تازہ ترین

اسمبلی انتخابات مؤخر کرانے کیلئے اب کوئی بہانہ نہیں

بی جے پی قانون کی دھجیاں اڑا رہی ہے: عمر عبداللہ

19 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(   عکاسی: مبشرخان    )

اشفاق سعید
 سرینگر// نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ اب مرکزی حکومت کے پاس ریاست میں اسمبلی انتخابات موخر کرنے کا کوئی بہانہ نہیں ہے۔ سونہ وار میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ہمراہ ووٹ ڈالنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمر نے کہا’’اب مرکزی حکومت کوچاہئے کہ وہ ریاست کے لوگوں کو اپنی حکومت منتخب کرنے کا موقعہ دے کیونکہ اب ان کے پاس اسمبلی انتخابات موخر کرنے کیلئے کوئی بہانہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کو پارلیمانی انتخابات کیلئے موخر کیا گیا تھا ، پارلیمانی انتخابات ہوئے، اب امید ہے کہ لوگوں کو منتخب حکومت بنانے کا موقعہ دیا جائے گا جو ان کا حق ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ 2017 کے ضمنی انتخابات اور رواں انتخابات میں کافی فرق ہے اُن انتخابات کے دوران  انتخابی سرگرمیاں بند کمروں تک ہی محدود رہیں لیکن رواں انتخابات کے دوران لوگوں نے والہانہ استقبال کیا۔عمر نے کہا کہ بی جے پی نے پہلے ووٹ حا صل کرنے کیلئے بالاکوٹ، پلوامہ، ترقی اورمذہب کا کارڑ کھیلا لیکن جب یہ سب ناکام ہوئے تو انہوں نے سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو بھوپال سے ٹکٹ دیا ہے۔عمر نے کہا ہے کہ بی جے پی ملک کے قانون کی دھجیاں اڑا رہی ہے، اندور پارلیمانی نشست کیلئے ایک ایسے امیدوار کھڑا کرکے قانون کا مذاق اڑایا ہے، جس پر دہشت گردی کا الزام ہے اورجو صحت کی بنیادوں پر ضمانت پر رہا ہے جبکہ بظاہر وہ الیکشن لڑنے کے لئے صحتمند ہے‘‘۔انہوں نے اس سلسلے میں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے ایک ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے کہا 'جن لوگوں کی آپ مذمت کرتی ہو وہ اُس وقت بھی ایسے ہی تھے جب آپ کا ان کے ساتھ اتحاد تھا لیکن اقتدار کی لالچ نے آپ کو اندھا کردیا تھا'۔قابل ذکر ہے کہ سادھوی پرگیہ ٹھاکر 2008 مالیگاؤں بم دھماکے میں ملزم ہیں اور بی جے پی میں شامل ہوئی ہیں۔اس موقعہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا 'ہم نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ ہم الیکشن کیوں لڑ رہے ہیں عوام کیا فیصلہ کرتی ہے یہ مئی میں ہی معلوم ہوگا'۔انہوں نے کہا کہ رواں انتخابات اور پچھلے انتخابات میں فرق یہ ہے کہ اب لوگ ملک کے موجودہ حالات سے بخوبی واقف ہیں اور ملک میں کیا ہورہا ہے اس سے خائف بھی ہیں۔