تازہ ترین

سمبل واقعہ پر کشمیرسول سوسائٹی کا ردعمل قابل تحسین:عاشق حسین خا ن

متاثرہ کو انصاف دلانے اور شرارتی عناصر کے منحوس ارادوںکو ناکام بنانے کیلئے پر امن ماحول اشدضروری

15 مئی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

جموں//شیعہ فیڈریشن جموںکے صدر عاشق حسین خان نے سمبل درندگی کو انسانیت کے نام پر بد نما داغ قرار دیتے ہوئے گناہ گاروںکو تختہ دار پر چڑھانے کی مانگ کو سو فیصدی درست قرار دیا ،ایک پریس بیان کے مطابق خان نے کہا کہ کسی بھی سماج کیلئے ایسے درندوںکیلئے کوئی جگہ نہیںہے ۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے سماج نے ملک و پوری دنیاکو پیغام دیا ہے کہ کشمیر میںکوئی بھی فرد اس قسم کی گھناونی حرکت قبول نہیں۔خان نے کہاکہ سول سوسائٹی کا سڑکوںپر آنے کا مطلب قصور وار کو کئی رو رعایت نہ دینا تھا ۔جس میںسول سوسائٹی سو فیصدی کامیاب ہو ئی ہے ۔جس کے لئے پورا سماج ان کو مبارکباد دیتا ہے ۔لیکن خان نے کہا ہے کہ سول سوسائٹی جس طرح سے اب بھی سڑکوںپر ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی جگہ جگہ تشدد کی کارروائیاںہونے کی اطلاعات بدستور مل رہی ہیں،جو ایک مہذہب سماج اجازت نہیںدیتا ۔کیونکہ اس سے متاثرہ کو انصاف دلانے میںروڑے پیدا ہونے کا امکان پیدا ہوتا ہے ۔عوام  جو دبائو سرکار پر بناناچاہ رہے تھے وہ جائز اور درست قدم تھا ۔کیونکہ ماضی میںسرکاروںسے کوتائیاںہوئی ہیںاسلئے سرکار کوخبردار کرنا تھا کہ قصور وار کسی طرح سے نہ بچ جائے ۔لیکن ریاستی گورنر اور انتظامیہ کے سربراہوںنے صاف کہا ہے کہانصاف مل کر رہے گا ۔اس کیلئے انتظامیہ کو پر سکون ماحول اشد ضروری ہے ،ساتھ ہی سول سوسائٹی کو چاہئے کہ وہ ایسے عناصر کے منحوس ارادوںکو خاک میںملا دیں۔کیونکہ ایسے وقت میںذاتی مفاد رکھنے والے متحرک ہو جاتے ہیںجن سے سماج کو ہوشیار رہنا ہوگا ،سول سوسائٹی نے جس اتحاد اتفاق کا مظاہرہ کیا ہے اس سے کسی شرارتی عناصر کو پنپنے کاموقع نہ ملا ۔اسلئے کشمیر کی سول سوسائٹی سے اپیل ہے کہ وہ متاثرہ کو انصاف دلانے کے کاز کو پورا کرنے کیلئے ایک جٹ رہیںاور صدیوںپرانے بھائی چارہ و یکجہتی کو برقرار رکھیں۔اگر احتجاج کیضرورت پڑی تو اس کو پر امن رکھا جائے تاکہ سرکار و عام لوگوںکوکوئی مشکل درپیش نہ ہو۔امید کی جاتی ہے کہ گورنر سرکار سول سوسائٹی کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے درندے کے ساتھ آہنی ہاتھوںسے نمٹنے گی ۔عوام کو بھی چاہئے وہ سرکار کوکچھ وقت تو دے تاکہ سرکار کی منشاء واضح ہوجائے کہ وہ صحیح سمت میںجا رہی ہے یا نہیں۔