تازہ ترین

آرپار تجارت کیلئے فول پروف نظام متعارف ہوگا | فیصلہ پر نظرثانی ہوگی

فیصلے کے پیچھے 5 ٹھوس وجوہات کی وزارت داخلہ کی وضاحت

20 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(   فائل فوٹو    )

یوگیش سگوترہ
جموں //اچانک آر پار تجارت معطل کرنے کے بعد تنقید ہونے پرمرکزی وزارت داخلہ نے اس فیصلے کے حق میں 5وجوہات بیان کی ہیں او ر ساتھ ہی سخت اقدامات کے بعد نظرثانی کا یقین بھی دلایاہے ۔وزارت داخلہ کی جموں وکشمیر امور کی ڈائریکٹر کی طرف سے جاری ہوئے بیان کے مطابق تیسرے فریق کی اشیاء میں دراندازی، دہشت گردی کیلئے فنڈز کا چینل ،نشیلی ادویات کی تجارت، وادی میں جنگجوئوں کی مدد کیلئے ہتھیاروں کی سپلائی اور جعلی کرنسی حکومت ہندکیلئے تجارت کو معطل کرنے کی خاطر ایسی پانچ ٹھوس وجوہات ہیں جسے جموں و کشمیر کے آرپار آبادی کیلئے اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر شروع کیا گیا تھا۔ تاہم بیان میں بتایا گیا ہے کہ حکومت سخت اقدامات اور ان مسائل کے حل کیلئے نظام کے بعد فیصلے پرنظر ثانی کرے گی ۔بیان کے مطابق چکاں داباغ اور سلام آباد سے ایل او سی ٹریڈ اعتمادسازی کے اقدام کے طور پر شروع ہواتاہم اس کا بیرون ریاست کے عناصر نے غلط فائدہ اٹھایا جیساکہ کیلیفورنیہ میں تیار ہونے والے تیل کو آر پار تجارت سے راستہ ملا اور اس تجارت کا نیٹ ورک کئی ممالک تک پھیل گیا ۔وزارت داخلہ کے بیان میں بتایاگیاہے کہ ایل او سی ٹریڈ رس ایسو سی ایشن کے صدر ظہور احمد وٹالی کو جنگجوئوں اور علیحدگی پسندوں کیلئے رقومات لانے پر کارروائی کے دائرے میںلایاگیاہے اور اس کی کروڑوں کی جائیداد ضبط کی گئی ہے ،پاکستان میں موجود عناصر اس تجارت کے ذریعہ ہندوستانی حدود میں ملک دشمن عناصر اور جنگجوتنظیموں کو پیسے پہنچارہے ہیں۔بیان کے مطابق یہ تجارت جنگجوئوں خاص کر حزب المجاہدین کے ہاتھوں بھی استعمال ہورہی ہے ،کچھ ہندوستانی شہریوںنے سرحد عبور کرکے جنگجو تنظیموں میں شمولیت کی اور اب وہ پاکستانی طرف سے اسی تجارت کا حصہ ہیں جس کے نتیجہ میں کئی ٹریڈنگ فرمیں جنگجوتنظیموں کے زیر کنٹرول ہیں ۔وزارت داخلہ نے بتایا کہ آر پارتجارت کا استعمال منشیات بشمول کروسین، برائون شوگر اور ہیروئن کی وادی منتقلی کیلئے بھی ہورہاہے جس کے باعث کئی نوجوان منشیات کے عادی بنتے جارہے ہیں جس سے ان کی زندگی کو خطرہ ہے ۔بیان میں مثال بیان کرتے ہوئے بتایاگیاہے کہ حال ہی میں وادی میں اُس پار سے آنے والی 66.5کلو گرام ہیروئن ضبط کی گئی ۔بیان کے مطابق اس تجارت کا استعمال ہتھیاروں کی منتقلی کیلئے بھی ہواہے اور کئی مرتبہ پستول، گرینیڈو دیگر اسلحہ ضبط کیاگیا جبکہ حال ہی میں وادی میں کولگام کے ایک ڈرائیور سے اُس پار سے آئے کیلوں کے بیچ سے اسلحہ برآمد ہوا۔بیان میں بتایاگیاہے کہ مختلف اوقات میں آر پارتجارت کے ذریعہ 57لاکھ، 20لاکھ،15لاکھ اور 7.5لاکھ روپے کے جعلی کرنسی کے نوٹ برآمد ہوئے اور درجن سے زائد افراد کو گرفتار کیاگیا۔بیان میں مزید بتایاگیاہے کہ مذکورہ بالا تمام وجوہات اور اس عمل کے غیر قانونی و ملک دشمن سرگرمیوں میں استعمال کی وجہ سے حکومت ہند آ رپار تجارت معطل کرنے پر مجبور ہوئی ۔تاہم یہ کہاگیاہے کہ حکومت سخت اقدامات اور ان مسائل کے حل کے بعد فیصلہ پر نظرثانی کرے گی ۔بیان کے مطابق ایسے اقدامات کئے جانے متوقع ہیں جس سے آ رپار تجارت کے ذریعہ صرف مقامی آبادی کوفائدہ ملے گا اوراس سے نہ ہی دور بیٹھے تاجروں اور نہ ہی جنگجوتنظیموں کوفائدہ دیاجاسکتاہے جو وادی کے حالات میں جلتی پر تیل کاکام ہے ۔
 
 

جموں چیمبرکا وزارت داخلہ کو مکتوب | اچانک معطلی فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار

یوگیش سگوترہ 
جموں //جموں چیمبر آف کامرس و انڈسٹری نے مرکزی حکومت کے آر پارتجارت کو معطل کرنے کے فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزارت داخلہ سے اس کی فوری بحالی کی اپیل کی ہے ۔چیمبر نے کہاہے کہ مرکزی حکومت تاجروں کے مفاد میں فیصلے پر نظرثانی کرے اور فوری طور پر تجارت بحال کی جائے ۔مرکزی وزارت داخلہ کے نام ایک مکتوب میں جموں چیمبر کے صدر راکیش گپتا نے اپیل کی ہے کہ ہندوپاک کے درمیان آر پار تجارت کو فوری طور پر بحال کیاجائے ۔چیمبر صدر نے سیکورٹی میں انتظامی ناکامی اور تجارت معطل ہونے کی ذمہ داری کا تعین کیاجائے ۔راکیش گپتانے وزارت داخلہ کو مخاطب ہوکر کہا’’ہم اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ سیکورٹی نہ صرف حکومت بلکہ ہندوستان کے ہر ایک شہری اور نامساعد حالات کا شکار جموں وکشمیر کیلئے سب سے اہم مسئلہ ہے ،ہم آپ کے نوٹس میں یہ لاناچاہتے ہیں کہ تاجروں کو بغیر اطلاع دیئے اچانک سے تجارت معطل کرنے سے تاجروں کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہونے کا خدشہ ہے ‘‘۔انہوںنے خط میں لکھاہے’’جموں چیمبر اور ایل او سی ٹریڈ س فیڈریشن ہمیشہ محفوظ تجارت کے حق میں رہی ہے اور یہ مطالبہ رہاہے کہ تجارتی عمل سخت سیکورٹی میںہو جس کیلئے سکینر، بنکنگ سہولت ، رجسٹریشن کی پالیسی اور ایک آدمی کو ٹریڈ اتھارٹی کے طور پر تعینات کیاجائے تاہم بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ان مطالبات میں سے کسی ایک کو بھی پور انہیں کیاگیا جس کا نتیجہ تجارت کی معطلی پر ہوا‘‘۔چیمبر صدر نے مکتوب میں لکھا ’’ہم ایک بار پھر سے پوری طرح سے تعاون کی یقین دہانی دلاتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ درخواست بھی کرتے ہیں کہ تجارت معطل ہونے کیلئے انتظامی ناکامیوں پر ذمہ داروں کا تعین کیاجائے ‘‘۔چیمبر نے انتظامی ناکامیوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات اور تجارت کی فوری طورپر بحالی کے اقدامات کا مطالبہ کیاہے ۔
 
 
 

طعنہ آمیزاوربدقسمتی | بھارت مشکل دور میں:محبوبہ مفتی

اشفاق سعید

سرینگر//پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے مرکزی سرکارکی جانب سے آرپارتجارت کوغیرمعینہ عرصہ کیلئے معطل کئے جانے کے اقدام کوطعنہ آمیزاوربدقسمتی پرمبنی قرار دیا ہے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے مھبوبہ مفتی نے کہاکہ گزشتہ10برسوں سے جاری آر پار تجارتی روابط پرپابندی عائدکرنابھارت اورپاکستان کے باہمی تعلقات کیلئے ایک بڑادھچکاہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ اقدام طعنہ آمیزاورمایوس کن ہے کیونکہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے اپروچ کوختم کیاجارہاہے ۔محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ واجپائی نے کشمیرکی سرزمین سے ہی پاکستان کی طرف دوستی کاہاتھ بڑھایاتھالیکن مودی وہ سارے ہاتھ اوروہ سارے راستے ختم کرنے کے درپے ہیں ،جن ہاتھوںیاراستوں سے آرپاراعتمادسازی کوفروغ دیاجاسکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ مودی کااپروچ ہراعتبارسے جارحانہ اورمخاصمانہ ہے ۔محبوبہ مفتی نے بتایاکہ اسکے بعدمزیدبندپڑے راستے کھولنے کامنصوبہ تھالیکن کانگریس برسراقتدارآگئی اورواجپائی کے دورمیں شروع کیاگیا امن اورجامع مذاکراتی عمل سست روی کاشکاہوگیا۔محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ اسوقت بھارت مشکل ترین دورسے گزررہاہے کیونکہ مفاہمت کی جگہ مخاصمت کوپروان چڑھایاجارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ بھاجپانے چن چن کر ایسے افرادکومنڈیٹ دیاہے جوزہراگل کرملک میں فرقہ وارانہ منافرت کوہوادے رہے ہیں ۔