سوال

افسانہ

21 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر محمد یونس ڈار/ فیضان بٹ
رات کو ڈیوٹی سے لوٹتے ہوئے ڈاکٹر حسیب ڈرائیو کر رہا تھا کہ اچانک سے کسی نے کشمیری میں آواز دی۔ وہ ہکا بکا رہ گیا۔
بھلا اس اجنبی ملک میں کون اسے جانتاہے- یہاں تو سب عربی ہی بولتے ہیں، ایسے میں اپنی مادری زبان میں دی گئی صدا  کو وہ کیسے نظر انداز کر سکتا تھا۔
اس نے گاڑی روک لی۔ باہر فلڈ لائٹس کی روشنی میں ایک سفید پوش شخص گاڑی کی جانب آ رہا تھا کہ ڈاکٹر حسیب نے اسے دور سے ہی پہچانا۔
یہ حسین کا کا تھا ، اُس کا ایک دور دراز کا رشتہ دار۔ ڈاکٹر حسیب نے اسے گلے لگایا اور حال چال پوچھا -پتہ چلا کہ حسین کا کا یہاں عمرہ کے لئے آیا ہوا ہے۔
پردیس میں کوئی ہم وطن مل جائے اور خاص طور سے وہ جو جان پہچان والا ہو، انسان کیا کچھ محسوس کرتا ہے وہ ڈاکٹر حسیب کے بسوں پر پھیلی ہلکی پھلکی مسکراہٹ سے خوب جھلکتا تھا۔ ڈاکٹر حسیب نے حسین کا کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آج رات ان کے فلیٹ پر ہی گزارے-
حسین کا کا نے اپنے دوسرے ساتھیوں کو فون کے ذریعے اطلاع دی کہ وہ آج ڈیرے پر نہیں آسکیں گے-  دونوں گاڑی میں سوار ہو کر ڈاکٹر حسیب کے فلیٹ کی جانب بڑھنے لگے۔
رات کے وقت مدینہ کی سڑکوں کی چہل پہل اور رونق کو محسوس کرتے ہوئے حسین کا کا نے ڈاکٹر حسیب سے مخاطب ہوکر کہا" کہاں وہ کشمیر کی سنسان راتیں اور کہاں یہ گہما گہمی‘‘
اس پر ڈاکٹر حسیب نے ایک بناوٹی تبسم اپنے چہرے پر لا کر ایک لمبی سانس  لی- تھوڑی ہی دیر میں گاڑی فلیٹ کے گیٹ پر پہنچ گئی -گیٹ پر کھڑے پہرے دار نے ڈاکٹر حسیب کی گاڑی دیکھتے ہی گیٹ کھولا اور دونوں اندر داخل ہوئے-
کچھ دیر بعد ہی ایک حسین وجمیل لمبی ناک والے شخص نے دونوں کیلئے ڈنر لایا- حُسین کا کا کو اندازہ ہوا کہ یہ ڈاکٹر حسیب کا نوکر ہے-
ڈاکٹر حسیب کو اس فلیٹ میں رہے نو سال ہوگئے تھے- نو سال پہلے وہ یہاں آیا تھا اور کنگ فہد ہاسپٹل میں بطور سرجن کام شروع کیا -
رات کو اسے عموماً اپنی تنہائی کا احساس ہوتا مگر دن چڑھتے ہی وہ ہاسپٹل کی جانب رواں ہو جاتا ہے اور کام میں اتنا مصروف رہتا ہے کہ گردش زمانہ کا پتہ ہی نہیں چلتا-
نو سال پہلے اس نے ایک نوکر رکھا تھا جو اب تک اس سے وفا داری نبھا رہا ہے- ڈنر ختم کرنے کے بعد اب دونوں سونے ہی والے تھے کہ حسین کا کا نے ڈاکٹر حسیب سے پوچھا 
"ڈاکٹر صاحب آپ نے کشمیر کیوں چھوڑا، کیا وہاں تنخواہ کم ملتی تھی اس لیے یا پھر حالات کی وجہ سے؟" 
ڈاکٹر حسیب اس سوال کے جواب میں کچھ نہ کہہ سکا -اس نے ایک سرد آہ بھری اور ماضی کی تلخ یادوں میں گم ہوگیا-
اس نے اسی خاموشی میں بتی بجھا دی اور یادوں کی چادر کو تان لیا- اسے وہ دور یاد آنے لگا جب وہ میڈیکل کالج میں تھا- ایک رئیس باپ کا بیٹا -وہ اگرچہ ایک اونچے گھرانے کا چشم و چراغ تھا مگر اُسکے مزاج میں سادگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے اس نے ایک متوسط درجے یا یوں کہے کہ غریب گھرانے کی لڑکی ہمیرا  سے اپنا ناطہ جوڑا -دونوں بہت ہنس مکھ مگر شرمیلے تھے-
ہمیرا 2nd prof میں تھی جب Final prof کے سیدھے سادھے خوش مزاج لڑکے حسیب نے اسے دیکھتے ہی اپنا جیون ساتھی بنانے کا فیصلہ کیا تھا-کچھ سال بعد دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے- حسیب نے اگرچہ اپنے گھر پہ بہت ہی شاندار تقریب اور دعوت کا انتظام کیا تاہم اس نے ہمیرا  کے گھر والوں سے گزارش کی کہ بارات کے لئے صرف چائے کا ہی انتظام کیا جائے-
جہیز کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا- ان کی شادی تب ہوئی جب حسیب MS final year میں اور ہمیرا  MD first year میں تھی-MS مکمل کرنے  کے بعد حسیب نے گورنمنٹ ملازمت اختیار کی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک کامیاب سرجن کے روپ میں ابھرا- ایک سال بعد ہمیرا نے بھی MD ختم کیا   اور شہر کے ایک بڑے زچہ بچہ ہسپتال لل دید میں بطور رجسٹرار شپ جوائن کیا-
حسیب کی پوسٹنگ شہر سے دور جنوب میں ایک کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں تھی- ہر دن ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد حسیب لوٹتا تو حمیرا کو اُسکے ہسپتال سے گھر لیتا۔ اس کے لئے اُس کو 25کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا۔ دو سال اسی انداز سے گزرنے -دونوں کے دلوں میں محبت کی لو اپنی بلندیوں کو چھو رہی تھی- ایک صبح جب دونوں ڈیوٹی کے لیے روانہ ہونے لگے تو ہمیرا نے حسیب سے کہا۔
"آج مجھے لینے جلدی آئے گا- سوچتی ہوں کہ آج بابا کے ہاں جائیں- کل چھٹی بھی ہے" 
حسیب نے مسکرا کے اپنا سر ہلایا اور حمیرہ سے کہا کہ وہ تین بجے سے پہلے ہی ہاسپٹل سے نکلنے کی کوشش کرے گا-
ٹھیک ساڑھے تین بجے حسیب حمیرا کو لینے کے لیے اسکے ہسپتال کے باہر کھڑا تھا-  ہمیرا کچھ دیر بعد ہی باہر آئی اور دونوں گاڑی میں سوار ہوئے- اپریل کا موسم تھا اور معتدل ہوائیں چل رہی تھیں -دونوں ایک طرف سے جگجیت کی گائی غزل کا لطف اٹھا رہے تھے اور دوسری طرف سے ان پر کیف ہواوں کا-
گویا محبت کا وہ ابتدائی دور پھر سے نمودار ہو رہا تھا -دونوں بڑے خوش اور پرسکون تھے۔ مد ہوشی کے عالم میں دونوں شاہراہ کراس کرنے لگے کہ اچانک سے آرہے ایک تیز رفتار ٹرک نے ان کی گاڑی کو زور دار ٹکر ماردی-
یوں لگا جیسے سمندر کی تند و تیز لہروں نے کسی جہاز اُچھال کے پلٹ دیا ہو -دیکھتے ہی دیکھتے بہت سارے لوگ جمع ہوئے اور گاڑی کو اٹھانے لگے -اندر حسیب اور حمیرا دونوں تڑپ رہے تھے -دونوں کو شدید زخمی حالت میں باہر نکالا گیا- ایمبولینس منگوائی گئی-
دونوں کو سیدھے  ہسپتال لے جانے لگے- حسیب کی ٹانگوں پر چوٹ کے نشان تھے- وہ پرنم آنکھوں سے حمیرا کی طرف دیکھ رہا تھا، جو دوسری چارپائی پر موت و حیات کی کشمکش میں تھی -اس کے سر پر گہری چوٹیں آئی تھیں- حسیب کو سیٹ بیلٹ نے بہت حد تک محفوظ رکھا تھا مگر حمیرہ کی حالت ابتر تھی۔
- حسیب اگر چہ چل پھر پر نہیں سکتا تھا تاہم اس نے ہمت کر کے اپنا ہاتھ اٹھایا اور حمیرا کے ہاتھ میں رکھ دیا- ہمیرا نے جب حسیب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں محسوس کیا تو اس نے پلکیں اٹھائیں اور حسرت بھری نظروں سے حسیب کی طرف دیکھنے لگی-  
ابھی ایمبولینس ایمرجنسی گیٹ پر ہی پہنچ گئی تھی کہ حمیرہ نے اپنی آنکھیں موندلیں- ایمرجنسی میں ڈاکٹر نے جون ہی حمیرا کی نبض پکڑی تو ایک دم سے کہنے لگا"She is no more"۔ انکا انتقال ہوچکا ہے۔
یہ سن کر حسیب پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ جب اُسے ہوش آیا تو خود کو آئی سی یو میں پایا۔ اس کی سرجری ہو چکی تھی اور ڈاکٹروں نے اسے خطرے سے باہر قرار دیا تھا مگر حسیب کی آنکھیں ہمیرا کو ڈھونڈ رہی تھیں۔
ہمیرا اب دور ایک سنسان قبرستان میں دفن تھی- اور بدقسمتی کی انتہا یہ تھی کہ حسیب اسکے جنازے میں بھی شریک نہ ہوسکا تھا۔
چند ہفتوں کے بعد حسیب ہسپتال سے فارغ ہوا مگر اب وہ بہت کمزور ہوگیا تھا- اس کی آنکھوں میں اُداسی تھی اور دل جیسے مردہ ہو گیا تھا- ہمیرا کی یادیں اسے خون کے آنسو رلاتی تھیں-
چند مہینوں کے بعد جب وہ درد کی اس تپش سے سنبھل ہی رہا تھا کہ اچانک دوپہر کو حسیب کے گھر پر پولیس آئی اور پوچھ تاچھ کرنے لگی- وہ حیرانی اور پریشانی کے عالم میں ڈوب گیا۔
جب اسے یہ پتہ چلا کہ حمیرہ کے باپ نے اُس پر قتل کا الزام لگایا ہے، تو اس کا دم گھٹنے لگا۔ ہمیرا کا غم ایک طرف اور دوسری طرف یہ 'الزام بے وفائی- حسیب پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے -
اس کے بعد اُسے اپنی بے گناہی ہی ثابت کرنے کے لئے عدالت کے چکر کاٹنے پڑے-
دو سال رسوائی کے اس عالم میں جینے کے بعد اللہ کی مدد آئی اور عدالت نے حسین کو بے گناہ قرار دے کر اُسے سارے الزامات سے بری کردیا۔ ان دو سالوں میں کتنی تکالیف اٹھانی پڑیں اور کس طرح ہر طرف سے الزام تراشی کا سامنا کرنا پڑا، یہ یاد آتے ہی اُسکا دم گھٹنے لگتا ہے -
اسی عرصہ میں حسین کے والدین بھی اللہ کو پیارے ہو گئے۔
گویا حسیب اس امتحان میں اکیلا رہ گیا تھا اور اسکے سارے سہارے ٹوٹ گئے تھے۔اگر مذہب میں خودکشی کرنا جائز ہوتا تو شائد حسیب نے کب کی کی ہوتی،لیکن وہ ایک دیندار اور بیدار ضمیر شخص تھا، اس لئے سب کچھ خاموشی سے سہتا رہا- وہ ساتھی، دوست اور رشتہ دار ،جو حسیب کو ہمیشہ اپنا کہہ کر پکارتے تھے، بھی حسیب کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگےتھے- اس جنگ میں حسیب کو اکیلے ہی میدان مارنا پڑا-
عدالت نے حسیب کو بے گناہ قرار تو دیا مگر ان دو سالوں کی اذیتوں اور مصائب کی تلافی کیسے ہو سکتی تھی۔ وہ زخم جو اپنوں نے دیئے تھے وہ کیسے بھر سکتے تھے۔ وہ آنسو جو اپنوں نے پلائے تھے زہر بن کر اس کی رگ رگ میں تیر کر اُسے تڑپا رہے تھے-
یہی تڑپ اور یہی تپش مٹانے کے لیے حسیب نے کشمیر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا اور سعودی عرب میں قیام پذیر ہوا- اسے امید تھی کہ امن  کے شہر مدینہ میں شاید ا سے بھی سکون مل جائے- وہ ان نام نہاد رشتوں اور دوستیوں کو بھلانا چاہتا تھا جو کئی رنگ بدلتے ہوں-
آج برسوں بعد کسی نے حسیب کو کشمیرکی یاد دلایا ئی تھی۔
وہ اُن ہی خیالوں میں گم تھا کہ اُسے عجیب و غریب آوازوں سے خیالوں کی اس دنیا سے باہر نکالا۔ وہ غور سے سُننے لگا تو بغل میں حسین کاکا خراٹے مار رہا تھا، جیسے کہہ رہا ہو۔ ہاں اب سمجھ گیا ’’تم نے کشمیر کیوں چھوڑا‘‘
���
موبائل نمبرات؛9622645253/7889378038