تازہ ترین

سجاد لون کاعمرعبداللہ سے سوال

نیشنل کانفرنس نے لوگوں کیلئے کیا کیا؟

21 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

نیو ڈسک
 سرینگر//پیپلز کانفرنس چیئرمین سجاد غنی لون نے کہا ہے کہ ڈلیور کرنے میں مین سٹریم لیڈران کی نااہلی جزوی طور الیکشن عمل میں لوگوں کی کم شرکت کیلئے ذمہ دار ہے۔ ایک بیان میں سجاد غنی لون نے کہا’’آپ نے لوگوں کیلئے کیا کیا ہے ؟ دیگر ریاستوں کی طرح یہاں لوگ بھاری تعدادمیں گھروں سے باہر نکل کر ووٹنگ کی قطاروں میں شامل کیوں نہیں ہوتے ہیں؟ ہم مین سٹریم سیاست میں قدرے نئے ہیں ،آپ کی جماعت 70سال پرانی ہے۔بدقسمتی سے ہم غلط تاثر کے شکار ہوگئے ہیں جو یہاں عوام میں مین سٹریم کے تعلق سے پایا جاتا ہے۔ہم مانتے ہیں کہ یہاں کافی حد تک نظریاتی بائیکاٹ کا عنصر موجود ہے تاہم اس کاایک حصہ میں سٹریم لیڈران کی ڈلیور کرنے میں ناکامی کے خلاف بھی ہے ‘‘۔بلند وبانگ وعدوں کی وفائی میں ناکامی پر نیشنل کانفرنس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ کشمیری عوام جانتے ہیں کہ عبداللہ خانوادہ اب کئی نسلوںسے انہیں جھوٹ بول رہا ہے۔اْن کا کہناتھا’’ عمر عبداللہ ،آپ کو جواب دینا پڑ ے گا کہ آپ نے لوگوں کیلئے کیاکیا ہے ؟۔ وہ ووٹ ڈالنے کیوں نہیں نکلتے ؟ جہاں کہیں بھی ہم گئے ،وہاں عمومی طور پر غلط وعدوں کے تئیں منفی سوچ اور غلط تاثر پایاجارہا ہے۔آپ نے انہیں آسمان سے تارے توڑ لانے کے وعدے کئے ،آزادی سے کم آسمان کے نیچے سب کچھ دینے کا وعدہ کیا اور اب سرینگر پارلیمانی حلقہ کے اعدادوشمار پر نگاہ دوڑائیں کہ آپ کیا حاصل کرپائے۔اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ لوگ جانتے ہیںکہ آپ جھوٹ بولتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ آپ جھوٹ بولتے ہیں اور آپ کئی پیڑیوں سے انہیں جھوٹ بولتے آرہے ہیں۔اگر اْنہوں نے آپ کے وعدوں کو سنجیدگی سے لیا ہوتا ،دل پر ہاتھ رکھ کر کہئے کہ کیا پھر80فیصد پولنگ نہیں ہوئی ہوتی‘‘۔پیپلز کانفرنس پر اعتماد ظاہر کرنے کیلئے سرینگر پارلیمانی حلقہ کے رائے دہندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سجاد غنی لون نے کہا کہ پولنگ مراکز کے باہر رائے دہندگان کی قطاروںکی عدم موجودگی مین سٹریم سیاسی جماعتوں کی سیاست پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔انہوںنے کہا’’ہم سرینگر کے عوام کا شکریہ کرتے ہیں جس طرح وہ گھروں سے باہر آئے اور روایتی جماعتوں کے خلاف ووٹ کا استعمال کیا۔ہم اپنی جیت کیلئے پْر اعتماد ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہم وعدے وفا کریں گے اور اگلی دفعہ جب لوگوں سے ووٹ مانگنے جائیں گے تو ووٹروں کی لمبی قطاریں ہمارا استقبال کریں گی۔