تازہ ترین

اکیسویں صدی کے اردو ادب کا غیر متوقع نام۔۔۔۔۔ پریم ناتھ بسمل

تذکرہ

19 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اسلم آزاد شمسیؔ
اردو غزل کا دامن اپنے موضوع کے اعتبار سے نہایت وسیع ہے۔ اس کی وسعت کو جہاں ملک کے مختلف حصوں کے نامور شعراء نے فراخی بخشی ہے وہیں بہار بھی اس معاملہ میں کچھ پیچھے نہیں ہیں۔اردو ادب کی بات کی جائے تو پھر چاہے نثر ہو یا نظم، دونوں میں مختلف ہندو شعرا ء ،افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں نے اردو کی خدمت کی ہے اور اسے عروج بخشا ہے۔
اردو ادب میں اگر ہندو شعرا ء اور ادباء کی بات کی جائے تو برج نارائن چکبست، رتن ناتھ سرشار، منشی پریم چندر ،کرشن چندر ، راجندر سنگھ بیدی، فراق گورکھپوری، جگن ناتھ آزاد، گوپی چند نارنگ اور حکم چند وغیرہ جیسے اُساتذہ فن کی ایک طویل سرفہرست ہے ،جنہوں نے اردو ادب کے لئے اپنی زندگی وقف کرکے اسکے دامن کو بے پناہ وسعتیں عطا کیں۔
دور حاضر میں بھی ایسے کئی نام ہیں جو اردو کے فروغ کے لیے اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔اردو جو کہ خالص ہندوستانی زبان ہے ،ملک و ملت کی زبان ہے، عام و خاص کی زبان ہے، کچھ عرصہ سے سیاسی انتہا پسند کی ردید ہے اوربگڑتے حالات اور لوگوں کی بدلتی سوچ نے اسے محض ایک طبقہ سے منسلک کردیا ہے اورآج یہ عالم ہے کہ ہندوستان کا عوام الناس کم و بیش اس بات سے اتفاق رکھتاہے کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے، حالانکہ کبھی بھی کوئی بھی زبان کسی ایک معاشرہ، طبقہ، قوم،ملک یا جماعت کی جاگیر نہ رہی ہے اور نہ رہے گی ۔
بہار سے تعلق رکھنے والے دور جدید کے شاعر پریم ناتھ بسمل ؔنے ملک بھر کے ان لوگوں کے منہ پر طماچہ جڑا ہے، جو یہ سوچتے ہیں کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے اور ان لوگوں کی منفی سوچ کو غلط ثابت کیا ہے، جو زبان کو کسی ایک طبقہ سے جوڑ کر دیکھتے ہیں ۔ 
15؍اپریل 1985و مرادپور مہوا ویشالی صوبہ بہار میں پیدا ہوئے پریم ناتھ کمار فلمی نغموں کے بہت شوقین تھے۔ محمد رفیع ،کشور کمار، محمد عزیز اور دیگر گلوکاروں کی آوازیں انہیں بے حد پسند تھیں اور اس سے بھی زیادہ انہیں ان الفاظ کو سننے میں مزہ آتا جو ان نغموں میں اس وقت استعمال کئے گئے ہیں،ظاہر ہے کہ اُس وقت فلمی گیت کاری پر اُردو کا غلبہ تھا۔ بس یہیں سے پریم ناتھ کو اردو سے عشق کا خمار طاری ہوگیا۔پھر کیا تھا، پریم ناتھ نے اپنے عشق میں کسی کو ہرگز آڑے آنے نہیں دیا۔ سکول میں اپنے اردو پڑھنے والے ساتھیوں سے اردو سیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو انہوں نے مدد کی۔ اردو سے بڑھتے لگائو کی سبب جلدہی لکھنا پڑھنا اور بولنا بھی سیکھ گئے۔ اب چونکہ وہ اردو پڑھ لکھ سکتے تھے ،لہٰذا اردو سے ڈگریاں حاصل کرنے کی خواہش ہوئی تو کنہولی مدرسہ کے صدر معلم جناب جمیل اختر صاحب سے جاملے ،انکی مدد سے وسطانیہ میں داخلہ لیا اور ۲۰۰۱ میں وسطانیہ ،۲۰۰۳ میں فوقانیہ اور ۲۰۰۵ میں مولوی کا امتحان مدرسہ احمدیہ اکبر پور سے اول درجہ سے پاس کر لیا ۔ ۲۰۰۸ میں پٹنہ کالج سے اردو میں B.Aکا امتحان اول درجہ سے پاس کیا جبکہ سال ۲۰۱۰میں دربھنگہ ہاؤس سے M.Aاردو کیا اور پٹنہ یونیورسٹی میں تیسرا مقام حاصل کیا ۔ پریم ناتھ نے محض ۱۷ سال کی عمر سے ہی شاعری شروع کی تھی۔ والد بزرگوار معلم تھے اور اردو کے تئیں اپنے لاڈلے کا رجحان دیکھ کر متحیر تھے اور اپنے بیٹے سے کہا کرتے تھے کہ کیا رکھا ہے اردو میں، کیا ملے گا پڑھ کر، اس کا بھلا کوئی مستقبل ہے کیا۔ گاؤں والوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ مسلمان ہوگیا۔۔۔۔شادی بھی مسلمان سے ہی کریگا ۔۔۔ اور نہ جانے کیا کیا ۔۔۔۔۔ پر پریم ناتھ پر ان سب باتوں کا بالکل اثر نہیں ہوا ۔ وہ سب کی سنتے رہے اور صرف اپنے من کی کرتے رہے ، کچھ عرصہ تک شفیق سلما نی صاحب سے اپنے اشعار کی اصلاح کراتے رہے۔
پریم ناتھ نے سال ۲۰۱۱ میں TET پاس کیا اور ۲۰۱۳ میں اردو کے اُستاد کے طور پر تقرری ہوئی۔ آج پریم ناتھ بسمل بہار کے چند بہتر شعراء میں سے ایک ہیں۔ انکی پہلی غزل ۹؍ جنوری ۲۰۰۶ کو فاروقی تنظیم پٹنہ میں چھپی تھی جبکہ آج ملک کے تقریبا تمام اخبارات میں انکی غزلیں دیکھی جاسکتی ہیں ۔
آج پریم ناتھ بسمل شاعری کی دنیا میں اپنے نام کا لوہا منوا چکے ہیں۔ ان کی شاعری کی زبان سادہ اور سلیس ہے اورشاعری میں آسان زبان استعمال کرنے کی وجہ سے لوگوں کے درمیان نہایت مقبول ہیں۔ پریم ناتھ کی شاعری موجودہ دور میں اردو ادب کو فروغ دینے میں میل کا پتھر ثابت ہورہی ہے۔بہار کی کئی نام ور شخصیات نے ان کی بہترین شاعری کااعتراف کیا ہے۔ وہ ایک بہترین اور کامیاب معلم ہی نہیں بلکہ ایک بہترین شاعر بھی ہیں ۔
+2ہائی سکول، ہنوارہ گڈا