سزا

کہانی

19 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

شبنم بنتِ رشید
محبت کا دعویٰ کرنے والے کے دل میں اگر ہمدردی ،خلوص ،نرمی اور ایثار کے بجائے غصہ ،خودغرضی، جھوٹ اور حرص ہو تو ہم اسے محبت کیسے کہہ سکتے ہیں۔ آسرا اپنے ماں باپ کا سہارا تھی ،لاڈلی اور اکلوتی۔خوش رہنا اور خوشیاں بانٹنے کے علاوہ اپنی باتوں سے دوسروں کو قائل کرنا اور اپنی بات منوانے کا طریقہ جانتی تھی۔
 کچھ عرصہ قبل  ایک فیس بک فرینڈ ذیشان کے ساتھ دوستی ہوئی تو دونوں ایک دوسرے کو اپنا دل دے بیٹھے ۔پھر ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوتے ہی آسرا اس پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرنے لگی ۔کچھ وقت گزرنے کے بعد ذیشان اپنی امی کے ساتھ رشتہ لے کر اس کے گھر آئے ۔ذیشان شکل صورت میں اچھا ہونے کے علاوہ پڑھا لکھا بھی تھا ۔باتوں سے مہذب اور ذہین لگ رہا تھا لیکن دونوں خاندان ایک دوسرے کے لیے انجان اور اجنبی تھے ،اس لئے ابو نے کئی باتیں ،کئی مسئلے اور کئی اعتراضات اٹھائے ۔ابو نے خدشہ ظاہر کیا کہ انجان لوگ ہیں ،کیا پتا کل زندگی کے آنے والے سفر میں کیسے ثابت ہونگے ، کل کو کوئی خرابی نکل آئے تو پھر مشکل حالات کا سامنا کیسے کر پائیں گے؟بیٹی کا معاملہ تھا ،آنکھیں بند کرکے بھروسا تو نہیں کرسکتے تھے اور ابو نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ کہیں ہماری بیٹی لالچی اور خود غرض ہمسفر کا انتخاب تو نہیں کر رہی ہے ۔آسرا کلوتی ہے ،ہماری تمام جائیداد کی اکلوتی وارث۔ کبھی کبھی اکلوتا ہونا بھی زندگی میں مشکلات پیدا کرکے زندگی کی سزا بن جاتا ہے ۔لالچی لوگوں کا کوئی اعتبار نہیں ،کوئی بھی کھیل کھیل سکتے ہیں ۔کسی کی اکلوتی بیٹی کو محبت کے جال میں پھنسا کر اپنے نام کی لاٹری نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں لیکن آسرا نے اپنی امی کو یہ کہہ کر قائل کیا کہ وہ  نہیں جانتی کہ ذیشان لالچی اور خودغرض ہے یا نہیں کیونکہ یہ بات کسی کے ماتھے پر لکھی نہیں ہوتی ۔دل کی نیت سے صرف اللہ واقف ہوتا ہے ہم تو صرف اعتبار کر سکتے ہیں ۔اعتبار کرنا ضروری ہے کیونکہ اعتبار کرنے سے رشتے بنتے ہیں اور دو اجنبی خاندان جڑ جاتےہیں۔ جہاں تک ذیشان کا تعلق ہے، میں اسے پچھلے کئی سالوں سے جانتی ہوں وہ اچھا انسان بھی ہے اور ہم ایک دوسرے سے شدت کی محبت بھی کرتے ہیں ۔باقی اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے ۔میں اسے کھو کر پچھتانا نہیں چاہتی۔
امی ابو اس رشتے سے خوش نہ تھے پھر بھی انھوں نے اپنی لاڈلی کے دل کے جذبات کی قدر کی اورباقی مرحلے آسانی سے طے ہوگئے آسرا کو ایسامحسوس ہونے لگا کہ اس کی راہوں میں پھول کھلنے لگے ہیں۔ امی ابو نےاپنے جگر کا ٹکڑا دینے کے ساتھ ساتھ اپنی حیثیت سے بڑھ کر جہیز دے کر داماد کو بھی مالا مال کردیا ۔آسرا اس بات سے بالکل بے خبر تھی کہ آنے والے وقت میں اسے کن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ابو کا خدشہ سچ ثابت ہوا۔ آسراکی محبت سے بھری دنیا آباد ہونے سے پہلے ہی ویران ہوگئی ۔ذیشان کی محبت محض ایک دکھاوا تھا ۔ذیشان کی دلچسپی آسرا میں نہیں بلکہ اسکی جائیداد میں تھی ۔وہ خود غرض اور لالچی ثابت ہوا ۔ابتدائی چھ مہینوں میں ہی ذیشان کا رویہ بدل گیا ۔کیسے بدل گیا ؟۔آسرا کچھ نہ سمجھ پائی۔ پیار محبت بانٹنا دور کی بات ذیشان نے اس کی ناک میں دم کردیا کہ وہ میکے کی ساری جائیداد اپنے نام کروادے۔روز روز تنگ کرکے دباؤ ڈال کر طلاق دینے کی دھمکی بھی دیتا رہا ۔طلاق کا نام سنتے ہی آسرا لرز گئی اورذیشان کا ارادہ جان کر ساری بات اس کی سمجھ میں آگئی ،لیکن اپنے والدین کو بے خبر رکھنا ہی مناسب سمجھا ۔آسرا کی رخصتی کے بعد ہی ابو دل کے مریض ہو گئے تھے، اسی لیے آسرا نے کبھی بھی انکے کے سامنے ذیشان کےلالچ کا تذکرہ نہ کیا ۔کرتی بھی کیسے؟ ،اپنی مرضی سے شادی کرنے والے کچھ کہنے کا حق کھو دیتے ہیں ۔ذیشان نے گھر میںآسرا پر طرح طرح کے ظلم ڈھانے شروع کئے ۔پھر بھی وہ اس لالچی اور بد اخلاق انسان سے محبت کرتی رہی اس کواور اس کے گھر کو اس لیے نہ چھوڑا تاکہ اپنی ازواجی زندگی کو بچا سکے ۔ وہ سب کچھ بہادری سے برداشت کرتی رہی۔ آسر ایہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ اپنے میکے کی تمام جائیدادکی اکلوتی وارث ہےلیکن ایک غلطی کرکے دوسری غلطی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔اس نے کئی بار ذیشان کو سمجھایا کہ وہ کیسے اپنے والدین کو کنگال کر کے سڑک کے بھکاری بنا دے۔ وہ اپنی قوت برداشت سے ذیشان کی سوچ کو بدلنا چاہتی تھی اورکئی سالوں تک ظلم سہ کر آسرا اندر سے مضبوط ہوگئی ۔اپنے مقصد میں ناکام ہو کر ذیشان نے آسرا پر گھر سے باہر قدم رکھنے پر سختی سے پابندی لگادی اوردو تین ماہ یوں ہی گزر گئے ۔امی ابو کا دل اپنی لاڈلی کے لیے بے چین ہو گیا۔
 آخر ایک دن اپنی لاڈلی کا چہرہ دیکھنے اورخیرخیریت دریافت کرنے کے لئے وہ دونوں بیٹی کے سسرال کی چوکھٹ پر پہنچ گئے ۔اتنے مہینوں میں ان کی کلی جیسی نازک بیٹی سوکھ کر کانٹا ہو چکی تھی ۔امی ابو کو دیکھ کر آسرا کے گلے میں جیسے پھندا لگ گیا،  پھرخود کو سنبھال کر مسکرائی لیکن ماں باپ تو ا پنی اولاد کے چہرے کو دیکھ کر ہی دل کا حال جان لیتے ہیں۔ابو سمجھ گئے کہ ان کی بیٹی اپنے دل میں کوئی بڑا دکھ لے کر جی رہی ہے ۔وہ دونوں آسرا کو دیکھ کر جذباتی ہوگئے ۔ابو نے کہا ’’میری بچی اگر تمہیں یہاں کوئی دقت ہے تو مجھ کو بتا دو تمہارے لیے میکے کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں اپنے دکھ درد یہیں چھوڑ کر ہمارے ساتھ چلو ہم تمہیں یہاں رہنے نہیں دیں گے ‘‘۔آسرا ابوکے سینے سے لگ کر کہنے لگی ’’ابویہی میرا گھر ہے ،یہ چھوڑ کر کہاں جاؤں۔ ذیشان کو کیسے اکیلے چھوڑ سکتی ہوں‘‘۔انہیں آسرا نے یقین دلایا کہ وہ یہاں خوش بھی ہےاور اسےیہاں کوئی دقت نہیں ہے ۔دو چار دن کے بعد میکے آنے کا وعدہ بھی کر لیا ۔
وہ باتوں کو طول دینے کے علاوہ دو خاندانوں کا جھگڑا اور ٹکراؤ نہیں چاہتی تھی۔ وہ ذیشان کو ابو کی نظروں سے گرانا بھی نہیں چاہتی تھی، اسی لئے سب دکھوں کو اپنے سینے میں دفن کرکے مشکل اور سنگین وقت کا مقابلہ اکیلے کرنے کےلئے تیار تھی۔ اس طرح اپنے مقدر کی جنگ خودلڑنا چاہتی تھی ۔کافی دن گزرنے کے بعد ایک دن آسرا چپکے چپکے گھر سے نکلی اورجلدی میں ابو امی کے ساتھ دو تین گھنٹے گزار کر واپس گھر پہنچی تو اندر سے کسی نے دروازہ نہ کھولا ۔شام سے رات اور رات سے صبح ہوگئی لیکن آسرا پر کسی کو رحم نہ آیا بلکہ دروازے پر ہی رات گزر گئی ۔پھر دوپہر ہوگئی مگر کسی نے دروازہ نہ کھولا ۔یہ آسرا کی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ تھا اور برداشت کی آخری حد ۔خالی پیٹ ،بخار سے تپتا بدن اور آنکھوں میں آنسو کا سیلاب لئے آسرامیکے کی دہلیز پرکیسے پہنچی اُسے خبرنہیں۔ابو کی نظر آسرا پر پڑتے ہی کہنے لگے ’’میری بچی مجھے تیرے دکھوںکا اندازہ پہلے سے ہی تھا ،میں پہلے ہی سمجھ چکا تھا کہ تم وہاں خوش نہیں ہو ۔اب تمہیں ظلم برداشت کرنے یا کسی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ،ہم ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں اپنے آپ کو اکیلے مت سمجھنا۔‘‘ انہوں نے آسرا کو شرمندہ کئے بغیر سینے سے لگایا اور حوصلہ دے کر نئی زندگی شروع کرنے کا مشورہ دیا۔پھر آسرا نے اپنی ادھوری پڑھائی شروع کی۔ کئی سالوں کی سخت محنت کے بعد اپنی تعلیم مکمل کرکے اپنے لیے ایک اچھی پوسٹ حاصل کی۔ اپنی پچھلی زندگی کوبُرا خواب سمجھ کر بھول گئی اوراپنے پاؤں پر کھڑا ہوکر مصروف ترین زندگی گزارنے لگی۔ یوںدن ہفتے ،مہینے ،سال گزر گئے اور وقت پلٹ گیا ۔ایک دن اچانک ذیشان اپنی امی کے ساتھ آسرا کے قدموں میں آ کر اُس سے معافی مانگنے لگا اور اس سے یہ یقین  دلانے لگا کہ ’’مجھکو آپ کے بغیر اب کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ میں آج یہ اعتراف کرتا ہوں کہ غلط میں ہی تھا۔ میں تمہیں اپنے گھر لینے آیا ہوں۔‘‘
���
پہلگام اننت ناگ،موبائل نمبرل9419038028