تازہ ترین

نصراللہ پورہ بڈگام کا پولنگ مرکز | جہاں مقامی بزرگ ہی پولنگ عملے کی حفاظت کرتے رہے

19 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: امان فاروق    )

اشفا ق سعید
 سرینگر //انتخابات کےلئے سخت سکورٹی انتظامات کے دوران جہاں بڈگام کے چند پولنگ مراکز پر لوگ اپنی رائے دہی کا استعمال کر رہے تھے وہیں نصراللہ پورہ میں رہنے والے بزرگ شہریوں نے فورسز کے ساتھ کس بھی قسم کے تصادم سے بچنے کےلئے پولنگ بوتھ کو اپنے حفاظت میں لیا تھا مگر اُس کے باوجود بھی علاقے کے نوجوانوں نے پولنگ عمل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فورسز پر پتھراﺅ کیا جس دوران وہاں موجود بھاری سیکورٹی فورسز نے نوجوانوں پر ٹیر گیس شلنگ کی۔جمعرات کو 12بجے تک اُس پولنگ مرکز پر صرف 2ہی ووٹ ڈالے گئے تھے تاہم مقامی بزرگوں کا کہنا تھا کہ علاقے میں ووٹران کی کل تعداد 3000ہے ۔ نصراللہ پورہ علاقے کے ہر گلی کوچے میں فورسز کے اہلکار تعینات تھے جبکہ پولنگ والے علاقوں کی سڑکیں سنسان نظر آرہی تھیں اور ان پر اکا دکا راہگیر چلتا ہوا نظر آرہا تھا۔کوئی بزرگ نوجوانوں کو گھروں میں ہی رہنے کےلئے کہہ رہے تھے ،تو کوئی اُس فکر میں تھے کہ علاقے میں امن وقانون کی صورتحال بحال رہ سکے ۔خستہ حال سڑک سے ہو کر جب کشمیر عظمیٰ کی ٹیم صبح کے قریب 12بجے گرلز اور بوائز ہائی سکو ل نصراللہ پورہ کی طرف جانے لگے جہاں پولنگ سٹیشن قائم کئے گے تھے تو وہاں پہنچے سے قبل ہی انہوں نے پولنگ سٹیشن کے نزدیک سڑک پر علاقے کے بزرگ لوگوں کی ٹولیاں سڑک پر کھڑی دیکھیں، جنہیں یہ فکر تھی کہ کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آجائے ۔کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے علاقے کے ایک بزرگ شہری غلام محی الدین نے بتایا ”اُن کو فکر لگی ہے اللہ کرے یہ دن سلامت گزرے ،کوئی واقعہ پیش نہ آئے۔“ شہری کا کہنا تھا ”سال2017میں جب یہاں ضمنی انتخابات ہوئے اُس وقت بھی گاﺅں میں مکانوں کے شیشے توڑے گئے اور نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔“ غلام محیٰ الدین کے مطابق ہم سڑک پر اس لئے کھڑے ہیں اور اپنے بچوں کو روک رہے ہیں کیونکہ ہم نہیں چاہتے گاﺅں میں امن وقانون کی صورتحال بگڑ جائے جہاں پورا دن پولنگ سٹینوں پر الو بولتے رہے ،وہیں دوسری طرح چوک کے موڑ پر مشتعل نوجوان اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن کے دوران سیکورٹی فورسز نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے آنسو گیس سے فائرنگ کی یہ سلسلہ دن بھر وہاں جاری رہا ۔نصراللہ پورہ کی سڑکیں لال اینٹوں اور پتھروں سے بھری ہوئی تھیں جبکہ میں سڑک کو بھی کچھ وقت کےلئے مظاہرین نے بند رکھا تھا ۔اس دوران مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ شام ساڑھے چار بجے انتظامیہ نے پولنگ سٹیشن کو تشدد بھڑک اٹھنے کے پیش نظر اٹھا دیا جس دوران پولنگ سٹیشن پر صرف 5ووٹ ہی ڈالے گئے تھے ۔