تازہ ترین

محمد مارڈیوک پکتھال | پہلامسلم انگریز ترجمہ کار

17 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مجتبیٰ فاروق کانہامہ بیروہ
دنیا میںکچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ دین اسلام کی سربلندی اور پھیلائو کے لیے منتخب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو کفر و شرک کی دنیا سے نکال کر ایمان واطمینان کی دولت عطا کر کے ایسا کام لیتا ہے جو ہمارے لیے ہر لحاظ سے قابل تقلید اور قابل رشک ہوتا ہے۔ ان ہی درخشاں ستاروں میں سے ایک نمایاں ستارہ برطانیہ کے مسیحی گھرانے کے چشم وچراغ محمد مارڈیوک پکتھال ہیں۔ محمد مارڈیوک پکتھال نے ایک ناول نگار، معلم، سیاح اور ایک مشہور ومعروف مترجم قرآن کی حیثیت سے نہ صرف عالم اسلام میں بلکہ یورپی دنیا میں بھی انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ محمد مارڈیوک پکتھال ۱۷؍ اپریل ۱۸۷۵ء میں لندن کے ایک عیسائی پادری ولیم پکتھال کے گھر میں پیدا ہوئے۔ محمد پکتھال بچپن سے ہی مذہبی رجحان کے حامل تھے، ان کی دو بہنیں بھی چرچ میں راہبات (Nuns)کی حیثیت سے مذہبی ذمہ داریوںپر فائز تھیں۔ انہوں نے تکمیل تعلیم کے بعد ۱۸۹۴ء میں فلسطین، مصر، ترکی، اور شام کی سیاحت کی۔ فلسطین کی سیاحت کے بعد مصر اور پھر مصر کے بعد لیبیا اور ترکی میں قیام کے دوران اسلامی اور عربی تہذیب کا براہ راست مشاہدہ کیا۔ عالم عرب کا مشاہدہ اور سیر و تفریح کرنے کے بعد بالآخر لندن واپس لوٹے اور ایک تاریخی ناول بعنوان Nights of Arabلکھی، جس میں انہوں نے عربوں کی طرز زندگی اور ان کی تہذیب کے بارے میں سیر حاصل گفتگو کی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ محمد پکتھال کے دل ودماغ میں اسلام اور اسلامی وعربی تہذیب کا اثر ان اسفار سے راسخ ہو چکا تھا۔اس کے علاوہ اسلامی تاریخ سے متعلق ان کے کئی افسانے نکل چکے تھے ۔ اس کے بعد وہ اسلام کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کر کے لندن میں ۹۱۷اء میں اسلام کی عظیم دولت سے مالا مال ہوئے۔قبول اسلام کے بعد دین کے ایک مخلص خادم ثابت ہوئے ۔ ان کے قبول اسلام سے وہاں علمی، فکری اور ادبی حلقوں میں زبردست اثر پڑا، یہاں تک کہ دیگر اہل علم اور دانشوران اسلام کی روحانی تعلیمات کا مطالعہ کرنے لگے۔ محمد پکتھال نے مسلمانوں کا کردار دیکھ کر اسلام قبول نہیں کیا، اپنی محنت اور تلاش حق کی جستجو سے راہِ حق سے بہرہ ور ہوئے۔ پکتھال خود لکھتے ہیں کہ : ’’میں نے خود اسلام کا مطالعہ گہرائی سے کیا جس سے میں بے حد متاثر ہوا ہوں۔‘‘ اس کے علاوہ وہ مسلمانوں کو اس قیمتی بات سے بھی آگاہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:’’مسلمانوں کو اسلام ورثے میں ملا ہے اس لیے وہ اس کی قدر نہیں پہچانتے۔ حقیقت یہ ہے کہ میری زندگی میں جتنے مصائب اور پریشانیاں آئیں، ان میں امن وعافیت کا واحد گہوارہ اسلام ثابت ہوا۔‘‘ اسلام قبول کرنے کے بعد مارماڈ یوک ولیم پکتھال نے محمد مارڈیوک کہلانا پسند کیا۔ انہوں نے انگلینڈ میں اسلام کے ایک داعی کی حیثیت سے کام کرنا شروع کیا۔ علاوہ ازیں عیسائی پادریوں سے حکمت کے ساتھ مباحثہ بھی کرتے تھے اور اپنے کئی دوستوں کو اسلام کی آغوش میں لے آئے۔ ان کی اہلیہ جو کہ ایک مشہور فلمی اداکارہ تھیں ،نے بھی اسلام کی آغوش میں پناہ لی۔ محمد پکتھال کی کوششوں سے ہی ریکس انگرام (یہ بھی فلمی دنیا سے جڑے ہوئے تھے) نے بھی اسلام کو گلے لگایا۔ نیز انہوںنے اسلام کی حقانیت اور خلافت ِعثمانیہ کے حق اور دفاع میں بہت سے مضامین لکھے۔ اس سے ان کی شہرت نہ صرف لندن میں بلکہ برصغیر تک بھی پہنچ گئی۔  
محمد پکتھال ۱۹۲۰ء میں محمد علی جوہر اور عمر سبحانی کی دعوت پر اپنی اہلیہ کے ساتھ ہندوستان آئے اوربمبئی میں Mombay Chronicle  اخبار کی ادارت سنبھال لی۔ ان دنوں خلافت تحریک زوروں پر تھی، محمد پکتھال نے اس میں بھی حصہ لیا اور سرگرم داعی کی حیثیت سے مختلف مقامات پر خطابات کئے۔ ۱۹۲۴ء میں محمد پکتھال کی عالمی شہرت اور خداداد صلاحیتوں کے پیش نظر نظامِ حیدر آباد دکن نے چادر گھاٹ ہائی اسکول کے پرنسپل شپ کے عہدے کے لیے پیش کش کی جو محمد پکتھال نے بخوشی قبول کر لی۔ انہوں نے چادر گھاٹ ہائی اسکول کو مثالی اور بہترین بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اس کوابھی آسمان اور بھی ہیں کے مصداق بنایا۔ موصوف مسلمانوں کو اس بات کی بار بار تلقین کرتے تھے کہ ہمیں ماضی میں کئے گئے کارناموں کو ذہنوں میں مستحضر رکھ کر آگے بڑھنا ہو گا تاکہ ہم عظمت ِرفتہ کو پھر سے بحال کر سکیں۔ وہ اس ضمن میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’سائنس اور جدید علوم کو عیسائیوں یا مغرب ویورپ کا دین نہ سمجھیں کیونکہ ماضی میں مسلمانوں نے سائنس اور مختلف علوم وفنون میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ ‘‘
  محمد پکتھال نے ہندوستان میں قیام کے دوران مختلف شہروں میں اسلامی تاریخ و تہذیب اور تمدن جیسے اہم موضوعات پر خطابات پیش کیے۔ جو بعد میں ۱۹۲۷ء میں Cutural side of Islamکے نام سے شائع ہوئے۔ یہ مجموعہ آٹھ لیکچرس پر مشتمل ہے، اس کابہت سی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ان لیکچرس سے مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلموں نے بھی بھرپور استفادہ کیا۔علاوہ ازیں محمد پکتھال بڑے بڑے تعلیمی اداروں اور مساجد کی طرف سے اسلام کے مختلف موضوعات پر لیکچرس اور اظہار خیال کرنے کے لیے مدعو کئے جاتے تھے۔ ان کے لیکچرس عام فہم لیکن دلائل سے پُر ہوتے تھے اور سامعین کو اپنے بصیرت افروز خطابات سے بھرپور فائدہ پہنچاتے تھے۔ ان کے لیکچرس تعلیمی، تہذیبی اور ثقافتی مسائل پر ہوتے تھے۔ انہوں نے ایک لیکچر میں برطانوی حکومت کے اہم آلہ کار لارڈ کرومر کی اس ہتک آمیز اور مضحکہ خیز بات پر زبردست محاکمہ کیا کہ:‘‘اگر اسلام کو جدیدیت کے قالب میں ڈھالا جائے تو یہ اپنی افادیت کھو دے گا۔‘‘ 
  اسی طرح ایک اور اہم لیکچر میں مغربی فکر وتہذیب اور مادی طرز عمل پر بھی بے لاگ تنقید وتجزیہ کیا۔ انہوں نے مذکورہ لیکچر میں ایک ہی معاملے پر مغربی مساوی طرز عمل اور اسلامی اخلاقی طرز عمل کی ایک مثال دی۔ جس سے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ دونوں رویوں میں کتنا فرق ہے؟کہتے ہیں کہ ایک بار ڈیلی ٹیلی گرام نے عوام سے ایک سوال پوچھا تھا کہ اگر کسی عمارت میں آگ لگ جائے تو اس عمارت کے اوپر والے حصے میں نادر آرٹ کا نمونہ موجود ہو اور اس میں ایک بچہ بھی موجود ہو تو دونوں میں سے آپ کس کو بچانے کی کوشش کریں گے؟ تو اس کے جواب میں ۹۷ فیصد برطانوی عوام نے کہا کہ وہ آرٹ کے نادر نمونے کو بچائیں گے۔ محمد پکتھال اس مثال کو پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’ اگر یہی سوال مسلمان عوام سے کیا جاتا تو ۱۰۰؍فیصد عوام بچے کو بچانے کو ترجیح دیتے۔ یہ ہے مغربی اور اسلامی تہذیب وثقافت کا فرق۔‘‘ان کے نزدیک مغربی فکر وتہذیب میں فرد کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اسلامی فکر وتہذیب نہ صرف فرد کا تحفظ اور اس کے امن وامان کے لیے ٹھوس لائحہ عمل پیش کرتا ہے بلکہ اس کے احساسات وجذبات تک بھی قدر کرتا ہے۔ محمد پکتھال جدید صحافت کو پروان چڑھانے اور مسلم دانشوروں کو ملت کی تہذیبی شناخت کو قائم رکھنے کے لیے ابھارتے تھے اور ساتھ ساتھ مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے لیے مہمیز کرتے تھے۔ موصوف نے نظام حیدر آباد کی مدد سے ایک سہ ماہی انگریزی جریدہ ۱۹۲۶ء میں "Islamic culture"کے نام سے منصہ شہود پر لایا، اس کے مدیر محمد پکتھال ہی مقرر ہوئے۔اس رسالے کا مقصد مغربی اور عیسائی دنیا کو اسلامی فکر و تہذیب اور فلسفہ سے روشناس کرانا تھا ۔ اس میں اعلیٰ پائے کے تحقیقی، علمی، فکری اور تہذیبی موضوعات پر مقالے شائع ہوتے تھے۔ 
محمد پکتھال کا ایک عظیم کارنامہ قرآن مجید کا ترجمہ بھی ہے۔ انہیں قرآن مجید کا ترجمہ کرنے کا ارادہ پہلے ہی سے تھا لیکن حیدر آباد دکن میں ملازمت کے دوران وہ اس عظیم کام کا عملی جامہ نہیں پہنا سکے۔ ۱۹۲۸ء میں نظام حیدر آباد نے ان کو دو سال کے لیے خصوصی چھٹی دے دی تاکہ وہ اس کارخیر کو انجام دے سکیں۔ نظام حیدر آباد نے محمد پکتھال کو اس عظیم کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے بھرپور تعاون دیا۔ محمد پکتھال نے مسلسل دو سال تک (۳۰۔۱۹۲۸ء) ترجمہ پر صرف کرنے کے بعد اس کو علما، زعما اور جامعۃ الازھر مصر کے شیوخ کو دکھا کر اس ترجمہ قرآن کو شائع کرنے کی اجازت لے لی۔ اگرچہ پہلے ازھر کے Reactor اور بعض علماء نے اس کو ناپسند بھی کیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ قرآن کا ترجمہ کرنا گناہِ کبیرہ میں سے ہے، بعد مین شیخ الازھر مصطفی المرغانی نے قرآن پاک کا انگریزی میں مستند ترجمہ ہونے کی ضرورت کو محسوس کر کے اس ترجمہ قرآن کو جلد سے جلد شائع کرنے کی اجازت دے دی۔بہرحال ۱۹۳۰ء میں یہ ترجمہ انگریزی زبان میں The meaning of the Glorius Qura'n کے نام کے تحت بیک وقت انگلینڈ اور امریکہ میں شائع ہوا۔ بقول پروفیسر عبد الرحیم قدروائی :’’۲۰۰۲ء تک اس کے ۱۵۰؍ سے زائد ایڈیشن مغربی ممالک اور برصغیر سے شائع ہوئے۔‘‘ 
قرآن پاک کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کی شروعات عیسائی عالموں نے کی۔ ان کا ترجمہ کرنے کا اصل مقصد قرآن پاک اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو بگاڑناتھا اور مسلمانوں کو عیسائیت کی طرف راغب کرنا تھا۔ قرآن مجید کا سب سے پہلا ترجمہ لاطینی زبان میں ہوا اور سب سے پہلا لاطینی ترجمہ رابرٹ آف کیٹانس Rbert  of  kettons (۱۱۶۰:متوفی )نے کیا ہے ۔انھوں نے قرآن مجید کا ترجمہ کرنے میں کلاسکل تفاسیر اور لٹریچر سے بھی استفادہ کیا جن تک رسائی اس دور میں نہایت محال تھا ۔ اس ترجمہ کا غلبہ یورپ اور مغرب میں سترھویں صدی تک رہا  ۔ الیکذنڈر راس (۱۶۵۴۔۱۵۹۲) پہلا عیسائی اسکالر اور پادری تھا جس نے قرآن مجید کا گمراہ کن ترجمہ فرانسیسی زبان میں The Alcoran of Mohometسے انگریزی زبان میں کیا۔ اس کے بعداٹھارویں صدی میںقرآن مجید کا باقاعدہ انگریزی زبان میں ترجمہ کیا گیا  اور اس کوجارج سیل (George Sale)نے کیا جو ۲۰۰ صفحات پر مشتمل تھا ۔یہ ترجمہ انھوں نے 1734ء کو The Koran: Commonly called the Alkoran of Mohmmad کے نام سے کیا ۔ انھوںنے یہ ترجمہ The Sociaty for promoting Christain Knowledgeکے حکم پر کیا تھا ۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ۱۹۲۸ء تک کسی بھی مسلمان نے قرآن مجید کا کوئی معیاری اور مستند ترجمہ کی تو دور کی بات ہے بلکہ عام نوعیت کا ترجمہ نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد مسلم اسکالرس نے انگریزی زبان میں میں قرآن کا ترجمہ کرنے کی ضرورت محسوس کی اور اس اہم کام کی طرف دلچسپی بھی دکھا ئی ۔
انگریزی میں ترجمہ قرآن کے سلسلے میں مسلمانوں میں سے محمد پکتھال پہلے شخص ہیں جنھوں نے قرآن مجید کا ترجمہ براہ راست عربی زبان سے انگریزی زبان میں کیا۔اس ترجمہ کو انھوں نے"The Meaninig of the Glorious Qura'n "کے نام سے کیا۔ یہ ترجمہ قرآن مستند ہونے کے ساتھ ساتھ معیاری بھی ہے۔ اس ترجمہ قرآن میں زبان کی سلاست، فصاحت، بلاغت اور انداز بیان انتہائی خوبصورت اور Up to the mark ہے۔اس ترجمہ قرآن میں حاشیہ برائے نام ہی ہے ۔ عبداللہ یوسف اس ترجمہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ انگریز ہونے کے ناطے مارماڈیوک پکتھال کی انگریزی زبان کی مہارت پر کوئی انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی ۔ اس کے علاوہ ان کی عربی زبان کی مہارت بھی دنیا بھر میں مسلم ہے ۔ ‘‘محمد پکتھال خود شدت سے اس بات کو محسوس کرتے تھے کہ قرآن کا ایک ایسا انگریزی ترجمہ ہو جو یورپی اور مغربی دنیا کو تمام غلط فہمیوں سے نکال دے ۔اس وقت جو تراجم دستیاب ت وہ ن انتہائی مایوس کن تھے اسی لئے انھوں اس عظیم کار خیر کا بیڑا اٹھایا ۔ علاوہ ازیں انہوں نے ایک خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ قرآن مجید کے دستیاب ترجموں میں مولوی محمد علی( مرزائی) کا انگریزی ترجمہ کی زبان ٹھیک ٹھاک نہیں ہے اور اس کو کوئی بھی انگریز روانی سے نہیں پڑھ سکتا۔ ایک اور جگہ یوں رقمطراز ہیں :’’محمد علی لاہوری (مرزائی)کو غلط سلط ترجمے کو انگریزوں کے ہاتھوں میں دیکھ کر شرماتا ہوں اور جی چاہتا ہے کہ اس کا ایک عالیشان اور آسان ترجمہ کروں جو دلوں کو گرما دے۔‘‘
محمد پکتھال کو اس بات کا بھی علم بخوبی تھا کہ اس وقت جو دوسرے دستیاب تراجم ہیں وہ ان لوگوں نے کئے جو قرآن مجید پر ایمان ہی نہیں رکھتے۔ ان بے ایمان لوگوں کے ترجموں کے ذریعے قرآن کی اصل تعلیمات کو بگاڑ کر رکھ دیا۔ اسی لیے انہوں نے اس محنت طلب، نازک اور اہم ترین کام کو اپنے ہاتھوںمیں لیا۔  اس وقت وہ قرآن مجید کا ترجمہ کرنے کے لیے سب سے زیادہ اہل اور موزوں شخص تھے۔ ان کے ترجمہ قرآن سے لاکھوں لوگوں نے استفادہ کر کے اپنے ایمان کو منور کیا۔ موصوف نے ترجمہ کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، لہٰذا انسان کے لیے یہ نا ممکن ہے کہ وہ کتاب اللہ کاترجمہ کر سکے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ وہ اس کے قریبی مفہوم تک پہنچ سکے۔ محمد پکتھال قرآن مجید کو ایک بہت بڑا معجزہ قرار دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں قرآن کے کئی صفحات بیک وقت حفظ کر لیتا ہوں جب کہ انگریزی کا ایک چھوٹا سا اقتباس حفظ کرنے میں بہت دشواری محسوس ہوتی ہے۔ قرآن مجید انسان کے لیے نسخہ کیمیا ہے، یہ انسان کو تمام غلاظتوں سے پاک کر دیتا ہے۔ یہ انسان کو اندرونی اصلاح سے شروع ہو کر بیرونی اصلاح پر منتج ہوتا ہے۔وہ قرآن مجید کی ابتدائی سورتوں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ تربیت کے لحاظ سے قرآن مجید کے ابتداء وہ سورتیں اترتیں رہیں جن میں انسان کے لیے باطنی اصلاح پر توجہ مرکوز کی گئی اور انسان کی بیرونی اصلاح وتربیت سے متعلق احکام بعد کو اتریں اس حوالے سے محمد پکتھال کی یہ بات کتنی اہمیت کی حامل ہے جو انہوں نے ترجمہ کے دیباچے میں کہی ہے کہ:
"The inspiration of the Prophet progressed from inner most things to out-word things"
یعنی قرآن مجید کے اندر ایک گہری معنویت ہے کہ پیغمبر کا الہام اندرونی چیزوں سے شروع ہو کر بیرونی چیزوںکی طرف آتا ہے۔ 
 محمد پکتھال کے ترجمے کی ایک خوبی یہ ہے کہ انہوں نے ہر جگہ اللہ کا ترجمہ اللہ ہی کیا ہے نہ کہ God لکھا۔ وہ ان لوگوں سے نالاں ہے جو اس کا ترجمہ Godسے کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ’’اللہ ربِ کائنات کا اسم ذات ہے اس لیے وہ ان تمام لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اللہ کا
 ترجمہ Godسے نہ کریں۔ بقول مرحومہ مریم جمیلہ: 
"this makes the message of Islam strike the western reader as more othentic and effective" (Why i embraced Islam)
یعنی اس سے مغربی قارئین کے لیے پیغام انتہائی مستند اور مسحور کن بن گیا۔ محمد پکتھال حیدر آباد دکن کی ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد ۱۹۳۵ء میںمیڈیکل چیک اپ کرانے کے لیے انگلینڈ واپس چلے گئے۔ ۱۹؍مئی ۱۹۳۶ء میں سینٹ آیوس ہاسپیٹل میں عالم اسلام کے مایہ ناز سپوت کا انتقال ہوا۔ ان کی وفات کو ایک بڑا سانحہ قراد یا گیا لیکن رب ذوالجلال کا یہی فیصلہ تھا۔  انا للہ وانا الیہ راجعون۔
.......................
رابطہ :پی، ایچ ۔ڈی ۔اسکالر ،شعبہ اسلامیات،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر آباد

فون نمبر:6397700258