تازہ ترین

آزادیٔ نسواں ایک فریب

اندھیروں سے ارادت ہو اُجالوں کی بھی چاہت ہو

16 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

عارفہ منظور۔۔۔۔ سرینگر
 زمانہ جاہلیت میں عورت ذات پوری دنیا میں بالعموم اور عرب معاشرہ میں بالخصوص کس آزمائش سے گزر رہی تھی؟ ہند میں عورتوں کی کیا حالت تھی؟ عیسائیت میں عورت کے حقوق کی کیا کتر بیونت  ہوئی تھی ؟ یہودیت میں عورت کا کیا بُراحال تھا؟ اس کی تفصیل تاریخ کتابوں میں موجود ہے۔ اس سب کا منصفانہ جائزہ لیجئے تو نظر یہ آئے گا کہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے دنیا میں عورت کو بے وقعتی و ناقدری ، زبوں حالی وکسمپرسی ، ذلت ورسوائی کی پستیوں سے اٹھاکر عزت و تکریم کا وہ مقام دیا جس کی مثال نہ کسی اور مذہب میں اور نہ ہی کسی قانون اور نہ کسی مفکورے میں مل سکتی ہے۔اس موضوع پر دفتر در دفتر  کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ اس سلسلے کی چند موٹی موٹی مثالیں پیش خد مت جو یہ بتاتی ہیں کہ اسلام نے عورتوں کو جو آزادی اس سے صنف ِ نازک نے کیسے کیسے فائدہ اٹھایا۔ اسلام کے زیر سایہ اورحیا و پردے کی  زیب وزینت والی چادر میںمسلم خواتین نے ہر وہ کارنامہ انجام دیا جو صرف اسی کا حصہ تھا۔ اسلام نے عورت کو میدان عمل میں اپنے جوہر دکھانے سے منع کیا ہے نہ مسجد میں شرائط پوری کر تے ہوئے آنے جانے سے روکا۔ غزوۂ احد میں اُمِ عمارہ رضی اللہ عنہا کا اُس دشمن ِ دین پر تلوار کے وار سے کون انکار کرسکتا ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہید کرنے کی خبر اُڑا دی تھی ۔ نیز یہ بھی ایک اظہر من الشمس حقیقت ہے کہ مسجد نبویؐ میں انصار و مہاجر عورتوں کی حاضری لازمی تھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے تبحر علمی ،خنساء رضی اللہ عنہا کی سخن وری اور جہا نگیر کی بہن زیب النساء کی زبردست شعر و شاعری کے بارے میں تاریخ آج بھی رطب اللسان ہے ۔اُندلس کی مشہور محدثہ اُم سعد علم حدیث میں با کمال تھیں، قرطبہ کی لبانہ علم حساب وہندسہ کی بڑی ماہر تھیں، الجبرا اور مساحت و پیمائش کے نہایت پیچیدہ مسائل وہ چٹکیوں میں حل کر دیتی تھیں۔ایمرجنسی اور انتہائی نا گزیر حالت میں عورت کسی بھی معاملہ کی قیادت کرسکتی ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جنگ جمل میں فوج کی قیادت تاریخ اسلام کا ایک اہم روشن باب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک ساتھ دوڑ کے مقابلے کے بارے میں بھی آپ نے پڑھاہی ہو گا۔سردار دو جہاں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے صلح حدیبیہ کے موقع پر ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی رائے کو قبول کر کے اس پر آپ ﷺ کاعمل کرنا، عورتوں کی عزت و تکریم کی مشاورت کا زریں باب ہے۔غرض کہ تمام شعبہ ہائے حیات میں اسلام نے عورت کو ان کے اپنے دائرے میں رہ کر کار ہائے نمایاں انجام دینے کی کھلی مگر مشروط اجازت دی ہے۔
آج کے نام نہاد روشن اور ماڈرن جاہلیت میں عورتوں کو ’’آزادی‘] کے نام سے دوبارہ اسی ظلم ، بے وقعی، بے قدری، ذلت اور رسوائی کی طرف دھکیل دیا جارہا ہے جس سے وہ اسلام کی برکت سے خلاصی پاچکی ہیں ۔ دور حاضر میں یورپ و امریکہ اور دوسرے صنعتی ممالک میں عورت ایک ایسی گری پڑی مخلوق بنی ہے جو صرف اور صرف تجارتی اشیاء کی خرید و فروخت کے لئے استعمال ہوتی ہے ، وہ اشتہاری کمپنیوں کا جز وِ لاینفک بن چکی ہے ، بلکہ حالت یہاں تک جا پہنچی ہے کہ اس کے کپڑے تک اُتروا دئے گئے ہیں اوراس کے جسم کی نمائش کو تجارتی اشیاء کے لیے جائز کر لیا گیا ہے بلکہ مردوں نے اپنے بنائے ہوئے قانون سے اس کی نسوانیت سے ہر جگہ کھیلنا اپنا مقصد ِ زندگی بنا لیا ہے۔عورت نے اس نعرے کے فریب میں آکر جب سے بیرون ِ خانہ نکل کر مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا شروع کیا تو اسے ہوٹلوں میں ریسیپشنسٹ ، ہسپتالوں میں بطور نرس، ہوائی جہازوں میں بحیثیت ایئر ہوسٹس، تھیٹروں میں بحیثیت اداکارہ یا گلوکارہ، الیکٹرانک میڈیا میں بحیثیت اناؤنسر بٹھا دیا گیا، جہاں وہ اپنی خوبصورتی ، دلفریب اداؤں اور شیریں آواز سے لوگوں کی ہوس ِنگاہ وصوت کا شکار بن سکے۔فحش رسائل و اخبارات میں اُس کی ہیجان انگیز عریاں تصویریں چسپاں کر کے عورت کو ہی ہر پروڈکٹ کی مارکیٹنگ کا وسیلہ بنایا گیا ، تاجروں اور صنعتی کمپنیوں نے اسی کی فحش تصویریں اپنے سامان ِتجارت اور مصنوعات پر چسپاں کر کے انہیں فروخت کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔یہی نہیں بلکہ جس کی نظر آج کی فحاشی و عریانیت پر ہو، وہ اچھی طرح واقف ہوگا کہ مس ورلڈ، مس یونیورس اور مس ارتھ کے انتخابی مراحل میں عورت کی حیا مندی کے ساتھ کیا کیا کھلواڑ نہیں ہوتا۔نیز فلموں میں اداکاری کے نام پر اور انٹرنیٹ کے مخصوص سائٹ پر اُس کی عریانیت کے کون سے رُسواکن مناظر دستیاب ہوتے ہیں جن سے تہذیب کی گردن جھک جاتی ہے اور شرافت کے منہ پر کالک پوت دی جاتی ہے،۔اگر یہی عورت کی’’ آزادی اور اس کی عزت و تکریم ‘‘اور اس کے’’ حقوق ‘‘پانے کی علامات ہیں تو انسانیت کو اپنے پیمانۂ عزت و آبرو پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔
یاد رہے کہ یہ سب معاملہ عورت کے ساتھ اس وقت تک رکھا جاتا ہے جب تک اس میں مردوں کی کشش، اُبھرتی جوانی کی بہار ، دل ربا دوشیزگی کا جوبن اور شباب و کباب کی رونق رہتی ہے ، لیکن جب اس کے جوبن میں پژمردگی آ جاتی ہے، اس کی کشش میں گھن لگ جاتا ہے، بازاروں میں اس کی قیمت لگنا بند ہو جاتا ہے، اس کے ڈیمانڈ کو دیمک چاٹ جاتی ہے اور اس کی ساری مادی چمک دمک ماند پڑ جاتی ہے تو یہ کافر ادا معاشرہ اس سے منہ موڑ لیتا ہے ،وہ ادارے جہاں اس نے جوہر کمال دکھائے تھے ،اس کو سر راہ چھوڑ دیتے ہیں اور وہ اکیلی یا تو اپنے گھر میں کسمپرسی کی زندگی گزارتی ہے یا پھر پاگل خانوں میں جابستی ہے! یہ ہے’’ آزادیٔ نسواں‘‘ کی موجودہ کڑوی حقیقت اور یہ ہے اس کا حتمی بُرا انجام ۔ آزادی ٔنسواں پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک مغربی مصنف یوں رقم طراز ہے:
’’وہ نظام جس میں عورت کے میدان عمل میں اُترنے اور کارخانوں میں کام کرنے کو ضروری قرار دیا گیا، اُس سے ملک کو چاہے کتنی بھی دولت و ثروت مہیا ہو جائے مگر یہ بات یقینی ہے کہ اس سے گھریلو زندگی کی عمارت زمین بوس ہو کر رہ جاتی ہے، کیونکہ اس نظام نے گھر کے ڈھانچے اور خاندان کے نظام پر چومکھی پر حملہ کر کے انسانی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور معاشرتی تعلقات و روابط کے سلسلہ کو درہم برہم کر دیا ہے‘‘۔ایک دوسری مغربی مصنفہ جو کہ پیشہ سے ڈاکٹر بھی ہے، وہ اپنے مغربی معاشرے کے اندر رونما ہونے والے بحرانوں کا تذکرہ کرتے ہوئے یوں خامہ فرسا ہے:’’خاندانی زندگی میں رونما ہو نے والے بحرانوں کا سبب اور معاشرے میں جرائم کے بکثرت بڑھ جانے کا راز اس بات میں پوشیدہ ہے کہ عورت نے گھر کی چار دیواری کو الوداع کہا تاکہ خاندان کی آمدنی دوگنی ہواور واقعی آمدنی تو بہت بڑھ گئی مگر اس سے معیار اخلاق انتہائی نچلی سطح تک گر گیا، تجربات نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ آج نسل ِنو جس بحران میں مبتلا ہے، اُسے بچانے اور اس دلدل سے نکالنے کا صرف ایک ہی راستہ اور طریقہ ہے اور وہ طریقہ یہ ہے کہ عورت کو دوبارہ اس کے اصل مقام یعنی گھر میں واپس لایا جائے‘‘۔مسلم عورت کو مسٹر پیر کریٹس اس طرح خراج پیش کرتا ہے: ’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے برقعہ پوش مسلم خواتین کو ہر شعبہ زندگی میں وہ حقوق حاصل ہو گئے ہیں جو بیسویں صدی میں ایک تعلیم یافتہ عیسائی عورت کو حاصل نہیں‘‘۔ (اعترافِ حق ص 209)یہاں پہنچ کر بے ساختہ علامہ اقبال کا یہ مصرعہ زبان پر آجاتا ہے    ؎
  اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش 
مجبور ہیں ، معذور ہیں، مردانِ خرد مند
کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ 
آزادیٔ نسواں کہ زمرد کا گلو بند
