تازہ ترین

خدا کی بستی

ایک تجزیاتی مطالعہ

18 اپریل 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

عکس مراد۔۔ سرینگر
’’خدا  کی بستی‘‘ کے خالق معروف ناول و افسانہ نگار شوکت صدیقی ۲۰؍ مارچ ۱۹۲۳ء کولکھنؤمیںپیدا ہوئے ۔ امیر الدولہ اسلامیہ ہائی سکول لکھنؤ سے میٹرک پاس کیا۔ ایف اے اور بی اے بطور پرائیویٹ اُمیدوار پاس کرنے کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی سے سیاسیات کے مضمون میں ایم اے کیا۔ ۱۹۵۰ء میں ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان گئے اور کچھ عرصہ لاہور میں قیام کرنے کے بعد کراچی منتقل ہو گئے۔ اسی سال کراچی میں ڈاکٹر محمد سعید خان کی صاحبزادی ثریا بیگم سے شادی کر لی۔ انہیں بچپن سے ہی علم و ادب سے گہری وابستگی تھی۔ شوکت صدیقی نے عملی زندگی کا آغاز ۱۹۵۴ء میں روزنامہ Times of Karachi سے کیا۔ اس کے بعد وہ روزنامہ ’’مارننگ نیوز‘‘کراچی سے بھی منسلک رہے۔ ۱۹۶۳ء میں انگریزی صحافت سے کنارہ کشی اختیار کی اور اردو صحافت سے وابستہ ہو گئے اور’ ’روزنامہ انجام‘‘ کراچی میں بطور نیوز ایڈیٹر فرائض نبھاتے رہے اور چیف ایڈیٹر کے عہدے تک بھی پہنچے ۔ اس کے علاوہ بھی آپ کئی ہفتہ روزہ اور روزنامہ اخبارات سے وابستہ رہے۔ 
شوکت صدیقی نے اردو ادب کی گراں قدر خدمت کی ہے۔ آپ کے کئی افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے ہیں جن میں دوسرا آدمی، اندھیرا اور اندھیرا، راتوں کا شہر، کیمیا گر وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ افسانوں کے علاوہ آپ نے کئی ناول بھی خلق کیے ہیں جن میں کمین گاہ، خداکی بستی، جانگلوس اور چار دیواری وغیرہ قابل ذکر ہیں۔شوکت صدیقی کے ناولوں میں جس ناول کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی وہ ’’ خدا کی بستی‘‘ ہے ۔ یہ ناول ۱۹۵۵ء میں منظر عام پر آیا۔ ناول کئی حیثیتوں سے مقبول ہوا۔ عالمی سطح پر بھی اس کی بہت پذیرائی ہوئی اور انگریزی کے علاوہ اب تک دنیا کی ۲۶ زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا ہے۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستانی ٹیلی ویژن سے یہ ناول پانچ مرتبہ ٹیلی کاسٹ کیا جا چکا ہے اور اس وقت تک صرف اردو میں اس کے ۵۰ ؍ ایڈیشنز شایع ہو چکے ہیں۔’ ’خدا کی بستی ‘‘کے لیے شوکت صدیقی کو۱۹۶۰ء میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے آدم جی ادبی انعام سے بھی نوازا گیا۔
’’خدا کی بستی‘‘ پاکستان کے معاشرتی مسائل پر مبنی ایک کامیاب ناول ہے۔۔ ۱۹۶۰؁ء کے عشرے میں شائع ہونے والا یہ ناول غربت اور اس سے پیدا ہونے والے جرائم کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ اس ناول میں غربت کے ہاتھوں بچوں پرہو رہے ظلم کی عکاسی دکھائی دی گئی ہے کہ کس طرح جرائم پیشہ افراد امعصوم بچوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ’’خدا کی بستی‘‘ کی مرکزی کہانی تین کرداروں کے اردگرد بُنی گئی ہے۔ ان کرداروں کے نام راجہ، نوشہ اور شاہی ہیں۔ یہ تینوں کردار نو عمر ہیں۔ ان میں راجہ سب سے بڑا لڑکا ہے جو تھوڑا سمجھ دار ہے۔وہ ایک کوڑھی بکھاری کی گاڑی گھسیٹ کر اپنی روزی کمانے کی سعی کرتا ہے۔ دوسرا لڑکا نوشہ، جو عمر میں اس سے بھی کم ہے، عبد اللہ مستری کے یہاں مزدوری کرتا ہے۔ نوشہ کے والد کی وفات ہو چکی ہے۔ یہ گھر میں اپنی ماں، بہن سلطانہ اور چھوٹے بھائی انوکے ساتھ رہتا ہے۔ اس کی ماں بیڑیاں بناتی ہے او ر گھر کا چولہا جلاتی ہے، جب کہ تیسرا لڑکا شامی بھی کم عمر ہے جو معاشی طور پر ایک تباہ حال خاندان کا فرد ہے اور اپنے والد کے غیظ و غضب کا شکار رہتا ہے۔ 
اس ناول کا ایک اور اہم کردار نیاز ہے جو کباڑیہ ہے ۔ وہ نوشہ کو گیراج میں پرزے چرانے کی ترغیب دیتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ اس کے بدلے وہ معاشی طور پر خوش حال ہو جائے گا مگر یہ راستہ اس کو برباد کر دیتا ہے۔ نیاز کی لالچ یہاں پر آکر بھی ختم نہیں ہوتی ۔ اس کی بری نظر نوشہ کی بہن سلطانہ پر ہوتی ہے اور اس کے لیے وہ مکمل منصوبہ بندی سے اپنا پلان زیر عمل لاتا ہے اور نوشہ کی ماں رضیہ کا بیما کرواتا ہے اور اس سے شادی کر لیتا ہے۔ رضیہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے نیاز سے شادی کر لیتی ہے مگر وہ اُسے ڈاکٹر موٹو(خیرات محمد) کے ذریعے ایسے ٹیکے لگواتا ہے جس سے آہستہ آہستہ اس کا دل کمزور ہو جاتا ہے اور حرکت ِقلب بند ہونے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔رضیہ کی موت کے بعد نیاز سلطانہ کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا ہے۔معاشرے کی بدصورتی کو ناول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
’’یہ عجیب معاشرہ جہاں عورت ربڑ کی گیند اور خوبصورتی چوری کا مال بن جاتی ہے۔‘‘(ص۴۴۷)
ایک اور کردار خان بہادر علی فرزند کے ذریعے سماج کے پاکیزہ کرداروں کے کالے کرتوت کو بخوبی پہنچانا جا سکتا ہے جو دیکھنے میں سماج کے اعلیٰ عہدوں اور معاشرتی اقدار کے حامل ہیں مگر ان کی ذات بدبودار اور سماج کے لیے ناسور کی مانند ہے۔ 
’’خدا کی بستی‘‘ ایک آفاقی ناول ہے۔ ۱۹۵۸ء میں لکھے گئے اس ناول کو پڑھ کر آج بھی لگتا ہے کہ جیسے معاصر سماج کی کہانی کو پیش کیا گیا ہے۔ اس بات کا اندازہ ہمیں ناول کے اس مکالمے سے ہوتا ہے:
’’ جلسہ شروع ہونے سے پہلے وہ انھیں بار بار ہدایتیں دے رہا ہے اور ڈانٹتا بھی جا رہا تھا۔ دیکھو بے! کسی نے اُلٹی سیدھی حرکت کی تو دھیلا نہیں دوں گا۔ان کے ریٹ کچھ اس طرح مقرر تھے :
نعرہ لگانے والے فی کس پانچ روپے
نعرہ اُٹھانے والے فی کس دو روپے
تالیاں بجانے والے فی کس ایک روپیہ
اس کے علاوہ دل گیر نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ جو بہت زوردار اور جوشیلے نعرہ لگائے گا اسے انعام بھی ملے گا۔‘‘(ص ۲۷۷)
شوکت صدیقی نے ناول میں دنیا کی چمک دمک ، بے ثباتی، ہوسِ زر کو خوبصورت پیرائے میں پیش کیا ہے۔
’’ تم زندگی کی اس چمک دمک پر ریجھ گئے جو دور سے بہت خوبصورت اور بڑی دلکش نظر آتی ہے مگر سونے کا یہ جگ مگ جگ مگ پہاڑ صرف دیکھنے کے لیے ہے۔ جتنا اس کے قریب جانے کی کوشش کرو اتنا ہی دور رہتا جا رہا ہے۔ یہ عجیب گورکھ دھندا ہے۔ ایک تار سلجھا ئو دس الجھتے ہیں۔ساری عمرتانا بانا ہی سلجھاتے گزار دو، سرا کبھی ہاتھ نہ آئے گا۔‘‘(ص، ۴۶۷)
الغرض اس ناول میں شوکت صدیقی نے مقتدر طبقوں کی ظلم و بربریت عیاں کرکے مظلوموں کی حالت زار بیان کرنے کی سعی کی ہے۔ ناول کی مقبولیت کا اندازہ عصمت چغتائی کے ان الفاظ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے:’’میں نے کل آپ کا ناول’’خدا کی بستی‘‘ ختم کی، اب تک دل و دماغ کے تار جھنجھنا رہے ہیں۔ اسے پڑھ کر مجھے اردو پر فخر محسوس ہونے لگا۔ میں انتہا پسند ہوں، مگر شاید یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ اگر یہ کہوں کہ آپ کی ناول ہر زبان کی ناول سے ٹکر لے سکتی ہے۔‘‘(عصمت چغتائی، ایک خط سے اقتباس)
شوکت صدیقی اپنے آخری وقت میںامراضِ قلب میں مبتلا ہو گئے تھے اورآپ کراچی میں طویل علالت کے بعد ۱۸؍ دسمبر ۲۰۰۶ء کو ۸۳؍ سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ شوکت صدیقی اپنی ادبی خدمات کی وجہ سے اردو ادب میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور اپنی تخلیقات میں’’ خدا کی بستی‘‘ کوآپ کے فن کی معراج کہا جا سکتا ہے۔ 