تمام نظریں حساس جنوبی کشمیر پر مرکوز

۔3مرحلوں میں منعقد ہونے والے انتخابات میں 18امیدوار وں کا فیصلہ ہوگا

21 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

عارف بلوچ
 اننت ناگ// شمالی اور وسطی کشمیر میں عام انتخابات کے دو مرحلے اختتام پذیر ہونے کے بعد اب نظریںحساس ترین علاقے جنوبی کشمیر پر مرکوز ہیں،جہاں 23 اپریل،29  اپریل اور6  مئی کو تین مرحلوں میں پولنگ ہوگی جس میں قریب 14  لاکھ رائے دہندگان 18امیدواروں کے سیاسی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔چار اضلاع اننت ناگ، کولگام، شوپیاں اور پلوامہ پر مشتمل اننت ناگ پارلیمانی حلقے میں الیکشن کمیشن نے پولنگ اوقات میں دو گھنٹوں کی کمی کی ہے جہاں سیکورٹی معاملات کے پیش نظر پولنگ صبح سات بجے شروع ہوکر سہ پہر چار بجے اختتام پذیر ہوگی۔ 2104 کے اسمبلی انتخابات میں 16 اسمبلی نشستوں میں سے11  سیٹوں پر پی ڈی پی نے کامیابی حاصل کی تھی لیکن بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کے بعد اس حلقے کے حالات میں کافی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔اگرچہ اننت ناگ پارلیمانی حلقے میں تمام سیاسی پارٹیوں بشمول نیشنل کانفرس، کانگریس، پی ڈی پی اور بی جے پی نے سخت حفاظتی حصار میں انتخابی جلسے کئے لیکن ان میں لوگوں کی بہت قلیل تعداد نے شرکت کی ۔ اس دوران ترال میں نیشنل کانفرنس کے لیڈر کے گھر پر گرینیڈ حملہ کیا  گیاجبکہ سرہامہ میںمحبوبہ مفتی کے قافلے پر پتھراؤ بھی ہوا۔یہاں اگر چہ 18 امیدوار اپنی قسمت آزمائی کررہے ہیں لیکن اصل اور سخت مقابلہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی، کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر اور نیشنل کانفرنس کے جسٹس (ر) جسنین مسعودی کے درمیان ہے، سی پی آئی ایم جس نے اس حلقے سے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا ہے، نیشنل کانفرنس کی امیدوار کو حمایت کرے گی۔ پیپلز کانفرنس جس کی حلقے میں کوئی خاص پوزیشن نہیں ہے نے چودھری ظفر علی کو کھڑا کیا ہے۔ بی جے پی جس کو گذشتہ عام انتخابات میں اس حلقے میں صرف 1.26 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے، نے صوفی یوسف جو ایم ایل سی بھی ہیں، کو کھڑا کیا ہے۔سری نگر پارلیمانی حلقے میں انتخابات عمل اختتام پذیر ہونے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈروں نے اننت ناگ میں انتخابات مہم شروع کی ہیں تاہم یہاں وہ سیاسی جوش وخروش یکسر مفقود ہے جو خاص کر شمالی و وسطی کشمیرمیں دیکھنے کو ملا۔یہاں بڑے جلسوں اور ریلیوں کا انعقاد کہیں نظر نہیں آرہا ہے بلکہ سخت حفاظتی حصار میں چھوٹی چھوٹی میٹنگوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں بہت کم تعداد میں لوگ جن میں اکثریت کارکنوں کی ہوتی ہے، شرکت کرتے ہیں۔ اس حلقے میں 13,97,272 ووٹر درج ہیں ۔ اننت ناگ ضلع کیلئے 23 اپریل ، کولگام کیلئے 29 اپریل اور پلوامہ اور شوپیاں کیلئے 6 مئی کو پولنگ صبح سات بجے سے شام 4 بجے تک ہو گی ۔ الیکشن کمیشن نے حلقے میں 1842 پولنگ مراکز قائم کئے ہیں ۔ اننت ناگ ضلع اننت ناگ ، ڈورو ، کوکر ناگ ، شانگس ، بجبہاڑہ اور پہلگام اسمبلی حلقوں پر مبنی ہے جس میں 5,29,256 ووٹر درج ہیں ۔ ضلع میں 714 پولنگ مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ کوکر ناگ اسمبلی حلقے میںسب سے زیادہ 93694 ووٹر درج ہیں جبکہ ڈورو میں سب سے کم 78653 ووٹر درج ہیں ۔ بجبہاڑہ اسمبلی حلقے میں 47067 مرد اور 46222 خواتین ووٹر ، شانگس میں 45360 مرد اور 43010 خواتین ووٹر ، پہلگام میں 44115 مرد اور 42498 خواتین ووٹر جبکہ اننت ناگ میں 43555 مرد اور 42973 خواتین ووٹر ہیں ۔ 

نشست پروفائل

اننت ناگ پارلیمانی نشست پر سب سے پہلے کانگریس کے محمد شفیع قریشی نے سال 1967 میں کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے لگاتار دوبار اس سیٹ پر کامیابی حاصل کی بعد ازاں سال 1980  سے سال 1989 تک اس سیٹ پر نیشنل کانفرنس کے تین امیدوار غلام رسول کوچک، بیگم اکبر جہاں اور پی ایل ہنڈو باری باری براجمان رہے۔بعد ازاں وادی میں ملی ٹنسی شروع ہوئی جس کے باعث یہاں سال 1991 سے  1996 تک انتخابات نہیں ہوسکے۔تاہم 1996 میں جب یہاں دوبارہ عام انتخابات ہوئے تو اننت ناگ پارلیمانی سیٹ پر جنتا دل کے محمد مقبول ڈار ایک غیر معروف سیاسی لیڈر نے کامیابی کا جھنڈا گاڑا۔ اس کے بعد 1998 کے عام انتخابات میں اس سیٹ پر  مرحوم مفتی محمد سعید نے کانگریس کی ٹکٹ پرکامیابی حاصل کی۔2004 میں محبوبہ مفتی نے کامیابی حاصل کی تاہم 2009 میں نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر محبوب بیگ کامیاب ہوئے البتہ 2014 میں پھر محبوبہ مفتی نے اس سیٹ پر کامیابی حاصل کی۔  2014 میں مفتی سعید کی رحلت کے بعد جب محبوبہ مفتی نے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تو یہ سیٹ خالی ہوئی تب سے ہنوز خالی ہی ہے کیونکہ نامساعد حالات کے باعث اس سیٹ پر عام انتخابات نہ ہوسکے۔
 

تازہ ترین