چکاں دا باغ کے راستے تجارت بحال کرنے کا مطالبہ

30 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

حسین محتشم
پونچھ//چکاں داباغ کے راستے ہندوپاک میں ہونے والی تجارت بند کئے جانے کی وجہ سے اس تجارت سے جڑے سینکڑوں افراد متاثر ہورہے ہیں اور انہیں روزگار کمانے کا کوئی دوسرا موقعہ نہیں ۔چکاں دا باغ ٹریڈ یونین کے صدر عبدالرزاق نے بتایاکہ مرکز کی جانب سے انہیں اچانک شاہی فرمان سنایا گیا کہ چکاں دا باغ کے راستے تجارت بند کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس فرمان کی وجہ سے جہاں تاجروں کا کروڑوں روپے پھنس گیاہے وہی ہزاروں لوگ جو اس تجارت کے ذریعہ اپنا روزگار کماتے تھے ،بے روزگار ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرک مالکان ہوں، ٹرک ڈرائیور ہوں ،مزدور ہوں یا دیگر کام کرنے والے لوگ ، تجارت بند ہونے کی وجہ سے یہ ہزاروں لوگ پریشان ہو ئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف جہاں یہ لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں وہی دوسری جانب اس تجارت میں شامل سینکڑوں تاجروں کا بھی شدید نقصان ہواہے۔تنظیم کے جنرل سکریٹری سردار کرشن سنگھ نے کہا کہ اگر مرکزی سرکارکو اس تجارت کو بند ہی کرنا تھا تو تاجروں کو کم از کم دو ماہ کا نوٹس دیا جاتا تاکہ آر پار دونوں اطراف کے تاجر اپنے حساب کتاب کو مکمل کر لیتے ۔انہوں نے کہاکہ اب دونوں طرف کے تاجروں کے کروڑوں روپے تجارت بند ہونے کی وجہ سے پھنس گئے ہیں۔انہوں نے بھی مرکزی سرکار اور ریاستی گورنر سے اپیل کی کہ آر پار تجارت بحال کی جائے تاکہ اس تجارت کے بند ہونے کی وجہ سے پریشان ہزاروں لوگوں کو راحت مل سکے۔