر دینا آپ کو لگے گا کہ آپ کے بس سے باہر ہے، یعنی انسانی شعور کی سب سے قیمتی متاع شعور پر حکومت کرنے کے لیے ہوتی ہے شعور کا موضوع بننے کے لیے نہیں ہوتی۔جیسے اب نمبر ہے، نمبر ٹائم سپیس چھوٹا بڑا ہونا اونچا نیچا ہونا، یہ عقلی شعور کے عقلی مسلمات ہیں۔ یعنی عقل اپنے کسی تصور کی تشکیل نہیں کر سکتی ٹائم اور اسپیس کے مسلمات سے باہر نکل کر، عقل اپنی کسی دلیل کو تعمیر نہیں کر سکتی، نمبر اور contradiction کی پابندی کے اصول سے بے نیاز ہو کر۔ لیکن اگر عقل سے کہا جائے کہ ٹائم کہاں ہے، سپیس کہاں ہے، اس کو دکھا دو، اس کو چکھا دو، اس کو سجھا دو، اس کو یقین کی حد تک مدلل بنا دو، ایمپیریکل بنا دو، عقل سے کہا جائے کہ ایک سیب اور ایک امرود میں جو ایک مشترک ہے، اس ایک کا وجود دکھا دو، تو عقل کے لیے یہ پورا سوال نامانوس ہے، تو اسی لیے انسانی ذہن اپنے مسلمات کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کو مصنوعی سوالات سمجھنے اور قرار دینے کا فطری اور عقلی حق رکھتا ہے، اس پہ شرمانے کی ضرورت نہیں۔ یعنی انسانی شعور کے جو بنیادی ترین مسلمات ہوتے ہیں، جو اس کے تمام علوم کی تشکیل میں آمادہ اور جوہر کے طور پر شریک حال رہتے ہیں، وہ مسلمات،وہ بنیادی دلائل، خود استدلال کے نتائج نہیں ہوتے، خود کسی علمی حرکت کے نتائج نہیں ہوتے، بلکہ وہ علم کا منبع ہوتے ہیں۔ علم پیدا ان سے ہوتا ہے، وہ علم سے ثابت نہیں ہوتے۔
مشل فوکو کا کہنا یہ ہے، موجودہ مغرب کا جو جدید آدمی ہے، اس نے اپنے شعور اور اپنے ہونے کی تمام بلند سطحوں کا انکار کر دیا ہے، ان سے بے رخی اختیار کر لی ہے، ان سے لاتعلقی اختیار کر لی ہے اور خود کو ڈارون ازم کے اثر سے یا بعض تہذیبی محرکات کے نتیجے میں خود کو جسمانی اور حیاتیاتی وجود کی سطح تک محدود رکھنے پر آمادگی پیدا کر لی ہے۔ پورا پوسٹ ماڈرنزم اس فقرے کی تفصیل ہے، کہ انسان ایک بائی پروڈکٹ ہے۔ خیر اب اس کی تفصیل میں کیا جاتے ہیں، کارل مارکس سے لے کر مشل فوکو تک بہت سارے مدارج ہیں، تو جس طرح قرآن شریف ایک حق کے بیان اور اظہار کی جہت پر کھڑا ہو کر انسانی علم اور انسان کی تمام علمی، جمالیاتی، ادبی، فلسفیانہ استعدادوں کو چیلنج کرتا ہے، کہ لاؤ اس آیت کو اس کے لفظی دروبست کے ساتھ مقابلہ کر کے دکھا دو، اس آیت کا اس کی معنوی ہیئت کے ساتھ مساوات رکھنے والا کوئی بیان تخلیق کر کے دکھا دو۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ کہ قرآن سے تربیت پاکر اپنے شعور کو یکسو رکھنے والے آدمی کے لیے ضروری ہے، کہ اس کا ایمان اپنے دور کے تمام علوم اور تہذیبی اقدار کے لیے ایک چیلنج بن کر رہے، کہ آؤ علمی سطح پر میرے شعور کی برابری کر کے دکھاؤ اور عملی سطح پر میرے اخلاق کا مقابلہ کر کے دکھاؤ۔ یہ قرآن پر ایمان کا ایک فطری نتیجہ ہے۔قرآن کے وارث ہونے کی ایک قدرتی قابلیت یہ ہے کہ قرآن نے جو شعور تمہیں عنایت فرمایا ہے، اس شعور کو ذہن اور شعور کی تمام مروج اور متداول قسموں سے پیدا ہونے والے تمام استدلال پر غالب کر کے دکھاؤ، غالب رکھ کر دکھاؤ۔ تو اسی وجہ سے ہمارے سلف، اللہ ان کی قبریں روشن رکھے، اللہ ان کی قبریں ٹھنڈی رکھے، اللہ ان کی یادیں ہمارے دل میں زندہ رکھے، اللہ ان کے جذبہ اتباع کو ہمارے اندر کبھی کمزور نہ پڑنے دے، وہ کیا لوگ تھے کہ اپنے زمانے میں انسان اور انسانی نفسیات اور انسانی تہذیب کی صورت گری کرنے یا کرسکنے والے تمام علوم پر منتہیانہ دسترس رکھتے تھے اور ہر علم کو گویا پیشانی سے پکڑ کر ایمانی شعور کی تحویل میں دے دیتے تھے، یہ کام اہل علم کا نہیں ہے؟ کہ آج اخلاق اور ذہن کی تعمیر میں جن علوم کا کردار بلاشک و شبہ صادق ہو چکا ہے تمام علوم کو ایمان کے تابع کر کے دکھائیں، ان تمام اقدار کو عمل صالح سے مغلوب رکھ کے دکھائیں یہ مسلمان کا فریضہ نہیں ہے؟
(بقیہ جمعرات کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)