تازہ ترین

یہ کیساآیاز مانہ؟

نادار کی بیٹی تھی بارات نہیں آئی

25 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ایم۔ایم۔سلیم۔۔۔ آکولہ
 پچھلے   دنوں ایک پروقار رسم منگنی کی تقریب میں ایک نوجوان دوست سے ملاقات ہوئی۔ دوران گفتگو نوجوان نے کہا کہ ہمیں بغیر جہیز اور سادگی سے نکاح کرنا ہےاور ہم اس بات پر اپنے نوجوان دوستوں کو بھی آمادہ کریں گے کہ وہ بھی سادگی سے اور بغیر کسی خرافات وبدعات کے نکاح کریں۔طبیعت بڑی خوش ہوتی ہے جب ملت کے حساس نوجوان طبقہ کی جانب سے ایسے نیک عزائم کا اظہار ہوتا ہے اور اس طرح کے عزائم واقعی میں قابلِ تعریف ہیں ۔ یقیناً بہت اچھی بات ہے کہ اس طرح کے خرافات کا خاتمہ ہو نا چاہیے ۔ آج کے مادہ پرست اور فیشن زدہ ماحول میں پرورش پارہے ملت کے نوجوان طبقہ کی طرف سے یہ خوش خبریاں روز کہیں کہیں سے آرہی ہے جو ہمیں زندگی جینے کی امید دلاتے ہیں ۔ 
جہیز واقعی ایک لعنت ہے اور سماجی ناسور بھی۔ اس کی وجہ سے قوم کی لکھوکھا بیٹیاں بالوں میں چاندی لئے رشتوں کی منتظر بیٹھی ہے۔ معاشرے میں کسی غریب باپ کے لیے بیٹی کی شادی ایک بڑا چیلنج بن کر رہ گئی ہے۔ جوڑا، گھوڑا، بارات، جہیز، اور دیگر خرافات نے نکاح کے آسان ترین عمل کو اور مشکل ترین کردیا ہے۔اس کا مذہب اسلام میں دور دور تک کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ ایک صالح معاشرے کی تشکیل و تکمیل کے لیے جہیز جیسی خرافات کا خاتمہ ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے مگرا فسوس اس بارے میں ہم بہت تساہل برت رہے ہیں ۔ نتیجہ یہ کہ سماج میں ا خلاقی برائیاں اور بیماریاں تیزی سے پنپ رہی ہیں ۔ کل پرسوں ایک خبر سوشل میڈیا اور اخبارات کے ذریعے پڑھنے کو ملی۔ اس کی تفصیلات تو بعض لوگوں کے سامنے آہی گئی ہوگی۔ میر ی نگاہ میں یہ بہت ہی افسوس ناک اور ملت اسلامیہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی خبر ہے کہ محض شادی سے عین چند لمحات قبل ایک باپ کو اپنے لخت جگر کا رشتہ منقطع کرنا پڑا۔ وجہ یہ بنی کہ لڑکے والوں کی طرف سے مسلسل لڑکی والوں سے بھاری بھرکم جہیزی چیزوں کی مانگ بڑھ رہی تھی۔ اس لئے مجبوراً غریب باپ کو شامیانے میں بلیک بورڈ لگا کر معذرت کے ساتھ یہ لکھنا پڑا کہ میں اپنی بیٹی کا نکاح ملتوی کر رہا ہوں۔ افسوس صد افسوس !یہ واقعہ امت مسلمہ کے منہ پر طمانچہ اور معاشرے میں اصلاحی تحریکات چلانے والے کے لئے کھلا چیلنج ہے۔ ایسے واقعات اس زمانے میں رونما ہور ہے ہیں جب آج مسلمانوں اک وجود داؤ پر لگاہوا ہے اور کئی ملّی، سماجی، دینی، فلاحی جماعتیں فلاح و بہبود کے کام دن رات کر رہی ہیں۔  جہیزی لعنت سے مبراآسان نکاح کو لے کر جگہ جگہ مختلف پروگرام ہورہے ہیں، وعظ خوانیاں ہورہی ہیں ، رسالے چھپ رہے ہیں ، جہیز مخالف قانون بن رہے ہیں، بیداری مہمیں بھی چلائی جا رہی ہیں، پھر بھی ایسے بدنماواقعات رونما ہو رہے ہیں جو ملت اسلامیہ کے لیے بڑی تشویش ناک بات ہے۔ 
ذرا سوچئے اس باپ پر کیا گزری ہوگی جس کی لخت جگر کو اس لئے نہیں اپنایا گیا کہ اُس کے پاس جہیز دینے کے لئے قیمتی سامان نہیں تھا۔ ذرا وہ منظر نامہ اپنی آنکھوں کے سامنے لائیں کہ نکاح کا شامیانہ سجا ہوا ہے اور وہاں یہ تختہ ٔسیاہ لگایا جائے۔ یہ بظاہر تختۂ سیاہ پر لکھی ہوئی معذرت کی عبارت ہمیں نظر آ رہی ہے لیکن دراصل یہ ملت اسلامیہ کے اندر موجودہ اخلاقی بحران اور ایمانی حالات کا مرثیہ ہے۔ یہ اس غم زدہ مجبور باپ کی آہ ہے جس کی بیٹی بیاہ ہونے سے رہ گئی۔ یہ سیاہ پٹی ہماری قوم کی وہ بدترین تصویر دنیا کے سامنے پیش کر گئی ہےجو ہمارے ہی ہاتھوں سے بنائی ہوئی ہے۔ ا سلئے یہ محض ایک تختہ سیاہ نہیں ہے بلکہ ہماری خرافاتی لالچ کا ایک آئینہ ہے جس میں ہم سب اپنا اپنا چہرہ تلاشیں تو خود کی صورت سے گھن آئے گی ۔ ٹھیک ہے کہ یہ تحریر اب مٹ چکی ہوگی لیکن ذہنوں پر نہ مٹنے والے اس کے نقوش ضرور زندہ و جاوید ہیں اور ہم سے کہہ ر ہے ہیں کہیں تم اس تحریر کے محرک نہ بننا۔ کیا جہیز کی بھینٹ چڑھی یہ بد نصیب بیٹی جس کی گھر سےڈولی نہیں بلکہ اس کے اَرمانوں کی اَرتھی اٹھی، اپنے رب سے سوال نہیں کر رہی ہوگی کہ مجھے اس کھٹور دنیا میں اُتاراہی کیوں؟ ا س سوال کا جواب کیا ہوگا  میں سوچتے ہی تھرا اُٹھتا  ہوں ۔ صدیوںپہلے عرب میں لوگ پیدا ہوتے سے ہی بیٹی کو زندہ در گور کردیا کرتے تھے، لیکن اب اسے بار بار مختلف عنوانات سے ذلت کی موت بلکہ بے موت مارا جا رہا ہے۔ دوسرے مذاہب میں شادیاں رچانے والی ملت کی بیٹیوں پر توہم وقتاًفوقتاً سیخ پا ہوتے ہیں، لیکن نکاح کو مشکلات کے بھنور سے نکال کتا س سے اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق آسان نہیں بنا رہے ہیں۔ یہ کیسا منافقانہ تماشہ ہے ؟ جہیزی لین دین کا رواج ہم میں حرام خوروں اور نودولتیوں نےاتنا بڑھایا ہے کہ نکاح ہر دن مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے اور بدچلنی اور بے راہ روی عام ہوتی جارہی ہے۔ اس کے نتیجے میں شریف وصالح لاڈلی بیٹیاں گھروں میں بوڑھی ہو رہی ہیں۔ آج اس بات پر دھیان دینے کی اشد ضرورت ہے تا کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ رونما ہونے پائیں۔ اسی موقع کی مناسبت سے کسی شاعر نے اس طرح منظر کشی کی ہے   ؎
دلہن کے مقدر پر روتی رہی شہنائی
نادار کی بیٹی تھی بارات نہیں آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فون نمبر9975783737