تازہ ترین

۔21اشیاء کی تجارتی بندش سے کروڑوں کا نقصان ہوگا

گوداموں میں مال موجود، فیصلہ فوری طور واپس لیا جائے:ایل او سی ٹریڈ ایسوسی ایشن

20 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی+حسین محتشم
سرینگر+پونچھ// آر پار تجارت کی معطلی سے تازہ و خشک میوئوں کے علاوہ لال مرچی،آم اور جڑی بوٹیوں سمیت21 اشیاء کی تجارت براہ راست متاثر ہوگی۔وزارت داخلہ نے جمعہ کو حکم نامہ جاری کیا،جس میں کہا گیا کنٹرول لائن کے آر پار کچھ عناصر اس کا’’غلط‘‘ استعمال کر رہے ہیں،جس کے نتیجے میں سلام آباد اور پونچھ سے آر پار تجارت کو غیر معینہ عرصے کیلئے معطل کیا جاتا ہے۔ باہمی اعتماد سازی کے تحت 2008میں یہ تجارت شروع ہونے کے بعد اب تک6900کروڑ روپے کی تجارت ہوئی ہے۔اس تجارت میں21اشیاء فہرست میں شامل ہیں،جن میں کیلا،کڑائی کی اشیاء،لال مرچ، جڑی بوٹیاں،آم،پستا،املی،زیرہ اور دیگر چیزیں شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سلام آباد چکوٹی سے ابھی تک4400کروڑ اور پونچھ راولاکوٹ سے2542کروڑ روپے کی تجارت ہوئی ہے۔ابتدائی دور میں اس تجارت سے646 تاجر جڑے ہوئے تھے،تاہم بعد میں انکی تعداد کم ہوئی اور فی الوقت280تاجر سرکار کی طرف سے تسلیم شدہ ہیں۔2008میں جب یہ تجارت شروع ہوئی تھی تو ہفتے میں دو دن تجارتی ایام مقرر کئے گئے تھے تاہم2011کے بعد ایام کار میں اضافہ ہوا،اور4دن کرائے گئے۔سلام آبادٹریڈیونین چیئرمین ہلال ترکی نے بتایاکہ ہم آرپارتجارت کیلئے ایک موثراورفعال میکانزم بنانے کے حق میں ہیں اوراس حوالے سے ہم مرکزی وزارت داخلہ کے فیصلے کاخیرمقدم کرتے ہیں۔تاہم انہوں نے کہاکہ تجارتی سرگرمیوں کومعطل کئے جانے سے پہلے متعلقہ تاجران کویہ موقعہ فراہم کیاجاناچاہئے تھاکہ وہ نقصان سے بچ سکیں۔ہلال ترکی نے بتایاکہ ہم نے اس تجارت کیلئے کروڑوں کاسامان یامال خریدا ہواہے جو گوداموں میں پڑا ہواہے جبکہ گزشتہ لگ بھگ آٹھ ہفتوں سے اوڑی کے راستے تجارت معطل رہنے کے نتیجے میں درجنوں گاڑیوں میں بھراسامان بالخصوص میوہ جات سڑرہے ہیں۔پونچھ راولاکوٹ ٹریڈ ایسو سی ایشن صدر عبدالرزاق خاکی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جمعرات کو قریب33گاڑیوں میں مال بھرا تھا،تاہم انہیں اس پار جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ خاکی نے بتایا’’گاڑیوں کا سکین بھی ہوا تھا،اور جمعہ کو وہ کسٹوڈین سے بھی ملے تھے تاہم انہوں نے کہا کہ تجارت معطل ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ قریب360تاجروں کے علاوہ300ٹرک اور100مزدور بھی اسکے ساتھ منسلک ہیں اور تجارت بند ہونے سے ان کا روزگار براہ راست متاثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکار کو چاہے کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کریں،تاکہ باہمی اعتماد سازی کے تحت شروع کئے گئے تجارت کو بچایا جا سکے۔چکاں دا باغ ٹریڈ سینٹر یونین کے نائب صدر امین ماگرے نے کہاکہ ان کا لاکھوں کا نقصان ہوا ہے اور کئی لوگ بیروزگار بن گئے ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ اس تجارت سے ہزاروں لوگوں کے گھروں کا نظام چل رہا تھاجو ٹھپ ہوگیاہے۔