افسانچے

28 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(   ہمدانیہ کالونی بمنہ سرینگر۔موبائل نمبر؛9419004094    )

ڈاکٹر نذیر مشتاق

سودا

اس جھونپڑ پٹی میں رہنے والے مفلوک الحال  باشندوں کا کام لوگوں کے پھینکے ہوئے کوڑے کرکٹ  سے وہ ٹھوس چیزیں جمع کرنا تھا، جن کو بیچ کر کچھ رقم وصول کرکے پیٹ کی آگ بھجانے کا انتظام کیا جاسکتاتھا۔ مگر بستی کی  بیحد خوبصورت لڑکی مندوری کو اس کام میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔وہ گھر میں اکیلی رہتی تھی۔ اس کے ماں باپ ہندو مسلم فساد میں مارے گئے تھے۔   پیٹ کی آگ بھجانے کے لئے اس نے ایک دن گجندرو کی ہنسی کا مثبت جواب دیا اور وہ اسے اپنا دل دے بیٹھی پھر ۔۔۔
وہ اسی کے ساتھ رہنے لگی۔۔۔مگر صرف۔۔ایک ماہ بعد وہ گجندرو کو چھوڑ کر ایک ادھیڑ عمر  بدصورت اور شرابی مرد دامندرو کے ساتھ رہنے لگی۔۔۔۔۔۔ایک روز وہ مٹک مٹک کر بستی سے باہر کہیں جارہی تھی کہ اس کے سابق عاشق گجندرو نے اس کا رستہ روکا اور کہا۔۔۔‌تم مجھے چھوڑ کر کیوں چلی گئی؟
مندوری کے سفید دانت اس کے موٹے موٹے ہونٹوں کے درمیان چمک اٹھے اور اس نے بالوں کی لٹ سے کھیلتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔تم ہررات مجھے کھانے کو آدھی روٹی اور آدھا پیاج دیتے تھے ۔اور دامندرو ہر رات دو روٹیاں اور آدھی کٹوری دال دیتا ہے ۔۔۔
 
 

بِلاعنوان

اب تو تمہیں خوش ہونا چاہیے تمہیں ایک جیون ساتھی مل گیا ہے۔ اب تم اس کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی کے شب و روز گزارنے کی کوشش کرو۔۔۔شاہدہ نے اپنی سہیلی رضیہ سے کہا۔۔ رضیہ نے جواب دیا۔۔۔۔
تم بالکل صحیح کہہ رہی ہو مگر۔۔۔۔۔۔۔شاہدہ نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔۔۔۔اگر مگر چھوڑ دو۔ بھول جائو کہ اس سے پہلے کبھی تمہاری شادی ہوئی تھی اور شادی کے دو سال بعد تمہارا شوہر لاپتہ ہوا تھا۔ تم نے پورے آٹھ سال اس کے انتظار میں گزارے ۔وہ نہیں آیا تو تمہارے ماں باپ نے تمہاری شادی کروادی۔۔اب کیا مسئلہ ہے؟ شاہدہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
رضیہ نے کہنا شروع کیا۔ ۔۔۔‌شاہدہ تمہیں معلوم ہے کہ میں اس سے۔۔۔۔۔۔‌
شاہدہ نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔۔۔۔مجھے معلوم ہے وہ تمہارے بچپن کا ساتھی تھا اور تم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جنوں کی حد تک پیار کرتے تھے۔ مگر وہ لاپتہ ہو گیا۔ تمہیں زندہ رہنے کے لیے ایک ساتھی کی ضرورت ہے وہ تمہیں مل گیا۔ اب کیا مسئلہ ہے؟ شاہدہ نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہا۔ رضیہ نے شاہدہ کی طرف آنسو بھری آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
مسئلہ یہ ہے میرے بچپن کا ساتھی میرا پیار میرا پہلا شوہر  آٹھ سال لاپتہ رہنے کے بعد صحیح سلامت واپس آیا ہے۔۔۔۔
 
 

نیچ

 
گلابو پنڈت شوالا رام کے گھر میں صفائی ستھرائی کا کام کرتی ہے۔ پنڈت کو اس سے شدید نفرت ہے کیونکہ گلابو ایک نیچ خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور ایک معمولی سی گندی جھونپڑی میں اپنی بیوہ ماں کے ساتھ رہتی ہے۔۔اس نے کئی بار بیوی سے کہا۔ اس نیچ، گندی، منحوس لڑکی کو یہاں مت بلایا کرو، میرا دھرم بھرفشٹ ہوتا ہے۔ بار بار اپنے بارے میں لفظ نیچ سن کر گلابو کا دل چھلنی ہوجاتا۔۔  آج کل کام والیاں کہاں ملتی ہیں، جب تک کسی دوسری کام والی کا انتظام ہو جاتا ہے تب تک اسی کو کام کرنے دیں، اس کی بیوی اکثر یہی کہتی۔
آج پنڈت کی بیوی کو کسی ضروری کام سے باہر جانا پڑا۔
اس نے شوہر سے کہا کہ کسی چیز کی ضرورت پڑے تو گلابو سے کہنا۔۔۔
پنڈت اپنے کمرے میں گیتا پڑھ رہا تھا کہ گلابو چائے لے کر کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔۔بابو صاحب چائے۔
پنڈت نے اچانک اس کی طرف دیکھا اور پھر دیکھتا ہی رہ گیا۔۔اس نے سوچا۔۔۔اتنی خوبصورت۔۔۔نیچ تو ہے مگر اتنی سندر۔  میں نے کبھی اس کی طرف دیکھا ہی نہیں۔
بابو صاحب اور کچھ چاہیے۔۔گلابو نے اسے چونکا دیا۔
گلابو تُو بہت سندر ہے۔ آؤ بیٹھو میرے پاس۔۔۔پنڈت نے کہا ۔اس کا گلا خشک ہو رہا تھا ۔
میں تو نیچ جاتی کی ہوں۔ آپ کے بروبر کیسے بیٹھ سکتی ہوں۔۔
اری بیٹھو۔ پنڈت نے اسے باہوں میں جکڑ لیا اور اپنی گود میں گرادیا۔۔۔پنڈت اب سب کچھ بھول چکا تھا۔ وہ گلابو کو دیوانہ وار چوم رہا تھا۔دروازہ کُھلا اچانک  اس کی بیوی کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔گلابو اپنے آپ کو چھڑاکر دوڑتی ہوئی بی بی جی سے لپٹ گئی اور اس سے کہا دیکھا بی بی جی آپ کے پتی کتنے نیچ ہیں۔۔۔