نظمیں

28 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

اِنتباہ

شَر پسندوں ، سرَ پِھروں کے حوصلے بھی خوب ہیں
لگتا ہے اقلیتیں اِس دیش کی مغلوب ہیں
قتل کر دو یا جلا دو یا کِسی کو لُوٹ لو
نام پر مذہب دھرم کے خوب من مانی کرو
ہوتا ہے قانون اندھا یہ تو سُنتے آئے ہو
گُونگا اور بہرا بھی اب یہ ہو گیا ہے دیکھ لو
جو یہاں قانون سے کھیلے وہی سَرتاج ہے
خود سَری ، مَن مانی چاروں اور جنگل راج ہے
اِس طرح اِنصاف کا پہیہ گُھماتے جاؤ تم
جو ہے مُجرِم بے قصور اُس کو بتاتے جاؤ تم
حوصلہ فِرقہ پرستوں کا بڑھاتے جاؤ تم
قومی یکجہتی کو مِٹّی میں مِلاتے جاؤ تم
سِکھ مُسلماں ہِندو عیسائی نہ مِل کر رہ سکیں
الغرض اب بھائی سے بھائی نہ مِل کر رہ سکیں
سَر ہِمالہ کا جُھکے تم حرکتیں ایسی کرو
ایکتا کا خون کر دو قتلِ آزادی کرو
دیش میں سُکھ شانتی کے بات نفرت کی کرو
ہم پسِ پردہ تمہارے ساتھ ہیں کچھ بھی کرو
وادیِ امن و اماں کی سمت اِسے مُڑنے نہ دو
نوچو پَر سونے کی چِریا کے اِسے اُڑنے نہ دو
ہو رہی ہے جَگ ہنسائی دیش کی تو ہونے دو
دیش کے حالات پر روئے کوئی تو رونے دو
دامنِ اِنسانیت کو چاک یُوں ہی ہونے دو
بیج نفرت کے اگر بوتا ہے کوئی بونے دو
بانٹ دو اِس دیش کو مذہب دھرم کے نام پر
بات تم فِرقہ پرستی کی کرو ہر گام پر
یاد رکھنا تم مگر یہ دیش ہے ہِندوستاں
ماننے والے سبھی دھرموں کے رہتے ہیں یہاں
ہیں یہاں اَن ایکتا میں ایکتا کی جھلکیاں
کرتا ہے تسلیم اِس سچّائی کو سارا جہاں
سُن لو اے فِرقہ پرستو ! تم پہ ہی غُرّائیں گی
تَھیلے سے باہر تمہاری بِلّیاں جب آئیں گی
اب نہ اپنی حرکتوں سے باز اگر تم آؤگے
ہوگی رُسوائی تمہاری بعد میں پچھتاؤگے
ہاتھوں میں سَر لے کے اپنا چیخوگے چِلّاؤگے
آگ میں اپنی جلوگے اور جلتے جاؤگے
ماننے والے یہ گیتا بائبِل قُرآن کے
سَر کُچل دیں گے تمہارا بیٹے ہِندوستان کے
 
نیاز جَیراجپُوری
۶۷؍  جالندھری  ،  اعظم گڑھ  ۔  ۲۷۶۰۰۱  
اتر پردیش 
موبائل:   09935751213/09616747576
 
 

ترازو

مری آنکھوں میں اِک قندیل سچّائی کی روشن ہے 
مِرے ہونٹوں پہ ہے اِنسانیت کا خُوش نُما نعرہ      
مِرا چہرہ وُہی ہے اصل میں ہے جو مِرا چہرہ  
دُکھی اِنسانیت کا دُکھ مِری دھڑکن میں شامل ہے 
 
مگر بَستی میںکوئی بھی مِری باتیں نہیں سُنتا   
مُجھے یہ لوگ جانے کیوں نظر انداز کرتے ہیں
خُلوص و پیار کی شبنم میں نہلائی ہو ئی  باتیں 
رِواجوں کے سِیہ معیار پہ پُوری نہیں اُتریں
مِرے دَرویش دِل کی رَس بھری ساری مُناجاتیں 
سَدا بہری سماعت پر بُہت ہی بار ہوتی ہیں  
مُقدس صُبح سی اُجلی مِری تحریر ہے لیکن 
نظر آتی نہیں تاریکیوں میں رہنے والوں کو    
مُجھے دِیوانہ کہہ کر یہ تَسلّی خود کو دیتے ہیں 
یہ ناداں  
تولتے ہیں خوشبووٗں کو   
خِرد کے میزاں  
عقیدے کے ترازو  
اور کبھی منطق کے پلڑوں میں 
مگر خُوشبو تو خُوشبو ہے  
ترازو میں اِسے تولا نہیں کرتے 
کبھی جذبے، کہیں رِشتے چھُوئے جاتے ہیں ہاتھوں سے ؟ 
 
مقبول وی رے
انننت ناگ ( اِسلام آباد) کشمیر،موبائل نمبر؛  9797972444
 
 

عذاب

خدا نے سنبھالا 
بہت نیند آئی
وگرنہ جہنم کے باسی ہوئے تھے
بہت سوچتے اور کرّاہتے تھے
 
یہ آزردگی تھی ؟
نہیں تو ایسا کچھ بھی نہیں تھا!
یہ الجھن بھی کب تھی
یہ غم بھی نہیں تھا
اُداسی ظرف میں بہت ہیچ ہے جی
اُداسی نہیں تھی۔
کسی کی رقابت میں غلطاں نہیں تھے
کسی سے کوئی بھی شکایت نہیں تھی۔
 
یہ آہ و فغاں تھی؟
نہیں تو ! یہ آہ وفغاں بھی نہیں تھی
کسی کی محبت میں روتے تھے کیا تُم؟
نہیں تو جناب ایسا کچھ نہیں تھا!
محبت کے غم میں سکوں بھی ملے گا
محبت کے دُستورِ دردِ نہاں کا  نشاں تک نہیں تھا
خدا نے سنبھالا 
بہت نیند آئی
 
ہزاروں الم کو کوئی نام دیجئے،
تو پھر کچھ سمجھئے
فقط اضطرابوں کو زنجیر کیجئے،
جکڑیئے کسی ناتواں کے بدن کو ،
تو پھر کچھ سمجھئے
عذابوں کی دھارا میں پہروں اُچھلئے
تو پھر کچھ سمجھئے،
کہ پچھتارہے تھے
کہ ہم بس جہنم کے باسی ہوئے تھے
پچھتارہے تھے
پچھتارہے تھے
بہت سوچتے اور کراہتے تھے
کہ مجرم ، مدعی و منصف بھی خود تھے
پچھتارہے تھے
 
خُدا نے سنبھالا 
بہت نیند آئی۔
 
 
تیمور احمد خان
اوٹنگرو ہندوارہ، کشمیر
khantaimoor771@gmail.com
 
 
 

تم نہ تھے

جانِ جاں
تجھ میں ہاں
'کل کو دیکھا
ہم نے آج
تخت و تاج
جو اپنے تھے
کل اور آج 
جو سپنے تھے
سب بیکار 
سب ہیں ہار
 
ہم نے جو
صبح تم کو
دیکھا آج
تم نہ تھے
تم تھے وہ؟
ہم نہ تھے! 
 
جو ہم تم میں
یہ ہم تم ہو
پھر کیا وہ
تخت و تاج
کل اور آج
سب بیکار 
سب ہیں ہار!
 
شہزادہ فیصل منظور خان
طالبِ علم
8492838989

تازہ ترین