افسانچے

28 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(   چھتر گام،چاڈورہ کشمیر،9596414645    )

فلک ریاض

سانپ

اس کی یہ عادت تھی کہ وہ پیٹھ پیچھے سب کی غیبت کرتا تھا۔۔دوستوں کی،پڑوسیوں کی، رشتہ داروں کی سب کی۔ جب وہ مرگیا تو قبر میں سانپ نمودار ہوئیں۔۔سات سات سروں والے بڑے بڑے سانپ تھے۔اسے دیکھتے ہی سب سے بڑا سانپ اس پہ حملہ کرنے کے لئے اس کی طرف بڑھا۔۔۔ آدمی ڈر گیا۔۔پھر یہ ہوا کہ کاٹنے کا زخم گہرا تھا۔۔وہ تڑپ تڑپ کے مرگیا۔۔۔
دراصل اس نے سانپ کو پہلے ہی پکڑ لیا تھا اور سرعت کے ساتھ سانپ کو دانتوں سے کاٹ لیا۔۔۔سانپ دو ہی منٹ میں مرگیا۔۔۔
کیونہ اس انسان کا زہر کافی خطرناک تھا۔۔۔
 
 

کڑوی بات

ان کی چوتھی بیٹی ہوئی تو شوہر اور ساس کو سانپ سونگھ گیا۔شوہر نے رات کے دوران ہی بچی کو اٹھایا اور اسپتال سے دور ایک کوڈے دان میں ڈال دیا اور دبے پائوں وہاں سے لوٹ آیا۔کچھ دیر بعد بچی نے رونا شروع کیا۔ایک دوکان کی سیڑھی پہ سوئے ایک بے گھر بھکاری نے آوازسنی اور آواز کا تعاقب کرتے ہوئے کوڈے دان کے پاس پہنچا ۔۔ننھی گول مٹول سی بچی کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔۔۔ اورجلدی سے اسے بازئوں میں بھر لیا ۔۔اور واپس پلٹتے ہوئے بڑبڑایا۔۔۔” سالے ۔کمینے۔۔۔۔بستر پہ ہر رات عورت چاہتے ہیں۔۔ادھر عورت پسند ہے۔۔اور جب وہ عورت جنم لیتی ہے تو اسے کچرا سمجھ کے پھینک دیتے ہیں“۔۔ پاس ہی ایک کتیا اپنے چھہ بچوں کو دودھ پلا رہی تھی۔۔تو بھکاری کبھی اس کتیا کے بچوں کو کبھی اس انسان بچی کو دیکھ رہا تھا ۔۔جو اس کے بازئوں میں انگھوٹھا چوس رہی تھی۔۔۔
 
 

جینے کی تمنا

ایک شخص خودکشی کرنے کے لئے جھیل ڈل میں کود گیا۔۔کودتے ہی وہ تہہ تک پہونچا تو رونے کی آواز کانوں میں گونجی۔۔۔سسکیاں ۔۔اور آہیں ”ارے کوئی مجھے بچائو۔۔۔میں مرنا نہیں چاہتا۔۔۔میں جینا چاہتا ہوں۔۔میں سِمٹ رہا ہوں، سُکڑ رہا ہوں، گندہ ہورہا ہوں۔۔۔۔۔کوئی بچائو۔۔۔۔۔۔۔“
آدمی نے گھبراتے ہوئی آواز دی ”۔۔۔ک ۔۔۔ک کون ہے ۔۔۔کون ہو تم ۔۔“
تو جواب آیا۔۔۔۔بھائی میں ڈل ہوں۔۔۔۔مجھے بچائو۔۔۔مجھے بچائو۔۔۔۔۔“
آدمی تیزی سے اوپر آیا اور کناے پہ آگیا۔۔۔” کیا زندگی اتنی پیاری ہے۔۔۔کہ ڈل بھی بے موت نہیں مرنا چاہتا۔۔“ یہ کہتے ہوئے وہ پانی پہ تیر رہے کوڈے کرکٹ کو پانی سے جدا کرنے لگا۔۔۔وہ ڈل کو بچانا چاہتا تھا اب۔۔۔۔
 
 

انسانیت

اس کی اچھی آمدنی تھی۔مگر اس کا پڑوسی غریب۔اس نے اپنے بچوں کے لئے نِت نئے پوشاکیں خریدیں۔مگر گلی میں پڑوسی کے بچوں کو پھٹے پرانے کپڑوں میں دیکھ لیا تو اس کا دل پسیج کے رہ گیا۔وہ ان کی مدد کرنا چاہتا تھا مگر ۔۔ان کی خود داری کو بھی جانتا تھا۔وہ ان کو نیچا نہیں دکھانا چاہتا تھا۔۔تو اس نے ایک لفافہ کے اندر آٹھ ہزار روپہہ رکھ دیئے اور ایک چھوٹا سا خط ۔جس پہ لکھا ۔۔۔آپ کے خدا اور پیارے رسولؐ کی طرف سے آپ کو تحفہ۔۔۔قبول کیجئے گا۔۔۔آپ کا حق ہے یہ۔۔۔۔رد نہیں کرنا ۔۔۔“ شہر جاکر لفافہ سپیڈ پوسٹ کردیا پڑوسی کے ایڈریس پہ۔۔بھیجنے والے کا ایڈریس لکھ لیا پیچھے سے ”نوکر خدا کے“۔۔۔۔