تازہ ترین

سرینگر کے ایک مندر کی زمین کی ناجائز فروخت

مقامی اور غیر مقامی افراد پر سنجے صراف کاالزام

16 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: مبشرخان    )

بلال فرقانی
سرینگر//سرینگر میں اراضی مافیہ کی طرف سے مندر کی زمین فروخت کرنے کا انکشاف کرتے ہوئے ایل جے پی کے قومی ترجمان سنجے صراف نے الزام عائد کیا کہ بیرون ریاستی3 افراد کے علاوہ سرینگر مونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی میئر اور انکے والد بھی اس میں شامل ہے۔ سرینگر کے ایوان صحافت میں پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے ایل جے پی کے امور کشمیر کے انچارج سنجے صراف نے کہا کہ کشمیری مسلمانوں کو بیرون ریاست میںبدنام کیا جاتا ہے تاہم اصل میں کچھ تاجر اور بیرون ریاست کے شہری مندروں کی اراضی کو فروخت کرکے عام مسلمانوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بربرشاہ میں مندر کی اراضی کو پٹے پر دیا گیا تھا،جس کا پٹہ2003میں ختم ہوا تھا،تاہم انہوں نے کہا کہ دھرم داس رام جیون داس ٹرسٹ کی اس اراضی کو فروخت کیا گیا۔انہوں نے دستاوئزات (بیعہ نامہ) کی نمائش کرتے ہوئے سرینگر مونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی میئر شیخ عمران اور بربر شاہ فلور فل کے مالک  کلدیپ سرنا سمیت کئی لوگوں پر یہ اراضی فروخت کرنے کا الزام عائد کیا۔صراف نے کہا ’’مندر کی اراضی کا پٹہ پہلے ہی2003میں ختم ہوچکا تھا،جبکہ سی جے ایم سرینگر کی عدالت اور صوبائی کمشنر کے دفتر نے اس اراضی پر حکم امتنائی عائد کی ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ نے بھیOWP-785 /2010میں کے تحت فیصلے میں واضح کیا ہے کہ وادی میں کسی بھی مندر کی اراضی کو فروخت کرنا ممنوع ہے۔سنجے صراف نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اراضی کا بیعہ نامہ امسال29مارچ کو ہوا ہے،جس میں لکشمی نارائن،کلدیپ سرنا نیلم سرنا،مشتاق احمد شیخ اور شیخ عمران نے اس اراضی کوعرفان احمدگجو کو18کروڑ 25لاکھ روپے میں فروخت کیا گیا ہے،جبکہ16لاکھ روپے کا کورٹ فیس اور ایک کروڑ21لاکھ روپے کے اسٹمپ ڈیوٹی بھی ادا کی گئی ہے۔انہوں نے اعلیٰ سطح پر اس جعلسازی کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قومی تفتیشی ایجنسی کو اس طرح کے کیسوں کی تحقیقات کر کے اصل اراضی مافیہ کو بے نقاب کر کے عام کشمیری مسلمانوں پر لگے اس الزام کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔بانڈی پورہ میں ایک معصوم بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کو انسانیت سوز قدم قرار دیتے ہوئے سنجے صراف نے اس واقعے کی باریک بینی کے ساتھ تحقیقات کی وکالت کی۔انہوںنے فاست ٹریک بنیادوںپر تحقیقاتی عمل اور شنوائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے اور تحقیقاتی عمل کو منظر عام پر لانے پر زور دیا۔ شاہراہ پر ٹول ٹیکس کی ادائیگی کا ذکر کرتے ہوئے ایل جے پی کے قومی یوتھ صدر نے کہا کہ ابھی شاہراہ مکمل نہیں ہے تو ٹیکس وصولی کیونکر کی جا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا تھا کہ پہلے شاہراہ کو مکمل کیا جائے اور بعد میں اگر ٹیکس وصول بھی کیا جاتا اس میں کوئی بھی قباحت نہیں،تاہم یہ نا انصافی ہے کہ ابھی شاہراہ کو مکمل نہیں کیا گیا اور ٹیکس بھی وصول کیا جا رہا ہے۔سنجے صراف نے سرینگر جموں شاہراہ کو قابل آمدرفت بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماہ رمضان میں وادی میں بنیادی اشیاء کی سپلائی کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے روزانہ کی بنیادوں پر مغل روڑ سے مال بردار گاڑیوں بشمول،لائیواسٹاک اور اشیایہ ضروریہ کو آمدرفت کرنے کی اجازت دی جانی چاہے۔